ہفتہ، 27 جون، 2026

ایک واقعہ سبق آموز ہدایت کے لیے نیکی کرنے والوں کو ہمت دینے کے لیے

میں ماڈل ٹاؤن لاہور میں مقیم ہوں اللہ تعالی کا دیا ہوا سب کچھ ہے جو مقامی لاہوریئیے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ لاہور کے جو چند بڑی سوسائٹیاں ہیں ان میں سے ایک ماڈل ٹاؤن ہے اور یہاں ملک کی ایلیٹ کلاس ہی رہ سکتی ہے کسی وقت میں میں بھی بہت عیاش تھا میرے باپ کی کمائی تھی اور کروڑوں میں تھی میں کیا کرتا ہوں کہاں لگاتا ہوں مجھے کوئی پوچھ پکڑ نہیں تھی آئے دن ہمارے گھر میں پارٹی ہوتی تھی شراب شباب سب کچھ وہاں موجود ہوتا تھا اور پھر میں اپنے لیے الگ سے بھی ان چیزوں کا انتظام کیا کرتا تھا اج بھی میں جب دوپہر کے وقت شراب کا انتظام کرنے کے لیے نکلا گو کہ جو لوگ ایسے شغل کرتے ہیں انہیں لگے گا یہ پینے کا کوئی وقت نہیں ہے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ میرے پینے کا بھی کوئی وقت نہیں ہوتا تھا میرا جب دل کرتا تھا میں انتظام کر لیتا تھا اور پی لیتا تھا اج بھی ایسا ہی تھا مگر جب میں نکلا تو میں نے دیکھا کہ ہمارے گھر کے قریب ہی ایک گھر سے ایک خاتون باہر نکل رہی ہے جو شاید 24 یا 25 سال کی ہو گئی اس کے کپڑے بوسیدہ اور پھٹے ہوئے ہیں وہ گھر کا دروازہ کھول کر باہر نکلتی ہے تو اسی دوران ایک گاڑی اس گیٹ کے سامنے ا جاتی ہے اور گیٹ خود بخود کھلنے لگتا ہے جس سے ظاہر ہے کہ وہ گاڑی کسی گھر کے مکین کی تھی مگر وہ گاڑی اس خاتون کے پاس رک جاتی ہے وہ خاتون تپتی دھوپ میں باہر کھڑی گاڑی کے اندر بیٹھے لوگوں سے کچھ گفتگو کر رہی ہے جسے میں سن نہیں سکتا مگر خاتون کے چہرے کا حال بتاتا ہے کہ وہ اپنی کوئی مجبوری بیان کر رہی ہے اسی دوران میری نظر خاتون کے پاؤں کی طرف جاتی ہے تو میں دیکھتا ہوں کہ کبھی وہ ایڑیوں کے بل کھڑی ہو جاتی ہے اور کبھی وہ پنجوں کے بل کھڑی ہو جاتی ہے یعنی وہ اپنے پاؤں کو سیدھا زمین پہ نہیں رکھ رہی میں یہ منظر دیکھ کر رک جاتا ہوں مزید انتظار کرتا ہوں تھوڑی دیر ان لوگوں میں گفتگو ہونے لگتی ہے اسی دوران باہر کھڑی خاتون کی انکھوں سے انسو ا جاتے ہیں وہ انسو صاف کرتے ہوئے بات چیت جاری رکھتی ہے مگر تھوڑی دیر بعد اندر سے ایک نسوانی ہاتھ نکلتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاڑی میں بھی کوئی خاتون موجود تھی وہ باہر کھڑی خاتون کو دھکہ دیتی ہے اور گاڑی لے کر گھر کے اندر داخل ہو جاتی ہے جس خاتون کو دھکہ دیا جاتا ہے وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھا پاتی اور زمین پر گر جاتی ہے اس وقت دوپہر کا وقت تھا سخت گرمی کا موسم تھا زمین تانبے کی مانند گرم تھی یقینا گرنے والی خاتون کو سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہوگا مگر وہ اٹھتی ہے اپنے انسو صاف کرتی ہے اپنا دوپٹہ درست کرتی ہے اور روڈ پر چلنے لگ پڑتی ہے یقینا وہ اپنے گھر کے لیے نکلتی ہے میں ایک سائیڈ میں کھڑا یہ سارا منظر دیکھ رہا ہوتا ہوں جب وہ خاتون اپنی راہ پر چل دیتی ہے تو میں اپنی گاڑی اگے بڑھاتا ہوں اور اس خاتون کے پاس جا کر رک جاتا ہوں اس سے پوچھتا ہوں کہ کیا وجہ ہے اپ کیوں رو رہی ہیں پہلے تو وہ مجھے دیکھ کر ڈر جاتی ہے مگر میں گاڑی سے اتر کر اس کے پاس جاتا ہوں اس کے سر پہ ہاتھ رکھتا ہوں اسے تسلی دیتا ہوں اور پھر اس سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے اپ کو دھکا کیوں دیا ہے تو وہ خاتون بتاتی ہے کہ 

یہ میری میڈم ہے میں ان کے گھر میں کام کرتی ہوں میرے والد صاحب کا کل انتقال ہوا ہے میں نے ابھی تک کسی کو نہیں بتایا کیونکہ میرے پاس تدفین کے پیسے نہیں ہیں ان کے موت سے تین دن پہلے میں نے ان کو بتایا کہ میرے والد کی طبیعت خراب ہے ان کا کسی بھی وقت انتقال ہو سکتا ہے مجھے میری تنخواہ اور کچھ رقم ایڈوانس چاہیے اپ لوگ دے دیں تاکہ میں اپنے والد کے اخری رسومات ادا کر سکوں لیکن یہ لوگ وعدہ کرنے کے باوجود مجھے رقم نہیں دے رہے وہ تین دن بھی گزر گئیے اس کے بعد میرے والد کا انتقال ہوا اور اج میرے والد کو مرے بھی دوسرا دن ہے اس کی بے گورو کفن لاش میرے گھر میں پڑی ہے جس کمرے میں لاش رکھی ہے اس کمرے میں میں نے اگر بتیاں جلا رکھی ہیں اپنے بچوں کو اس کمرے میں جانے سے منع کر رکھا ہے اور اس کمرے کو باہر سے تالا لگا رکھا ہے تاکہ نہ تو باہر بدبو پھیلے اور نہ ہی میرے بچے میرے والد کی لاش دیکھ سکیں اور نہ ہی محلے کو پتہ چلے میں روٹین کے مطابق کھانے کی پلیٹ لے کر والد کے کمرے میں جاتی ہیں وہاں بیٹھے روتی ہوں اور کھانہ وہیں سائیڈ میں رکھ کے باہر ا جاتی ہوں صرف اس لیے کہ میرے بچوں کو یہی محسوس ہو کہ میرے والد ابھی تک زندہ ہیں خاتون اپنی بات کر رہی ہوتی ہے تو تب تک میں پسینے میں شرابور ہو چکا ہوتا ہوں میں اسے تسلی دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اپ میری گاڑی میں بیٹھیں میں اپ کا سارا انتظام کر دیتا ہوں پہلے تو وہ مجھ پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی وہ مجھے کہتی ہے کہ میں اپ کو اپنے گھر کا ایڈریس دیتی ہوں اپ وہاں چلیں میں پیدل ا جاتی ہوں گو کہ جس جگہ کو اس نے مجھے ایڈریس دیا اس جگہ جانے کے لیے اس کو کم از کم ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے کیونکہ اسے ایک دو گاڑیاں بدلنا پڑتی ہیں میں نے اسے تسلی دی بلکہ یوں سمجھیں کہ اللہ تعالی کی ذات کو ضامن دیا اور اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا جب وہ میرے ساتھ بیٹھی تو تب میں نے دیکھا کہ اس کے جوتے مکمل طور پر گھس چکے تھے اس کے جوتوں کے تلووں میں سوراخ ہو چکے تھے تو مجھے سمجھ اگیا کہ وہ خاتون کیوں کبھی ایڑیوں کے بل کھڑی ہوتی تھی اور کبھی پنجوں کے بل کیونکہ نیچے زمین گرم تھی اس کے پاؤں کی تلیوں کو گرمی محسوس ہوتی تھی اس لیے کبھی وہ زمین پہ اپنی ایڑیاں رکھ لیتی تھی اور کبھی اپنے پاؤں کی انگلیوں پر وزن ڈال لیتی تھی خیر اس نے میرا بھروسہ کر لیا اور میں اس کو لے کر اس کے گھر کے سامنے پہنچ گیا وہاں پہنچنے کے لیے گاڑی پر بھی مجھے بیس سے پچیس منٹ لگ گئیے میرے پاس رقم موجود تھی جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ میں اپنے لیے کچھ عیاشی کا سامان خریدنے جا رہا تھا یقین کریں جتنی رقم کا میرا وہ سامان انا تھا اس سے ادھی رقم میں اس خاتون کے والد کی تدفین ہو گئی میں نے کفن دفن کے انتظام کیا اس شخص کے جنازے کا اعلان ہوا مولوی صاحب ائے اس شخص کو غسل دینے کے لیے میں نے خود بھی حصہ ڈالا اس کی تدفین کے بعد فارغ ہوا تو تب تک کافی وقت گزر چکا تھا میرے پاس جو رقم باقی بچ گئی تھی میں نے وہ رقم بھی اس خاتون کے حوالے کر دی اس نے کہا کہ کچھ دنوں تک میں اپ کے لیے کسی بہتر گھر میں کام تلاش کر لوں گا میں وہ رقم اسے دے کر واپس اپنے گھر ا گیا میں نے اپنی عیاشی کے لیے کچھ نہ خریدا میری وہ رات بہت بے چینی میں گزری رات کو تقریبا 11 بجے کے بعد میرے لیے برداشت کرنا ممکن نہ رہا تو تب مجھے خیال ایا کہ سکون کے لیے سب سے بہترین چیز اللہ تعالی کا ذکر ہے میں نے وضو کیا نماز عشاء ادا کی اور یقین مانیں مجھے نہیں پتہ کہ میں اللہ کے سامنے کتنے وقت کے بعد جھک رہا تھا نماز کے بعد بھی مجھے بے چینی باقی رہی میں نے قران پاک اٹھایا اور تلاوت کرنے لگا تھوڑی دیر تلاوت کی قران پاک رکھا اپنے لیے دعا کی مگر میرے اندر وہ حرام چیز کی طلب ابھی باقی تھی میں نے اپنے موبائل کو سکرول کرنا شروع کر دیا جب پھر بھی وقت نہ کٹا اور مجھے نیند نہ ائی تو میں ایک بار پھر اٹھا میں نے ترجمہ اور تفسیر والا قران پاک اٹھایا اور قران پاک کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنا شروع کر دی اور تقریبا صبح کے تین بجے تک میں قران پاک کی تلاوت ترجمہ اور تفسیر ہی پڑھتا رہا اس کے بعد سو گیا صبح میں بہت دیر سے اٹھا مگر تب تک میں کافی حد تک بہتر ہو چکا تھا میں نے اس خاتون کی خبرگیری کرنے کا فیصلہ کیا اور وہاں چلا گیا 

باہر لوگ فاتحہ خوانی کے لیے بیٹھے ہوئے تھے گو کہ اس خاتون کا بھائی کوئی نہیں تھا شوہر اسے طلاق دے چکا تھا اور باپ کا انتقال ہو چکا تھا شاید اس کا کوئی ایک آدھ عزیز وہاں ہوگا مگر ظاہر سی بات ہے ان کو بھی اس کی ذات سے کوئی سروکار نہیں تھا تبھی اس کی باپ کی لاش دو دن تک اس کے گھر میں پڑی رہی تھی فاتحہ خوانی کے بعد میں نے کسی نہ کسی طرح اس خاتون سے ملاقات کی اس کے سر پہ دست شفقت رکھا اس سے ضرورت کے سامان کے بارے میں پوچھا وہ خاموش رہی مگر اس کی ایک بچی جو تھوڑی سمجھدار تھی اس نے بتایا کہ ہماری پانی والی موٹر خراب ہے ہم نے وضو کرنا ہے اور گھر میں پانی نہیں ہے ساتھ والے گھر سے تین چار بار مانگ چکے ہیں خاتون نے اپنی بچی کو منع کرنا چاہا مگر میں نے خاتون کو روکا بچی کی بات تسلی سے سنی اور ان کا یہ مسئلہ حل کیا اس کے بعد گھر اگیا میرے لیے یہ رات بھی کافی مشکل تھی اور اس رات بھی میں نے قران پاک کی تلاوت اور ترجمے کے ذریعے ہی سکون حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا میں تین چار دن تک وہاں جاتا رہا ان لوگوں کا جو بھی چھوٹا موٹا مسئلہ ہوتا ہے وہ حل کروا آتا 

پھر جب وہ لوگ سوگ سے فارغ ہو گئے اور خاتون واپس اپنی روٹین پر اگئی تو اسی دوران میں نے اپنے ایک ملازم سے جو نسبتا اچھا کماتا تھا اور اس کی بیوی فوت ہو چکی تھی بات کی دوسری طرف اس خاتون سے بھی بات کی اور ان دونوں کا نکاح کروا دیا اس وقت وہ دونوں ایک اچھی زندگی گزار رہے ہیں لیکن اس ایک نیکی کے بعد مجھے دوبارہ کبھی حرام کو منہ لگانے کی عادت نہیں رہی مجھے جو سکون ترجمے کے ساتھ قران پاک کو پڑھ کر ملا وہ سکون کہیں اور نہیں ملا تب مجھے احساس ہوا کہ جو پیسہ ہم لوگ اپنی عیاشی پر لگاتے ہیں اگر وہ پیسہ مخلوق خدا پر خرچ کرتے ہیں تو ہم دگنا سکون حاصل کر سکتے ہیں 

میں نے جب سے مخلوق خدا پر خرچ کرنا شروع کیا ہے اس دن سے اللہ تعالی نے میرے رزق میں بے انتہا اضافہ کر دیا ہے کبھی میرے والد جو میرے لیے فکر مند رہتے تھے کہ میں ان کی ساری دولت کو اڑا دوں گا اور خود سڑک پر ا جاؤں گا اج میرے والد میرے ساتھ بیٹھے ہوں تو مجھ سے پوچھا کرتے ہیں کہ کوئی نیا بزنس کب شروع کر رہے ہو اور میں ان کو کہتا ہوں کہ انشاءاللہ اسی سال کہیں نہ کہیں نئی جگہ پر میں اپنی رقم انویسٹ کر لوں گا اور مجھے ہر سال اللہ تعالی اتنا نواز دیتا ہے کہ میں کہیں نہ کہیں اچھی خاصی رقم لگا لیتا ہوں اور میری زندگی کو اللہ تعالی نے صرف میری ایک چھوٹی سی نیکی کے بدلے بدل ڈالا ھے اگر اس روز میں ان پیسوں کی شراب خرید کر پی لیتا تو ہو سکتا ہے اج واقعی میں سڑک پر ا چکا ہوتا لیکن اس روز وہ رقم میں نے اپنی عیاش پر لگانے کی بجائے ایک مجبور خاتون پر لگا دیا اج الحمدللہ ان کی زندگی بھی سنور چکی ہے اور میرا مستقبل بھی سنور چکا ہے میں اپنے جیسی کلاس کے لوگوں کو صرف اتنی نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں پتہ ہی نہیں ہے کہ لوگ کتنی مشکل زندگی گزار رہے ہیں جہاں ہم رہ رہے ہیں وہاں تو جنت ہے وہاں کسی کو کسی سے کوئی غرض نہیں ہے مگر ہمارے ملک کے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے گھر میں بے گورو کفن لاشیں پڑی ہوتی ہیں اور ان کے پاس کفن دفن کے پیسے نہیں ہوتے ہمیں ایسے لوگوں کا سہارا بننا چاہیے یقین کریں اگر میرے جیسے لوگ یہ بات سمجھ لیں تو ہمارے ملک میں کبھی کوئی بھوکا نہ سوئے مگر افسوس کہ میری بات کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہے بہرحال میں اپنے طور پر اپنے ہر جاننے والے کو یہ نصیحت کرتا ہوں کوئی عمل کرے یا نہ کرے یہ اس کا اپنا فعل ہے 

  #HidayatKiDhoop #EkBetiElBaap #RehamSeHidayatTak #AlllhaKiTadbeer #GunehgarSeBanda See less