اتوار، 14 جون، 2026

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَالرُّوْحُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍ (وضاحت)

 Al-Ma'arij 70:4

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَالرُّوْحُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍ ۚ 

to whom ascend the angels and the Spirit in a day the length of which is fifty thousand years.

جس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔

 یہ والی آیت کبھی بھی سمجھ نہیں آتی مطلب کہ اللہ کا دن جو ہے وہ 50,000 سال کے برابر ہے؟؟؟ کون سے 50,000 سال؟؟؟؟ وہ جو ہماری دنیا کے 50,000 سال ہوں گے وہ اللہ کا ایک دن ہے؟؟؟

یہ آیت واقعی پہلی نظر میں سوچ میں ڈال دیتی ہے، لیکن اس کا مطلب بہت گہرا اور خوبصورت ہے۔ اسے بالکل سادہ، آسان اور بچکانہ مثالوں سے سمجھتے ہیں تاکہ بات ہمیشہ کے لیے دماغ میں بیٹھ جائے۔

اس آیت کا آسان مطلب یہ ہے کہ جو فاصلہ یا کام دنیا کے حساب سے 50,000 سال میں پورا ہو، وہ اللہ کے ہاں (یا فرشتوں کے لیے) صرف ایک دن (یا اس کے ایک حصے) میں ہو جاتا ہے۔ یہ اللہ کی طاقت اور کائنات کی وسعت کو دکھانے کے لیے ایک مثال ہے۔

اسے سمجھنے کے لیے تین سادہ مثالیں دیکھیں:

1. چیونٹی اور ہوائی جہاز کی مثال (فاصلے کا فرق)

فرض کریں ایک چیونٹی کو لاہور سے کراچی جانا ہے۔ وہ اپنی رفتار سے رینگنا شروع کرے تو شاید اسے کئی سال لگ جائیں۔ لیکن اگر آپ اسی چیونٹی کو اٹھا کر ہوائی جہاز میں بیٹھ جائیں، تو آپ وہ فاصلہ صرف 2 گھنٹے میں طے کر لیں گے۔

چیونٹی کے لیے وہ سفر "کئی سال" کا ہے۔

آپ کے لیے وہ سفر "2 گھنٹے" کا ہے۔

بالکل اسی طرح، کائنات کا وہ فاصلہ جو انسان اپنی رفتار سے طے کرے تو اسے 50,000 سال لگیں، فرشتے اللہ کے حکم سے وہ فاصلہ صرف ایک دن میں طے کر لیتے ہیں۔

2. کمپیوٹر گیم کی مثال (وقت کی رفتار کا فرق)

اگر آپ کوئی کمپیوٹر گیم (جیسے کوئی سٹی بلڈنگ یا سمیلیٹر گیم) کھیل رہے ہوں۔ گیم کے اندر رات ہوتی ہے، پھر صبح ہوتی ہے، پھر پورا سال گزر جاتا ہے۔ گیم کے اندر موجود لوگوں کے لیے پورا ایک سال گزر گیا، لیکن باہر بیٹھے آپ کے لیے صرف 10 منٹ گزرے۔ کیونکہ آپ گیم کی دنیا سے باہر ہیں اور آپ کا وقت الگ رفتار سے چل رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ اس کائنات کا خالق ہے، وہ وقت اور جگہ (Time and Space) کا پابند نہیں ہے۔ یہ 50,000 سال ہمارے دنیا کے کلینڈر کے حساب سے ہیں، لیکن اللہ کی شان اور فرشتوں کی ڈیوٹی کے حساب سے وہ صرف ایک دن ہے۔

3. ویڈیو ڈاؤن لوڈنگ کی مثال (طاقت کا فرق)

فرض کریں ایک بہت بڑی 4K مووی ہے۔ اگر آپ اسے 1990ء کے پرانے انٹرنیٹ پر ڈاؤن لوڈ کریں، تو کمپیوٹر دکھائے گا کہ اسے ڈاؤن لوڈ ہونے میں 50 سال لگیں گے۔ لیکن اگر آپ کے پاس سپر فاسٹ فائیبر انٹرنیٹ ہو، تو وہی مووی 1 سیکنڈ میں ڈاؤن لوڈ ہو جائے گی۔

فائل وہی ہے، لیکن طاقت اور ٹیکنالوجی بدلنے سے وقت بدل گیا۔ فرشتے جن نورانی طاقتوں کے ساتھ سفر کرتے ہیں، ان کے لیے 50,000 سال کا سفر ایک دن کا کام ہے۔

خلاصہ (مفسرین کی نظر میں)

علماء اس کے دو بڑے مطلب بتاتے ہیں:

فرشتوں کا سفر: یعنی زمین سے عرش تک کا فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ اگر انسان عام طریقے سے طے کرے تو پچاس ہزار سال لگیں، مگر فرشتے اور روح (حضرت جبرائیل علیہ السلام) یہ کام ایک دن میں کر لیتے ہیں۔

قیامت کا دن: بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن کی لمبائی کا ذکر ہے، جو کافروں اور منکرین پر ان کی گھبراہٹ کی وجہ سے پچاس ہزار سال جتنا بھاری اور لمبا محسوس ہوگا، جبکہ ایک مومن کے لیے وہ وقت بہت جلدی گزر جائے گا۔

سیدھی سی بات ہے: وقت اور فاصلہ دیکھنے والے کی طاقت پر منحصر ہوتا ہے۔ ہمارے لیے جو پچاس ہزار سال ہیں، اللہ کی کائنات میں وہ ایک دن کی بات ہے۔