ہفتہ، 7 ستمبر، 2024

اسٹڈی کے ساتھ ساتھ پیسے کماؤ

 السلام علیکم! 

میں فرسٹ ائیر میڈیکل کا سٹوڈنٹ ہوں.  میرا کالج کا داخلہ11000  اور ماہانہ  فیس 1800 روپے ہے,کالج شہر میں ہے روزانہ آنے جانے کا کرایہ دو سو روپے ہے. یعنی ماہانہ تقریباً پانچ ہزار بنتی ہے. دوسرا بھائ میٹرک میں ہے اس کا داخلہ فیس 1300 اور ماہانہ سکول  فیس 1600 ہے,  تیسرا بھائ ہشتم میں ہے اس کا داخلہ فیس 1300 اور ماہانہ فیس 1300 ہے. ہمارا ماہانہ انکم تقریباً پندہ ہزار ہے. گھر کا روزانہ خرچہ تقریباً چار سو تک ہے. ابھی تک اس سال کے فیسز جمع نہیں کیے ہیں. میرے پاس ایک لیپ ٹاپ ہے جو میں نے ایک سال پہلے تیس ہزار میں لیا تھا. اور ایک یہ موبائل جس کا قیمت دو ہزار لگ بگ ہوگی. قیمت سے آپ کو پتہ چل گیا ہوگا کہ یہ کیسا موبائل ہے. 

میں نے یوٹیوب سے تقریباً بیس بائیس کورسسز سکھے ہیں جس میں یوٹیوب, فیسبک, ٹک ٹاک,  کینوا, وغیرہ شامل ہیں لیکن سٹڈی اور نہ کارہ موبائل کی وجہ سے  پریٹیکل کام نہیں کیا. میں چاہتا ہوں کہ سٹڈی کے ساتھ ساتھ پیسے کماؤ اور سٹڈی پہ فرق نہ پڑے. 

اس گروپ میں نہایت قابل, مخلص, انسان دوست اور تجربہ کار خواتین و حضرات موجود ہیں. جس نے بہت سے کاموں میں مفید مشوروں سے رہ نمائ کی ہے. براہ کرم میرے حالت کے مطابق مجھے بہترین حل بتا دے.

وعلیکم السلام

جو سیکھا ہے اسے دوسروں کو سکھانا شروع کردو کیونکہ ان کے پاس تم سے بہتر وسائل اور ریسورسز ضرور ہوں گے۔ 

تم ان سے اپنی اسکلز سکھانے کے بدلے فیس وصول کرو پھر چاہے ان کے گھر جاکر پڑھاؤ یا وہ تمہارے گھر آکر اسٹڈی کریں۔

جب پیسے ملیں تو خود کو اپ گریڈ کرلو اور مزید اسکلز سیکھ کر ایک بہترین ٹیچر اینڈ ٹرینر بن کر ابھرو۔ ساتھ میں اپنا فری لانسنگ بزنس بھی شروع کردو اسکلز کے ذریعہ دوسروں کا کام کرنے کے بدلے پیسہ وصول کرنے کے لیے۔ پھر چاہے پاکستان سے کام کرو باہر ممالک کے لوگوں کے لیے یا پھر پاکستان والوں کے ساتھ بزنس شروع کردو۔ یہ سب تمہارے اوپر ہے

لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد

بے شک میں مردے زندہ کرچکا ہوں اللہ کے حکم سے

بے شک میں اللہ کے حکم سے اور اس کی مدد سے اکیسویں صدی میں مردے زندہ کرچکا ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا لیجنڈ ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ واحد القہار کے آخری اور سچے رسول ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت عیسی علیہ السلام اللہ کے رسول اور روح اللہ ہیں اللہ کے بندے ہیں اور ان کا اللہ کی خدائی میں کوئی شریک ہونے کا دعوی نہیں اور نہ ہی وہ اللہ کے بیٹے ہیں۔

دنیا کے تمام غیرمسلم، ملحدین و مشرکین و منافقین جو حضرت عیسی علیہ السلام کو مردہ سمجھتے ہیں یا انتقال شدہ سمجھتے ہیں وہ سب جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور وہ قیامت سے پہلے تشریف لائیں گے اللہ کے حکم سے

مردے زندہ کرنا اللہ کا کام ہے اور وہ جس کے ذریعہ چاہے یہ معجزہ دکھا سکتا ہے اس میں کسی بندے کا کمال نہیں مگر اللہ جب کسی کے ذریعہ معجزات دکھاتا ہے تو وہ یہ حجت تمام کردیتا ہے کہ وہ اس کا کوئی خاص بندہ ہی ہوسکتا ہے، کسی ایرے غیرے نتھو خیرے اور کافر مشرک کی مجال نہیں کہ وہ مردے زندہ کرنا شروع کرنا تو بہت دور کی بات، کسی مچھر کو بھی مرکر سوکھ جانے کے بعد دوبارہ جان ڈال کر زندگی دلواسکے اپنے  جیسس  سے جسے وہ خدا کا بیٹا قرار دیتا ہے اور اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے۔

بے شک اللہ ان تمام الزمات سے پاک ہے جو کفار و مشرکین اس کی ذات مبارکہ پر لگاتے ہیں اور یہ میرا کھلا اعلان اور چیلنج ہے کہ قیامت تک کوئی بھی کافر میرے مقابلہ پر آکر میرے ہاتھ کی ہتھیلی پر کسی بھی ٹی وی چینل پر عوام کے سامنے مردہ مچھر تک زندہ نہیں کرسکتا۔

اللہ اکبر

لیجنڈ

جمعہ، 6 ستمبر، 2024

بیری کے پتوں کے عجیب و غریب کمالات

بیری کے پتوں کے بہت سے فائدے ہیں اور جب کسی کو فائدے   پتہ چل جائیں تو وہ کسی بھی چیز کو زیادہ بہتر طریقے سے استعمال کر سکتا ہے۔ یہاں پر میں نے بیری کے پتوں کے فائدوں کے حوالے سے چند ویڈیوز شیئر کر دی ہیں باقی کے لیے یوٹیوب سرچ کیا جا سکتا ہے۔








کیا مردے زندہ ہوسکتے ہیں؟ کیا مردہ زندہ کرنا ممکن ہے؟

بے شک مردے زندہ ہوسکتے ہیں اور بے شک اللہ اس بات پر قادر ہے کہ کسی بھی مردے کے جسم میں روح کو واپس لوٹا دے اور اللہ کو کوئی بھی اس کام سے روک نہیں سکتا مگر اکثر مسلمان اس حقیقت سے ناواقف اور جاہل ہیں لہذا جب ان کے سامنے اس قسم کی باتیں کہی جائیں کہ مردے دوبارہ زندہ ہوسکتے ہیں تو وہ جہالت سے کام لیتے ہیں۔

اس ایک اشتہار پر لوگوں نے کھل کر اپنی جہالت کا اظہار کیا جبکہ ان کی عقل کام نہیں کرتی کہ ایک شخص بزنس آفر دے رہا ہے اور یہ ایک کاروباری گروپ تھا جہاں ہر کوئی اپنے بزنس کی مارکیٹینگ اور پروموشن کررہا تھا مگر جب میں نے سامنے آکر اپنے روحانی بزنس کے حوالے سے صرف ایک ہی لیجنڈری سروس آفر کی تو ان کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔

اللہ کے لیے مردے زندہ کرنا کونسی بڑی بات ہے؟


رائٹنگ کے ذریعے تبلیغ اسلام

اسلام کی تبلیغ ہر دور میں اہم رہی ہے، اور آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ عمل اور بھی ضروری اور مؤثر ہو چکا ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا نے انسانوں کے مابین فاصلے مٹا دیے ہیں اور معلومات کی فراہمی کو تیز تر اور وسیع پیمانے پر ممکن بنا دیا ہے۔ اس دور میں ایک رائٹر (مصنف) کے پاس یہ بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے اسلام کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچا سکے۔ 

اسلامی تعلیمات کو مختلف زبانوں، اقوام اور مختلف طبقوں تک پہنچانے میں تحریر ایک اہم ذریعہ ہے، اور یہ کام نئے انداز اور تخلیقی طریقوں سے کیا جا سکتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اسلام کا پیغام موثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔

 رائٹنگ کے ذریعے تبلیغ کے فوائد
1. **وسعتِ رسائی:** انٹرنیٹ پر تحریر شائع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر میں کسی بھی جگہ، کسی بھی وقت اسے پڑھا جا سکتا ہے۔
2. **تاثیر:** ایک اچھی تحریر قاری کے ذہن پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے اور اس کے خیالات و نظریات کو بدل سکتی ہے۔
3. **تسلسل:** ایک بار تحریر انٹرنیٹ پر موجود ہو جائے، تو یہ مستقل طور پر وہاں رہتی ہے اور وقتاً فوقتاً نئے قارئین تک پہنچتی رہتی ہے۔
4. **تنوع:** مختلف مضامین، بلاگز، سوشل میڈیا پوسٹس، اور ای-بکس جیسے ذرائع استعمال کرکے مختلف موضوعات پر اسلامی تعلیمات کو عام کیا جا سکتا ہے۔

رائٹنگ کے ذریعے تبلیغ اسلام کے لیے نئے نئے آئیڈیاز

بلاگنگ اور اسلامی بلاگز کا قیام
بلاگنگ ایک مقبول اور موثر ذریعہ ہے جس کے ذریعے لکھنے والے اپنی سوچ اور اسلامی تعلیمات کو عام کر سکتے ہیں۔ ایک رائٹر مختلف موضوعات پر اسلامی بلاگز لکھ سکتا ہے:
- اسلام کے عقائد اور بنیادی اصولوں پر تفصیل سے روشنی ڈالنا۔
- موجودہ معاشرتی مسائل پر اسلامی نقطہ نظر پیش کرنا۔
- قرآنی آیات کی تشریح اور ان کے جدید دور میں اطلاق کو بیان کرنا۔
- مختلف فرقوں اور مکاتب فکر کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر۔
- نئے مسلمان ہونے والوں کی کہانیاں اور ان کے تجربات شیئر کرنا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال
آج کے دور میں سوشل میڈیا دنیا کے ہر حصے میں لوگوں کو جوڑنے کا سب سے تیز اور وسیع ذریعہ ہے۔ ایک رائٹر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مختلف قسم کی تحریریں شائع کر سکتا ہے:
- مختصر اسلامی اقوال اور احادیث کو گرافک پوسٹس کے ذریعے پیش کرنا۔
- ویڈیوز اور آرٹیکلز کے ذریعے اسلام کے مختلف پہلوؤں کو مختصر اور جامع انداز میں بیان کرنا۔
- سوشل میڈیا کمیونٹیز میں اسلام پر مبنی مباحثے شروع کرنا اور لوگوں کے سوالات کا جواب دینا۔

ای-بکس اور اسلامی کتابیں
انٹرنیٹ پر ای-بکس کے ذریعے بڑی تعداد میں قارئین تک پہنچنا ممکن ہے۔ ایک رائٹر اسلامی موضوعات پر ای-بکس لکھ کر انہیں مفت یا سستے داموں انٹرنیٹ پر شائع کر سکتا ہے۔ کچھ اہم موضوعات ہو سکتے ہیں:
- اسلام کے پانچ ارکان پر تفصیلی ای-بک۔
- اسلام اور جدید سائنس کے موضوع پر تحقیقی مضامین۔
- غیر مسلموں کے لیے اسلام کا تعارف۔
- اسلامی شخصیات کی سیرت اور ان کی کامیابیاں۔

فری لانس رائٹنگ اور اسلامی ویب سائٹس پر مواد فراہم کرنا
فری لانس رائٹنگ کے ذریعے رائٹر مختلف اسلامی ویب سائٹس کے لیے کام کر سکتا ہے۔ بہت سی اسلامی ویب سائٹس مضامین اور بلاگز کی اشاعت کرتی ہیں، اور ایک رائٹر یہاں اپنی خدمات فراہم کر کے اسلام کی تبلیغ میں حصہ ڈال سکتا ہے۔

پوڈکاسٹ اور سکرپٹ رائٹنگ
پوڈکاسٹ آج کل بہت مقبول ہو چکے ہیں۔ ایک رائٹر اسلامی پوڈکاسٹ کے لیے سکرپٹ لکھ سکتا ہے، جس میں دینی مسائل پر بحث کی جا سکتی ہے، یا سوالات و جوابات کے سیشن رکھے جا سکتے ہیں۔ یہ پوڈکاسٹ عالمی سطح پر سنی جا سکتی ہیں۔

اسلامی ٹرینڈز پر مضامین اور تجزیے
رائٹرز مختلف جدید مسائل اور ٹرینڈز کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر سے لکھ سکتے ہیں:
- ماحولیات، سوشل جسٹس، اور ہیومن رائٹس پر اسلام کا مؤقف۔
- جدید ٹیکنالوجی اور اسلام کے اصولوں کا تقابل۔
- فیملی سسٹم، حقوق نسواں، اور مساوات کے بارے میں اسلامی تعلیمات۔

اسلامی شارٹ اسٹوریز اور ناولز
فکشن کی دنیا میں بھی اسلامی پیغام کو مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے۔ ایک رائٹر اسلامی شارٹ اسٹوریز، افسانے، یا ناول لکھ سکتا ہے جن میں اسلام کی تعلیمات کو خوبصورت کہانیوں کے ذریعے پیش کیا جا سکے۔

آن لائن فورمز اور کمیونٹی پلیٹ فارمز پر مباحثے
انٹرنیٹ پر بہت سے فورمز اور کمیونٹی پلیٹ فارمز ہیں جہاں لوگ مختلف موضوعات پر بحث کرتے ہیں۔ رائٹرز ان فورمز پر اسلام کے بارے میں علمی و تحقیقی گفتگو کر سکتے ہیں اور لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات دے سکتے ہیں۔

یوٹیوب چینلز کے لیے سکرپٹ لکھنا
یوٹیوب ویڈیوز کے لیے تحریر ایک اہم حصہ ہوتی ہے۔ اسلامی موضوعات پر سکرپٹ لکھ کر رائٹرز ویڈیو کریئیٹرز کو مدد فراہم کر سکتے ہیں جو ان ویڈیوز کے ذریعے اسلام کا پیغام لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

نیوز لیٹرز اور اسلامی میلنگ لسٹس
رائٹرز اسلامی مواد پر مبنی نیوز لیٹرز بنا سکتے ہیں جو ہفتہ وار یا ماہانہ مختلف لوگوں کو بھیجی جا سکتی ہیں۔ یہ نیوز لیٹرز اسلامی تعلیمات، احادیث، قرآنی آیات، اور جدید مسائل پر اسلامی تجزیے پر مبنی ہو سکتی ہیں۔

 خلاصہ
رائٹنگ کے ذریعے تبلیغ اسلام کا میدان بہت وسیع ہے، اور ایک رائٹر انٹرنیٹ کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اسلام کے پیغام کو دنیا کے ہر کونے میں پہنچا سکتا ہے۔ تحریریں، بلاگز، سوشل میڈیا پوسٹس، ای-بکس، اور ویڈیوز کے ذریعے ایک رائٹر تیزی سے غلبہ اسلام کے لیے کام کر سکتا ہے۔ تحریر کی دنیا میں تخلیقی طریقے اور نئے آئیڈیاز اپنا کر یہ مشن اور بھی زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
ChatGPT

اللہ کے ذکر کرنے کی حقیقت

اللہ کا ذکر کرنا منہ سے اللہ اللہ اللہ کرنا ہے یا اللہ کا ذکر کرنے سے مراد اللہ کے بارے میں غیرمسلموں کو بتانا اور اس کے بارے میں تعارف کروانا ہے؟ اللہ کے ذکر کی بہت تعریفیں سنی ہیں میں نے۔۔۔اللہ کا ذکر کرنے کی حقیقت کیا ہے؟

اللہ کا ذکر کرنا ایک بہت وسیع اور عمیق مفہوم رکھتا ہے، اور یہ مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ “ذکر” عربی زبان میں یاد کرنے اور یاد دہانی کے معنی میں آتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، ذکرِ الٰہی کا مقصد اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا، اس کی حمد و ثناء بیان کرنا، اور اپنے دل کو اللہ کی محبت اور خشیت سے معمور رکھنا ہے۔

اللہ کے ذکر کی دو اہم اقسام ہیں:

لسانی ذکر (زبانی ذکر):

یہ ذکر زبان کے ذریعے کیا جاتا ہے، جیسے “اللہ، اللہ” کہنا، “سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ” وغیرہ۔ یہ ایک روحانی عمل ہے جس سے دل کو اللہ کی یاد سے معمور کیا جاتا ہے اور ایمان کو تازہ کیا جاتا ہے۔ اس قسم کا ذکر آسان اور عام ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی بہت فضیلت بیان فرمائی ہے۔

مثال کے طور پر، قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
 “فاذکرونی اذکرکم” 
(سورۃ البقرہ: 152) 
 “پس تم میرا ذکر کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔”

قلبی ذکر (دل کا ذکر):
یہ ذکر دل کے ساتھ اللہ کی یاد میں مشغول رہنے کو کہتے ہیں، یعنی ہر کام میں اللہ کی رضا کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے قریب ہونے کی کوشش کرنا۔ یہ ذکر دل کی گہرائیوں میں ہوتا ہے، اور اس کا مقصد اپنے دل کو دنیاوی علائق سے ہٹا کر اللہ کی محبت میں مشغول کرنا ہے۔

ذکر کا دوسرا پہلو: اللہ کی معرفت اور دعوت
ذکر کا ایک اور معنی ہے کہ اللہ کی معرفت اور اس کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچایا جائے، یعنی غیر مسلموں کو اللہ کے بارے میں بتانا، اس کی وحدانیت اور صفات کا تعارف کروانا۔ یہ بھی ذکر کی ایک صورت ہے، کیونکہ جب ہم دوسروں کو اللہ کے بارے میں بتاتے ہیں، تو دراصل ہم اللہ کی یاد کو ان تک پہنچا رہے ہوتے ہیں۔

 ذکر کی حقیقت اور اہمیت:
ذکر الٰہی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک قریبی اور خالص تعلق قائم کرنا ہے۔ ذکر کا تعلق صرف زبان سے نہیں، بلکہ دل، عقل اور عمل سے بھی ہے۔ ذکر سے مراد یہ بھی ہے کہ انسان ہر حال میں اللہ کو یاد رکھے، اس کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرے، اور دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے اس کی رہنمائی کے مطابق زندگی گزارے۔

حضرت محمد ﷺ نے ذکر کی اہمیت پر بہت زور دیا ہے، اور ایک حدیث میں فرمایا:
 “وہ شخص جو اللہ کا ذکر کرتا ہے اور جو نہیں کرتا، ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔” 
(صحیح بخاری)

 خلاصہ:
اللہ کا ذکر صرف زبان سے “اللہ اللہ” کہنا نہیں، بلکہ دل سے اللہ کو یاد کرنا، اس کی عبادت کرنا، اس کی صفات کو سمجھنا، اور اس کی رضا کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔ اور ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت اور اس کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانا بھی ذکر کی ایک اہم صورت ہے۔
ChatGPT

جمعرات، 7 دسمبر، 2023

انجینیئر محمد علی مرزا کے نعرے بابے تے شہ کوئی نہیں پر منہ توڑ جواب

 حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک امتی روحانی ڈاکٹر مولانا ابرار عالم اکیسویں صدی کے ایک نایاب غیر جانبدار سنی مسلم اسکالر اور روحانی معالج ہیں جو دین اسلام کے علمبردار بھی ہیں اور روحانی طاقتوں کے حامل بزرگ بھی ہیں۔

مولانا ابرار عالم لاعلاج مریضوں کو روحانی طاقت سے ٹھیک کرنے کا 20 سالہ تجربہ رکھتے ہیں اور انہوں نے میرے ساتھ ملکر میرے روحانی بزنس میں میرے کچھ کلائنٹس کے کیسز پر کام کرکے اپنی روحانی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے بغیر ملاقات کے ان کا علاج کیا اور اللہ کے حکم سے میرے کلائنٹس کی حالت میں بہتری آنا شروع ہوگئی جس کے ثبوت میرے یوٹیوب چینل لیجنڈری فری لانسر پر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر انجینئر محمد علی مرزا کے اندر یہ طاقت ہے تو وہ بھی ایسا کر کے دکھائے پھر بولے کہ بابے تے شہ کوئی نہیں۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اور امتی روحانی سرجن شاہ عقیق بابا شہید سنی مسلم کی روح گزشتہ 500 سال سے پاکستان کے شہر ٹھٹہ کے اندر چوہڑ جمالی گاؤں میں اپنے مزار پہ آنے والے لاعلاج مریضوں کا روحانی علاج کررہی ہے۔ شاہ یقیق بابا کی روح کو یہ کمال حاصل ہے کہ وہ بغیر سامنے ظاہر ہوئے صرف اپنی روح کے ذریعہ لاعلاج مریضوں کا بغیر سائنسی آلات استعمال کیے میڈیکل آپریشن اور سرجریاں کردیتے ہیں اللہ کی اجازت اور حکم سے۔ اس بات کی خبر بی بی سی اردو نیوز سمیت پاکستان کے کئی آفیشل میڈیا نیوز چینلز اور روذنامہ امت نے پبلش کر رکھی ہے۔ اگر انجینئر محمد علی مرزا اپنی موت کے بعد ایسا کر کے دکھا سکتا ہے تو وہ شوق سے کہے کہ باب تے شہ کوئی نہیں۔

اور اگر انجینئر محمد علی مرزا ایسا نہیں کر سکتا جو کہ وہ ہرگز نہ کر سکے گا تو اپنی گستاخانہ باتوں سے باز آجائے ورنہ اس کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔

انجینیئر محمد علی مرزا اللہ سے معافی مانگے اور آئندہ میرا مضمون پڑھ لینے کے بعد اولیاء کرام اور صحابہ کرام اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثاروں سمیت کسی بھی اسلام ہے سچے پیروکار کے خلاف بدزبانی اور بدتہذیبی سے گریز کرے ورنہ پھر میں اس کے خلاف قیامت کے دن گواہی دوں گا اور بھرپور ایکشن لوں گا کہ یہ اس دنیا میں کتنا بڑا گستاخ تھا۔

انجینیئر محمد علی مرزا کے نقش قدم پر چلنے والے تمام گستاخ بھی باز آجائیں یہی ان سب کے حق میں بہتر ہے۔

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد