پیر، 30 دسمبر، 2024

عزت اور ذلت کی حقیقت – ایک سبق

یہ بات افسوسناک ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک غلط فہمی پھیل چکی ہے کہ عزت کا پیمانہ صرف اور صرف دنیاوی لباس، دولت، عہدہ، اور ظاہری شان و شوکت پر منحصر ہے۔ بدقسمتی سے کچھ لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی محفل میں اعلیٰ درجے کے کپڑے پہنے یا ان کپڑوں کی استری کرے تو وہ ہی عزت مند اور باعزت سمجھا جاتا ہے۔ یہ حقیقت میں ایک بے بنیاد اور جھوٹا تصور ہے جو دنیاوی سطح پر کامیابی کے لئے ایک خاص قسم کے ظاہر پر مبنی ہے۔

اللہ نے قرآن میں بار بار ذکر کیا ہے کہ عزت و ذلت کا حقیقی مفہوم انسان کے اخلاق، کردار، اور نیک عمل میں ہے، نہ کہ ظاہری حالات یا مال و دولت میں۔ جو لوگ صرف اپنی ظاہری حالت کے ساتھ اپنے آپ کو عزت مند سمجھتے ہیں، وہ دراصل اس فریب میں مبتلا ہیں کہ دنیا کی عارضی چیزوں سے انہیں کوئی بڑا مقام مل سکتا ہے۔

عزت کا اصل مفہوم:

عزت کی حقیقت اس بات میں ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کے قریب اور اس کی رضا میں مشغول رکھے۔ اللہ نے فرمایا:

"وَعَدَ اللَّٰهُ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ جَنَّٰتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَارُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا وَمَسَٰكِنَ طَيِّبَةًۭ فِى جَنَّٰتِ عَدْنٍۢ وَرَضِىَ ٱللَّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِىَ رَبَّهُۥ"
(التوبہ 9:72)

ترجمہ:
"اللہ نے ایمان لانے والے مردوں اور ایمان لانے والی عورتوں کے لیے وہ جنتیں وعدہ کی ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ مکان جنت عدن میں، اور اللہ ان سے راضی ہوگا اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔"

وہ لوگ جو اپنے آپ کو مال و دولت سے متعلق سمجھتے ہیں، ان کا غلط تصور:

کچھ لوگ اپنے عہدہ، پیسے یا مقامات کے بل پر اپنی عزت و عظمت کا دعوی کرتے ہیں، جیسے وہ کسی کی معیاری زندگی کے معیار بن چکے ہیں۔ "اتنی بڑی ڈاکٹر کا شوہر؟ اتنے بڑے آفیسر کا بیٹا؟" جیسے سوالات ان کے درمیان گاہے بگاہے سننے کو ملتے ہیں، اور ان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ ان کے اندر کوئی خاصیت ہے۔ لیکن حقیقت میں اللہ نے دنیا میں صرف آزمائش رکھی ہے۔ اگر کسی کو مال، عزت، یا مرتبہ دیا ہے تو یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے۔ ان چیزوں کا حقیقی مقام اور مقصد کسی انسان کی عزت یا ذلت کے پیمانے سے نہیں بلکہ اس کے عمل اور نیت سے وابستہ ہے۔

دنیاوی شین و شوکت کی حقیقت:

دنیا میں مال و دولت کی اہمیت صرف اس حد تک ہے کہ انسان اپنے اور اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کرے۔ اس کے بعد انسان کا کام ان مال و دولت کو لوگوں کی خدمت میں، اللہ کی رضا کے لئے اور دوسروں کی مدد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ اگر انسان میں بخل اور غرور ہوتا ہے تو اس کی عزت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

پڑھے لکھے جاہل:

پڑھائی، دولت اور عہدے کی بنیاد پر خود کو عزت میں سب سے آگے سمجھنے والے افراد دراصل جاہلیت میں مبتلا ہیں۔ جو لوگ علم حاصل کرنے اور دنیا کی دولت جمع کرنے کے بعد بھی اپنے اندر اخلاق نہیں رکھتے، وہ حقیقت میں جاہل ہیں۔ وہ دین کی سچی سمجھ سے دور ہیں اور ایک جھوٹی شان و شوکت میں غرق ہیں جو ان کو اللہ سے دور لے جاتی ہے۔

ذلت کی حقیقت:

ذلت کا تعلق انسان کے اعمال سے ہے، نہ کہ اس کی مالی حالت یا عہدے سے۔ اللہ نے فرمایا:

"وَمَنْ يَكْفُرْ بِإِيمَانِهِ فَإِنَّهُ أَصْلَحَ وَلَيْسَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَشْرَكْتَ فِي كَبَرٍ" (الزمر، 39:4)

اگر انسان نے نیک عمل نہیں کیے، اللہ کی ہدایت کو قبول نہیں کیا، اور اپنے نفس اور غرور کو دنیا کی عارضی چیزوں پر ترجیح دی، تو وہ ذلت میں ڈوب جائے گا، چاہے اس کے پاس کتنی بھی دولت یا عزت ہو۔

اختتامیہ:

ہمیں اپنی عزت کا پیمانہ اللہ کی رضا، اخلاقی خوبیوں، اور عمل سے جانچنا چاہیے۔ اس کی قربت میں ہی حقیقی عزت ہے، نہ کہ مال، دولت، یا عہدے میں۔ دنیا میں جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے، وہ عارضی ہے، اور یہ صرف ایک امتحان ہے۔ جو شخص ان چیزوں کو اللہ کے راستے میں صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرتا ہے، وہی سچی عزت کا مستحق ہے۔ اگر یہ لوگ حقیقت میں دین اور اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں اپنی عارضی شان و شوکت کو چھوڑ کر، اپنی اصل عزت کی جانب قدم بڑھانا ہوگا جو کہ اللہ کے راستے میں ہے۔

ہفتہ، 28 دسمبر، 2024

مختلف شعبوں میں کام کرنے والے فری لانسرز کے لیے "فیس"، "چارجز"، "پراجیکٹ"، اور "کیس" جیسے تصورات

مختلف شعبوں میں کام کرنے والے فری لانسرز کے لیے "فیس"، "چارجز"، "پراجیکٹ"، اور "کیس" جیسے تصورات مختلف معانی رکھتے ہیں۔ اگر فری لانسر اسپریچوئل ہیلر ہو، یا وہ متعدد خدمات جیسے ویب ڈویلپمنٹ، ہیلنگ، کاؤنسلنگ، اور کوچنگ فراہم کرتا ہو، تو ان تصورات کی وضاحت درج ذیل انداز میں کی جا سکتی ہے:


1. اسپریچوئل ہیلرز: "کیس" یا "پراجیکٹ"؟

(الف) کیس کا مطلب:

  • اسپریچوئل ہیلرز کے لیے "کیس" کسی مریض یا کلائنٹ کی مخصوص صورت حال یا مسئلے پر کام کرنے کو کہا جاتا ہے۔
  • مثال: کسی شخص کو جذباتی مسائل، روحانی الجھنوں، یا لاعلاج بیماری میں مدد فراہم کرنا۔

(ب) پراجیکٹ کا مطلب:

  • اسپریچوئل ہیلرز کے لیے "پراجیکٹ" وہ کام ہو سکتا ہے جو ایک مخصوص مدت کے لیے ہو اور جس کے اہداف واضح ہوں۔
  • مثال: ایک ورکشاپ، آن لائن پروگرام، یا طے شدہ تعداد میں سیشنز کی پیش کش۔

فرق:

  • اگر ہیلر کسی فرد کے ذاتی مسئلے پر کام کر رہا ہے، تو یہ "کیس" کہلائے گا۔
  • اگر ہیلر ایک گروپ ورکشاپ یا پروگرام چلا رہا ہے، تو یہ "پراجیکٹ" کہلائے گا۔

2. فیس، چارجز، قیمت، یا پیمنٹ؟

(الف) فیس:

  • اسپریچوئل ہیلرز عموماً اپنی خدمات کے بدلے "فیس" وصول کرتے ہیں۔
  • فیس کا تعین: سیشنز کی تعداد، وقت، اور فراہم کردہ خدمات کی نوعیت کے حساب سے ہوتا ہے۔

(ب) سروس چارجز:

  • اگر ہیلر اضافی خدمات فراہم کر رہا ہو، جیسے رپورٹ تیار کرنا یا اضافی مواد فراہم کرنا، تو اسے "سروس چارجز" کہا جا سکتا ہے۔

(ج) قیمت یا پیمنٹ:

  • "قیمت" یا "پیمنٹ" عام طور پر کل سروس کے مجموعی معاوضے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
  • مثال: اگر کلائنٹ نے ایک مکمل ہیلنگ پروگرام خریدا ہے، تو وہ "پیکیج کی قیمت" کہلائے گی۔

3. ویب ڈویلپمنٹ اور اسپریچوئل ہیلنگ دونوں پر کام کرنا

(الف) ویب ڈویلپمنٹ:

  • یہ کام عام طور پر "پراجیکٹ" کہلاتا ہے۔
  • مثال: ایک ویب سائٹ بنانا، جس کے لیے ایک معاہدہ کیا جاتا ہے اور ڈیڈ لائن طے کی جاتی ہے۔

(ب) اسپریچوئل ہیلنگ:

  • اگر یہ کسی فرد کے ذاتی مسئلے پر ہے، تو یہ "کیس" ہوگا۔
  • اگر یہ ایک گروپ یا پیکیجڈ سروس ہے، تو یہ "پراجیکٹ" کہلا سکتا ہے۔

اہم نکتہ:

  • اگر فری لانسر دونوں خدمات فراہم کر رہا ہے، تو وہ مختلف گاہکوں کے لیے مختلف انداز میں کام کر رہا ہوگا:
    • ایک ویب سائٹ کے کلائنٹ کے ساتھ وہ "پراجیکٹ" پر کام کر رہا ہوگا۔
    • ایک ہیلنگ کلائنٹ کے ساتھ وہ "کیس" پر کام کر رہا ہوگا۔

4. کاؤنسلنگ اور کوچنگ: کیس یا پراجیکٹ؟

(الف) کاؤنسلنگ:

  • عام طور پر یہ ایک "کیس" کہلاتا ہے، کیونکہ یہ کسی فرد کی مخصوص صورت حال یا مسئلے پر مبنی ہوتا ہے۔
  • مثال: کسی شخص کے ذاتی یا پیشہ ورانہ مسائل کو حل کرنا۔

(ب) کوچنگ:

  • کوچنگ ایک "پراجیکٹ" ہو سکتا ہے اگر یہ ایک خاص مدت کے لیے ہو اور اس کے اہداف طے شدہ ہوں۔
  • مثال: تین ماہ کا "لیڈرشپ کوچنگ پروگرام"۔

فرق:

  • اگر یہ طویل مدتی اور گہرائی میں ذاتی مدد ہو، تو یہ "کیس" کہلائے گا۔
  • اگر یہ طے شدہ اہداف اور وقت کے ساتھ ایک منظم پروگرام ہو، تو یہ "پراجیکٹ" ہوگا۔

5. پورٹ فولیو میں شامل ہونا

(الف) کیسز:

  • اسپریچوئل ہیلرز یا کاؤنسلرز اپنے کامیاب کیسز کو تجربے کے طور پر اپنے پورٹ فولیو میں شامل کر سکتے ہیں، لیکن کلائنٹ کی رازداری کا خیال رکھنا ضروری ہوگا۔

(ب) پراجیکٹس:

  • پراجیکٹس کو کھلے طور پر پورٹ فولیو میں شامل کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ عام طور پر عوامی نوعیت کے ہوتے ہیں، جیسے ویب سائٹ ڈیزائن یا گروپ کوچنگ پروگرام۔

خلاصہ

  1. ویب ڈویلپمنٹ: ہمیشہ "پراجیکٹ" کہلائے گا۔
  2. اسپریچوئل ہیلنگ:
    • انفرادی کلائنٹس کے لیے "کیس"۔
    • گروپ یا پروگرام کے لیے "پراجیکٹ"۔
  3. کاؤنسلنگ: عام طور پر "کیس"۔
  4. کوچنگ: طے شدہ اہداف کے ساتھ "پراجیکٹ"۔

فری لانسر کو ان خدمات کے معاوضے کے لیے فیس، چارجز، یا پیکیجڈ قیمت کے تصورات استعمال کرنے چاہییں، اور ہر کام کی نوعیت کے مطابق اسے اپنی خدمات کی وضاحت کرنی چاہیے۔

فری لانسرز اور ان کے کام کی نوعیت

فری لانسنگ آج کی صدی میں کام کرنے کا ایک نہایت اہم اور مقبول طریقہ بن چکا ہے۔ فری لانسنگ کی دنیا میں "فیس"، "پراجیکٹس"، اور "چارجز" جیسے تصورات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ آئیے فری لانسرز کے حوالے سے ان پہلوؤں پر روشنی ڈالیں:


فری لانسرز اور ان کے کام کی نوعیت

فری لانسرز وہ ماہرین ہوتے ہیں جو کسی کمپنی یا ادارے کے مستقل ملازم کے طور پر کام کرنے کے بجائے آزادانہ طور پر مختلف منصوبوں یا خدمات پر کام کرتے ہیں۔ ان کا معاوضہ ان کی مہارت، کام کی نوعیت، اور منصوبے کی پیچیدگی پر منحصر ہوتا ہے۔


فیس (Fee) اور فری لانسرز

فری لانسرز اپنی خدمات کے بدلے میں "فیس" لیتے ہیں۔ یہ فیس ان کی مہارت، وقت، اور کام کی پیچیدگی کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔

مثالیں:

  • ایک گرافک ڈیزائنر لوگو ڈیزائن کرنے کے لیے فیس لیتا ہے۔
  • ایک کنٹینٹ رائٹر کسی آرٹیکل یا بلاگ کے لیے مخصوص فیس چارج کرتا ہے۔

اہم پہلو:

  • فیس کا تعین اکثر فی گھنٹہ یا فی پروجیکٹ کیا جاتا ہے۔
  • فری لانسرز فیس وصول کرتے وقت اپنے وقت اور محنت کی قیمت کو مدنظر رکھتے ہیں۔

چارجز (Charges) اور فری لانسرز

"چارجز" عام طور پر اضافی یا مخصوص خدمات کے لیے لیے جاتے ہیں جو بنیادی کام کے علاوہ ہوتی ہیں۔

مثالیں:

  • ایک فری لانسر ویب ڈویلپر فوری ڈیلیوری کے لیے اضافی چارجز وصول کر سکتا ہے۔
  • ویڈیو ایڈیٹر کسی اضافی راؤنڈ آف ریویژن کے لیے چارجز لگا سکتا ہے۔

اہم پہلو:

  • چارجز اکثر کلائنٹ کی خصوصی درخواست پر مبنی ہوتے ہیں۔
  • یہ اضافی کام کے لیے معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں۔

پراجیکٹس (Projects) اور فری لانسرز

فری لانسرز کا زیادہ تر کام "پراجیکٹس" کی شکل میں ہوتا ہے۔ یہ پراجیکٹس مختصر مدتی یا طویل مدتی ہو سکتے ہیں۔

مثالیں:

  • ایک ڈیجیٹل مارکیٹر سوشل میڈیا کیمپین پر کام کر سکتا ہے۔
  • ایک فری لانسر انجینئر کسی مخصوص سافٹ ویئر یا ایپلی کیشن کی تیاری پر پراجیکٹ مکمل کر سکتا ہے۔

اہم پہلو:

  • پراجیکٹس کے لیے فری لانسرز اکثر پیشگی ادائیگی یا معاہدہ کرتے ہیں۔
  • پراجیکٹ کی تفصیلات اور ڈیلیوری کی تاریخ پہلے سے طے کی جاتی ہے۔

رشوت اور فری لانسرز

فری لانسرز کی دنیا میں رشوت جیسا کوئی تصور نہیں ہے کیونکہ یہ کام زیادہ تر دیانتداری اور آن لائن معاہدوں کے ذریعے انجام پاتا ہے۔

وضاحت:

  • کام کے لیے ادائیگی براہِ راست کلائنٹ سے کی جاتی ہے اور فری لانسنگ پلیٹ فارمز (جیسے Fiverr، Upwork) اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ لین دین شفاف ہو۔
  • اگر کوئی غیر قانونی یا غیر اخلاقی درخواست کی جاتی ہے، تو فری لانسر اسے مسترد کر سکتے ہیں۔

فری لانسرز کی اہمیت اس صدی میں

  1. ماہرانہ خدمات تک رسائی:
    فری لانسرز کسی بھی شعبے میں مہارت فراہم کرتے ہیں، جیسے گرافک ڈیزائن، پروگرامنگ، مواد نویسی، اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ۔

  2. کمپنیوں کے لیے فائدہ:
    کمپنیاں مختصر مدتی پروجیکٹس کے لیے فری لانسرز کو بھرتی کرتی ہیں تاکہ وقت اور پیسہ دونوں کی بچت ہو۔

  3. لچکدار کام کے اوقات:
    فری لانسرز آزادانہ طور پر اپنی سہولت کے مطابق کام کرتے ہیں۔

  4. عالمی پلیٹ فارمز:
    فری لانسرز Fiverr، Upwork، Freelancer.com اور Toptal جیسے پلیٹ فارمز پر اپنی خدمات پیش کر سکتے ہیں۔


نتیجہ

فری لانسرز موجودہ صدی میں کام کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ بن گئے ہیں۔ "فیس"، "چارجز"، اور "پراجیکٹس" کا ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں اہم کردار ہے۔ یہ رجحان نہ صرف کمپنیوں بلکہ افراد کے لیے بھی معاشی مواقع پیدا کر رہا ہے۔ طلباء کو چاہیے کہ وہ فری لانسنگ کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے کیریئر کے لیے اس میدان میں مہارت حاصل کریں۔

فیس، چارجز، رشوت، کیس اور پراجیکٹس: مختلف تصورات اور پیشے

دنیا میں مختلف پیشے اور کام کرنے کے طریقے موجود ہیں جن میں لوگوں کی مہارت اور خدمات کے بدلے معاوضہ لیا جاتا ہے۔ طلباء کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ "فیس"، "چارجز"، "رشوت"، "کیس پر کام" اور "پراجیکٹس" کیا ہیں اور ان کا تعلق کس قسم کے پیشوں سے ہے۔ اس مضمون میں ہم ان تصورات کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ ان کے درمیان فرق کو واضح کیا جا سکے۔


1. فیس (Fee)

فیس ایک مقررہ رقم ہے جو کسی ماہر یا پیشہ ور شخص کو ان کی خدمات کے بدلے دی جاتی ہے۔ یہ ایک قانونی اور صاف ستھرا طریقہ ہے جس کے ذریعے کسی پروفیشنل کی مہارت اور وقت کا معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔

مثالیں:

  • ڈاکٹر اپنی تشخیص کے لیے فیس لیتے ہیں۔
  • وکیل اپنے کلائنٹ کی قانونی مشاورت کے لیے فیس لیتے ہیں۔
  • ٹیوشن یا کوچنگ سینٹرز طلباء سے فیس لیتے ہیں۔

پیشے:

  • میڈیکل (ڈاکٹرز، فزیو تھراپسٹ)
  • تعلیم (ٹیچرز، کوچنگ انسٹیٹیوٹس)
  • قانونی خدمات (وکیل، مشیر قانون)

2. چارجز (Charges)

چارجز عام طور پر کسی خاص سروس یا سہولت کے استعمال کے بدلے وصول کی جانے والی رقم کو کہتے ہیں۔ چارجز کا تعین فراہم کی جانے والی سروس کی نوعیت اور معیار کے مطابق کیا جاتا ہے۔

مثالیں:

  • بینک کسی ٹرانزیکشن یا سہولت کے لیے چارجز لیتے ہیں۔
  • ہوٹل یا ریسٹورنٹ اضافی سہولیات جیسے ڈیلیوری یا خصوصی خدمات کے لیے چارجز لیتے ہیں۔

پیشے:

  • بینکنگ اور فنانس
  • ہاسپیٹالٹی (ہوٹلز، ریسٹورنٹس)
  • یوٹیلیٹی سروسز (بجلی، پانی، انٹرنیٹ فراہم کرنے والے)

3. رشوت (Bribe)

رشوت ایک غیر قانونی عمل ہے جس میں کسی کام کو غلط طریقے سے کروانے یا ضابطوں کو توڑنے کے لیے کسی کو پیسے یا تحائف دیے جاتے ہیں۔ رشوت دینا اور لینا دونوں جرم ہیں اور اس سے معاشرے میں کرپشن اور بدعنوانی کو فروغ ملتا ہے۔

مثالیں:

  • کسی افسر کو غیر قانونی طریقے سے کام کروانے کے لیے رشوت دینا۔
  • کسی حکومتی اہلکار کو اپنا فائل جلدی پروسیس کروانے کے لیے رشوت دینا۔

پیشے:

  • کوئی بھی شعبہ جہاں غیر قانونی کاموں کے لیے پیسے دیے یا لیے جائیں۔

4. کیس پر کام (Case Work)

کیس پر کام خاص طور پر قانونی، طبی، یا سماجی مسائل میں استعمال ہوتا ہے۔ اس میں پیشہ ور افراد کسی مخصوص مسئلے کو حل کرنے کے لیے گہرائی سے کام کرتے ہیں۔

مثالیں:

  • وکیل عدالت میں کسی کیس پر کام کرتے ہیں۔
  • ڈاکٹر مریض کے مخصوص طبی مسئلے کو حل کرنے کے لیے اس کی کیس ہسٹری پر غور کرتے ہیں۔

پیشے:

  • وکالت اور قانون
  • طب اور صحت
  • سماجی خدمات

5. پراجیکٹ بنانا (Project Work)

پراجیکٹ بنانا کسی مخصوص مقصد کے لیے ایک مقررہ مدت میں مکمل کی جانے والی سرگرمی یا کام کو کہتے ہیں۔ یہ کام تحقیق، تخلیق یا مسائل کو حل کرنے پر مبنی ہوتا ہے۔

مثالیں:

  • طلباء اپنے تعلیمی اداروں میں سائنسی یا تحقیقی پراجیکٹس تیار کرتے ہیں۔
  • انجینئرز کسی تعمیراتی یا ٹیکنالوجی کے پراجیکٹ پر کام کرتے ہیں۔
  • آئی ٹی ماہرین سافٹ ویئر یا ایپلی کیشنز کے پراجیکٹس بناتے ہیں۔

پیشے:

  • تعلیم و تحقیق
  • انجینئرنگ
  • آئی ٹی اور سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ

اہم فرق:

تصورمقصدقانونی حیثیتمثالیں
فیسخدمات کے بدلے معاوضہقانونیڈاکٹر، وکیل
چارجزسروس کے استعمال کے بدلے معاوضہقانونیبینک، ہوٹل
رشوتغیر قانونی فائدہ لیناغیر قانونیبدعنوانی
کیس پر کامکسی مسئلے کا حل تلاش کرناقانونیوکالت، طب
پراجیکٹ بنانامخصوص مقصد کے لیے تخلیققانونیتعلیمی، انجینئرنگ

نتیجہ:

طلباء کو ان تمام تصورات کے فرق کو سمجھنا چاہیے تاکہ وہ پیشہ ور دنیا میں مختلف پیشوں اور ان کے معاوضے کے نظام کو جان سکیں۔ فیس اور چارجز قانونی ذرائع ہیں، جبکہ رشوت غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔ کیس اور پراجیکٹس کا تعلق تحقیق، تخلیق اور مسائل کے حل سے ہے۔ اس علم کے ذریعے طلباء اپنے مستقبل کے پیشے کے بارے میں بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔

جمعرات، 26 دسمبر، 2024

میں غزہ شہر پر اللہ کی مدد سے زلزلہ بھیج سکتا ہوں

 اگر تمام مجاہدین اسلام غزہ شہر کو خالی کردیں اور وہاں صرف اسرائیل کے یہودی اور اسلام کے دشمن باقی رہ جائیں تو میں غزہ شہر پر اللہ کی مدد سے زلزلہ بھیج سکتا ہوں اور پورے غزہ شہر میں موجود یہودی اللہ کے حکم سے ختم ہوجائیں گے۔ 

اللہ اس کائنات کا حقیقی خدا ہے اور اس کی سلطنت پوری کائنات پر ہے۔ میں اسی کا بندہ اور لیجنڈ ہوں ۔اگر میں کسی کام کا ارادہ کروں اور اللہ چاہے کہ ویسا ہوجائے تو ہوجاتا ہے۔ یہ بات دنیا کے کافروں کو یاد رکھنی چاہیے کہ میرے ہوتے ہوئے مسلمانوں کو معمولی نہ سمجھیں۔ میں کس شہر پر کب کیا کرسکتا ہوں اس کا اندازہ بھی دنیا کے کافروں کو نہیں ہے۔

لیجنڈ آف اللہ واحد القہار

پروفیشنلزم کے نام پر کاروباری دھندے

تم لوگوں نے پروفیشنلزم کے نام پر اپنے کاروباری دھندوں سے اسلامی اصولوں کو فارغ کررکھا ہے تاکہ تم لوگ دوسروں کو دھوکہ دے کر حرام کمائی کرسکو۔ کس قسم کے فری لانسرز ہو اور کیسی کمپنیاں چلارہے ہو پاکستان میں بیٹھ کر کہ تم لوگوں کی وجہ سے انگریز اب پاکستانیوں پر زیادہ بھروسہ نہیں کرتے اپنے سیریز اور بڑے پروجیکٹس کے لیے؟ تم لوگ انہیں چونا لگاتے ہو اور ان کو بے وقوف سمجھتے ہو؟

میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کس طرح تم لوگ اپنے آفس کے اندر مختلف قسم کے ٹرکس استعمال کرکے ان کے ہاورلی سسٹم کومس یوز کرتے ہو تاکہ وقت کے حساب سے ڈالرز بنتے رہیں اور تم مزے سے کافی چائے پیتے رہو۔ اس طرح کام کرتے ہو؟ 

اسی لیے تو امریکن تم لوگوں پر زیادہ بھروسہ نہیں کرتے کیونکہ تم لوگ جھوٹ بولتے ہو۔ دو نمبری کا کام کرتے ہو اور باقی ایماندار فری لانسرز کو بھی بدنام کرتے ہو۔ شرافت کے نام پر کالے دھندے چلارہے ہو اور تمہیں پوچھنے والا کوئی بھی نہیں۔

شرم آنی چاہیے تمہیں پاکستان کا نام بدنام کرتے ہوئے مگر وہ بھی تم سے شرماتی ہے تمہارے گھٹیا اور کالے کرتوت دیکھ کر

لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد

اتوار، 22 دسمبر، 2024

Hazrat Muhammad (SAW) Ke Moye Mubarak & Imama Sharif

Jhang Ke Shehri Ke Pas Tabarrukat Kaha Se Aye?

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بال خود بخود بڑھتے رہتے ہیں ۔ یہ وہ مسلمان ہے جس کے پاس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک سرٹیفیکیٹ کے ساتھ موجودہیں۔ کسی بھی انسان کے بالوں کا اس کے جسم سے جدا ہوجانے کے بعد بڑھتے رہنا فزیکل سائنس کے قوانین کے مطابق سو فیصد ناممکن ہے لہذا یہ واضح طور پر اللہ کا کھلا معجزہ ہے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے وجود پر پریکٹیکل ثبوت بھی ہے کیونکہ یہ بال ان کے جسم کا حصہ ہیں۔ اگر کسی کو شک ہے تو اس مسلم سے رابطہ کرکے خود تحقیات کرکے تسلی کرلے۔ 

کیا دنیا میں کوئی کافر ہے جس کے مذہبی پیشوا کا بال اس کی موت کے بعد اس طرح بڑھتا رہتا ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہ مانتے ہوئے مرگیا؟