جمعہ، 11 اپریل، 2025

کراچی کورنگی کراسنگ آگ میں اللہ کا نام

کل میں کراچی کورنگی کراسنگ پر گیا اور اللہ کے فضل سے وہاں پہ میں نے ریکارڈنگ کی۔ جو کچھ بھی میں نے چاہا اللہ کے فضل سے اسے ریکارڈ کیا۔ لیکن عجیب و غریب منظر ہوا کہ جس وقت میں اپنا لیکچر ریکارڈ کر رہا تھا اسی وقت اس آگ کے بالکل اوپر بادلوں کے ذریعے اللہ کا نام نمودار ہو گیا۔


دوسری بات یہ کہ اس آگ کو میں اس لیے دیکھنے گیا تھا کہ ایک تو یہ وجہ تھی کہ وہ اللہ کی نشانی ہے اور دوسری بات یہ کہ اس آگ کے اندر اللہ کے نام نمودار ہوئے جن کے میں نے اسکرین شاٹ تیار کیے ویڈیو کے اندر سے۔


یہ بات میڈیا والے نہیں جانتے۔ اس لیے کہ لوگوں کی اس پر توجہ نہیں۔ جب میں کورنگی کراسنگ جا رہا تھا، راستے میں مجھے ایک ٹی سی ایس والا ملا۔ میں نے اس سے ایڈریس پوچھا اور بتایا کہ جہاں آگ لگی ہے وہاں جانا ہے۔ بولا کہ بھائی وہاں کیا ملے گا؟ کچھ بھی نہیں ہے ایسا خاص۔۔۔بس دھواں ہے۔



میں نے بتایا کہ وہ آگ اللہ کی نشانی ہے اور اس آگ کے اندر اللہ کا نام ہے۔


یہ سن کے وہ حیرت سے میری شکل دیکھنے لگا۔


پھر اس نے کہا کہ آپ چلو میں آتا ہوں، اسی جگہ جانا ہے۔ لیکن اس کے بعد وہ نہیں آیا۔ ظاہر سی بات ہے شیطان نے اس کی دماغ میں الٹی سیدھی باتیں ڈال دی ہوں گی۔ اسے لگا ہوگا میں کوئی پاگل ہوں اور عجیب و غریب بات کر رہا ہوں۔


پھر میں جب کورنگی کراسنگ کے قریب اس آگ والی جگہ پہ پہنچا تو وہاں میڈیا کی ایک گاڑی کھڑی ہوئی تھی باونڈری لائن کے اندر۔


جب میں نے اپنی ریکارڈنگ مکمل کر لی تو میں نے وہاں کے سیکورٹی گارڈ والے سے جس نے مجھے تھوڑی سی اجازت دی تھی اندر قدم رکھنے کی لیکن زیادہ دور جانے کی نہیں، میں نے اسے بتا دیا کہ اس آگ کے اندر اللہ کا نام نظر آتا ہے اگر سلو موشن میں دیکھا جائے، اگر چاہو تو میڈیا والوں کو بتا سکتے ہو۔


جب میں اپنی بائیک سٹارٹ کرکے واپس آنے والا تھا تو میڈیا کی گاڑی بھی باہر آگئی۔ اس میں ڈرائیور بیٹھا ہوا تھا تو میں نے اس ڈرائیور کو بھی یہ بات بتا دی کہ اس آگ میں اللہ کا نام نظر آتا اتا ہے سلو موشن پہ، چاہو تو میڈیا والوں کو بتا دینا۔


اتنا کام کر کے میں وہاں سے چلا آیا۔


اب وہ میڈیا والوں کو بتاتے ہیں یا نہیں بتاتے؟ میری بلا سے.اس لیے کہ میڈیا والوں نے کون سا اس وقت توجہ دی تھی جب میں نے ان کو پیچھے لگ لگ کے بتایا تھا کہ کرونا وائرس ختم کروا لو، ہینگ ٹونگ 77 کا جہاز نکلوانے کا کام میں نے کیا تھا, تب بھی ان لوگوں نے کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ تو یہ میڈیا اتنا کوئی خاص نہیں ہے میرے لیے۔ یہ لوگ کنٹینٹ کو فلٹر کرتے ہیں۔ اپنی من پسند باتیں میڈیا پر دکھاتے ہیں اور مجھے ان کے پیچھے لگنے کی اب حاجت نہیں ہے۔ اللہ نے مجھے ان سے بے نیاز کر دیا ہے۔


اب میں اپنا کنٹینٹ خود لکھتا ہوں اور میں اپنا کنٹینٹ خود پبلش کرتا ہوں، چاہے وہ آڈیو کی صورت میں ہو، ویڈیو کی صورت میں ہو یا پھر تحریری صورت میں ہو۔ میرے پاس میرے جدید اے آئی کے ٹولز بھی ہیں اور اس کے علاوہ میری اپنی اسکلز بھی موجود ہیں۔


الحمدللہ رب العالمین 


ڈاکٹر لیجنڈ محمد ذیشان ارشد (12 اپریل 2025)

غریب آبادیوں کے کنجڑ خانے

 

میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے کہ رات کے سناٹے میں رات کے 12 بجے ایک بجے دو بجے تین بجے اور کچھ بے غیرت تو صبح تک اپنا کنجڑ خانہ چلا کے رکھتے ہیں اور رات بھر کئی کئی گھنٹے الٹے سیدھے بےہودہ اور عجیب گھٹیا قسم کے گانے چلاتے ہیں۔ 


یہ میں نے کچی آبادیوں میں سنا ہے۔ ان آبادیوں میں جس پہ لوگ ترس کھاتے ہیں کہ یہاں کے لوگ بہت غریب ہیں۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہاں کے لوگ غریب تو ہیں لیکن بہت سے لوگ ان کے اندر کنجڑ ہیں۔ بے غیرت ہیں ذلیل ہیں اور انسان کہلانے کے لائق ہی نہیں ہیں۔


ایسے غریب ہونے پر لعنت بھیجنی چاہیے جو غریب ہونے کے بعد بھی گنہگار بنا ہوا ہے اور اللہ سے معافی نہیں مانگ رہا۔ بجائے یہ کہ اس کو اپنے برے عمل کو چھوڑنا چاہیے تاکہ اللہ اس کے حالات بدلے اور اس کو مالدار بنائے اور اس کے لیے آسانیاں پیدا کرے لیکن وہ بغیرت اپنی غریبی فقیری کو دیکھنے کے باوجود بھی دوسروں کی ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے۔


بھلا کسی جاہل اور بے غیرت پر میں کس قسم کا ترس کھاؤں؟ دل سے تو بددعا نکلتی ہے۔ اس لیے کہ ایک انسان رات کے وقت میں تاریکی میں سناٹے میں خاموشی میں مراقبہ کرتا ہے، اللہ کا ذکر کرتا ہے، توجہ کے لیے بیٹھتا ہے کہ وہ اللہ سے دل لگائے، کچھ باتیں کرے اور پڑوس کے کچھ کنجڑ تیز آواز میں گانے بجاتے ہیں اور اگر ان کو سمجھاؤ تو مزید ہٹ دھرمی سے اور بجاتے ہیں۔ اس لیے میں غریب آبادیوں کے کنجڑوں پر کوئی ترس نہیں کھاتا۔ یہ لوگ عذاب کے لائق ہیں اور اللہ ان کو برباد کرے۔


جو یہ کہتا ہے کہ نرمی دکھائی جائے۔ نرمی سے جہاں کام چلتا ہے وہاں نرمی دکھائی جاتی ہے ورنہ اگر صرف نرمی کی ضرورت ہوتی تو سزائیں نہیں رکھی ہوتیں اللہ نے دین اسلام میں۔


اگر کوئی ٹریفک سگنل کا قانون توڑ دے تو پولیس والا بھی چالان کرتا ہے۔ اس کی معافی تلافی نہیں چلتی۔ تو جب کوئی اللہ کے قانون توڑ رہا ہے تو کس بات کی اس کو معافیاں دی جائیں؟ نرمی دی جائے اس کو جب بے غیرتیاں دکھا رہا ہے، کنجڑ خانے چلا رہا ہے اور رات رات بھر بغیرتیاں مچاتا ہے؟


بات غریب اور امیر کی نہیں ہے۔ بات کنجڑ خانہ چلانے کی ہے۔ چاہے امیروں کی آبادی میں کوئی کنجڑ بنا ہوا ہو، چاہے غریبوں کی آبادی میں کوئی کنجڑ بنا ہو، جو کنجڑ بنا ہوا ہے وہ کنجڑ ہی ہے اور بغیرت ہے۔


جسے دوسروں کا احساس نہیں ہے، جو رات کی تاریکی میں تیز آواز میں گانے بجائے اور لوگوں کی نیند خراب کرے، لوگوں کی عبادت خراب کرے، ایسا بے غیرت جہنم میں جانے کے لائق ہے۔ کم سے کم میری نظر میں تو ایسا ہی ہے۔ اللہ اپنے جس بندے کو چاہے معاف کرے وہ اس کی مرضی لیکن میں ایسے بندوں کے خلاف بد دعا کرتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ ان کو بدترین عذاب ہو۔ ان کو فالج پڑے۔ ان کے ہاتھ پیر ٹوٹ جائیں۔ ان کے کانوں سے یہ بہرے ہو جائیں۔ ان پر دردناک عذاب آسمانوں سے نازل ہو اور یہ عبرت کا نشان بنیں۔ اس لیے کہ یہ دوسروں کو سکون سے رہنے نہیں دیتے۔


اللہ اکبر 

لیجنڈ

جمعرات، 10 اپریل، 2025

کیا سائنس کو چیزوں کی وضاحت کرنے کے لیے اب بھی خدا کی ضرورت ہے؟

خدا کو جتنا کچھ بتانا تھا وہ اس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بتا دیا۔ اب دنیا کے تمام انسانوں کو قرآن کے ذریعے سیکھنا پڑے گا اور اپنی سائنس کو درست کرنا پڑے گا۔

اس لیے کہ یہ پوری کائنات اللہ نے بنائی ہے۔ اس میں موجود تمام علوم اللہ کے ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے جتنا چاہے علم عطا کر دیتا ہے۔ اپنے محدود علم کی وجہ سے کوئی اللہ کے قرآن پہ اعتراض کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

اگر کسی جاہل کو کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو اسے چاہیے کہ علماء سے رابطہ کرے اور اگر علماء اس قابل نہ ہوں تو پھر وہ خود ریسرچ کرے اور اپنے طور پر آگے بڑھے اور کوشش کرے گا تو اللہ اس کا دل و دماغ کھول دے گا اور اسے بات سمجھا دے گا۔

کیونکہ اللہ تمام انسانوں کو دیکھ رہا ہے اور ان کی کوشش بھی دیکھ رہا ہے اور وہی مدد کرتا ہے تب انسان کوئی چیز ایجاد کر پاتا ہے۔ پھر چاہے کوئی ایلن مسک ہو یا پھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہو، سب کے پیچھے کارنامے سر انجام دلوانے والا اللہ واحد القہار ہی ہوتا ہے ورنہ کوئی بندہ اس کے علم سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتا۔

اگر اللہ چاہتا تو پوری کائنات کے قوانین کی کتاب نازل کر دیتا اور فزکس کیمسٹری بائیولوجی خود ہی سکھا دیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ بہت ساری چیزیں اس نے انسانوں کے لیے چھوڑ دی ہیں تاکہ وہ تحقیق کریں اور ان کا تجسس باقی رہے۔ جو کچھ دنیا کے انسانوں کے رہنے کے لیے ضروری تھا معاملات میں، انصاف میں، لین دین میں، قوانین میں، وہ اس نے قرآن میں بتا دیا واضح طور پر اور اپنی کائنات کی اہم چیزوں کے حوالے سے اس نے نشاندہی کر دی ہے قرآن میں۔

اس کے علاوہ جن چیزوں کی وضاحت کی ضرورت تھی اس کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پریکٹیکل طور پر اور اپنے الفاظ کے ذریعے واضح کر دیا جسے حدیث کہا جاتا ہے۔

جو سائنس پڑھنے کے شوقین ہیں انہیں قرآن میں بہت کچھ مل جائے گا۔ اس کے بعد وہ اپنی تحقیق کو آگے بڑھائیں اور جو سائنس پڑھنے کے شوقین نہیں ہیں تو بے شک جاہل رہیں، اس میں اللہ کا کوئی نقصان نہیں۔

پھر چاہے علم حاصل کرنے کے لیے کسی سے بھی کچھ بھی سیکھیں۔ جس کے پاس زیادہ علم ہے اس سے اس کا علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ چاہے وہ قیمت لے کر سکھائے،چاہے وہ محنت کروا کر سکھائے، چاہے وہ فری میں سکھائے، وہ اس کی مرضی کیونکہ وہ استاد ہے۔

اور سائنس کہتے ہیں کسی بھی چیز کے علم کو حاصل کرنے کو مشاہدے اور تجربات کے ذریعے لہذا ہر انسان کے پاس جو علم ہے وہ دراصل سائنس ہے۔ اس میں کسی خاص قسم کی کیٹگری بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

یہ تو لوگوں کی جہالت ہے کہ انہوں نے فزکس کیمسٹری بائولوجی جیسے علوم کو سائنس سمجھ لیا اور قرآن کو مذہبی علم سمجھ لیا ہے۔ جبکہ قرآن سائنس کے بادشاہ کی کتاب ہے۔

قرآن اس سائنس دان کی کتاب ہے جس نے پوری کائنات کو اکیلے تیار کرکے تمام مخلوقات کو سجایا ہے اور بنایا اور پھیلایا اور ان کے کھانے پینے کا اور پانی کا انتظام کرتا ہے۔ جو تمام علوم کو جانتا ہے۔ جو فزکس کیمسٹری بائیولوجی کمپیوٹر ٹیلی پیتھی جادو ایسٹرو فزکس، نفسیات، میڈیکل سائنس، اسپریچوئل سائنس، الیکٹرانکس اور پتہ نہیں کتنی فیلڈز کا ماہر ہے۔ وہ جو اینیمیشن، گرافک ڈیزائننگ، ایڈیٹنگ، کمپائلیشن اور دیگر نہ جانے کتنی صلاحیتوں کا ماہر ہے، اس کو ایک مذہبی خدا سمجھ کے رکھا ہوا ہے جسے سوائے حرام حلال کے کچھ آتا ہی نہیں۔

بے شک خدا سب کچھ جانتا ہے اور وہ سب کچھ ایکسپلین کر سکتا ہے لیکن جتنا اس نے ضروری سمجھا بتا دیا۔

اب سائنس کے پڑھنے والے بچے اپنی سائنس کو درست کریں اور اپنے علم کو بھی درست کریں اور جس چیز کا علم نہ ہو اس کو حاصل کریں یہی ان کے لیے بہتر ہے۔

اگر عیسی انسان ہے تو وہ خدا کیسے ہوسکتا ہے؟

 ایک عورت تھی جس کو خدا نے ایک بیٹا دیا تھا۔ اس بیٹے کو اس عورت کے پیٹ میں ایک فرشتے نے ٹرانسفر کیا تھا۔ جب یہ بچہ پیدا ہوا تو یہودیوں نے اس عورت پہ زنا کا الزام لگایا۔ پھر اس عورت نے اس بچے کی طرف اشارہ کیا۔ اور اس بچے نے خود اپنے منہ سے بتایا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ یہ بات قرآن میں موجود ہے۔


اللہ نے بالکل سچا واقعہ بتایا ہے۔ لیکن یہودیوں نے اس بچے کو قتل کرنے کی سازش کی جب وہ بڑا ہو گیا اور مرد زندہ کرنے لگا اللہ کے حکم سے۔


اس بچے کو قتل کی سازش میں پھنسانے والے انسان کو اللہ نے اس بچے جیسا ہم شکل بنا دیا اور لوگوں نے اسے گرفتار کر لیا۔ اللہ نے عیسی کو اپنی طرف بلا لیا فرشتوں کے ذریعے۔ اس طرح عیسی علیہ السلام کی جان بچ گئی اور وہ شخص مر گیا اور وہ اسی قابل تھا کہ اس کو سزا دی جائے اس کی غداری کی وجہ سے۔


اس واقعے کے بعد لوگ دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک تو وہ تھے جنہوں نے قتل کرنے کی کوشش کی تھی جو غدار یہودی تھے۔ اللہ نے ان کو بڑی نعمتیں دی تھیں لیکن یہ اللہ کے نافرمان بن گئے۔ انہوں نے اللہ کے رسول عیسی کو قتل کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ لوگ عزیر کو خدا کا بیٹا مانتے تھے اور عیسی علیہ السلام کے آنے کی وجہ سے ان کا جھوٹا عقیدہ خطرے میں پڑ گیا تھا۔


انہوں نے سوچا کہ اگر یہ اسی طرح مردے زندہ کرتا رہا اور لاعلاج مریضوں کو ٹھیک کرتا رہا اور لوگوں کے گھروں میں ہونے والی باتوں کو بتاتا رہا تو ان کی طاقتوں کو دیکھ کر لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔ ہاں وہ بچہ بھی مسلمان تھا۔ دنیا کا ہر بچہ مسلمان ہی پیدا ہوتا ہے۔ اس کا ثبوت اکیسویں صدی میں ماں کے پیٹ سے نکلنے والے وہ بچے ہیں جنہوں نے اللہ کے حکم سے اللہ کے نام کی گواہی دی ہے۔


 دوسرا گروپ لوگوں کا وہ تھا جنہوں نے اس بچے کے ذریعے عجیب و غریب معجزات دیکھے تو انہوں نے کہا کہ یہ تو خدا ہے جو انسانی روپ میں آگیا۔ کچھ لوگوں نے کہا نہیں۔۔۔ یہ خدا نہیں ہو سکتا کیونکہ خدا انسانی روپ میں نہیں آتا لہذا یہ خدا کا بیٹا ہے۔ کیونکہ انہوں نے یہ تو دیکھا تھا کہ یہ عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ اس طرح وہ بھی شرک کرنے لگے۔ تو یہودیوں نے اور بعد میں خود کو عیسائی کہنے والوں نے دونوں نے شرک کیا اور دونوں کافر ہوگئے۔ یہ بات بھی اللہ نے قرآن میں بتائی ہے۔


لہذا جو عیسی کو خدا کا بیٹا کہتا ہے یا خدا سمجھتا ہے وہ کافر ہے اور کافروں کے لیے اللہ نے دردناک عذاب تیار کر کے رکھا ہوا ہے۔


یہ ہے اصل حقیقت جو میں تمہیں بتا رہا ہوں۔ جتنے بھی مذہبی پیشوا عیسی کے بارے میں کچھ بھی بتاتے ہیں اور اس کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے کے لیے کوشش کررہے ہیں وہ دراصل دنیا کے لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔


بے فکر بکری

 کسی گھنے جنگل میں ایک بکری بے فکری سے اِدھر اُدھر گھوم رہی تھی، جیسے اُسے کسی خطرے کا کوئی ڈر نہ ہو۔ ایک درخت پر بیٹھا کوا یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ نیچے اُترا اور بکری سے پوچھنے لگا:


"بہن! تمہیں جنگل کے خونخوار جانوروں سے کوئی خوف نہیں؟ اتنی نڈر اور بے فکر کیسے ہو؟"


بکری نے مسکرا کر کہا:

"کچھ عرصہ پہلے ایک شیرنی مر گئی تھی، اپنے دو چھوٹے بچوں کو جنگل میں تنہا چھوڑ کر۔ میں نے اُن پر ترس کھایا اور اُنہیں اپنے دودھ سے پالا۔ آج وہ دونوں شیر جوان ہو چکے ہیں اور پورے جنگل میں اعلان کر رکھا ہے کہ ’ہماری بکری ماں کو کوئی میلی آنکھ سے نہ دیکھے‘۔ اب جنگل کا کوئی درندہ، خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، میری طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔"


کوا بہت متاثر ہوا اور دل میں سوچنے لگا:

"کاش مجھے بھی کبھی ایسا نیکی کا موقع ملے کہ پرندوں کی دنیا میں میرا بھی کوئی مقام بن جائے۔"


یہ سوچتے ہوئے وہ اُڑتا جا رہا تھا کہ اچانک اُس کی نظر دریا میں ڈبکیاں کھاتے ایک چوہے پر پڑی۔ فوراً نیچے اُترا، چوہے کو پانی سے نکالا اور ایک پتھر پر لٹا کر اپنے پروں سے ہوا دینے لگا تاکہ وہ خشک ہو جائے۔


جیسے ہی چوہے کے حواس بحال ہوئے، اُس نے بنا سوچے سمجھے کوے کے پر کترنے شروع کر دیے۔ کوا نیکی کی دھن میں مست، اور چوہا اپنے فطری مزاج میں مصروف۔ تھوڑی ہی دیر میں چوہا بالکل خشک ہو گیا اور بھاگتا ہوا اپنے بل میں جا گھسا۔


کوا اپنی نیکی پر خوش ہو کر آسمان کی طرف پرواز کرنے لگا، لیکن چند ہی لمحوں میں زمین پر منہ کے بل آ گرا۔ اُس کے پر کٹے ہوئے تھے اور اب وہ اُڑنے کے قابل نہ رہا۔ بس زمین پر کبھی اُچھلتا، کبھی گھسٹتا۔


اتفاق سے بکری ادھر سے گزری تو کوے کو اُس حال میں دیکھ کر پوچھا:


"ارے بھائی کوے! یہ کیا حال بنا رکھا ہے؟"


کوا غصے سے بولا:

"یہ سب تمہاری باتوں کا نتیجہ ہے! تم سے متاثر ہو کر میں نے نیکی کے جذبے میں چوہے کی جان بچائی، مگر اُس نے میرے پر ہی کتر ڈالے!"


بکری ہنس پڑی اور کہنے لگی:

"ارے نادان! اگر نیکی ہی کرنی تھی تو کسی شیر کے بچے کے ساتھ کرتا۔ چوہا تو آخر چوہا ہی رہے گا۔ بدذات اور بداصل کو نیکی راس نہیں آتی۔ ایسے کے ساتھ بھلائی کا یہی انجام ہوتا ہے جو تمہارے ساتھ ہوا۔"


اسی پر میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کا ایک شہرہ آفاق شعر یاد آ گیا:


"اصلاں نال جے نیکی کرئیے، نسلاں تائیں نئیں بھُلدے

بدنسلاں نال نیکی کرئیے، پُٹھیاں چالاں چلدے"


کوے کے بچے موتی چگنے سے ہنس نہیں بن جاتے،

اور کھارے پانی کے کنویں میں چاہے کتنا ہی میٹھا ڈال دو، وہ کھارا ہی رہتا ہے۔



منگل، 8 اپریل، 2025

کیا شیطان اس بات کو جانتا ہے کہ ایک دن خدا اس کو جہنم میں پھینک دے گا؟

 بے شک، شیطان اس بات کو جانتا ہے۔ اسی لیے وہ کوشش کر رہا ہے کہ دنیا کے تمام انسانوں کو غیر مسلم بنا کے زندگی گزارنے پہ مجبور کرے اور انہیں مسلمانوں کا دشمن بنائے تاکہ وہ تمام غیر مسلم ہمیشہ کے لیے شیطان کے ساتھ جہنم میں چلے جائیں۔

شیطان ایسا اس لیے کر رہا ہے کیونکہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو بنایا تھا تو فرشتوں اور جنات کو حکم دیا تھا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں تو شیطان نے انکار کر دیا تھا۔ اس وجہ سے اللہ نے شیطان کو اس کے اعلی عہدے سے ہٹا دیا تھا مگر شیطان نے اس کے باوجود اللہ سے معافی نہیں مانگی بلکہ مزید ہٹ دھرمی دکھائی اور قیامت تک کی مہلت مانگی۔

اللہ نے اس کو مہلت دی۔ اس کے بعد شیطان نے انسانوں کو بہکانا شروع کیا اور ان کے دماغوں میں یہ بات ڈالی کہ وہ پتھر کے بت بنائیں اور کتے بلی شیر گائے چاند سورج وغیرہ پوجا کریں۔ لوگوں نے ان کو خدا سمجھ کر ان کی عبادت شروع کردی اور اس طریقے سے شیطان نے الٹے سیدھے قسم کے جھوٹے خدا ایجاد کروائے اور دنیا کے انسانوں کو بے وقوف بناکر رکھ دیا۔

آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا کے چھ ارب سے زیادہ انسان غیر مسلم بن چکے ہیں اور وہ سب کے سب اللہ کے راستے سے ہٹ چکے ہیں۔ یہ سب کام شیطان نے کروائے ہیں۔ وہی ان انسانوں کے ذہن میں ایسے الٹے سیدھے خیالات ڈالتا ہے جس پر وہ سب عمل کرنے لگ جاتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان نے چھ ارب انسانوں کو جہنم میں لے جانے کے لیے اپنا غلام بنالیا ہے۔

دنیا کے تمام مسلمانوں کی کوشش کے باوجود، آج ایک ہزار چار سو سال بعد بھی اللہ کے فالورز کی تعداد بمشکل دو ارب ہے اور ان کی اکثریت بھی شیطان کا حکم مانتی ہے یعنی پریکٹیکل طور پر وہ سب بھی شیطان کے فالورز ہیں۔

لہذا مجموعی طور پر اللہ کو ماننے والے اور اللہ کا حکم ماننے والے سچے اور نیک مخلص مسلمانوں کی تعداد  دنیا میں ایک فیصد بھی نہیں ہے جو کہ آٹھ ارب انسانوں میں سے آٹھ کروڑ مسلمانوں پر مشتمل تعداد بنتی ہے۔

کیا دنیا میں آٹھ کروڑ نیک سچے مخلص مومن بندے ہیں جو حقیقی طور پر اللہ والے ہیں؟

اگر ہاں تو وہ سب فلسطین/کشمیر/بوسنیا/چیچنیا/شام/عراق/افغانستان وغیرہ کے معاملے پر چپ کرکے کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟

کیا اس کا واضح یہ مطلب نہیں کہ شیطان نے اکثریت کو جہنم کے قابل بناکر رکھ لیا ہے تاکہ اپنے ساتھ سب کو جہنم میں لے کر چلا جائے؟

اسلام، فلسطین اور غیر مسلموں کے نقطہ نظر سے اہم سوالات کے جوابات

1. مسلمان فلسطین کی اتنی شدت سے حمایت کیوں کرتے ہیں؟
مسلمان فلسطین کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ یہ اسلام میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہاں مسجد الاقصیٰ واقع ہے جو اسلام میں تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ اس کے علاوہ، فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والے ظلم اور استحصال کو انسانیت کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے، اور اسلام ان ناانصافیوں کے خلاف ہے۔

2. اسلام جنگ اور امن کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اسلام امن اور سفارتکاری کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ جنگ صرف دفاع کے لئے اجازت دی جاتی ہے جب کسی کی جان یا زمین پر حملہ کیا جائے۔ قرآن میں امن کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے: "اگر وہ امن کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ" (قرآن 8:61)۔

3. اسلام جنگ میں معصوموں کو قتل کرنے کے بارے میں کیا کہتا ہے؟
اسلام معصوموں کو قتل کرنے سے منع کرتا ہے، خاص طور پر خواتین، بچوں، بزرگوں اور مذہبی رہنماؤں کو جنگ میں نشانہ بنانے سے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ معصوموں کی حفاظت کی اہمیت پر زور دیا۔

4. کیا مسلمان عیسیٰ کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں؟
نہیں، مسلمان عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا نبی مانتے ہیں لیکن وہ انہیں اللہ کا بیٹا نہیں مانتے۔ اسلام میں اللہ کی واحد ہستی ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ عیسیٰ کو اسلام میں ایک عظیم نبی کے طور پر عزت دی جاتی ہے، لیکن وہ خدا نہیں ہیں۔

5. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حکمرانوں کو بھیجے گئے خطوط: ایک تاریخی تجزیہ
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے مختلف حکمرانوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے خطوط بھیجے۔ ان خطوط میں امن، انصاف اور صرف اللہ کی عبادت کی دعوت دی گئی، اور ان میں کسی قسم کی تشدد یا جنگ کی دعوت نہیں تھی۔

6. مسلمان صیہونیت کو کیسے دیکھتے ہیں؟
مسلمان صیہونیت کو عام طور پر ایک سیاسی نظریہ سمجھتے ہیں جو فلسطینی سرزمین پر ایک یہودی ریاست قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے، جو کہ فلسطینی عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اسلام تمام قوموں کے ساتھ مساوات اور انصاف کی حمایت کرتا ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل یا مذہب سے ہوں۔

7. کیا فلسطینیوں کو غزہ میں رہنے پر مجبور کیا گیا ہے؟
جی ہاں، غزہ میں فلسطینیوں کو ایک محاصرہ کا سامنا ہے جس کی وجہ سے انہیں بنیادی وسائل جیسے پانی، کھانا اور طبی امداد تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ وہ غزہ چھوڑنے کے قابل نہیں ہیں اور سیاسی و فوجی پابندیوں کی وجہ سے وہ انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

8. کیا جنگ میں دشمنوں کو معاف کرنا ممکن ہے؟
اسلام میں معاف کرنے کی بہت بڑی اہمیت ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں اس کی بہترین مثال دی۔ طویل عرصے کی دشمنی کے بعد، انہوں نے ان لوگوں کو معاف کیا جنہوں نے ان کے اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ ظلم کیا تھا۔ اگر دشمن توبہ کرتا ہے اور امن کی طرف مائل ہوتا ہے، تو مسلمانوں کو معاف کرنے اور صلح کی کوشش کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

9. وہ فوجی جو بچوں کو قتل کرتے ہیں، ان پر کیا نفسیاتی اور روحانی اثرات پڑتے ہیں؟
اسلام میں معصوموں کا قتل، خاص طور پر بچوں کا قتل، ایک بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے جو روحانی اور نفسیاتی طور پر تباہ کن ہوتا ہے۔ یہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بلکہ قاتل کے لیے بھی ذہنی اور روحانی نقصان کا باعث بنتا ہے۔

10. اسلام کے جنگی اصول کیا ہیں اور یہ جدید جنگوں سے کس طرح مختلف ہیں؟
اسلام کے جنگی اصول انصاف اور رحم دلی پر مبنی ہیں۔ جنگ میں بھی مسلمانوں کو معصوموں کو نقصان پہنچانے سے منع کیا گیا ہے اور انہیں اخلاقی انداز میں جنگ لڑنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ جدید جنگیں عموماً معصوموں کو نشانہ بناتی ہیں اور بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بنتی ہیں، جو کہ اسلامی اصولوں کے بالکل مخالف ہے۔

Bonus: غیر مسلم فوجیوں کے سوالات

11. کیا مسلمان ہمیں نفرت کرتے ہیں؟
نہیں، مسلمان غیر مسلموں سے نفرت نہیں کرتے۔ وہ ظلم کے خلاف ہیں، نہ کہ کسی خاص نسل یا قوم کے خلاف۔ اسلام ہر انسان کے ساتھ عزت اور احترام کا سلوک سکھاتا ہے۔

12. کیا اسلام ایک پرتشدد مذہب ہے؟
نہیں، اسلام ایک امن پسند مذہب ہے۔ تشدد صرف خود کی دفاع یا ظلم کے خلاف اجازت ہے۔ جو لوگ اسلام کو غلط سمجھتے ہیں، وہ اس کے اصل پیغام کو غلط انداز میں سمجھ رہے ہیں۔

13. کیا مسلمان عالمی تسلط کے خواہاں ہیں؟
نہیں، مسلمان عالمی تسلط کے خواہاں نہیں ہیں۔ وہ امن، انصاف اور اللہ کی عبادت کی آزادی چاہتے ہیں۔ اسلام سب کے ساتھ ہم آہنگی میں زندگی گزارنے کی حمایت کرتا ہے۔

14. مسلمان غزہ کیوں نہیں چھوڑتے؟
غزہ میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں اور ان پر پابندیاں ہیں جو انہیں باہر جانے سے روکتی ہیں۔ وہ وسائل کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں اور سیاسی و فوجی پابندیوں کی وجہ سے انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔