بدھ، 11 جون، 2025

لائف/بزنس/آئی ٹی اسکلز سیکھنے کے لیے بہترین یوٹیوب چینلز

Shaykh Atif Ahmed (Lion-Like Courage)
https://www.youtube.com/channel/UCFsDXM40vHfbNEBt9YdayVg

Shwetabh Gangwar (Personal Development, Study)
https://www.youtube.com/channel/UC2gQaoCItAC-IbT8RNwWqLQ

Zeeshan Arshad (Multipotentialite, Life Transformation, Confidence)
https://www.youtube.com/channel/UCFsDXM40vHfbNEBt9YdayVg

Shabbir Arshad (Martial Arts)
https://www.youtube.com/channel/UCb6ihhxgkWEug_2JBRUBiqg

Kamran Sharif (Mental Health, Depression & Anxiety)
https://www.youtube.com/channel/UCU5aEY3YF7iGgzmWuONJGTA

GFX Mentor (Graphics Designing)
https://www.youtube.com/channel/UCP3AIk974-PeB9bg1Mc7wug

Hisham Sarwar (Freelancing, Blogging & Marketing)
https://www.youtube.com/user/infomist

Sandeep Maheshwari (Motivational Speeches)
https://www.youtube.com/user/SandeepSeminars

Dr. Vivek Bindra (Business and Marketing)
https://www.youtube.com/user/MrVivekBindra

ایک گھٹیا انسان کی وجہ سے سب کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا

 اس وقت رات کے 3:44 ہورہے ہیں۔

میرے جہاں مہمان ٹھہرا ہوا ہوں اس علاقے میں رات کے اس سناٹے کے وقت ایک شخص اپنے گھر میں تیز آواز میں گانے سن رہا ہے۔

اس وجہ سے علاقے کے نہ سہی، اس کے گھر کے قریب کے لوگوں کی نیند خراب ہورہی ہوگی مگر اسے کوئی پرواہ نہیں۔

میں حالانکہ کافی دور ہوں مگر مجھے اس کے گانوں کی آواز آرہی ہے۔

مجھے شدید غصہ آرہا ہے۔

اس لیے کہ رات کی تاریکی اور سکون میں، مجھے کام کرنا ہوتا ہے۔

میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایسے انسانوں کی کوئی مدد نہ کی جائے۔

اور اسی سے مجھے یہ احساس جاگا کہ اس علاقے میں تمام لوگ تو ایسا نہیں کررہے؟

پھر ایک غلیظ شیطان کی سزا سب کو کیوں دی جائے؟

یعنی اگر میں لوگوں کی مدد کروں تو میں سب کی مدد کرسکتا ہوں سوائے ان خبیثوں کے جن کے بارے میں علاقے والے خود گواہی دیں یا میں نے دیکھا ہو کہ وہ مرد یا عورت، دوسروں کو پریشان کرتا ہے یا ان کا جینا حرام کرتا ہے۔

اس کی مثال کچھ اس طرح ہے کہ اگر میں روحانی علاج کرتا ہوں اور میرے پاس غریب لوگ آئیں تو میں بنیادی طور پر سب کا علاج کرسکتا ہوں، چاہے فیس لوں یا نہ لوں، وہ ایک الگ معاملہ ہے، مگر اگر میں فی سبیل اللہ علاج بھی کرنا چاہوں تو سب میرے پاس آسکتے ہیں، کھلا دروازہ اور کھلے دل سے کام کرسکتا ہوں مگر۔۔۔

جس کے بارے میں مجھے معلوم ہوگا کہ یہ وہ شخص ہے یا عورت، چاہے میرا اپنا قریبی رشتہ دار یا بھائی بہن ہی کیوں نہ ہو، جو دوسروں کو تکلیف پہنچا رہا ہے یا جس کے بارے میں لوگ مجھے آگاہ کریں اور میں تصدیق کرلوں کہ یہ واقعی ایک خبیث انسان ہے تو ایسے لوگوں کو میں اپنی خدمات دینے پر پابندی عائد کرسکتا ہوں۔

یہ ہوتا ہے طریقہ کافروں منافقوں کو لگام دینے کے لیے جو معاشرے میں فساد پیدا کررہے ہوں۔

جب تک ان جیسوں کو کھانا پینا، عیاشی، سہولتیں دی جائیں گی یہ مزید بگاڑ پیدا کریں گے لہذا ان کی سزا بنتی ہے۔

مگر ان کی وجہ سے میں لوگوں سے نفرت کروں؟

یہ بات سمجھ نہیں آتی۔'

اسی سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ میرے اندر انسانوں کے گھٹیا سلوک کی وجہ سے جو نفرت پیدا ہوگئی تھی وہ سب کی وجہ سے نہیں بلکہ بعض انسانوں کی وجہ سے ہے ورنہ تو مجھے بہت سے اچھے لوگ بھی ملتے ہیں لہذا ان چند خبیثوں کی وجہ سے پورے معاشرے سے نفرت نہیں کی جاسکتی۔

عام لوگ تو اپنے روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں، وہ تو خود پریشان ہیں، یہ تو چند گھٹیا شیطانی لوگ ہیں جنہوں نے معاشرے میں فساد مچا رکھا ہے۔

میں سوچتا ہوں کہ اگر میں پولیس میں ہوتا تو کیا کرتا؟

یقینا ایسے سب لوگوں کو گرفتار کرکے جیل میں بند کردیتا۔

پھر معاشرے کے لوگ سدھرنا شروع ہوتے کیونکہ جو ڈرتا ہے وہی اپنی لمٹ میں رہتا ہے۔

اللہ نے بھی ڈر سنانے کے لیے نبیوں کو بھیجا اور بے شک وہ خوشخبری بھی سناتے تھے ایمان والوں کو۔

لہذا معاشرے میں اچھے اور برے انسانوں کے ساتھ الگ الگ رویہ رکھنا جائز ہے۔

مگر ایک کی وجہ سے سب کو الزام دینا درست نہیں اور ناانصافی ہے۔

منگل، 10 جون، 2025

قرآن کا خدا اور ہے، روحانیت کا خدا اور؟

 ایک جاہل انسان نے یوٹیوب پر کمنٹ پوسٹ کیا


اس کی جہالت اس کے کمنٹ سے ٹپک رہی ہے کیونکہ یہ اس قدر جاہل ہے کہ قرآن کی بات کرنے کے باوجود اس کائنات میں دوسرے خدا کے وجود کا اقراری بنا ہوا ہے۔ جو بھی اللہ کے ساتھ کسی اور کو خدا سمجھے، وہ کافر ہے۔

ایسے کافروں کی معاشرے میں کوئی کمی نہیں ہے۔

اولیاء اللہ سے جلن، حسد، بغض، عداوت، دشمنی، نفرت نے ان جیسوں کو واقعی شیطان کا کتا بنارکھا ہے۔

ان جیسوں کو میں اپنے یوٹیوب چینل پر بہت ننگا کرچکا ہوں۔ 

یہ لوگ کمنٹ پر بھونکنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے فزیکل ورلڈ میں پریکٹیکل طور پر

الحمدللہ رب العالمین

میں مسلمانوں کی اصلاح پر کام کرنا کیوں پسند نہیں کرتا؟

میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ معاشرے کے اکثر انسان گمراہ اور مشرک ہیں۔

یہ اللہ کے منکر یا اس کے احکامات کے منکر ہیں۔ 

بعض وہ ہیں جنہوں نے قرآن کا انکار نہیں کیا مگر عملی طور پر کافر ہیں۔

ان کے اعمال دیکھ کر ایک کافر اور مسلمان میں کوئی فرق نہیں کرسکتا۔

کافر بھی وہی کام کررہا ہوتا ہے جو یہ منافقین کررہے ہوتے ہیں۔

فرق یہ ہے کہ وہ یہ کام کلمہ پڑھ کر نہیں کرتے اور یہ اس طرح کے کام کلمہ پڑھ کر کرتے ہیں۔

اب مثال کے طور پر اس وقت گلی میں اندھیرا ہے، لائٹ گئی ہوئی ہے۔

میں جہاں ٹھہرا ہوا ہوں یہ ایک کچی آبادی ہے۔

چاروں طرف لائٹ جانے کے بعد ایک سکون سا ہوتا ہے مگر ساتھ کچھ گھر چھوڑ کر ایک ذلیل انسان جو خود کو مسلمان کہتا ہے، وہ تیز آواز میں گانے بجارہا ہے۔

اسے کوئی پرواہ نہیں کہ اس کے اس گھٹیا کام کی وجہ سے محلہ والوں کو کتنی تکلیف ہورہی ہے۔

وہ اپنی مستی اور عیاشی میں شیطان کا کتا بنا ہوا ہے۔

اس کا باپ پولیس میں ہے۔

ہے تو ویسے ٹلا۔۔۔یعنی ٹریفک پولیس میں مگر ظاہر ہے اس معاشرے کے حرامزدگی کرنے والے زیادہ تر کسی حکمران، پولیس، آرمی، نام نہاد اعلی عہدے پر فائز باپ کی بگڑی ہوئی اولاد ہوتے ہیں۔

یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔

جو بھی ہے مگر اس نے اپنی آخرت خراب کرنے کا سامان خود اپنے ہاتھوں کرلیا ہے۔

ایسے ظالموں، فاسقوں اور کافروں کے لیے میرے دل میں کوئی رحم نہیں ہوتا۔

وجہ صاف ہے کہ جو معاشرے کے لوگوں کو جان بوجھ کر تکلیف دے، انہیں بے سکون کرے اور ان کو اذیت پہنچائے، ایسے منافق اور  کافر سے میرا کیا لینا دینا؟

یہی وجہ ہے کہ میں مسلمانوں کی اصلاح پر کام کرنا پسند نہیں کرتا کیونکہ ان کی اکثریت منہ سے "اللہ" اللہ کرتی ہے مگر اللہ کے حکم کے خلاف جان بوجھ کر کام کرتی ہے۔

یہ لوگ اپنی اصلاح کرنا ہی نہیں چاہتے۔

اسی گلی میں ایک اور گھر والا، اپنے گھر کے باہر بجری اور مٹی منگواکر اپنے گھر میں کام کرواچکا۔ اب چند ماہ سے اس کے گھر کے باہر مٹی اور بجری پڑی ہے، گلی خراب ہورہی ہے، آنے جانے گزرنے میں تکلیف ہوتی ہے، اس کے گھر کے سامنے گٹر کا پانی بھی بہتا رہتا ہے، اس کو میں بول بھی چکا ہوں مگر وہ سدھرنے کو تیار نہیں۔نہ مٹی ہٹائی، نہ سائڈ پر کی، تو ہوگئی اصلاح؟

یہ لاتوں کے بھوت ہیں، باتوں سے ماننے والے نہیں ہیں۔

اتنی مذہبی جماعتوں کے باوجود، مسلمانوں کی اکثریت قرآن سے بے عمل کیوں ہے؟

کیونکہ یہ بے غیرت لوگ خود قرآن پر عمل نہیں کرنا چاہتے۔

یہ اپنے نفس پر وہ پابندیاں نہیں لگانا چاہتے جو اللہ نے ان پر قوانین نافذ کیے ہیں۔

لہذا ایسے سرکش اور بدکے ہوگئے گدھوں سے بدتر انسانوں کو میں اصلاح کرنا پسند نہیں کرتا۔

میں صرف ان مسلمانوں کو سدھرنے میں مدد کرنا پسند کرتا ہوں جو اپنی حالت خود بدلنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے دن رات کوششیں بھی کررہے ہیں۔ گناہگار ہیں مگر شرمسار ہیں۔توبہ کرتے رہتے ہیں۔نہ کہ وہ جو جان بوجھ کر ہٹ دھرمی سے روزانہ ایک غلاظت بھرا کام معاشرے میں ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں اور خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔

ایسے کافروں کے لیے تو ذلت کی مار اور دردناک عذاب تیار کرکے رکھا ہوا ہے اللہ نے۔

اور میں قیامت کے دن ایسے ناہنجاروں کے خلاف مکمل گواہی دوں گا۔

اگر اللہ نے اجازت دی تو ان کی سزاوں میں اضافہ بھی کرواوں گا اور انہیں جہنم میں بھی اپنے ہاتھوں سے پھینکوں گا۔

کیونکہ جو لوگوں پر رحم نہیں کرتے، میں ان پر رحم نہیں کرتا۔اور یہی اللہ کا قانون بھی ہے۔

جب اللہ ایسے ناہنجاروں کو ہدایت نہیں دیتا تو میں کون ہوتا ہوں ایسے بے غیرت لوگوں پر اپنا وقت ضائع کرنے والا؟

اس سے تو کئی گنا بہتر ہے کہ میں غیرمسلموں پر کام کروں، انہیں اسلام میں داخل کروں اور ان کو قرآن اور اسلام سمجھاوں کیونکہ وہ کم از کم اسلام کی قدر تو کرتے ہیں۔شوق سے عمل تو کرتے ہیں۔

مجھے نہیں ضرورت ایسے نام کے مسلمانوں کی جو حسد اور جلن سے بھرپور ہیں، مجھے وہ سولڈ مسلم درکار ہیں جو اسلام کا جھنڈا لہراتے ہوئے پوری دنیا پر اسلام غالب کرنے کو تیار ہیں۔

پھر چاہے جس سے جتنا ہوسکے وہ اپنے حصہ کا کام کرے۔

کم از کم میں، اس معاشرے کے منافقین پر اپنا وقت مزید برباد نہیں کرنا چاہتا۔

پہلے ہی بچپن سے جوانی تک یہ لوگ میرا کافی نقصان کرچکے ہیں۔

یہ اسی قابل ہیں کہ انہیں دردناک سزاوں کے ذریعے گرفتار کیا جائے۔

اور یہ کام اللہ کی آرمی کرے گی اور وہ اپنی آرمی سے کام لینا خوب جانتا ہے۔

اللہ واحد القہار کے ساتھ
ڈاکٹر 
لیجنڈ محمد ذیشان ارشد
چیف آف نیچر آرمی اسٹاف
اکیسویں صدی کا مسلم مین
لیجنڈری فری لانسر آف پاکستان

FOUT SHUDA Auliya Say MADAD Mangna? | MARNAY Kay Baad TAQAT Barh Jati Hai? | Mufti Kamran Shahzad

یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے۔ قرآن سے دلیل مانگنا اور اسے قبول کرنا ایک عقل والے انسان کے لیے ہی ممکن ہے۔ اللہ نے اپنی راہ میں قتل ہوجانے والوں کو "زندہ" declare کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اللہ نے دعوی کیا ہے کہ تمہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ البقرہ اور آل عمران میں یہ دونوں آیات موجود ہیں شہدائے اسلام کے حوالے سے۔ ان کی زندگی کا شعور ہر اس انسان کو حاصل نہیں جسے شعور نہیں۔ جو شعور رکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ موت کے بعد بھی انہیں زندہ declare کرنے کے کوئی reasons ہیں۔ اس کی اعلی مثال شاہ یقیق بابا المعروف روحانی سرجن کی روح ہے جو عالم برزخ میں ہونے کے باوجود اسی physical world میں تصرفات کرتی ہے اور لاعلاج مریضوں کا علاج اور آپریشن سرجریاں کررہی ہے۔ کسی بھی کافر کی روح ایسا نہیں کرپارہی کیونکہ تمام کفار موت کے بعد عذاب میں گرفتار ہیں۔ یہ ہوتا ہے فرق ایک کافر اور مومن کی روح میں۔ اللہ نے یہ اختیار شاہ یقیق بابا کو دیا ہے۔ وہ ایسا کرنے پر قادر ہیں۔

اب سنو اگلی پھکی۔۔۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنے کے لیے حضرت موسی علیہ السلام عالم برزخ سے کیسے آگئے تھے آسمانوں پر جبکہ ایک انتقال شدہ نبی تھا اور ایک زندہ نبی تھا؟ اور سنو۔۔۔ وہ تمام انبیاء مسجد اقصی میں نماز باجماعت ادا کرنے کیسے پہنچ گئے تھے جبکہ وہ تو مردہ تھے؟ (سوائے حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کے جنہیں اللہ نے زندہ رکھا ہو) کیا مردے بھی زندہ انسان کی قیادت میں نماز ادا کرتے ہیں کسی مسجد میں کھڑے ہوکر؟ یا ایک زندہ انسان روحوں کی جمات کرواسکتا ہے؟ قرآن میں بہت سے واقعات ہیں جو عقل سے خارج ہیں۔ اگر physical resources رکھنے والا انسان موبائل فون ہاتھ میں لے کر کسی سے مدد مانگ سکتا ہے تو وہ شخص جو spiritual resources رکھتا ہو وہ اپنی ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی روح سے بات چیت کرکے مدد مانگ سکتا ہے۔ یہ کوئی ایسی مشکل بات نہیں جسے سمجھنا مشکل ہو۔ اور ہاں جس انسان کے پاس نہ فزیکل ریسورسز ہوں اور نہ اسپریچوئل ریسورسز ہوں وہ بہتر ہے کہ صرف اللہ ہی سے مدد مانگے کیونکہ وہ مجبور ہے۔ اور کون کتنا مجبور اور بے بس ہے یہ اس کے حالات پر depend کرتا ہے۔ جس کے پاس نہیں ہے وہ مدد نہیں مانگ سکتا، جس کے پاس ہے، وہ مدد مانگ سکتا ہے۔ یہ فزیکل اور اسپریچوئل صرف سمجھانے کے لیے ہے۔ مطلقا صرف اللہ سے مدد ہی سب سے بہتر ہے اور پھر اللہ جس کے ذریعے چاہے کام کروادیتا ہے، چاہے انسانوں کے ذریعے/چاہے جنات کے ذریعے/چاہے فرشتوں کے ذریعے/چاہے پوری کائنات میں جس چیز کو چاہے استعمال کرنے کے ذریعے یا پھر براہ راست اپنی طاقت اور قدرت سے کام کردے۔ یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔
ڈاکٹر لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

پیر، 9 جون، 2025

اگر لوگوں کو جیتنا ہے تو ہر انسان کے دل کی چابی پہچانو

 اگر لوگوں کو جیتنا ہے تو ہر انسان کے دل کی چابی پہچانو۔

🔑
لالچی کو نصیحت مت دو، اسے تھوڑا سا لالچ دو، یہی اس کا راستہ ہے۔ 💰
غرور کرنے والے سے بحث مت کرو، اسے جھکاؤ مت، خود جھک جاؤ، اس کا غرور اسی وقت ٹوٹ جائے گا۔ 🙇‍♂️
بیوقوف کو دلیل سے مت سمجھاؤ، اسے اپنی راہ پر چلنے دو، چاہے منزل تک پہنچے یا ٹھوکر کھائے، وہ خود سیکھے گا۔ 🤷‍♂️
عالم سے کچھ مت چھپاؤ، اسے سچائی دو، کیونکہ اس کی آنکھیں جھوٹ کے سائے بھی دیکھ لیتی ہیں۔ 👓
جو اکیلا ہے، اسے نصیحت نہیں، صرف ساتھ چاہیے، ایک ہاتھ پکڑ لو، دنیا جیت لے گا۔ 🤝
بھوکا ہے تو تقریر مت دو، روٹی دو، اسی وقت بھوک اس کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ 🍞
بچہ ہے، اسے اخلاقیات کا بوجھ مت دو، ایک کھلونا دو، وہی اس کی دنیا ہے۔ 🧸
استاد کو علم مت دو، عزت دو، کیونکہ عزت ہی اس کا سب سے بڑا انعام ہے۔ 🎓
ساس کو طعنے مت دو، میٹھے بول دو، کڑواہٹ خود ختم ہو جائے گی۔ 🍯
شوہر کو ڈانٹ سے نہیں، سکون سے سمجھاؤ، اس کی دنیا دلیل سے نہیں، سکون سے چلتی ہے۔ 🕊️
بیوی کو ہیرے نہیں، توجہ دو، اس کا دل تمہارے وقت سے روشن ہوتا ہے۔ 💖
نوکر کو حکم سے نہیں، عزت اور اچھی تنخواہ دو، وہ وفادار ہو جائے گا۔ 💼
دوست کو تحفے نہیں، صرف تمہارا اعتماد چاہیے۔ 🤗
دشمن سے مت لڑو، ہاتھ جوڑ دو، شاید وہ بھی نفرت سے تھک چکا ہو۔ 🙏
اور محبوب کو ہزاروں الفاظ نہیں، صرف ایک وعدہ چاہیے:
میں تمہارا ہوں ہمیشہ کے لیے۔ ❤️
ہر انسان کا دل ایک تالا ہے، بس چابی تلاش کرنے کا ہنر آنا چاہیے۔ 🔐
از قلم ماہ نور فاطمہ

جمعہ، 6 جون، 2025

قربانی اور نصاب کی حقیقت — آسان الفاظ میں

عیدالاضحی کا تہوار آتا ہے اور قربانی کا ذکر ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ قربانی صرف اس کے فرض ہے جس کے پاس بہت سونا یا چاندی (نصاب) ہو۔ لیکن کیا اللہ اور نبی ﷺ نے ایسا کہا ہے؟

آئیے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں:


اللہ کا حکم ہے: قربانی کرو

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:

"نماز پڑھو اور قربانی کرو" (الکوثر: 2)

یہ سیدھا سیدھا حکم ہے۔ جیسے نماز فرض ہے، ویسی ہی قربانی کا حکم بھی ہے۔


نبی ﷺ نے کیا فرمایا؟

نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے پاس وسعت (یعنی مالی استطاعت) رکھتا ہے اور قربانی نہیں کرتا، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔

یہ بات حدیث میں آتی ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ اگر آپ کے پاس طاقت ہے تو قربانی کرنا ضروری ہے۔


لیکن نصاب کہاں سے آیا؟

قرآن اور حدیث میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ قربانی صرف اس شخص پر فرض ہے جس کے پاس اتنا سونا یا چاندی (نصاب) ہو۔

یہ نصاب فقہاء نے بعد میں بنایا ہے تاکہ قربانی کرنے والوں کے لیے کوئی حد مقرر ہو جائے۔ لیکن یہ اللہ کا واضح حکم نہیں۔


اصل بات کیا ہے؟

قرآن و سنت کے مطابق اگر آپ کے پاس استطاعت ہے تو قربانی کریں۔

چاہے آپ کے پاس زیادہ پیسہ ہو یا تھوڑا، بس جو بھی آپ دے سکتے ہیں قربانی کریں۔

قربانی کے جانور عموماً اونٹ، گائے، بکری، بھیڑ ہوتے ہیں۔


جو قربانی نہیں کرتا وہ کیا ہے؟

جو شخص استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کرتا، اس کی نیت پر سوال اٹھتا ہے۔

نبی ﷺ نے کہا ہے کہ ایسا شخص ہمارے اجتماع کے قریب نہ آئے۔


خلاصہ

  • قربانی اللہ کا حکم ہے، جو نبی ﷺ کی سنت بھی ہے

  • نصاب کا ذکر قرآن یا حدیث میں نہیں

  • قربانی کی شرط صرف "وسعت" یا استطاعت ہے

  • استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنا غلط ہے


آخر بات

دین کو آسان سمجھیں، اور اللہ کے حکم پر عمل کریں۔ جو ہو سکے قربانی کریں، چاہے تھوڑی ہی کیوں نہ ہو۔

یہ قربانی آپ کی نیت کو مضبوط کرتی ہے، اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ بنتی ہے، اور دین کا حصہ ہے۔