جمعہ، 13 جون، 2025

مسلسل روز جاگنا بیماری کا باعث (Sidra Naseem) - ایک سوال

 سدرہ نسیم کی ایک پوسٹ پر یہ لکھا تھا


اس پر ایک کمنٹ کسی نے پوسٹ کیا اور کچھ جاہل گنواروں نے اس پر ہنسی مذاق بھی اڑایا نیز سدرہ نسیم نے مسلسل روز جاگنے کو بیماری کا باعث بننے کا سبب بتادیا مگر میڈیکل کو سامنے رکھ کر مگر اس روحانی بلندی کو غلط رنگ دیتے ہوئے۔

اب میرا یہ سوال ہے سدرہ نسیم اور اس کے تمام پیروکاروں سے کہ

مسلسل روز جاگنے سے کتنے ولی اللہ، صحابہ کرام اور نبیوں کا انتقال بیماریوں سے ہوا ہے؟

اللہ کی سزائیں بستیوں پر

 بچپن میں جب قرآن میں ان بستیوں کا ذکر پڑھتی تھی جن پر اللہ کا عذاب آیا اور سب کے سب ہلاک ہو گئے، تو یہ سوال دل میں اٹھتا تھا کہ ان میں جو نیک اور بے گناہ لوگ تھے ان کا کیا قصور تھا؟ وہ بھی ساتھ کیوں ختم ہو گئے؟ وقت گزرنے کے ساتھ جب میں نے دنیا کے نظام، خاص طور پر اپنے ملک کی سیاست، جاگیردارانہ نظام اور طاقت کے غلط استعمال کو دیکھا تو اندازہ ہوا کہ جب ایک نظام مکمل طور پر ظلم، بددیانتی اور ناانصافی پر قائم ہو جائے، تو پھر اس کی اصلاح کا ایک ہی طریقہ رہ جاتا ہے کہ وہ مکمل طور پر الٹ دیا جائے۔ ایسے میں جو نیک لوگ ہوتے ہیں ان کی ہلاکت دراصل ان کے لیے نجات بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں۔ مگر نیک لوگ معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز نہ اٹھائیں اور صرف اپنی عبادت اور ذاتی نیکی میں محدود ہو جائیں تو وہ خاموشی بھی گناہ بن جاتی ہے۔ اور جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو وہ صرف بدکاروں پر نہیں بلکہ ان سب پر آتا ہے جو برائی کو روکنے میں ناکام رہے ہوں۔ بعض اوقات اللہ نیک لوگوں کو فتنوں سے بچانے کے لیے پہلے ہی دنیا سے اٹھا لیتا ہے۔ اس لیے کسی بستی کی مکمل تباہی دراصل ایک بیمار نظام کی جڑ سے صفائی اور نئے آغاز کی تیاری ہوتی ہے۔

ایسی بات نہیں ہے۔ اللہ نیک لوگوں پر عذاب نہیں بھیجتا۔ قرآن کے مطابق اکثر لوگ ظالم فاسق ہیں لہذا اللہ اپنے قانون کے مطابق ظالموں کو سزائیں دیتا ہے۔ ان کے ذریعے صاف واضح ہے کہ بسیتوں کے لوگ ظالم ہوتے تھے اور یہی آجکل واضح ہے لہذا اللہ اپنی سنت کے مطابق کام کرتا رہتا ہے۔ لوگوں کو شعور نہیں کہ وہ اللہ کو صرف لفاظی کے ذریعے بےوقوف نہیں بناسکتے کہ منہ سے کلمہ پڑھ لیا اور کام سارے کافروں والے کرتے رہیں۔ اللہ کے نزدیک دو اہم طبقات ہیں، ایمان والے یا پھر کفر کرنے والے کافر، اور کفر کرنا انکار کرنا ہوتا ہے اور انکار کرنے والا "عمل نہیں کرتا" تو عملا کافر بھی کافروں کی category میں شمار ہوجاتا ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے اکثر لوگ جاہل ہیں اور غافل ہیں۔

پھر ہم نے وہاں سے اُن لوگوں کو نکال لیا جو مومن تھے، اور ہم نے اس بستی میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا کوئی نہ پایا۔ سورہ الذاریات (51)، آیت 35-36

اور اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہوتی ہے جب وہ ظلم کرنے والی بستیوں کو پکڑتا ہے۔ بے شک اس کی پکڑ بہت دردناک اور سخت ہے۔ سورۃ ہود (11:102)

اور کتنی ہی ظالم بستیاں ہم نے تباہ کر دیں، اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا کیا۔ سورۃ الانبیاء (21:11)

اور آپ کا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکزی مقام میں کوئی رسول نہ بھیج دے جو ان پر ہماری آیات تلاوت کرے، اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کرتے مگر جب ان کے رہنے والے ظالم ہوں۔ سورۃ القصص (28:59)

اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہاں کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں، پھر وہ نافرمانی کرتے ہیں، تو ان پر بات ثابت ہو جاتی ہے، پھر ہم اسے پوری طرح تباہ کر دیتے ہیں۔ سورۃ بنی اسرائیل (17:16)

جمعرات، 12 جون، 2025

اگر کوئی فیس دے کر نہیں سیکھنا چاہتا تو تمہیں کیا مسئلہ ہے؟

 پہلے یوٹیوب نہیں تھا۔

پہلے لاکھوں لوگ علم اس طرح نہیں سکھارہے تھے۔
اگر کوئی فیس افورڈ نہیں کرسکتا، وہ جہاں سے چاہے مفت سیکھ سکتا ہے۔
جو فیس افورڈ کرسکتا ہے اور استاد کی اہمیت سمجھتا ہے، یا براہ راست استاد سے سیکھنا چاہتا ہے، وہ اسے فیس دے کر سیکھ سکتا ہے، مسئلہ کسی بھی صورت میں نہیں ہے۔
فری سیکھنے والوں کو ڈی گریڈ کرنا بمقابلہ فیس دے کر سیکھنے والوں کے، کسی کا حق نہیں۔
جسے فری سیکھنا ہے سیکھے، جسے پیسے دے کر سیکھنا ہے سیکھے۔
دنیا میں ہر طرح کے انسان ہیں، اور ہر طرح کے لوگ کامیاب ہوچکے ہیں۔
اگر بہت سے لوگ کروڑوں کمانا چاہتے ہیں اور ہزاروں بھی نہیں لگارہے سیکھنے کے لیے تو اس میں مسئلہ کدھر ہے؟ میں ایک کروڑ سے زائد کماچکا ہوں اور سیکھنے پر اتنے ہزار نہیں لگائے تھے، تو؟
ہر انسان کے حالات و واقعات مختلف ہوسکتے ہیں، ایک قانون سب پر اپلائی نہیں ہوسکتا۔

اب بات کرتا ہوں ڈاکٹر کی
اگر ڈاکٹر 2000 فیس لے رہا ہے تو یہ اس کا حق ہے کہ وہ اپنی فیس 2000 رکھے ہوئے ہے۔ جسے تکلیف ہے وہ اس ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں جاتا جو فی سبیل اللہ علاج کررہا ہے یا 100 روپے فیس لے کر دوا دے رہا ہے؟ کیا معاشرے میں ہر طرح کے ڈاکٹرز موجود نہیں ہیں؟ لہذا بے تکی باتوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ذیادہ فیس مانگنے سے کوئی حرام خور نہیں بن جاتا۔
مجھ سے کوئی علاج کروانے کے لیے آتا ہے، میں پانچ لاکھ روپے ڈیمانڈ کرتا ہوں، یہ میرا بزنس ہے، اب اگر کسی ڈاکٹر کو تکلیف پہنچے یا کسی کے پیٹ میں مروڑ اٹھے، تو میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں۔
ابھی تو ویسے بھی فی الحال علاج معالجہ کا کام pending میں چھوڑ رکھا ہے کیونکہ اکثر لوگ جہالت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لہذا انہیں بھی سبق ملنا چاہیے کہ لاعلاج حالت میں موت کا ذائقہ چکھنے کے قریب جاتے وقت کیسی حالت ہوجاتی ہے انسان کی، پھر ڈھونڈتے پھرتے ہیں کسی مسیحا کو۔ ناقدرے اور ناشکرے لوگ۔

اور ایک بات یہ کہ اسکل سکھانے والے سے یہ سوال کرنا کہ آپ نے کچھ کمایا یا نہیں؟ یہ انتہائی حماقت انگیز سوال ہے۔ کیا کوئی اسٹوڈنٹ اپنے سر سے کلاس میں پوچھتا ہے کہ سر یہ جو آپ ہمیں انگریزی، اردو، اسلامیات، حساب، فزکس وغیرہ پڑھارہے ہیں تو کیا آپ نے اپنی زندگی میں کبھی ان subjects کے زریعے کچھ کمایا ہے؟ یہ بدتمیزی اور بدتہذیبی کہلائے گی۔

ٹیچر کا کام اپنا ہنر سکھانا ہے، علم ٹرانسفر کرنا ہے تو اس پر فوکس ہونا چاہیے، نہ کہ ٹیچر کی ذاتی زندگی، کمائی اور حالات واقعات پر نظر ثانی کرنا ہر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کا حق ہونا چاہیے۔

یہاں میں ٹیچرز کو بھی ڈیفینڈ کررہا ہوں جن پر تنقید کی جاتی ہے کہ تم خود تو کچھ کمانہیں سکے تو پڑھا کیوں رہے ہو؟ یا کچھ زندگی میں کر نہیں سکے تو پڑھانے لگ گئے۔

مارکیٹ میں ہر طرح کے لوگ ہیں، ہر طرح کے اسٹوڈنٹس ہیں۔ جس کا جہاں دل لگتا ہے، جہاں matching ہوتی ہے، جہاں کنکشن بنتا ہے، کرلے، مگر دوسروں کو تذلیل کرنے کا حق اسے نہیں۔

ایک کورس بیچنے والا ہے تو جسے کورس بیچنے کی اوقات نہیں، اسے کوئی حق نہیں کہ کورس بیچنے والے کو منجن بیچنے والا کہہ کر اس کا مذاق اڑائے۔

یہاں تو عجیب ڈرامے بازی چل رہی ہے۔ جس جاہل کا بس چلتا ہے جو مرضی ہانک دیتا ہے۔

اب سڑتے رہو، پڑھتے رہو، اپنا کام ہوچکا۔

الحمدللہ
ذیشان ارشد

غزہ میں صیہونی فورسز نے 57 امدادی کارکنوں سمیت 120 فلسطینی کو شہید کردیا

میں دیکھ رہا ہوں کہ پاکستانی میڈیا ایسے نیوز نشر کرتا ہے جیسے کوئی معمول کی بات ہو اور آلو بھنڈی کے ریٹ بتائے جارہے ہوں۔ ایک عام سی خبر کہ غزہ میں اتنے شہید کردیے گئے، یا فلاں مارے گئے۔

یہ سب کس کو سنارہے ہیں؟

اگر عوام کو سنارہے ہیں تو کس منہ سے سنارہے ہیں؟

کیا عوام کچھ کرسکتے ہیں؟

اگر ہاں تو کیا کریں؟

اگر نہیں تو عوام کے بجائے یہ کس کی ذمہ داری ہے کہ غزہ پر حملہ کرنے والے اسرائیلی یہودی کتوں کو ان کی اوقات دکھائے جاکر اور انہیں لگام ڈالے؟

ظاہر سی بات ہے یہ کام پاکستانی آرمی سمیت دنیا کی تمام مسلم فورسز کے ذمہ آتا ہے۔

کیا وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں؟

اگر ہاں، تو یہ جنگ بند کیوں نہ ہوسکی اب تک؟

اگر نہیں، تو اب تک کیا جھک ماررہے ہیں؟

انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا تو پاکستان نے تہہ بہ تہہ حملہ کردیا کہ ہمارے ملک کا معاملہ ہے۔

یہ فلسطینی کس کا معاملہ ہے؟

کیا اب اللہ کو خود آنا پڑے گا یہ سارے معاملات طے کرنے کے لیے؟

اگر وہ آگیا تو پھر باقی کسی کو نہ چھوڑے گا۔

ساری دولت، شہرت، طاقت، عہدے، دبدبہ لاشوں کے انبار میں بدل کر رکھ دے گا۔

اب بھی وقت ہے، مسلم آرمی ہوش کے ناخن لے اور پاکستانی آرمی جاکر غزہ میں جنگ بندی کرے یا پھر تمام مسلم ممالک کے حکمران اور ان کے چمچے اپنی عیاشیاں چھوڑ کر پہلے غزہ پر کاروائی کریں ارو انہیں سپورٹ کریں اور انہیں اپنے ملکوں میں رہائش اور بنیادی سہولتیں فراہم کریں۔

اس سے پہلے کہ اللہ ان کے شہروں کو عبرت کا نشان بناڈالے یا ان کے محلوں کو زمین بوس کرڈالے اور اللہ پر ایسا کرنا بہت آسان ہے۔

وللہ واحد القہار


بدھ، 11 جون، 2025

لائف/بزنس/آئی ٹی اسکلز سیکھنے کے لیے بہترین یوٹیوب چینلز

Shaykh Atif Ahmed (Lion-Like Courage)
https://www.youtube.com/channel/UCFsDXM40vHfbNEBt9YdayVg

Shwetabh Gangwar (Personal Development, Study)
https://www.youtube.com/channel/UC2gQaoCItAC-IbT8RNwWqLQ

Zeeshan Arshad (Multipotentialite, Life Transformation, Confidence)
https://www.youtube.com/channel/UCFsDXM40vHfbNEBt9YdayVg

Shabbir Arshad (Martial Arts)
https://www.youtube.com/channel/UCb6ihhxgkWEug_2JBRUBiqg

Kamran Sharif (Mental Health, Depression & Anxiety)
https://www.youtube.com/channel/UCU5aEY3YF7iGgzmWuONJGTA

GFX Mentor (Graphics Designing)
https://www.youtube.com/channel/UCP3AIk974-PeB9bg1Mc7wug

Hisham Sarwar (Freelancing, Blogging & Marketing)
https://www.youtube.com/user/infomist

Sandeep Maheshwari (Motivational Speeches)
https://www.youtube.com/user/SandeepSeminars

Dr. Vivek Bindra (Business and Marketing)
https://www.youtube.com/user/MrVivekBindra

ایک گھٹیا انسان کی وجہ سے سب کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا

 اس وقت رات کے 3:44 ہورہے ہیں۔

میرے جہاں مہمان ٹھہرا ہوا ہوں اس علاقے میں رات کے اس سناٹے کے وقت ایک شخص اپنے گھر میں تیز آواز میں گانے سن رہا ہے۔

اس وجہ سے علاقے کے نہ سہی، اس کے گھر کے قریب کے لوگوں کی نیند خراب ہورہی ہوگی مگر اسے کوئی پرواہ نہیں۔

میں حالانکہ کافی دور ہوں مگر مجھے اس کے گانوں کی آواز آرہی ہے۔

مجھے شدید غصہ آرہا ہے۔

اس لیے کہ رات کی تاریکی اور سکون میں، مجھے کام کرنا ہوتا ہے۔

میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایسے انسانوں کی کوئی مدد نہ کی جائے۔

اور اسی سے مجھے یہ احساس جاگا کہ اس علاقے میں تمام لوگ تو ایسا نہیں کررہے؟

پھر ایک غلیظ شیطان کی سزا سب کو کیوں دی جائے؟

یعنی اگر میں لوگوں کی مدد کروں تو میں سب کی مدد کرسکتا ہوں سوائے ان خبیثوں کے جن کے بارے میں علاقے والے خود گواہی دیں یا میں نے دیکھا ہو کہ وہ مرد یا عورت، دوسروں کو پریشان کرتا ہے یا ان کا جینا حرام کرتا ہے۔

اس کی مثال کچھ اس طرح ہے کہ اگر میں روحانی علاج کرتا ہوں اور میرے پاس غریب لوگ آئیں تو میں بنیادی طور پر سب کا علاج کرسکتا ہوں، چاہے فیس لوں یا نہ لوں، وہ ایک الگ معاملہ ہے، مگر اگر میں فی سبیل اللہ علاج بھی کرنا چاہوں تو سب میرے پاس آسکتے ہیں، کھلا دروازہ اور کھلے دل سے کام کرسکتا ہوں مگر۔۔۔

جس کے بارے میں مجھے معلوم ہوگا کہ یہ وہ شخص ہے یا عورت، چاہے میرا اپنا قریبی رشتہ دار یا بھائی بہن ہی کیوں نہ ہو، جو دوسروں کو تکلیف پہنچا رہا ہے یا جس کے بارے میں لوگ مجھے آگاہ کریں اور میں تصدیق کرلوں کہ یہ واقعی ایک خبیث انسان ہے تو ایسے لوگوں کو میں اپنی خدمات دینے پر پابندی عائد کرسکتا ہوں۔

یہ ہوتا ہے طریقہ کافروں منافقوں کو لگام دینے کے لیے جو معاشرے میں فساد پیدا کررہے ہوں۔

جب تک ان جیسوں کو کھانا پینا، عیاشی، سہولتیں دی جائیں گی یہ مزید بگاڑ پیدا کریں گے لہذا ان کی سزا بنتی ہے۔

مگر ان کی وجہ سے میں لوگوں سے نفرت کروں؟

یہ بات سمجھ نہیں آتی۔'

اسی سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ میرے اندر انسانوں کے گھٹیا سلوک کی وجہ سے جو نفرت پیدا ہوگئی تھی وہ سب کی وجہ سے نہیں بلکہ بعض انسانوں کی وجہ سے ہے ورنہ تو مجھے بہت سے اچھے لوگ بھی ملتے ہیں لہذا ان چند خبیثوں کی وجہ سے پورے معاشرے سے نفرت نہیں کی جاسکتی۔

عام لوگ تو اپنے روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں، وہ تو خود پریشان ہیں، یہ تو چند گھٹیا شیطانی لوگ ہیں جنہوں نے معاشرے میں فساد مچا رکھا ہے۔

میں سوچتا ہوں کہ اگر میں پولیس میں ہوتا تو کیا کرتا؟

یقینا ایسے سب لوگوں کو گرفتار کرکے جیل میں بند کردیتا۔

پھر معاشرے کے لوگ سدھرنا شروع ہوتے کیونکہ جو ڈرتا ہے وہی اپنی لمٹ میں رہتا ہے۔

اللہ نے بھی ڈر سنانے کے لیے نبیوں کو بھیجا اور بے شک وہ خوشخبری بھی سناتے تھے ایمان والوں کو۔

لہذا معاشرے میں اچھے اور برے انسانوں کے ساتھ الگ الگ رویہ رکھنا جائز ہے۔

مگر ایک کی وجہ سے سب کو الزام دینا درست نہیں اور ناانصافی ہے۔

منگل، 10 جون، 2025

قرآن کا خدا اور ہے، روحانیت کا خدا اور؟

 ایک جاہل انسان نے یوٹیوب پر کمنٹ پوسٹ کیا


اس کی جہالت اس کے کمنٹ سے ٹپک رہی ہے کیونکہ یہ اس قدر جاہل ہے کہ قرآن کی بات کرنے کے باوجود اس کائنات میں دوسرے خدا کے وجود کا اقراری بنا ہوا ہے۔ جو بھی اللہ کے ساتھ کسی اور کو خدا سمجھے، وہ کافر ہے۔

ایسے کافروں کی معاشرے میں کوئی کمی نہیں ہے۔

اولیاء اللہ سے جلن، حسد، بغض، عداوت، دشمنی، نفرت نے ان جیسوں کو واقعی شیطان کا کتا بنارکھا ہے۔

ان جیسوں کو میں اپنے یوٹیوب چینل پر بہت ننگا کرچکا ہوں۔ 

یہ لوگ کمنٹ پر بھونکنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے فزیکل ورلڈ میں پریکٹیکل طور پر

الحمدللہ رب العالمین