جمعہ، 14 اگست، 2026

اگر اللہ رحمن الرحیم ہے تو پھر جہنم کیوں بنائی؟

ایک جملے میں بات کروں تو اللہ نے جہنم اس لیے بنائی کیونکہ وہ مستقبل کا علم رکھتا ہے اور اس کو پہلے سے پتہ تھا کہ کس طرح کے ذلیل قسم کے انسان ہوں گے تو ان کو سزائیں دینے کے لیے اللہ نے پورا سیٹ اپ کر کے پہلے سے تیار کر دیا جو اس کے کامل علم کی نشانی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے دنیا کے تمام انسانوں کے فیوچر کے ہونے والے ایک ایک سٹیپ کے بارے میں مکمل طور پر علم ہے اور اس میں جنات کو بھی شامل کردیا جائے تو یہ کمال قدرت اور کمال علم کی نشانی ہے۔

اب اس سوال کی تفصیل پر جاتا ہوں کہ اس سوال کا مقصد کیا ہوتا ہے۔

ایسے سوال کا مقصد صرف یہ نہیں کہ صرف جہنم کیوں بنائی ؟ بات یہ ہے کہ جہنم کے اندر اللہ نے کافروں کو ہمیشہ کے لیے ڈالنا ہے منافقین ہٹ دھرم متکبر جو زمین پر لوگوں پہ ظلم کر رہے ہیں عیاشیاں کر رہے ہیں اور بڑی بے فکر سے سمجھ رہے ہیں کہ ان کو پکڑنے والا کوئی نہیں ہے اللہ ان کو عبرت کا نشان بنا کے جہنم میں پھینکے گا اور ہمیشہ کے لیے وہاں پر یہ تڑپیں گے سسکیں گے پھڑکتے رہیں گے ۔ یہ تو ہو گئی ایک بات !

تو یہاں پر سزا ہمیشہ کے لیے دی جائے گی جس میں یہ جہنم سے نہیں نکالے جائیں گے جنت سے محروم کر دیے جائیں گے ۔ یہ کوئی معمولی سزا نہیں ہے اگر کوئی سمجھنا چاہے ۔ ہمیشہ کے لیے وہ جہنم میں جائے گا ۔ تو یہاں پر رحم کدھر ہے ؟ رحم تو یہ ہوتا ہے کہ سزا دینے کے بعد جہنم سے نکال کے جنت دے دی جائے چاہے کچھ وقت کے بعد صحیح لیکن یہ پرمننٹ سزا دی جائے گی تو معاملہ کچھ اور ہے۔

دوسری بات یہ کہ اللہ نے جہنم بنائی ہے دردناک سزائیں اس کے اندر تیار کی ہیں مگر اس نے انسان کو زبردستی اپنی مرضی سے ظلم کرکے جہنم میں پھینکنے کا دعوی نہیں کیا۔

جنت اور جہنم انسان کے عمل کے مطابق ہے ۔ ہر انسان اپنی دوزخ کے اندر جو سزاؤں میں اضافہ کرواتا ہے جو سیٹ اپ کرواتا ہے وہ دنیا میں کیے ہوئے عمل سے کرواتا ہے اور اس عمل کے لیے اللہ نے انسان کو ازادی دی ہے کہ وہ جو چاہے کرے اللہ اسے آکر زبردستی روکتا نہیں ہے ۔

اس لیے کوئی بچے کا ریپ کرتا ہے کوئی عورت کی عزت لوٹتا ہے کوئی کسی نوجوان کو قتل کر دیتا ہے کوئی رشوت لیتا ہے کوئی سود پہ اپنا کام کرتا ہے کوئی لوگوں سے ٹیکس کے نام پہ پیسہ لوٹتا ہے سب کچھ چل رہا ہے دنیا میں ۔ اللہ نے آکر کسی کو نہیں روکا سوائے یہ کہ کبھی وہ زلزلہ بھیج دے طوفان چلا دے اور اپنے دیگر لشکروں کے ذریعے سزا دے لیکن لوگ پھر بھی نہیں سدھرتے تب بھی لوگ خود ذمہ دار ہیں۔

اللہ کو بے انصاف اور بے رحم تو تب بولا جاتا جب وہ اپنی مرضی سے کسی بھی انسان کو اٹھا کے جہنم میں ڈال دیتا۔ وہ ایسا نہیں کرتا۔

زمین پر چلنے پھرنے والے یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے اپنے تکبر سے جو دل چاہے کرتے رہتے ہیں جس کو دل چاہے تھپڑ مار دیا جس سے دل چاہے مال چھین لیا جس سے دل چاہے عزت لوٹ لی تو پھر ایسے مغروروں کو سزائیں نہ دی جائیں تو کیا کیا جائے؟

کیا کسی کو سچ بولنے سے روکا گیا ہے ؟
کیا کسی کو حلال کمانے سے روکا گیا ہے ؟
کیا کسی کو دوسروں کو بے سکون کرنے سے روکا گیا ہے ؟

خود پڑوسیوں کو تکلیف دیتے ہیں گھروں میں چیختے چلاتے ہیں بچوں پہ ظلم کرتے ہیں ایک دوسرے کو مار پیٹ کرتے ہیں گالی گلوچ کرتے ہیں غیبت کرتے ہیں چغلی کرتے ہیں ملاوٹ کرتے ہیں ڈرامے بازی کرتے ہیں اللہ کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں اور پھر یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ان پر رحم کر کے ان کو جنت کی نعمتیں دے؟

ہاں اس نے جہنم بنائی ہے اپنی مرضی سے بنائی اور اس لیے بنائی کیونکہ وہ جس انسان کی مخلوق کو بنانا چاہتا تھا اس کو پہلے سے پتہ تھا کہ کون کس نے لیول کا کمینہ ہوگا کتنا ذلیل ہوگا کیا کیا حرکتیں کرے گا اس لیے پہلے سے جہنم تیار کر دی تھی اور بتا دیا تھا کہ یہاں پر ڈالوں گا ۔لیکن قران بھیجنے کے بعد رسول بھیجنے کے بعد اتنی معلومات فراہم کرنے کے بعد بھی لوگوں نے خود اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ظلم کے راستے کو اختیار کیا تو وہ اپنی جہنم میں جانے کے خود ذمہ دار ہوں گے ، اللہ نے کسی پہ ظلم نہیں کیا۔

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد