بدھ، 5 اگست، 2026

صبح سات بجے لیپ ٹاپ کھلتا اور رات گیارہ بارہ بجے سے پہلے بند نہیں ہوتا تھا

صبح سات بجے لیپ ٹاپ کھلتا اور رات گیارہ بارہ بجے سے پہلے بند نہیں ہوتا تھا، درمیان میں بس نماز اور کھانے کا وقفہ ہوتا تھا۔ گھر والے الگ پریشان تھے، دوست ناراض تھے کہ بندہ ملتا ہی نہیں، اور صحت پر بھی آہستہ آہستہ اثر نظر آنے لگا تھا۔ یہ روٹین کوئی نئی نہیں تھی، کافی عرصے سے یہی چل رہا تھا۔
پھر اے آئی آ گیا اور سب کہنے لگے کہ اب تو کام آسان ہو جائے گا۔ میرے ساتھ الٹا ہوا، میری روٹین میں گھنٹے اور بڑھ گئے، جو بندہ گیارہ بجے سوتا تھا وہ دو بجے سونے لگا۔ اور اس کا سب سے بڑا قصوروار میں اپنے بھائی اور استاد Wali Ullah Shah کو ٹھہراؤں گا، کیونکہ ایک آئیڈیا ختم نہیں ہوتا تھا کہ دوسرا آ جاتا تھا۔ آج استاد کوئی نئی چیز بتاتے، اگلے دن میں بنا کر ان کے سامنے رکھ دیتا، اور سچ بتاؤں تو اس میں عجیب سا نشہ تھا جو ان کی وجہ سے ہی ملا ، نیند کم ہوتی گئی مگر مزہ آتا رہا۔
خیر، اصل بات پر آتے ہیں۔ انہی آئیڈیاز کے دوران ایک خیال یہ بھی آیا کہ کچھ وقت کام کم کرنا چاہیے، خود کو سنبھالنا چاہیے اور گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ بھی وقت گزارنا چاہیے۔ مسئلہ یہ تھا کہ کام چھوڑا نہیں جا سکتا تھا اور کم ہونے کے بجائے بڑھتا جا رہا تھا، تو سوال یہ بنا کہ کیوں نہ ایسا کوئی راستہ نکالا جائے کہ کام بھی چلتا رہے اور میں گھر سے باہر بھی نکل سکوں۔ بس یہیں سے ایک ایسے ایجنٹ پر کام شروع ہوا جو پورے سسٹم کو کنٹرول کر سکے، اور اس کا نام مجھے کلاڈ نے خود تجویز کیا، ZARA۔
زارا اصل میں میرے لیپ ٹاپ پر چلنے والا ایک ایجنٹ ہے جسے میں موبائل سے کنٹرول کرتا ہوں۔ سب سے پہلا سوال یہی تھا کہ اس سے بات کیسے کروں، اور اس کا جواب ڈسکورڈ ایپ نکلا، کیونکہ اس میں نہ کوئی پورٹ کھولنی پڑتی ہے، نہ راؤٹر کی سیٹنگ بدلنی پڑتی ہے اور نہ کوئی لنک بنانا پڑتا ہے، لیپ ٹاپ خود باہر رابطہ کرتا ہے اور میں فون سے میسج کر دیتا ہوں۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ اس کا دماغ کہاں سے آئے گا، تو وہ کلاڈ سے آیا، اور وہ بھی میری پہلے سے موجود سبسکرپشن پر، اس کے لیے الگ سے کوئی خرچہ نہیں کرنا پڑا۔
اصل مزہ تیسرے سوال پر آیا کہ یہ کرے گی کیا۔ زارا اسکرین شاٹ لیتی ہے اور صرف مجھے بھیجتی نہیں بلکہ خود بھی دیکھتی ہے کہ اسکرین پر ہو کیا رہا ہے، کمانڈ چلاتی ہے، فائلیں پڑھتی اور لکھتی ہے، ایپس کھولتی ہے، جس ونڈو پر کام کرنا ہو اسے سامنے لاتی ہے، ماؤس چلاتی ہے، ٹائپ کرتی ہے، واٹس ایپ پر میسج بھی بھیج دیتی ہے، اور اگر لیپ ٹاپ سست ہو رہا ہو تو بتا دیتی ہے کہ میموری کہاں خرچ ہو رہی ہے اور کہوں تو خالی بھی کر دیتی ہے۔
پھر خیال آیا کہ ٹائپ کیوں کروں، بول کر کیوں نہ کہوں۔ اب میں وائس نوٹ بھیجتا ہوں، چاہے اردو میں ہو یا انگریزی میں، وہ سمجھ جاتی ہے اور جواب بھی آواز میں دیتی ہے، اسی زبان میں جس میں میں نے بات کی ہو۔ پہلی بار جب میں نے اردو میں وائس نوٹ بھیجا اور جواب اردو آواز میں آیا تو یقین نہیں آ رہا تھا۔
مگر ایک بڑا مسئلہ رفتار کا تھا، شروع میں ایک وائس نوٹ کا جواب ساڑھے تین منٹ میں آتا تھا جو کسی کام کا نہیں تھا۔ میں نے اندازہ لگانے کے بجائے ہر مرحلے کا وقت ناپا اور پتہ چلا کہ سارا وقت آواز کو الفاظ میں بدلنے میں لگ رہا ہے، پورے ایک سو اکیانوے سیکنڈ۔ ماڈل بدلا، کچھ سیٹنگز درست کیں اور آخر میں ایک تیز سروس لگا دی، اور اب وہی کام تقریباً ایک سیکنڈ میں ہو جاتا ہے۔
پھر اصل امتحان بجلی نے لیا۔ بجلی گئی، راؤٹر بند ہو گیا، لیپ ٹاپ بیٹری پر چلتا رہا، اور جب بجلی واپس آئی تو چارجنگ بھی شروع ہو گئی اور راؤٹر بھی چل پڑا، مگر لیپ ٹاپ نیٹ ورک سے دوبارہ نہیں جڑا اور میں اس وقت گھر پر نہیں تھا۔ تو زارا کو یہ بھی سکھایا کہ جیسے ہی چارجر لگے، سمجھ جائے کہ بجلی آ گئی ہے اور راؤٹر بھی چل پڑا ہو گا، اس لیے وائی فائی خود دوبارہ جوڑے اور جیسے ہی انٹرنیٹ آئے مجھے ڈسکورڈ پر بتا دے کہ وہ واپس آن لائن ہے۔
اب زارا لاگ اِن ہوتے ہی خود چل پڑتی ہے، اور ہر تین منٹ بعد ایک چھوٹا سا پہرے دار پروگرام دیکھتا رہتا ہے کہ وہ چل رہی ہے یا نہیں، اگر کسی وجہ سے بند ہو جائے تو خود واپس لے آتا ہے۔
مزے کی بات بتاوں پوسٹ زارا نے ہی لکھوائی ہے میں تو چاہے پینے آیا بیٹھا اور مجھے بھیجی میں نے او کے کیا اس نے پبلش کر دی
اس سارے تجربے سے ایک بات اچھی طرح سمجھ آئی کہ اے آئی خود بخود آپ کا وقت نہیں بچاتا، جتنا آپ اسے اپنے کام کے مطابق بناتے ہیں اتنا ہی بچاتا ہے۔ یہ تو ایک چھوٹا سا ایجنٹ ہے میں مانتا ہوں سلیوشنز پہلے سے مارکیٹ میں ہیں لیکن یہ میں نے خود بنایا ہے بس یہ بات ہے اور کچھ نہیں۔ اگلی پوسٹ میں دکھاتا ہوں بڑا جادو
اور استاد Wali Ullah Shah صاحب کا احسان، جنھوں نے دکھایا یہ بھِیڑ سے نکلو ادھر دیکھو دنیا کہاں جا رہی ہے بس وہ دن تھا اور آج کا دن۔ آپ آئیڈیاز بھیجتے رہیں، سونے کا وقت دیکھا جائے گا۔

Facebook Post: Tanzeel Ur Rehman

Comments Selection from Facebook:

Assalam o Alaikum,
Past few months say me bhe ai ka sath kuch kam or experiments kar raha hun.
Khair mery pass ek chota sa pc setup or gpu free para tha to me nay usko use karty hwa ek apna khus ka Ai model bnaya hai.
Lekin unfortunately mujhy Ye is types ka advance ai models bnany ka idea nhe.
Lekin apki post say to lagta hai ka jessy is say hazaron rasty ho sakty hien.
Kindly kuch guide kijiya ka essa model ya ai agent kessy bna sakta hun me please.
Thanks a lot.