منگل، 20 اکتوبر، 2026

سیدہ فاطمہ الزہرہ اور عمر بن خطاب (قادیانی، شیعہ، دیگر مذاہب پر میرا اعلان)

کسی شیعہ کو یہ اعتراض تھا کہ میں اپنی ویڈیوز میں زیادہ تر عمر بن خطاب کا نام تو استعمال کرتا ہوں مگر حضرت فاطمہ کا نام نہیں لیتا۔ اس کے دماغ میں یہ بات تھی کہ اگر عمر بن خطاب کا دشمن جنت میں نہیں جاسکتا تو حضرت فاطمہ کا دشمن جنت میں کیسے جاسکتا ہے؟ 

تو ظاہر سی بات ہے حضرت عمر سے محبت کرنے والا حضرت فاطہ سے بھی محبت رکھتا ہوگا۔ وہ مسلمان کیسے رہ سکتا ہے جو حضرت عمر سے محبت رکھے اور حضرت فاطمہ سے نفرت رکھے؟ یا کسی اور صحابی سے نفرت رکھے؟ مسلمان ایسا کبھی نہیں کرسکتا۔ وہ سب سے محبت رکھتا ہے۔ تمام صحابہ اس کے لیے عزت کے لائق ہیں چاہے ان کے آپس کے معاملات کیسے ہی کیوں نہ رہ چکے ہیں۔ وہ سب اللہ کے مقبول بندے ہیں، ٹاپک کلوز۔

بات ساری عقیدت اور احترام کی ہے۔ میرے نزدیک حضرت فاطمہ الزہرہ کا ادب اور احترام لازمی ہے۔ ان کا زکر کرنا ضروری نہیں کیونکہ ان کے نام پر کوئی گالیاں نہیں دیتا جو خود کو مسلمان سمجھتا ہے۔ البتہ حضرت عمر فاروق کی شخصیت پر گالیاں دینے والے کھلے عام سوشل میڈیا اور محلفوں میں موجود ہیں اس لیے ان کا نام لے کر بات کرنا ایک غیرت مند مسلمان کے لیے ضروری ہوتا ہے کیونکہ ان کا انکار کرنے والے زمین پر بکھرے پڑے ہیں۔ جس کا انکار کیا جائے اسی کا ڈیفینڈ کیا جاتا ہے اس لیے حضرت عمر کا نام میں استعمال کرتا ہوں جب ان کے دشمنوں سے خطاب کرت ہوں۔

اگر کسی کو تکلیف اٹھ رہی ہے تو وہ اپنے ایمان کا علاج کرے۔

َحضرت فاطمہ الزہ کی شخصیت اتنی معمولی نہیں کہ ان کو ہر جگہ ڈسکس کیا جائے ۔ ان کا نام عزت کے لائق ہے۔ ان کا پردہ بے مثال ہے۔ ان کی شخصیت کو بے چارگی، معصومیت، مظلومیت والا دکھاکر ان کی توہین کرنا میرا وطیرہ نہیں۔ جس کو شوق ہے کرتا پھرے۔ میرے نزدیک ان کی عزت اور احترام پہلے نمبر پر ہے۔ نہ کہ ان کو جگہ جگہ ڈسکس کرتا پھروں۔ ایک مسلمان کے نزدیک مولا علی، ان کی بیگم فاطمہ الزہ، ان کے بیٹے حسن حسین سب عزت و احترام کے قابل ہوتے ہیں۔ وہ مسلمان ہی نہیں جو ان کی عزت نہ کرے۔ جہاں تک شیعوں کا تعلق ہے وہ اپنی گھٹی کے ساتھ ہی گستاخ صحابہ کرام بن کر بڑے ہوتے ہیں ۔ مجموعی طور پر یہی حال ہے۔ جس طرح قادیانی بچہ پیدا مسلم ہوتا ہے مگر گھٹی پڑتے ہی اس کا عقیدہ بھی کافرانہ تیار کردیا جاتا ہے۔ وہ بڑا ہوکر خود کو احمدی مسلم کہتا پھرتا سمجھتا ہے مگر اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ اپنے فرقے میں بند ایک نئے مذہب کا پیروکاور ہوتا ہے، اسی طرح شیعوں کا حال ہے۔ ان کا عقیدہ، مذہب اور بنیاد صرف خلفائے راشدین سے نفرت اور کفر پر ہے۔ خاص طور پر حضرت عمر بن خطاب جیسے جید صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق جیسے سچے انسان کے خلاف ان شیعوں کے اندر کتنی نفرت اور عداوت ہے وہ ان کی محفلوں اور زبانوں سے کھلے عام مشہور ہے۔ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ حضرت عمر سے نفرت کے بغیر تو یہ شیعہ اپنے ایمان کو مکمل نہیں سمجھتے پھر جھوٹ بولتے ہیں کہ ہم صحابہ کی گستاخی نہیں کرتے۔ جھوٹ بولنا ان کے ہاں عام بات ہے۔ تبرا کرتے ہیں۔ قادیانی بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ دونوں ایک طرز کے ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ایک شیعہ مسلم بنتا ہے، دوسرا احمدی مسلم بنتا ہے، دونوں ہی مسلمان نہیں ہیں۔ 

اصل مسلمان وہ ہے جو اللہ کو خدا مانتا ہے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی تسلیم کرتا ہے، تمام صحابہ کرام کا ادب کرتا ہے اور اولیاء اللہ کا بھی احترام کرتا ہے۔ وہی نیک اور سچا مسلمان ہے اپنے دیگر اعمال کے ساتھ۔ ایک غیرت مند مسلمان اللہ کے دوستوں کو گالیاں نہیں دیتا، انہیں ذلیل نہیں کرتا، انہیں کافر منافق نہیں بولتا، نبوت پر ڈکیتی نہیں مارتا۔ خود کو امام مہدی یا عیسی ڈکلیئر نہیں کرتا۔ 

آج کل جس کا دل چاہے خود کو مہدی بناکر پیش کررہا ہے، عیسی ڈکلیئر کررہا ہے، قادیانی، شیعہ، ہندو، عیسائی، یہودی، پارسی، سکھ اور ناجانے کتنے مذاہب بناکر خود کو سچا پکا ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اور اس کی بنیاد صرف چند کتابوں میں لکھی ہوئی پرانی باتوں پر ہے۔ ثبوت کوئی نہیں، الہامی تائید کوئی نہیں، اللہ کی مدد کوئی نہیں مگر دعوے شیطانی اور اعمال رحمانی ہونے کے زعم میں مبتلا ہیں۔ 

اگر کسی شیعہ، قادیانی، ہندو، عیسائی، یہودی، پارسی ، سکھ وغیرہ میں دم ہے تو آئے اور میرا مقابلہ کرکے دکھادے۔ میں ایک مسلمان ہوں اور الحمدللہ صحیح العقیدہ سنی مسلم ہوں۔جس بات کو صحیح سمجھتا ہوں قبول کرتا ہوں ورنہ رد کردیتا ہوں۔ اگر میرے دل کو قبول نہیں تو میں نہیں مانتا۔ میں صحیح احادیث کا انکار نہیں کرتا مگر ہر صحیح حدیث قبول نہیں کرتا اس وجہ سے کہ وہ "صحیح" لکھ دی گئی ہے  اگر صحیح حدیث کے نام پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی توہین کی گئی ہو۔  کیونکہ قرآن کے علاوہ تمام کتابوں میں شک کیا جاسکتا ہے وہ انسانوں کا کلام ہے، صرف قرآن اللہ کا کلام ہے اس کی ہر آیت میرے نزدیک سو فیصد درست اور سچی ہے مگر عربی کیونکہ ترجمہ میں بھی ڈنڈیاں ماری جاتی ہیں یا سائنس سے متعلق آیات کے تراجم میں اختلافات پائے جاتےہیں ترجمہ کرنے والے کی سائنسی نالج کی بنیاد پر

میں قرآن و سنت کو فالو کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور اپنی عقل و شعور کا بھرپور استعمال کرتا ہوں۔ اندھا بہرا بن کر کسی مولوی/پیر/فقیر/سائنسدان/پروفیسر/عالم/مفتی وغیرہ کا غلام بن کر زندگی نہیں گزاررہا۔ جتنا کسی اور کو دین سمجھنے کا حق ہے، اتنا میرا بھی ہے۔ میں صرف اللہ کا بندہ ہوں، کسی شیطان کے غلام کا بندہ نہیں اور نہ شیطانی حکومتوں کا کارندہ۔ 

یہی میرا عدیقہ ہے ۔ اگر کوئی مد مقابل ہے تو آکر مقابلہ کرلے مگر مقابلہ معجزات کے ساتھ ہوگا، کتابوں لفاظی سے نہ ہوگا۔

اللہ اکبر
لیجنڈ