وضو کرتے وقت داڑھی دھونے کے حوالے سے ایک مسلم کو بہت پریشانی ہوتی ہے جسے صحیح طریقہ نہیں آتا۔ اس حوالے سے یہ چند ویڈیوز بہترین ہیں جنہیں دیکھنے اور سننے کے بعد ان شاء اللہ داڑھی کے سائز، اسے دھونے کا طریقہ اور کتنا حصہ دھونا فرض ہے اس حوالے سے کنفیوزن دور ہوجائے گی۔
اس ویب سائٹ پر اسلام، قرآن، روحانیت، گیمنگ، فری لانسنگ، کمپیوٹر، ویب ڈیویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، کرامات و معجزات، کیریئر، لائف، بزنس، ریلیشن شپ اور بہت کچھ ملے گا۔
پیر، 6 نومبر، 2023
جمعرات، 2 نومبر، 2023
شہیدوں کی موت جاہل نافرمانوں کے برابر نہیں ہوتی
جاہلوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والے یا اپنی موت مر جانے والے زندہ ہوتے ہیں اور ایسوں کو اللہ نے مردہ کہنے اور سمجھنے سے منع کیا ہے۔
یہ لوگ اللہ کے خلاف کھڑے ہو کر اللہ ہی کو جھوٹا ثابت کرنے پہ تلے ہوئے ہیں کہ جو اللہ کی راہ میں شہید ہو گئے ہیں وہ زندہ ہونے کے باوجود بھی سن نہیں سکتے۔ جب اس طرح کے جاہل معاشرے میں پھر رہے ہوں گے تو یہ تو خود جہالت پھیلانے کے سب سے بڑے قصوروار ہیں اور ذمہ دار اور مجرم ہیں جنہوں نے اسلام کی مٹی پلید کر کے رکھی ہوئی ہے اور اپنے فرقے بازی کو دین بنا کے پیش کیا ہوا ہے۔
لہذا تم ان جاہلوں کی باتوں میں آکر اولیاء اللہ کے گستاخ مت بننا جو زندہ ہیں وہ شہید ہیں اور وہ سنتے بھی ہیں دیکھتے بھی ہیں اور اللہ کے حکم سے مدد بھی کرتے ہیں جتنا اللہ نے ان کو اختیار دیا ہوتا ہے لیکن اللہ کے حکم کے بغیر کوئی فائدہ نہیں پہنچایا جا سکتا کسی کو بھی
اور ان کے شہید ہونے کی زندگی کو ان جاہلوں کی موت کے برابر مت سمجھنا جو اپنی زندگی میں اللہ کے نافرمان بنے رہتے ہیں اور شہیدوں کی موت کو اپنی موت جیسا سمجھ کے جہالت کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن اپنی عقل استعمال نہیں کرتے
ہفتہ، 21 اکتوبر، 2023
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں
تاریخی معلومات اور مسلمانوں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق حضورنبی کریم محمد رسول اعظمﷺ کی مقدس اور پاک دامن بیویاں تقریباً سب ہی مالدار اور بڑے گھرانوں سے تھیں۔
حضرت ام حبیبہ رئیس مکہ حضرت ابو سفیان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔
حضرت جویریہ قبیلہ بنی المصطلق کے سردار اعظم حارث بن ضرار کی بیٹی تھیں۔
حضرت صفیہ بنو نضیر اور خیبر کے رئیس اعظم حیی بن اخطب کی نور نظر تھیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ حضرت ابوبکر صدیق کی پیاری بیٹی تھیں۔
حضرت حفصہ حضرت عمر فاروق کی چہیتی صاحبزادی تھیں۔
حضرت زینب بنت جحش اور حضرت اُمِ سلمہ بھی خاندانِ قریش کے اونچے اونچے گھروں کی ناز و نعمت میں پلی ہوئی تھیں۔
یہ سب بچپن سے امیرانہ زندگی اور رئیسانہ ماحول کی عادی تھیں اور ان کا رہن سہن، کھانا پینا، لباس و پوشاک سب کچھ امیروں جیسی زندگی کا آئینہ دار تھا اور محمد رسول اعظم ﷺ کی مقدس اورپاک زندگی بہت ہی سادہ اور دنیاوی تکلفات سے یکسر خالی تھی۔
دو دو مہینےحضورﷺ کے گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا اور صرف کھجور اور پانی پر پورے گھرانے کی زندگی بسر ہوتی تھی۔
لباس و پوشاک میں بھی پیغمبرانہ زندگی کی جھلک تھی ۔
مکان اور گھر کے سازو سامان میں بھی نبوت کی سادگی نمایاں تھی۔
حضور ﷺ اپنی رقم کا اکثر حصہ اپنی امت کے غریبوں پر خرچ کردیتے تھے اور اپنی بیویوں کو صرف بقدر ضرورت رقم ادا کرتے تھے لہذا ان کی بیگمات کی زیب و زینت اور بناو سنگھار کے لیے وہ رقم کافی نہ ہوتی تھی جبکہ حضور کی بیویوں کے مقابلہ پر آج مالدار مسلم عورتوں کے پاس اسقدر دولت ہے کہ اپنےبناو سنگھار کے لیے بیوٹی پارلر جاکر ماہانہ ہزاروں روپے خرچ کردیتی ہیں اور ہرسال عید تہوار اور دیگر تقریبات کے لیے الگ الگ مہنگے جوڑے خرید کر پہنتی ہیں۔
کائنات کے بادشاہ اللہ واحد القہار کے محبوب رسول اعظم ﷺ کی بیگمات یعنی امہات المومنین نے متفقہ طور پر آپﷺسے مطالبہ کیا کہ ان کے اخراجات میں اضافہ فرمادیں۔
یہ بات حضور ﷺکے دل پر بہت بھاری گزری کیونکہ حضور ﷺ غلبہ اسلام کے مشن پر کام کررہے تھے اور ان کے سکون اور اطیمنان میں رکاوٹ پیش آگئی کہ دنیاوی سازو سامان اور زینت و آرائش کی خاطر اگر پیسوں کا انتظام کرنا پڑے گا تو دین اسلام کا کام کیسے ہوگا ؟ اور امت کے غریبوں کو کیسے فائدہ پہنچایا جائے گا؟ اور غیرمسلموں کو اسلا م میں کیسے داخل کرنے پر توجہ دی جائے گی؟ لہذا حضورﷺ نے یہ قسم کھالی کہ اب ایک ماہ تک اپنی بیویوں سے ملاقات اور بات چیت نہیں کریں گے اور پھر حضور نے ایک ماہ تک اس پر عمل کیا، اسے "ایلاء" کہتے ہیں۔
اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی مالدار مسلم عورت کا مسلم شوہر غلبہ اسلام کے مشن پر کام کررہا ہو اور اس مسلم عورت کے پاس اس قدر دولت ہے کہ وہ اپنے اخراجات آسانی سے پورے کرسکتی ہے اور اس کے پاس ضرورت سے زیادہ دولت اور گھریلو ساز و سامان بھی رکھا ہوا ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے ایسے عظیم شوہر کی قدر کرے اور اس کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور اسے ہرگز پریشان اور تنگ نہ کرے تاکہ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ واحد القہار کے مشن غلبہ اسلام پر بھرپور توجہ کے ساتھ کام جاری رکھ سکے۔
بے شک اللہ کسی نیک مسلم عورت کی نیکیاں ضائع نہیں کرتا اور بے حد قدر کرتا ہے اگر وہ اپنے شوہر کی خدمت کرے اور اس کا خیال رکھے اور اس کے شوہر کو بھی چاہیے کہ اگر اسے خدمت گزار اور خیال کرنے والی بیوی ملی ہے اللہ کے فضل سے تو وہ بھی اللہ کا شکر ادا کرے اور اس کے ذہنی سکون کا خیال رکھے، اس کو آخرت کے حوالے سے تعلیم و تربیت کرے اور اسے بھی جنت کے محلات میں لے جانے کے لئے کوششیں کرے اور اپنے بچوں کی تربیت کا بھی خیال رکھے تاکہ شیطان انہیں اللہ سے بدگمان اور اسلام سے بدظن نہ کرسکے۔ بے شک اللہ تمام جہان والوں سے بے نیاز ہے۔
اللہ اکبر
اللہ واحد القہار
الحمدللہ رب العالمین
توکل
You Are with ALLAH (اللہ)
سائنس کی آسان ترین تعریف
جمعرات، 12 اکتوبر، 2023
بہترین جملوں کا انتخاب
خلفائے راشدین آف اسلام کے کارنامے اور مسلمانوں کے لیے آئیڈیاز
اس لسٹ سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خلفائے راشدین جو کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ شاگرد تھے وہ امت کے مسلمانوں اور غیرمسلموں کے لیے کس قسم کے کام سرانجام دے کر چلے گئے۔ اس فہرست کے ذریعہ ایسے تمام مسلمان جو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی آخرت کی زندگی بہتر بنانے کے لیے اس فزیکل ورلڈ میں کس قسم کے کام سرانجام دیں تو یہ لسٹ ان شاء اللہ انہیں کفایت کرے گی کیونکہ اس میں صرف خلفائے راشدین کا انتخاب کرکے ان سے متعلق کارناموں کوانٹرنیٹ سے ریسرچ کرکے جمع کردیا گیا ہے اللہ کے فضل و کرم سے ۔
ان میں کونسی باتیں سچ ہیں یا جھوٹ اس سے قطعی نظر مقصد صرف یہ ہے کہ نیکی کے کام کرنے کے لیے مسلمان جس عہدہ پر بھی ہو اسے آسانی ہوسکے ان شاء اللہ اور خلفائے راشدین کی عظمت اور شان و شوکت کا بھی اندازہ ہوسکے کہ وہ کس قدر اعلی لیول پر ہونے کے باوجود کس قسم کے کام کرتے تھے اور ان کا مقصد صرف اللہ کو راضی کرنا تھا لہذا ہم سب کو اپنا کردار اس آئینے میں دیکھنا بھی چاہیے۔
الحمدللہ رب العالمین، اللہ اکبر، اللہ واحد القہار
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کارنامے
حضور نبی رحمت ﷺ کے وصال کی خبر سن کر کافی قبیلوں نے سرکشی کر دی لوگ مرتد ہونا شروع ہو گئے ،بعض نے زکوٰة اور نماز ادا کرنے سے انکار کر دیا، ملک کے بیشتر حصوں سے مدعیانِ نبوت اٹھ کھڑے ہوئے جن میں طلیحہ بن خویلد، اسود عنسی، سجاح بنت حارثہ اور مسیلمہ کذّاب بہت مشہور ہیں انہوں نے اسلام کے خلاف لوگوں کو بھڑکانا شروع کر دیا اور اپنی جماعتیں بنانا شروع کر دیں حضرت ابوبکر صدیق ؓنے پہلے متعدد پیغامات بھجوائے کہ وہ اپنے اس غلط دعوے کو مسترد کر دیں لیکن جب انہوں نے آپکی بات کا انکار کیا تو آپ نے لشکر کیساتھ حملہ کیا اور ان کذّابوں کو نیست و نابود کر دیا۔
حضرت عمرؓ کی تحریک پر حضرت ابوبکرؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ سے قرآن کریم تحریری صورت میں لکھوا کر اسے مسجد نبویؐ میں رکھوا دیا جس سے قرآن کریم کتابی شکل میں محفوظ ہو گیا اور اس میں کسی تحریف اور ردوبدل کا دروازہ بھی بند ہو گیا کہ مسجد نبویؐ میں موجود سرکاری اور اسٹینڈرڈ نسخہ کی موجودگی میں کسی کو جرأت نہیں تھی کہ وہ قرآن کریم میں اپنی طرف سے کوئی ردوبدل کر کے اسے عام کر سکے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المال کا نظام قائم کر کے ریاست کے عام شہریوں بالخصوص معذوروں اور مستحقین کی کفالت کا جو نظام دیا تھا حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس سلسلہ کو آگے بڑھایا اور ایسی بنیادیں فراہم کر دیں جس سے رفاہی ریاست اور ویلفیئر اسٹیٹ کا وہ نظام حضرت عمرؓ کے دور میں منظم ہو کر دنیا کے لیے ایک مثالی اور آئیڈیل رفاہی نظام کی شکل اختیار کر گیا۔
آپؓ نے اپنے دورِ خلافت میں ایران اور روم کی دو عظیم سلطنتوں کو متعدد شکستیں دے کر ملت اسلامیہ کے وقار اور دبدبے کا ڈنکا بجا دیا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کارنامے
عراق، مصر ، لیبیا ، سرزمین شام ، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار تیس (22,51,030) مربع میل پر پھیل گیا۔
پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا
آپ کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا۔
موذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں۔
مسجدوں میں روشنی کا بندوبست کروایا۔
پولیس کا محکمہ بنایا۔
عدالتی نظام کی بنیاد رکھی۔
آب پاشی کا نظام قائم کروایا۔
فوجی چھاونیاں بنوائیں اور فوج کا محکمہ قائم کیا۔
دنیا میں پہلی بار دودھ پیتے بچوں، معذوروں، بیواوں اور بے آسراوں کے وظائف مقرر کئے۔
دنیا میں پہلی بار حکمرانوں، سرکاری عہدیداروں اور والیوں کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کا تصور دیا۔
بے انصافی کرنے والے ججوں کو سزا دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا۔
دنیا میں پہلی بار حکمران کلاس کی اکاونٹبلٹی شروع کی۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے کارنامے
قرآن کے متعدد نسخے تیار کرکے مختلف صوبوں میں بھیجے اور امت کو ایک مصحف پر جمع کیا۔ اس کارنامے کی بدولت آپ کو ’’جامع القرآن‘‘ کا لقب دیا گیا ہے۔
جگہ جگہ ضرورت کے تحت سڑکیں اور پل تعمیر کرائے۔
مفتوحہ علاقوں اور ملکوں میں مساجد اور دینی مدارس قائم کئے۔
ملک شام میں سمندری جہازوں کے بنانے کا کارخانہ قائم کیا۔
مدینہ کو سیلاب سے بچانے کے لیے ایک بند تعمیر کرایا۔
جگہ جگہ پانی کی نہریں نکلوائیں۔
مدینہ اور دوسرے شہروں میں نئے کنویں کھدوائے۔
تعمیرات عامہ کے پیش نظر دوسرے شہروں میں بھی سرکاری عمارتیں، سڑکیں وغیرہ تعمیر کرائیں۔
کئی ممالک فتح کرکے خلافت اسلامیہ میں شامل کیے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے کارنامے
عربی گرامر کے موجد ہیں۔








