جمعرات، 12 ستمبر، 2024

سیلف ڈیفنس کے لیے کمزور جسم والا لڑکا کیا کرے؟





استاد کیسے کماسکتا ہے؟

رائٹر: طیبہ حمید

ٹیچنگ یعنی کہ پڑھانے کے علاوہ کوئی سکل سیکھے بغیر ( سکل ہوتا ہےلیکن ٹیچرز کو علم نہیں ہوتا) کیسے فری لانسنگ کی جا سکتی ہے۔۔۔۔۔۔

پڑھانے کے لیے تو بہت سی سائٹس ہیں جن پہ ٹیچرز اپنی پروفائل بنا کر دوسرے ممالک میں ٹیوشن والی باجی بن سکتی ہیں لیکن پڑھانے کے علاوہ بھی بہت سی سروسز دی جا سکتی ہیں ۔

اساتذہ کے پاس منفرد مہارتوں کا ایک مجموعہ ہوتا ہے جو روایتی تدریس کے علاوہ مختلف فری لانس مارکیٹ پلیسز مپر قیمتی ثابت ہو سکتا ہے۔


Curriculum Design:

اساتذہ تعلیمی اداروں، آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز، یا انفرادی کلائنٹس کے لیے نصاب تیار کرنے کی خدمات پیش کر سکتے ہیں


Subject related Worksheet:

اپنی مہارت کے مطابق آنلائن سکولز اور مختلف ویب سائٹس کے لیے ورک شیٹس بنا سکتے ہیں۔


Content Creation:

اساتذہ اپنی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے تعلیمی مضامین، بلاگ پوسٹس، ای-بکس، یا تعلیمی ویب سائٹس، اشاعتی کمپنیوں، یا فری لانس پلیٹ فارمز کے لیے اسباق کے منصوبے لکھ سکتے ہیں.


Course Creation:

اساتذہ Udemy، Teachable، یا Coursera جیسے پلیٹ فارمز پر اپنے آن لائن کورسز بنا کر فروخت کر سکتے ہیں


Counseling:

اساتذہ اسکولوں، تعلیمی تنظیموں، یا ایڈ-ٹیک کمپنیوں کو نصاب کے ڈیزائن، اساتذہ کی تربیت، یا تعلیمی ٹیکنالوجی کے انضمام پر مشاورتی خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔


Proofreading and editing:

اساتذہ تعلیمی مواد، تعلیمی مقالے، یا تعلیمی ویب سائٹس کے لیے پروف ریڈنگ اور ایڈیٹنگ کی خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔

Instructional Desgin:

اساتذہ بطور انسٹرکشنل ڈیزائنرز کام کر سکتے ہیں تاکہ آن لائن کورسز، کارپوریٹ تربیتی پروگراموں، یا تعلیمی ایپس کے لیے دلچسپ اور مؤثر سیکھنے کے تجربات تخلیق کر سکیں.

Virtual Assistants:

اساتذہ تعلیم سے متعلقہ کاروبار کے لیے ورچوئل اسسٹنٹ کے طور پر کام کر سکتے ہیں، جیسے ای میل مینجمنٹ، سوشل میڈیا مینجمنٹ، یا کورس ایڈمنسٹریشن۔


Online Grading:

اساتذہ تعلیمی اداروں یا آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز کے لیے آن لائن گریڈنگ کی خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔


Teachers' training:

تجربہ کار اساتذہ نئے اساتذہ یا تدریسی مہارتوں کو بہتر بنانے کے خواہاں معلمین کے لیے تربیتی ورکشاپس، ویبینارز، یا ایک آن لائن کوچنگ فراہم کر سکتے ہیں۔


Voiceover:

اساتذہ اپنی آواز کو تعلیمی آڈیو بکس، ای لرننگ کورسز، یا تعلیمی ویڈیوز کے لیے استعمال کر سکتے ہیں.


Graphic Desgining:

اساتذہ جن کے پاس ڈیزائن کی مہارت ہے، تعلیمی مواد، پریزنٹیشنز، یا آن لائن کورسز کے لیے گرافک ڈیزائن کی خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔


فری لانس مارکیٹ پلیسز ایسی جابز سے بھری پڑی ہیں، لیکن یا تو ٹیچرز کو علم نہیں یا پھر مہارت ایکسپرٹ لیول کی نہیں ۔ اساتذہ پڑھانے کے علاوہ اپنی دیگر سروسز دے کر ڈالرز میں اچھا کما سکتے ہیں

مردے ذندہ کرنے والا انسان اکیسویں صدی میں ابھی زندہ ہے

 الحمدللہ 20 سے زیادہ مردے زندہ کر چکا ہوں لیکن اب تک میرے مقابلے پہ ایک بھی کافر آکر مرے ہوئے مچھر کو بھی زندہ نہیں کر سکا۔ پھر یہ کہتے ہیں کہ ان کے خدا موجود ہیں۔ اگر موجود ہوتے تو میرے ہاتھوں ذلیل و خوار نہ ہوتے اور اگر ان کے خدا موجود ہوتے تو وہ بھی اسمان و زمین میں اپنے مچھر بناکر چلا لیتے۔

ان مچھروں کو بنانے والا بھی میرا خدا اللہ ہے۔ 

ان مچھروں کو مارنے والا بھی میرا خدا اللہ ہے۔

اور انہیں دوبارہ زندہ کرنے والا بھی میرا خدا اللہ ہے۔ جب یہ مرے ہوئے سڑے گلے مچھر زندہ نہیں کر سکتے تو یہ مردے سڑے گلےانسان دوبارہ کیسے زندہ کر سکتے ہیں؟

انہیں کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔

 زندگی اور موت کا مالک صرف میرا  اللہ ہے۔

ڈاکٹر لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

محمدﷺ غائب ہے؟

 کتابوں کے اندر گھس کر غیر مسلموں کا دماغ خراب ہو جاتا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے۔ اگر یہ اپنی عقل سے کام لیتے ہیں تو کتابوں کے بجائے اس کائنات کے اندر غور و فکر کرتے  لیکن ان کی عقل تو گھٹنوں میں رہتی ہے ۔


اتنا ٹائم ان کے پاس تھوڑی ہے کہ قرآن پر غور و فکر کرتے۔  بدنیتی کے ساتھ اپنے گھٹیا کرداروں کے ساتھ اور اپنی ماں بہن بیٹی کے ساتھ پورن کی بھوک سے بھرپور جسم و دل و دماغ سمیت یہ قرآن و حدیث پڑھتے ہیں اور اللہ قران کے ذریعے ایسے بدنیتوں اور بغیرتوں کی گمراہی میں اضافہ کرتا ہے اور اس کی گمراہی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور مجھے اس کی باتوں سے بہت واضح نظر ارہا ہے۔


دوسری بات یہ کہ جانور بھی اتنی عقل رکھتا ہے کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا اخری نبی مانتا بھی تھا جانتا بھی تھا اور سمجھتا بھی تھا اور یہ بات بھی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے تو یہ ان باتوں کو تسلیم کیوں نہیں کرتے؟


کیونکہ وہ باتیں ان کی عقل اور اسلام کے مقابلے پر بنائے ہوئے جھوٹے مذاہب کے خلاف آتی ہیں اور جو چیز عقل کے خلاف ہو اس کو کہتے ہیں معجزہ جو ان کا باپ بھی نہیں کر سکتا۔ ان میں سے کسی بھی ملحد کی اوقات نہیں ہے کہ ان کے لیے چرند پرند درند انسانوں کی طرح کلام کریں اور ان کو نبی تسلیم کرلیں کیونکہ اتنی ان کی اوقات نہیں ہے اور دوسری بات کہ یہ اتنے بزدل اور ڈرپوک ہوتے ہیں کہ موت کے ڈر سے تھر تھر ان کی ٹانگیں کانپتی ہیں اور راتوں کو ڈر کے مارے پیشاب نکلتا ہے۔ ذرا ذرا سی آہٹ پر گھبراکر چاروں طرف یوں دیکھنے لگتے ہیں جیسے گویا موت کا فرشتہ ان کی روح نکالنے پہنچ چکا ہو۔۔شکل چھپاتے ہیں۔ نام بدلتے ہیں۔ پھر جا کے بات کرتے ہیں اور بہادر مسلمان ڈنکے کی چوٹ پہ کام کرتا ہے۔ یہی حال عیسائیوں کا ہندووں کا اور یہودیوں کا بھی ہے کہ شکلیں بدل کے نام بدل کے کام کرتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ سارے کے سارے جھوٹے خداوں  اور جھوٹے مذاہب کے پیروکار ہیں۔ ان کی عقل مذہب اور خدا کے معاملے میں کام نہیں کرتی۔ اور یہ بھی میں ابھی ثابت کر دیتا ہوں۔


اب جو ثبوت میں دکھا رہا ہوں اس کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ اللہ جب چاہتا ہے بادلوں کے ذریعے درختوں کے ذریعے پرندوں کے ذریعے جانوروں کے ذریعے کہیں پر بھی اپنے اخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھ کر ان کی رسالت کی گواہی دیتا ہے اور یہ عمل اللہ خود کرفا ہے۔ اس کے لیے وہ کسی مسلمان کو استعمال نہیں کرتا۔ ہاں مسلمان یہ ضرور کرتا ہے کہ ایسی چیزیں جب اس کو نظر اتی ہیں تو ان کی تصویر کھینچ لیتا ہے یا ویڈیو بنا لیتا ہے اور یہ کام تو غیر مسلم بھی کر لیتا ہے جب ان کے نومولود بچے پیدا ہونے کے بعد اللہ اللہ کر رہے ہوتے ہیں اس کے بھی ثبوت موجود ہیں۔


تو اسمان اور زمین اور ان کے درمیان موجود مخلوقات اللہ کے حکم سے یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ کوئی تو ہے جو اپنے نام اللہ کو یا اپنے اخری نبی کے نام محمد کو لکھ کے دکھا رہا ہے؟ کیونکہ اگر یہ کام خود بخود ہو رہا ہوتا تو کسی ملحد کا نام بھی آتا، کسی یہودی کا نام بھی آتا، کسی عیسائی کا بھی نام آتا، کسی ہندو کا نام بھی آتا، کسی شیعہ کا نام آتا، کسی قادیانی کا نام ہے آتا لیکن نہیں۔۔۔۔  آتا ہے تو محمد عربی رسول اعظم کا نام آتا ہے اور ان کے بادشاہ اللہ واحد  القہار کا نام آتا ہے اور یہ ان کافروں کے لیے ذلت اور رسوائی ہے اس دنیا میں بھی اور انشاءاللہ جب یہ کفر پہ مریں گے تو موت کے بعد ہمیشہ کے لیے دردناک عذاب میں سسکتے رہیں گے کیونکہ انہوں نے اپنی عقل کو استعمال نہیں کیا اور اللہ کے اخری نبی کے خلاف دشمنی میں لگے رہے۔ میری بد دعا ہے کہ جو ہٹ دھرمیوں میں لگا ہوا ہے جان بوجھ کر اسی طرح گمراہی میں مرے اور قیامت کے دن میں اس کو اپنے ہاتھ سے جہنم میں دھکا دوں۔


بے شک میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ اس کائنات کا خدا اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اخری اور سچے رسول ہیں اور ان کے خلاف بھونکنے والے سارے شیطان کے کتے جھوٹے اور گمراہ ہیں اور ان پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی لعنت ہے اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اور ساری مخلوقات کی لعنت ہے۔ یہ اسی قابل ہیں۔


اللہ اکبر

لیجنڈ


نوٹ: محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ ہیں اور ان کے تمام سچے پیروکار بھی ہمیشہ کے لیے ذندہ ہیں اور سب کے سب جنت کی آسائشوں میں ہیں مگر کفار بدترین عذاب کے ساتھ ذلت میں سسک رہے ہیں۔ غائب تو یہ سب کفار ہونے والے ہیں اس زمین پر سے ایک دن جب سب کی عبرت کی گاڑی تیار کرکے ان سب کو جہنم میں پھینک کر جنت میں داخل ہونے کا دروازہ ان سب پر بند کردیا جائے گا۔ خس کم جہاں پاک!



بدھ، 11 ستمبر، 2024

بھینس پانی کے اندر کیوں نہیں ڈوبتی؟


بھینس پانی میں اس لیے نہیں ڈوبتی کیونکہ اس کا جسم بہت بڑا اور ہلکا ہوتا ہے۔ جب ہم پانی میں گیند ڈالتے ہیں تو وہ بھی پانی کے اوپر تیرتی رہتی ہے کیونکہ اس کے اندر ہوا بھری ہوتی ہے۔  اسی طرح غبارے کے اندر بھی ہوا بھری ہوتی ہے جو اسے پانی میں تیرنے میں مدد دیتی ہے۔ بھینس کا معاملہ بھی اسی طرح سے ہے۔ اگر ہم سمندر کی بات کریں تو وہاں کا پانی اور بھی زیادہ نمکین ہوتا ہے۔ جب ہم پانی میں نمک ڈالیں تو چیزیں زیادہ تیرنے لگتی ہیں۔ اس لیے بھینس سمندر میں بھی نہیں ڈوبتی۔


ذیشان ارشد

محمدﷺ نے 6 یا 9 سال کی بچی سے شادی کی تھی؟

حضرت محمدﷺ نے کس عمر میں کس عمر کی لڑکی یا عورت سے شادی کی تھی اس کا علم تمہیں کس طرح حاصل ہوا؟

کیا تم نے حضرت محمدﷺ سے براہ راست خود سنا تھا؟ نہیں! تم اس دور میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔

کیا تم نے حضرت محمدﷺ کو اپنی آنکھوں سے شادی کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ نہیں، تم اس وقت پیدا ہی نہیں ہوئے تھے تو پھر تم نے آخر کس کی بات پر یقین کرلیا کہ حضرت محمدﷺ نے 6 سال یا 9 سال کی بچی سے شادی کی تھی؟

اگر تم یہ کہو کہ تم نے حدیث کی کتابوں میں پڑھ کر یقین کیا ہے تو تم نے ان حدیثوں پر یقین کیوں نہیں کیا جن کے مطابق زمین نبیوں کے جسموں کو نہیں کھاتی اور دنیا کر ہر بچہ اپنی ماں کے پیٹ سے صرف مسلم پیدا ہوتا ہے؟

Every Child Born Muslim:

Prophets Dead Bodies Never Decay:

حالانکہ تم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے جس حدیث پہ یقین کیا ہے اس کا تو پریکٹیکل ثبوت بھی تم میرے سامنے پیش نہیں کرسکتے جبکہ جو حدیث میں نے پیش کی ہیں ان کے پریکٹیکل ثبوت بھی موجود ہیں۔



حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کے بھی جسم ان کی موت کے بعد تر و تازہ رہتے ہیں اور ماں کے پیٹ سے نکلے ہوئے بچے بھی اللہ کے حکم سے اسی کے نام کی تسبیح پڑھ رہے ہوتے ہیں۔

کیا یہ سارے ثبوت کافی نہیں ہیں تمہارے لیے کہ اب تم کلمہ پڑھ کے دوبارہ اسلام میں واپس لوٹ آو اور اپنی ہٹ دھرمیوں کو چھوڑ دو؟

منگل، 10 ستمبر، 2024

آلو، لہسن اور پیاز کے چھلکوں کے فائدے

 آلو، لہسن اور پیاز کے چھلکوں سے کیا فائدے حاصل کیے جاسکتے ہیں؟

چیٹ جی پی ٹی کے مطابق

آپ کے پاس موجود الو، لہسن، اور پیاز کے چھلکوں کے مختلف فوائد ہیں:

الو کے چھلکے 

ان میں فائبر، وٹامن سی، اور دیگر معدنیات ہوتے ہیں۔ یہ چھلکے جلد کی صفائی، ہاضمہ کی بہتری، اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کے لیے مفید ہو سکتے ہیں۔ آپ انہیں کھانا پکانے میں شامل کر سکتے ہیں یا ان کا پاؤڈر بنا کر چہرے پر ماسک کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

لہسن کے چھلکے

یہ بھی فائبر اور وٹامنز سے بھرپور ہوتے ہیں۔ لہسن کے چھلکے کو پیس کر چائے میں شامل کیا جا سکتا ہے، جو کہ مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور جسم کی صفائی کے لیے فائدہ مند ہے۔

پیاز کے چھلکے

 ان میں بھی کئی فائدے ہیں، جیسے کہ اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامن سی، اور فائبر۔ پیاز کے چھلکوں کو ہلکا سا بھون کر چائے میں شامل کیا جا سکتا ہے، یا انہیں پانی میں ابال کر پانی کو جلد کی مسائل، پیٹ کے درد، یا انفلماٹری مسائل کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ چھلکے عام طور پر کھانے کی چیزوں کو ضائع کرنے کے بجائے، صحت کی بہتری اور مختلف گھریلو استعمالات کے لیے کارگر ہو سکتے ہیں۔