جمعہ، 13 ستمبر، 2024

حضرت محمدﷺ کے گستاخ کا حشر میرے ہاتھوں (اللہ اکبر)

یہ دیکھو اس جاہل اور گنوار  کو جس کو یہ بھی نہیں پتہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے اخری نبی ہیں اور اس کائنات کا بادشاہ اور مالک اور اقتدار کا شہنشاہ صرف اللہ ہے۔

اس جیسے جاہلوں کی سوشل میڈیا پہ کمی نہیں ہے۔ یہ وہ بغیرت ہیں جو اپنے ناجائز باپ کی اولاد ہیں۔ ان کی ماوں نے جب کئی مردوں کے ساتھ جا کے اپنا ریپ کروایا تھا تب ایسے ناسور پیدا ہوتے ہیں کیونکہ اللہ کسی پہ ظلم نہیں کرتا اور جب یہ شیطان کے کتے بنے ہوئے بھونک رہے ہوتے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تو یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی رگوں کے اندر اور ان کے خون کے اندر حرام زدگی شامل ہے۔

اگر یہ اپنی عقل استعمال کرتا تو اس جاہل کو یہ پتہ ہونا چاہیے تھا کہ اسی قران کے اندر اللہ نے شہید مسلمانوں کے زندہ ہونے کا دعوی کیا اور اس زمین کے اندر اللہ نے لاکھوں سے زیادہ شہید مسلمانوں کی لاشوں کو خون کے ساتھ تر و تازہ رکھا ہوا ہے جس کے گواہ دنیا بھر کے اندر لاکھوں مسلمان اور غیر مسلم ہو چکے ہیں۔

اگر یہ جاہل اپنی عقل کو استعمال کرتا اور تھوڑی ریسرچ کر لیتا تو اس کو پتہ ہوتا کہ اللہ نے اسی قران کے اندر اسمان و زمین کی مخلوقات کا اس کے نام کی تسبیح کرنے کا بتایا ہے اور اس کا پریکٹیکل اکیسویں صدی میں اس نے اپنے نیچر کے لشکروں (درند پرند چرند) کے منہ سے اپنے نام کی گواہیاں دلوا کر ثابت کیا ہے اور اسی نے پھولوں پر پتوں پر بادلوں پر جانوروں پر پرندوں پر کیڑے مکوڑوں پر درختوں پر اپنے نام کے دستخط لکھ کر دکھائے اور اپنے آخری نبی محمد رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو بطور گواہی لکھ کر دکھایا لیکن ان غیر مسلموں کے جھوٹے خداوں نے مچھر کا پر تک نہیں بنایا اور نہ ان کی اوقات ہے کہ یہ اسمان و زمین کے درمیان ہوا میں اڑتے ہوئے بادلوں کو کنٹرول کر کے اس پر اپنی قدرت سے اپنے نام کو ظاہر کرسکیں۔

یہ کفار اسی بدچلنی میں، بے غیرتی میں اور کمبختی میں مریں گے اپنے حسد اور جلن اور بغض اور عداوت اور دشمنی کی وجہ سے اور اس لیے کہ یہ اپنی عقل کو استعمال نہیں کرتے۔

اگر یہ گدھا اپنی عقل کو استعمال کرتا بلکہ گدھے کی بھی توہین ہے اس کو گدھا کہنا، اگر یہ گدھے سے بدتر انسان جو کہ کتابوں سے لدا ہوا ہے، اپنی عقل کو استعمال کرتا تو اس کو پتہ ہوتا کہ اسی قران کے اندر اللہ نے ایک واقعہ بتایا ہے جس کے مطابق اس نے 100 سال بعد مردہ گدھے کو دوبارہ زندہ کر دیا تھا اور اس جاہل کو یہ پتہ ہوتا کہ اکیسویں صدی میں اللہ نے 20 سے زیادہ مردے زندہ کردیے اور اسی کے ہاتھوں پر زندہ کیے جو اس وقت خطاب کر رہا ہے۔

یہ کفار اکیسویں صدی میں ہونے کے باوجود بھی اس قدر جاہل اور گنوار ہیں اور باتیں کرتے ہیں کہ ان کے پاس سیٹلائٹ ہے اور ان کی ہر خبر پہ نظر ہے پر ان جاہلوں کی ہر خبر پر نظر تو کیا، ان کی تو مچھر تک پہ نظر نہیں ہے۔ یہ بالشتیے تمہیں کیا سکھائیں گے کہ سچا دین کون سا ہے؟ یہ تو خود گمراہ ہیں اور شیطان کے کتے ہیں۔ خود بھی جہنم میں جارہے ہیں اور تمہیں بھی لے جارہے ہیں۔

لہذا اس جیسے بغیرتوں کے ہاتھوں بے وقوف بننے کی ضرورت نہیں ہے اور میرے یوٹیوب چینل 
Legend Muhammad Zeeshan Arshad
 پہ جا کر ان مردودوں کا حشر دیکھ لو اور اگر انگریزی زبان میں زیادہ سننے کا شوق ہے تو میرے دوسرے چینل 
Zeeshan the Legend 
پہ جا کر ان کافروں کا حشر دیکھ لو میرے ہاتھوں اور دیکھو کہ کس طریقے سے یہ لوگ ذلیل اور رسوا ہوئے ہیں میرے ہاتھوں اللہ کے حکم سے 

یہ ان کے سارے جھوٹے مذاہب کی اوقات ہے میرے سامنے۔ یہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک امتی کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور یہ بھونکنے آتے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف؟؟؟ یہ سارے مل کے بھی جمع ہو جائیں تو میرے ہاتھ کی ہتھیلی کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے میرا کیا مقابلہ کریں گے؟

ارے ان کی تو اتنی بھی اوقات نہیں ہے کہ یہ اللہ کے بنائے ہوئے کتے کے بچے کا بھی مقابلہ کر سکیں۔ یہ ہے ان کے ٹوٹل نالج کی دو کوڑی کی اوقات۔

اللہ اکبر وللہ الواحد القہار 
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ 
لیجنڈ آف اللہ واحد القہار



کافروں کی بدبودار سڑی گلی لاشیں عبرت کے نشان

 اللہ اپنے نیک مسلمانوں کی لاشوں کو خون سمیت تروتازہ رکھ کر اپنے دشمنوں کی لاشوں کو بدبودار کرکے سڑنے گلنے کے چھوڑ دیتا ہے۔ بے شک اللہ کافروں کو موت کے بعد عبرت کا نشان بنادیتا ہے۔ اللہ اکبر

وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ يُّقۡتَلُ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ وَّلٰـكِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ‏

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ، ان کو مردہ مت کہوبلکہ وہ زندہ ہیں ، مگر تم کو خبر نہیں

وَلَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتًا ​ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُوۡنَۙ‏

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کو مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس، ان کو روزی مل رہی ہے

اللہ نے ان آیات میں اپنے راستے میں قتل ہو جانے والوں کو زندہ ڈکلیئر کیا ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ وہ جسمانی طور پر بھی زندہ ہیں کیونکہ جب ایک میڈیکل ڈاکٹر کسی مردے کو "مردہ" ڈکلیئر کردیتا ہے تو عام لوگ اس کے خلاف اسے زندہ ثابت نہیں کرسکتے۔ اسی طرح  جب اللہ اپنی راہ میں قتل ہو جانے والے "مردوں" کو "زندہ" ڈکلیئر کررہا ہے تو پھر اللہ کے فتوی کے خلاف کسی بھی میڈیکل ڈاکٹر، مفتی، عالم، قاری سمیت عام انسانوں کی اس بات کی کوئی اہمیت نہ رہے گی جو ان اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والوں کو "مردہ" ثابت کرنے کی کوششوں پر تلے ہوں لہذا یہ اللہ کا فتویٰ ہے جس نے تمام انسانوں کو زندگی دی ہے کہ وہ اپنی راہ میں قتل ہو جانے والوں کو "زندہ" ڈکلیئر کرچکا ہے۔

اب یہ زندہ کیسے ہیں؟ وہ اس طرح کہ ان کے جسم ان کی روحیں ان کے اندر سے باہر نکل جانے کے بعد بھی سڑنے گلنے سے محفوظ رہتے ہیں۔ ان کے جسموں کے اندر خون بھی تروتازہ حالت میں موجود رہتا ہے (بعض میں یا سب کی لاشوں کے اندر جس کی تحقیق ابھی باقی ہے)، ان کے بال اور ناخن بھی بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں (جتنا اور جس کے لیے اللہ چاہے) اور اس طرح زندہ انسانوں کے جسموں کی طرح ان کے جسم میں زندگی کے آثار واضح اور نمایاں ہوتے ہیں۔

اس کا ثبوت دنیا بھر میں نیک مسلمانوں کی قبروں کی کھدائی، قبر کشائی، زمینی حادثات کے سبب زمین اکھڑجانے، بارشوں سے قبروں کی سلیں ہٹ جانے یا آندھی طوفان زلزلوں کے سبب قبروں سے لاشیں باہر آجانے سے دنیا بھر کے ہزاروں لاکھوں مسلم و غیر مسلم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر کے ہیں۔

یہ اس بات پر واضح ثبوت ہیں کہ واقعی اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والے تمام نیک مسلمان جن کے جسم لاش کی صورت میں بوسیدہ ہونے سے محفوظ ہیں وہ درحقیقت اسی طرح زندہ ہیں جیسے ایک زندہ انسان سورہا ہوتا ہے مگر وہ شہید مسلم زندہ انسانوں سے کئی لاکھ گنا بہتر حالت میں زندہ ہوتے ہیں کیونکہ زندہ انسان زیادہ دیر تک سوجائے تو اس کا جسم بدبو چھوڑنے لگتا ہے، منہ سے بدبو آنا شروع ہو جاتی ہے، جسم کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے مگر تروتازہ لاشوں والے شہدائے اسلام کی جسمانی حالت اور کفن تک میں صدیوں خرابی یا بدبو پیدا نہیں ہوتی بلکہ ان کی حالت پہلے سے زیادہ بہتر ہونا شروع ہو جاتی ہے اللہ کے حکم سے

یہ ہے ان کی زندگی کی اصل حقیقت جسمانی طور پر جس کی طرف اللہ نے ان آیات کے ذریعے نشاندہی کی ہے۔ باقی جہاں تک روح کا تعلق ہے تو روحیں تمام مردہ انسانوں بشمول کفار و مشرکین و منافقین و مرتدین و ملحدین اور برے مسلمانوں کی ان کا انتقال ہوجانے کے بعد زندہ ہی رہتی ہیں لہذا ان آیات کا موضوع انسانی روح نہیں بلکہ انسانی جسم ہے۔

یہ سب میری تحقیقات کی بنیاد پر کچھ باتیں میں نے عرض کردی ہیں۔ اگر کسی کے پاس اس موضوع پر اس سے زیادہ بہتر ریسرچ موجود ہے تو وہ مجھے اس بارے میں ضرور آگاہ کرے۔ جزاک اللہ خیرا





جمعرات، 12 ستمبر، 2024

کافروں کی چمچہ گیری کرنے والے منافقین

کافروں کی چمچمہ گیری کرنے والے اٹھائی گیرے ایسے ہوتے ہیں۔ اپنی ذات کی اس کو اتنی فکر ہے کہ جاہل بیغیرت کو ملحدین کی جانب سے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے خلاف بداخلاقی سے بھرپور پوسٹیں اور گالی گلوچ نظر نہیں آتیں؟ ایسے ہی منافقوں اور کفار کے دوستوں سے یہ دنیا بھری پڑی ہے اور اللہ انہیں غارت کرے ان کی گمراہ کن بدنیتوں کے سبب


حضرت امام حسین نے گرفتاری کیوں نہیں دی تھی؟

 حضرت امام حسین نے گرفتاری کیوں نہیں دی تھی اور مخالفین سے جنگ کیوں کی تھی جب کہ وہ نہتے تھے اور صرف اپنی فیملی کے ساتھ تھے؟ اگر وہ چاہتے تو گرفتاری دیکر اپنی اور اپنی فیملی کی جان بھی بچاسکتے تھے تو جان بوجھ کر شہادت یا قتل میں ملوث ہوئے یا یہ کیا ماجرہ ہے؟ علماء تو سکھاتے ہیں کہ مجبوری میں کلمہ کفر بھی بولنا پڑے تو حالت جنگ میں جائز ہے کفار کے مقابلہ پر ان کی قید میں جانے کے بعد جان بچانے کی خاطر۔ کیا حضرت امام حسین ایسا کچھ نہیں کرسکتے تھے؟

حضرت امام حسین علیہ السلام کا کربلا میں قیام اور یزیدی افواج کے سامنے جنگ کا فیصلہ محض ایک سیاسی یا ذاتی معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ اسلام کی بقاء اور اس کے اصولوں کے تحفظ کے لیے تھا۔ امام حسین علیہ السلام نے یزید کی بیعت سے انکار اس لیے کیا کیونکہ یزید کی خلافت اسلام کے حقیقی اصولوں کے خلاف تھی۔ یزید کا طرز حکومت اور اس کی زندگی کے طور طریقے اسلامی شریعت کے مطابق نہیں تھے، اور اگر امام حسین علیہ السلام اس کی بیعت کر لیتے تو یہ اسلام کی اصل تعلیمات کے ساتھ خیانت ہوتی۔

1. **حق و باطل کی جنگ**: امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کے ذریعے حق و باطل کی جنگ کو دنیا کے سامنے واضح کیا۔ اگر وہ یزید کی بیعت کر لیتے تو یہ دنیا کے سامنے یہ پیغام جاتا کہ یزید کا طرزِ حکومت اسلام کے مطابق ہے، جس سے دین کی اصل روح ختم ہو جاتی۔

2. **بیعت اور ظالم کا ساتھ**: امام حسین علیہ السلام جانتے تھے کہ یزید کی بیعت کرنا اس کی ظالم حکومت کو جائز قرار دینا ہے، جس سے اسلام کے اصولوں کی پامالی ہوتی۔ امام حسین علیہ السلام نے ظالم کے آگے جھکنے کے بجائے حق کی حفاظت کو ترجیح دی۔

3. **شہادت اور قربانی کا تصور**: اسلام میں شہادت کا ایک اعلیٰ مقام ہے، اور امام حسین علیہ السلام نے اپنی اور اپنے خاندان کی جانوں کو قربان کر کے اسلام کے اصولوں کی حفاظت کی۔ ان کا یہ عمل ایک مثال بن گیا کہ حق کی راہ میں جان دینے سے بڑی کوئی قربانی نہیں۔

4. **گرفتاری اور ظالم کے آگے جھکنا**: اگر امام حسین علیہ السلام گرفتاری دے دیتے اور یزید کی بیعت کر لیتے تو یہ ظالم کے سامنے جھکنے کے مترادف ہوتا۔ اسلام میں اصولوں کی حفاظت کے لیے جان دینا بہتر سمجھا جاتا ہے، جیسا کہ امام حسین علیہ السلام نے کیا۔

5. **مجبوری میں کلمہ کفر کی اجازت**: علماء نے جو اجازت دی ہے وہ عام حالات کے لیے ہے جہاں ایک مسلمان اپنی جان بچانے کے لیے وقتی طور پر کلمہ کفر بول سکتا ہے، لیکن امام حسین علیہ السلام کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ یہاں بات صرف ان کی ذاتی جان کی نہیں بلکہ اسلام کی بقاء کی تھی۔

نتیجتاً، امام حسین علیہ السلام نے اپنی اور اپنے خاندان کی جانیں قربان کر کے اسلام کے حقیقی اصولوں کی حفاظت کی اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ حق کے لیے ہر قیمت پر کھڑا ہونا چاہیے، چاہے اس کے لیے اپنی جان بھی کیوں نہ دینی پڑے۔ ان کا یہ عمل آج بھی مسلمانوں کے لیے حق کی راہ پر چلنے کی ایک مثال اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔

از چیٹ جی پی ٹی  

آن لائن کام ڈھونڈ رہا ہوں مجھے کیا کرنا چاہیے؟


جب سیل کرنے کی اسکل اور تجربہ ہو تو انسان کچھ بھی بیچ سکتا ہے۔ یہ بات بالکل بے تکی ہے کہ “آن لائن کام ڈھونڈ رہا ہوں مجھے کیا کرنا چاہیے؟” اس لیے کہ آن لائن کام کرنے والے بزنس مین کو یہ سوال کرنا بنتا ہی نہیں ہے۔

اپنی فیس بک ایڈز چلانے کی اسکل + سیل کلوزنگ اسکل، دونوں کو استعمال کرتے ہوئے بیچنا شروع کردیا جائے۔

جب اپنا آن لائن بزنس چلا رہا ہے تو کاہے کو “کام” ڈھونڈنا ہے؟ کام تو خود انسان کررہا ہے اور سیلز کرچکا ہے تو بس اسی میں اضافہ کردیا جائے تو مزید آمدنی بڑھائی جائے۔

لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد

بچیوں، لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ زنا کے واقعات پاکستان میں کیوں بڑھ رہے ہیں؟


جس معاشرے کے بچے، نوجوان لڑکے اور مرد حضرات اور خصوصیت کے ساتھ بوڑھے لوگ رات رات بھر ننگی عورتیں دیکھیں گے، پورن فلمیں چلائیں گے، سوشل میڈیا پر نیم برہنہ عورتوں کے دیدار کریں گے، ہالی وڈ کے نام پر ننگی عورتوں کو ڈانس کے مجرے کرتے دیکھیں گے، کھلی لٹکتی چھاتیاں ابھار سمیت مٹکتے دیکھیں گے، سینہ کے کٹ سامنے دیکھیں گے، عورتوں کے کھلے بدن ننگی ٹرانسپیرینٹ بازاروں میں دیکھیں گے وہاں یہ سب ہونا بہت معمولی بات ہے۔


جب سامنے گوشت پوست کی لڑکی، بچی یا جوان عورت یا پھر کفن شدہ دفن لاش ہی عورت کی کیوں نہ آجائے۔۔۔یا پھر ہسپتال ہی سہی، جدھر جس کا بس چل رہا ہے وہ "زنا" کررہا ہے۔

گدھے اور کتوں سے بھی بدتر انسانوں کا معاشرہ بن چکا ہے۔محض شکل سے چلتے پھرتے انسان نظر آتے ہیں ورنہ اندر سے ناجانے کتنے ہی مرد اور عورتیں شیطان کے پجاری بن چکے ہیں۔

غریب علاقوں کی خواتین آن لائن کیا کرسکتی ہیں؟


آن لائن ٹیوشن پڑھائی جاسکتی ہے بذریعہ اسکائپ میٹنگ یا واٹس ایپ گروپ بناکر (اپنا واٹس ایپ نمبر اسی کو دیں جو فیس ادا کرکے باقائدہ اسٹوڈنٹ بنا تاکہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا تنگ نہ کرسکے اور اگر کوئی تنگ کرے تو نمبر بلاک کردیا جائے یا آن لائن سائبر کرائم والوں کو اس کی رپورٹ کردی جائے)

بحیثیت فری لانس ٹیچر اپنی ٹیچنگ سروسز (خدمات) فراہم کی جاسکتی ہیں کسی بھی پرائیوٹ ادارے، اسکول یا اکیڈمی والوں کو اور بدلے میں ان سے اپنی مرضی کے ریٹ طے کرکے باقائدہ پیمنٹ ایڈوانس یا یکمشت لی جاسکتی ہیں (پیسوں کا لین دین آن لائن بینکنگ سسٹم یا فری لانسنگ ویب سائٹس کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے)

اپنا یوٹیوب چینل بناکر مہارت والے ٹاپک پر اسٹوڈنٹس کو پڑھایا سکھایا جاسکتا ہے ۔ سوالات کے جوابات دیے جاسکتے ہیں، مشکل اشوز حل کرنے کے حوالے سے رہنمائی کی جاسکتی ہے۔ اگر یوٹیوب چینل چل پڑے تو ایڈسینس کے ذریعہ ڈالرز میں آمدنی ممکن ہے۔ اپنے چینل پر اپنی ویڈیوز کے ذریعہ اپنی آن لائن اکیڈمی کا اشتہار دیا جاسکتا ہے تاکہ جو اسٹوڈنٹس پرائیوٹ کوچنگ لینا چاہیں وہ رابطہ کریں

فری لانسنگ ویب سائٹس پر جاکر اپنی ٹیچنگ سروسز فراہم کی جاسکتی ہیں۔

اپنے متعلقہ سبجیکٹ سے تعلق رکھنے والے فیس بک گروپس میں جاکر اپنی ٹیچنگ کا تعارف اور خدمات کا اشتہار دیا جاسکتا ہے۔

اپنے گھر کے باہر گیٹ پر یا دیوار پر پینا فلیکس بورڈ یا کاغذ یا مارکر وغیرہ سے لکھ کر اشتہار بنایا جاسکتا ہے مثلا لیجنڈری اکیڈمی، لیجنڈری اسکول، لیجنڈری کالج، لیجنڈری یونیورسٹی، لیجنڈری ٹیوشن سینٹر، لیجنڈری ریسٹورنٹ، لیجنڈری ہوم میڈ بریانی/دال چاول/قورمہ/صبح کا ناشتہ وغیرہ

یہ سارے کام آن لائن یا آف لائن کرنا ممکن ہے۔ ان میں سے جو بہتر لگے اسے آزماکر دیکھا جاسکتا ہے۔ جس کے نصیب میں جس طرح سے آمدنی میں اضافہ ہوجائے وہ اسی کے حق میں اللہ کے فضل سے ہوگا۔

لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد (30 اگست 2024)