پیر، 23 ستمبر، 2024

خود کو مضبوط بنانا ہے

 یہ اسٹوری اس انگریزی مضمون کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھوائی گئی ہے تاکہ اس کا مطلب اردو پڑھنے والوں کے لیے واضح ہوجائے۔

You've never demanded the rain, sun, or fire to adjust their nature, yet you get angry at people for being harsh. Why not change to avoid being hurt? You protect yourself from natural elements but expect others to protect you from themselves. The rain, sun, and fire don't make an effort to protect you; you do. It's astonishing that you want others to change without recognizing your own need to change and become resistant to oppression.

If you deceive me I see my own mistake, I wasn't discerning that's why you deceived me so instead of getting angry I work on myself to be able to discern well. I work on myself when you are able to manipulate me so that I'm not vulnerable to your tactics next time. I work on myself when you oppress me so that you are unable to oppress me next time. I work on myself so that you are unable to break my heart again next time. It's your responsibility not my to protect yourself from me and others.

Onyema

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک شخص تھا جس کا نام علی تھا۔ علی بہت حساس دل کا مالک تھا اور اکثر دوسروں کی سخت باتوں اور رویوں سے دل برداشتہ ہو جاتا تھا۔ وہ ہمیشہ یہ سوچتا تھا کہ لوگ کیوں اس کے ساتھ نرمی سے پیش نہیں آتے اور اس کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ ہر بار جب کوئی اس سے سخت لہجے میں بات کرتا، علی غصے سے بھر جاتا اور دل ہی دل میں ان لوگوں کو بدلنے کی خواہش کرتا۔

ایک دن، علی بارش میں بھیگ رہا تھا۔ اس نے سوچا، "بارش کیسی عجیب چیز ہے، میں نے کبھی اس سے یہ نہیں کہا کہ وہ رک جائے۔ لیکن جب بارش ہوتی ہے تو میں خود کو چھتری لے کر بچاتا ہوں، یا اندر چلا جاتا ہوں۔" اسی طرح جب دھوپ زیادہ ہوتی ہے تو علی خود کو سورج کی شعاعوں سے بچانے کے لیے سایہ تلاش کرتا تھا، اور جب آگ کے قریب ہوتا تھا تو وہ ہمیشہ خود کو دور کر لیتا تھا تاکہ جلنے سے بچ سکے۔

علی نے اپنے آپ سے سوال کیا، "میں بارش، دھوپ، اور آگ سے تو اپنی حفاظت خود کرتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ اپنی فطرت کے مطابق ہی ہیں، لیکن میں لوگوں سے کیوں توقع کرتا ہوں کہ وہ اپنے رویے بدلیں؟"

یہ سوچتے ہوئے علی کو احساس ہوا کہ جیسے وہ قدرتی عناصر سے بچاؤ کرتا ہے، اسی طرح اسے لوگوں کے سخت رویوں سے خود کو بچانے کی ضرورت ہے۔ لوگ اپنی فطرت کے مطابق عمل کرتے ہیں، اور جیسے بارش یا سورج اس کے لیے رک نہیں سکتے، ویسے ہی لوگ بھی اپنی فطرت کے مطابق پیش آتے ہیں۔

علی نے سوچا، "اگر کوئی مجھے دھوکہ دیتا ہے تو دراصل یہ میری غلطی ہے کہ میں نے اس پر بھروسہ کیا تھا، میں نے سمجھداری سے کام نہیں لیا۔ مجھے اس پر غصہ ہونے کے بجائے اپنی عقل کو بہتر کرنا چاہیے تاکہ دوبارہ دھوکہ نہ کھاؤں۔ اگر کوئی میرے جذبات سے کھیلتا ہے تو یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں خود کو اس قدر مضبوط بناؤں کہ وہ دوبارہ میرے دل کو نہ توڑ سکے۔"

علی کو احساس ہوا کہ لوگوں کو بدلنے کی کوشش کرنے کے بجائے اسے خود کو مضبوط کرنا ہوگا۔ دوسروں کی سختیوں سے بچنا اس کا اپنا کام تھا، نہ کہ دوسروں کا۔ جیسے وہ آگ سے بچنے کے لیے دور ہوتا تھا، ویسے ہی اسے لوگوں کی سختیوں سے بچنے کے لیے خود کو تیار کرنا تھا۔

یوں علی نے اپنی زندگی میں ایک نیا سبق سیکھا کہ دوسروں کو بدلنے کے بجائے خود کو مضبوط بنانا ہی بہترین راستہ ہے۔

جمعہ، 20 ستمبر، 2024

ماں کے پیٹ سے زمین کے پیٹ میں

جب انسان ایک ٹپکایا ہوا قطرہ ہوتا ہے تو وہ ایک عورت کے پیٹ میں پہنچتا ہے ایک جرثومے کی شکل میں جسے میڈیکل سائنس کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ہوتی ہے انسان کی اصلیت یعنی کہ اصلی شکل


اس شکل سے اللہ اسے تبدیل کر کے جمے ہوئے خون میں بدلتا ہے۔


پھر جمے ہوئے خون کو گوشت کے لوتھڑے میں تبدیل کرتا ہے۔




پھر اس گوشت کے لوتھڑے کو ہڈی میں بدل دیتا ہے۔


پھر اس ہڈی کے اوپر گوشت کا لباس پہنا دیتا ہے۔



پھر اس کے بعد اسے مختلف شکلوں کے اندر تبدیل کرنا شروع کرتا ہے پھر اس کے اندر ہاتھ نکالتا ہے پاؤں نکالتا ہے آنکھیں لگاتا ہے کان لگاتا ہے دل بناتا ہے پھیپھڑے اگاتا ہے۔ نسیں بناتا ہے خون جاری کرتا ہے سب کچھ لگاتا ہے لیکن ماں کے پیٹ میں وہ بے جان حالت میں پڑا ہوا ہوتا ہے یہ سب تب ہو رہا ہوتا ہے۔ 


سوچنے کی بات ہے کہ یہ بے جان قسم کی حالت کی ایک چیز ایک عورت کے پیٹ کے اندر رکھی ہوئی ہے اور کوئی اس کو حرکت دینے والا نظر بھی نہیں آرہا، اس کو الٹ پلٹ کرنے والا بھی نظر نہیں آرہا، اس کے اوپر کاریگری دکھانے والا بھی نظر نہیں آرہا پھر بھی وہ الٹ پلٹ ہوتا ہے۔ اس کے اندر چیزیں تیار ہو رہی ہوتی ہیں۔ پتہ لگا کہ اللہ جس طریقے سے کام کرتا ہے اس کے لیے اسے ماں کے پیٹ کے اندر آنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ صرف اپنے ارادے کرتا ہے اور اس کے ارادے کے مطابق چیز اس زمین پر بننا شروع ہو جاتی ہے۔ وہ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو بس کہتا ہے "کن" اور فیکون ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

پھر وہ اپنی ماں کے پیٹ کے اندر سے نکل کے باہر آتا ہے تو اس بچے کے ہاتھ کے اوپر ڈیزائن بھی اللہ کے نام کا بنا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے پیروں میں بھی اللہ کے نام کا ڈیزائن بنا ہوتا ہے۔ اس کی نسوں میں اور دیگر بہت سی جگہوں پر اللہ کے نام چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ دیکھنے والے خوب جانتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ بہت سے نومولود بچے ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی رونے کے بجائے اللہ اللہ کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

کسی بھی عقل استعمال کرنے والے انسان کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ کتابوں کی بحث میں پڑنے کے بجائے کلمہ پڑھ کے اسلام میں داخل ہو جائے کیونکہ اگر وہ کفر پہ مر جائے تو پھر ماں کے پیٹ سے نکلنے کے بعد دنیا کے انسانوں کے ہاتھوں گمراہ ہونے پر کفر کی موت پہ مرنے کی وجہ سے جب اسے زمین میں دفن کر دیا جاتا ہے تو وہ ماں کے پیٹ سے نکل کے زمین میں دفن ہو جاتا ہے یعنی کہ زمین کے پیٹ میں پہنچ جاتا ہے۔

اس زمین کے پیٹ میں پہنچنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ جس طرح ماں کے پیٹ کے اندر وہ ایک ٹپکائے ہوئے قطرے سے انسان کی شکل میں تبدیل ہوتا ہے بس اسی طریقے سے وہ انسان کی شکل سے واپس ایک ہڈی کی صورت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

اس کے جسم کے سارے اعضاء سڑنا گلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ کیڑے مکوڑے کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بدبو آنا شروع ہو جاتی ہے۔ اسے ڈیکم پوزیشن پراسیس کہا جاتا ہے اور آخر کار وہ انسان ایسا ہو جاتا ہے جیسے وہ کبھی موجود ہی نہیں تھا۔ بے نام و نشان! قبر کی جگہ بھی خراب ہو جاتی ہے۔ مٹ جاتے ہیں نام۔ ختم ہو جاتے ہیں سارے بدنام۔ رہ جاتا ہے بس اللہ کا نام۔ اسی کی بڑائی اسی کی خدائی۔ وہی سب سے بڑا ہے وہی عالیشان ہے اور وہی اصل ذی شان ہے۔


لیکن وہ زمین کے پیٹ میں پہنچنے والے جسموں کے اندر اتنا کنٹرول رکھتا ہے کہ جب زمین کے اندر اس کے نیک پیروکاروں کی لاشوں کو دفن کر دیا جاتا ہے تو وہ ان کو وہاں پر بھی تازہ خون سمیت تروتازہ حالت میں محفوظ رکھتا ہے اور سلامت رکھتا ہے اور وہ یہ کام اپنی قدرت سے کرتا ہے۔ جس طرح وہ ماں کے پیٹ میں اپنی قدرت سے ایک ٹپکائے ہوئے قطرے کو انسان کی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے بس وہی اللہ اپنی قدرت سے زمین کے پیٹ کے اندر موجود لاکھوں کروڑوں لاشوں کو اپنی قدرت سے محفوظ رکھتا ہے۔


اور اللہ کے لیے یہ بہت ہی معمولی سا کام ہے۔ بے شک اللہ جو چاہے سو کر سکتا ہے۔ ان اللہ علی کل شی قدیر۔ پوری کائنات میرے اللہ کی قدرت سے چل رہی ہے۔ وہ سارے علوم کا شہنشاہ اکیلا ہی ہے اپنے نام کا اور اپنے کام کا۔ اللہ اکبر

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

Kya Muhammad Aakhri Nabi Hain?

محمد اللہ کے آخری نبی ہیں ۔اللہ نے ان کا نام "محمد" بادلوں، درختوں، جانوروں، پرندوں اور دیگر قدرتی مخلوقات پر عربی میں لکھا ہوا ہے۔ یہ معجزات اللہ کی عظمت کو ظاہر کرتے ہیں اور اس یوٹیوب چینل پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ لنک دیکھیں: https://www.youtube.com/@prophetofnature/playlists

جھوٹے خدا نیچر کی مخلوق پر اللہ کی طرح کوئی نام نہیں لکھ سکتے کیونکہ اللہ کے سوا پوری کائنات میں کوئی دوسرا سچا خدا موجود نہیں ہے۔ تمام انسانوں کو چاہیے کہ اسلام میں داخل ہوجائیں اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گستاخیوں سے باز آجائیں۔اللہ نے 21ویں صدی میں اپنے معجزات کے ذریعے محمدﷺ کے آخری نبی ہونے پر گواہی دے کر ان کی رسالت کی سچائی کو ہمیشہ کے لیے ثابت کردیا ہے۔

تمام غیرمسلم اللہ سے ڈریں اور اسلام کی سچائی کو قبول کریں اور تکبر اور ہٹ دھرمی سے باز آجائیں اور اسلام قبول کرکے خود کو جہنم میں ہمیشہ کے لیے جاکر برباد ہونے سے بچالیں۔

وما علینا الاالبلاغ المبین
لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

ہاجرہ روحانی علاج سینٹر کا تعرف

 اس خدا کے نام سے جس نے انسانوں کو پیدا کیا:

اکیسویں صدی کا روحانی ہاسپٹل

حاجرہ روحانی علاج سینٹر اکیسویں صدی میں ایک نئی طرز کا آن لائن روحانی ہسپتال ہے جو پاکستان سے اکیسویں صدی کے عالمی روحانی ڈاکٹر جناب مولانا ابرار عالم صاحب چلا رہے ہیں۔

روحانی ڈاکٹر مولانا ابرار عالم لاعلاج مریضوں کو بغیر کسی ملاقات کے صرف اللہ کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے دور سے علاج کرنے میں ایکسپرٹ ہیں۔ دنیا میں کہیں سے بھی لاعلاج مریض اپنے علاج کے لیے مولانا ابرار عالم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

جناب مولانا ابرار عالم صاحب انٹرنیشنل ویب سائٹ رائٹ فل ریلیجن ڈاٹ کام  کے بانی ہیں (دین اسلام کی سچائی پر اپنی نوعیت کی ایک نایاب ویب سائٹ) نیز مذہبی اقوام متحدہ پاکستان کے چیئرمین بھی ہیں جو دنیا میں بغیر گالی گلوچ اور بغیر جنگوں کے امن کے قیام کے لیے کام کررہے ہیں۔

پاکستان کے مشہور و معروف مفتی جناب جسٹس محمد تقی عثمانی صاحب سے بیعت اور تین اردو کتابوں کے مصنف (قرآن اور شیطان، احادیث اور شیطان، اسلام اور جادو) کے ساتھ ساتھ شہدائے اسلام کی تروتازہ لاشوں پر شاندار تحقیقات اور عالمی امن فارمولت کے ساتھ اپنی نوعیت کے جید عالم دین اور عارف باللہ

مولانا ابرار عالم صاحب گزشتہ 20 سال سے لاعلاج مریضوں کا روحانی علاج کررہے ہیں اور اب روحانی آپریشن کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اللہ کے فضل و کرم سے۔ جدید طرز علاج اور نت نئی ریسرچ کرنے والوں کے لیے جناب مولانا ابرار عالم صاحب کی شخصیت بہت انمول ہے اگر وہ ان کے علوم سے فائدہ اٹھانا چاہیں۔

جنات اور فرشتوں کی آرمی کے ساتھ تیار عالم دین، روحانی ڈاکٹر اور ریسرچ ایکسپرٹ کے فاسٹ رزلٹ اللہ کی طاقت اور حکم سے

 - آئی سی یو میں موجود مریضہ 7 گھنٹوں میں اسٹیبل ہوگئی (لاہور کیس)5

 - 24 گھنٹے میں خراب گردے بحال ہوگئے (پشاور کیس)

 7 دن میں لاعلاج کورونا مریض صحت یاب ہوگیا (کراچی کیس)

 - 30 دن میں برین ڈیمج مریض کی حالت میں 50 فیصد بہتری (لاہور کیس)

 3 دن مفت روحانی علاج کا تجربہ کریں:

فزیکل ملاقات کی ضرورت نہیں۔  اپنے گھر بیٹھے روحانی علاج کروائیں۔

 ابھی رابطہ کریں

00923332100668

0093452215476

00923149943699

00923202755994

جمعرات، 19 ستمبر، 2024

اللہ کے فضل اور عذاب میں فرق

 کافروں کے پاس دولت شہرت عزت طاقت سب کچھ ہے۔ کیسے پتہ لگے کس کے اوپر اللہ کا فضل ہے یا عذاب تک مہلت ہے؟

یہ سوال ایک اہم دینی موضوع سے متعلق ہے اور اس کا جواب اسلام کی گہری فہم اور حکمت پر مبنی ہے۔ کافروں کے پاس دولت، شہرت، عزت اور طاقت ہونا اس بات کی نشانی نہیں کہ ان پر اللہ کا فضل ہے یا وہ اللہ کے قریب ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ دنیاوی مال و دولت کی فراوانی ہمیشہ اللہ کے فضل یا راضی ہونے کی نشانی نہیں ہوتی۔

### اللہ کے فضل اور عذاب کے درمیان فرق کیسے کیا جائے؟

1. **اللہ کا فضل:**

   - **ایمان اور عمل صالح:** اللہ کا سب سے بڑا فضل یہ ہے کہ کسی کو ایمان اور نیک اعمال کی توفیق ملے۔ اگر کسی کے پاس ایمان، تقویٰ، اللہ سے قربت اور آخرت کی فکر ہو، تو یہ اللہ کے فضل کی بڑی نشانی ہے۔

   - **قناعت اور سکون:** اللہ کے فضل سے وہ دل مطمئن ہوتا ہے اور دنیاوی چیزوں کی طرف حرص و لالچ نہیں رکھتا۔ وہ انسان قناعت پسند ہوتا ہے اور اپنی زندگی میں سکون اور خوشی محسوس کرتا ہے۔

2. **عذاب کے لیے مہلت (استدراج):**

   - **دنیاوی فراوانی اور غفلت:** بعض اوقات اللہ کافروں یا گناہگاروں کو زیادہ دولت، شہرت، یا طاقت دیتا ہے تاکہ انہیں آزمائے یا انہیں عذاب کے قریب لائے۔ یہ حالت **استدراج** کہلاتی ہے، جس میں اللہ کسی کو مہلت دیتا ہے، لیکن وہ اپنی غلطیوں سے باز نہیں آتا اور مزید گمراہی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

   - **غفلت اور ناشکری:** اگر کسی کے پاس دنیاوی نعمتیں ہوں، لیکن وہ اللہ کو یاد نہ کرے، حق کو رد کرے اور گناہوں میں مبتلا ہو، تو یہ مہلت ہے جو اللہ دیتا ہے، تاکہ انسان کو اپنی غلطیوں کا احساس ہو، مگر جب وہ نہیں سمجھتا تو پھر اللہ کا عذاب نازل ہو سکتا ہے۔

### نتیجہ:

اللہ کے فضل اور مہلت میں فرق یہ ہے کہ اللہ کا فضل ایمان، نیکی اور اللہ سے قربت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، جبکہ مہلت (استدراج) کی صورت میں انسان دنیاوی نعمتوں میں مبتلا ہو کر اللہ اور آخرت سے غافل ہو جاتا ہے۔ دنیاوی مال و دولت کی بہتات کو کبھی بھی حتمی طور پر اللہ کے فضل کی نشانی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصل کامیابی ایمان، نیک اعمال اور اللہ کی خوشنودی میں ہے۔

بدھ، 18 ستمبر، 2024

تبلیغ چلے لوٹے کا نام نہیں

 تبلیغ اسلام لوٹا پکڑ کر پھرنے، چلے لگانے، تسبیح ٹوپی کا نام نہیں، جب کردار گھٹیا شیطانی ہو تو وہی تمہاری چلتی پھرتی تبلیغ شیطانی ہے جسے تم تبلیغ اسلامی سمجھ رہے ہو۔ یہ بات آجکل کے لاکھوں کروڑوں نوجوانوں کو ان کے بکاو مولوی کبھی نہیں سمجھائیں گے ورنہ چندہ خیرات کون دے گا؟ بکرے کی کھالیں کون دے گا؟ پیشواؤں کی غلامی کون کرے گا؟ بازاروں میں میٹھے تبلیغی اور گھروں میں فرعون کے باپ بنے پھرتے ہیں، یہ ہیں منافق عرف تبلیغی

معاشرے کا حال بتارہا ہے تمام اسلامی جماعتیں فیل ہوچکی ہیں مکمل طور پر

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

ہفتہ، 14 ستمبر، 2024

ہوا سے پانی بنانے والی مشین (انڈیا)

 

انسان اگر کچھ کرنے کا سوچ لے تو کیا کچھ ممکن ہے؟ اس کا ایک نظارہ اس مشین کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح ہوا سے پانی بناکر انسانوں کو دیا جارہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے کوئی احمق ہی جھٹلاسکتا ہے کیونکہ کمپیوٹر سے بنی فیک ویڈیو اور فزیکل ورلڈ میں بنی حقیقی ویڈیو کو دیکھ کر ہی فرق معلوم ہوجاتا ہے۔

ایک فیک اشتہار اور حقیقی دنیا کے پروفیسرز، ڈاکٹرز، سائنسدانوں کے تجربات کی ویڈیوز میں بھی زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے جسے ایک عقلمند انسان بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ اب اس ویڈیو سے یہ ثابت ہوگیا کہ انسان اگر ہوا سے پانی بنانا چاہے تو بناسکتا ہے۔

میں سوچتا تھا کہ غریب آبادیوں میں پانی کا بڑا مسئلہ ہوتا ہے اور اگر کہیں پانی نہ ملے تو انسان کیا کرے؟ کیسے زندگی گزارے؟ کیونکہ کھانا پینا تو چل جاتا ہے مگر نہانے، وضو کرنے، پاک ہونے وغیرہ کا مسئلہ بڑھ جاتا ہے لہذا پانی بہت ضروری ہے کہ کسی زیرزمین بورنگ کروائے بغیر جنریٹ ہوسکے یعنی ہوا سے پانی بن جائے کیونکہ ہوا چوبیس گھنٹہ دستیاب ہوتی ہے اور اس ویڈیو کو دیکھ کر مجھے امید کی ایک نئی کرن روشن ہوگئی ہے کہ الحمدللہ اس بات میں یہ لوگ کامیاب ہوچکے ہیں۔

یہ تو اللہ کا فضل ہے کہ وہ اپنے بندوں کی مدد کرتا رہتا ہے جو وہ کرنا چاہیں اور کوشش کریں۔ مجھے اس سے غرض نہیں کہ یہ مشین بنانے میں میں کامیاب ہوا یا کوئی اور مگر ایسا ہے کہ کوئی اور کامیاب ہوا تو گویا میرا مقصد پورا ہوگیا کیونکہ اگر یہ لوگ مشینیں بناکر فروخت کررہے ہیں اور عام عوام کے لیے بھی میٹھا پینے کا پانی فراہم ہوسکتا ہے تو پھر بہتر ہے کہ اب ان کے بارے میں لوگوں کو بتایا جائے اور اسی طرح کے جو دیگر کام کرنے والے لوگ مشینیں بنارہے ہیں ان کے بارے میں عام عوام کو بتایا جائے تاکہ لوگ ان سے رابطے کرکے فائدے حاصل کریں۔

اسی طرح دنیا کے تمام انسانوں، چرند پرند چرند اور دیگر مخلوقات کا فائدہ ممکن ہے۔ ویسے تو میرے پاس قیاامت کے دن تک آسمان سے بے تحاشہ پانی برسوانے اور زمین کے اندر سے بے شمار پھل فروٹ سبزیاں وغیرہ اگوانے کا فارمولہ ہے جو مجھے قرآن کے ذریعے اللہ کے فضل و کرم سے حاصل ہوا مگر اس کے لیے شرط تقوی، ایمان اور نیک اعمال کرتے رہنا ضروری ہے کیونکہ اس کا تعلق براہ راست اللہ واحد القہار کی خوشی سے ہے اور اگر اللہ ناراض ہوگا تو وہ طریقہ کام نہ کرسکے گا اور وہ تو بے شمار انسانوں کو بیک وقت فائدہ پہنچانے والا طریقہ ہے۔

اس طریقے کے حوالے سے میں نے اس ویڈیو میں بہت کچھ بتادیا ہے۔ جسے ضرورت ہو وہ سن سکتا ہے۔


موسم تبدیل کرنے کے حوالے سے اور بارشیں برسانے اور روک دینے کے اوپر میرے بہت سے کارنامے یوٹیوب پلے لسٹ کی صورت میں ترتیب دے کر یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کردیے گئے ہیں۔ جسے ضرورت ہو وہ انہیں بھی دیکھ سکتا ہے۔

Channel Link: Legend Muhammad Zeeshan Arshad