جمعرات، 3 اکتوبر، 2024

ایک فری لانسر اپنے بزنس کو کیسے آگے بڑھا کر ترقی دے؟

فری لانسرز کے لیے اپنا کاروبار بڑھانا اور ترقی دینا ایک بہترین عمل ہے۔ یہاں کچھ اقدامات ہیں جو ایک فری لانسر کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد دے سکتے ہیں:

Improve Your Skills

فری لانسرز کو اپنی مہارت اور علم کو مسلسل بہتر بنانا چاہیے۔ نئی ٹیکنالوجیز، سافٹ ویئر، یا انڈسٹری کے رجحانات کے بارے میں جاننا ضروری ہے تاکہ آپ مقابلے میں آگے رہ سکیں۔

Professional Business Website

اپنی ایک واضح اور منفرد ویب سائٹ بنائیں۔ آپ کی پروفیشنل بزنس ویب سائٹ اور پورٹ فولیو آپ کے بزنس کا حصہ ہے۔ یہ آپ کے بزنس کو لوگوں میں نمایاں کرتا ہے اور کلائنٹس کو آپ پر بھروسہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

Free Marketing Techniques

فیس بک، لنکڈ ان، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر اپنے پروجیکٹس اور کلائنٹس کے رزلٹس کو شیئر کریں۔ اپنے کام کے بارے میں تشہیر کریں۔ اپنے بزنس کو پروموٹ کریں۔

آپ اپنے شعبہ کے بارے میں مضامین لکھ سکتے ہیں، ویڈیوز بناکر اپ لوڈ کرسکتے ہیں۔ اپنے شعبہ سے متعلق لوگوں کے انٹرویوز کرسکتے ہیں۔ نئے فری لانسرز کو ایجوکیٹ کرسکتے ہیں۔ یہ آپ کے بزنس کو بڑھانے اور آپ کو بطور ایکسپرٹ فری لانسر پبلک کے سامنے پیش ہونے میں مدد کرسکتا ہے۔

اپنے کلائنٹس کے ساتھ ای میل کے ذریعے رابطے میں رہیں اور انہیں نئی سروسز یا پروموشنل آفرز کے بارے میں بتائیں۔

Perform Quality Work

اپنے کلائنٹس کو بہترین نتائج دینے کی کوشش کریں۔ جب آپ اعلیٰ معیاری خدمات فراہم کرتے ہیں تو کلائنٹس دوبارہ آپ سے کام کروانے آتے ہیں اور آپ کو ریفر بھی کرتے ہیں۔

Networking

دیگر فری لانسرز اور مختلف انڈسٹری ایکسپرٹس کے ذریعہ آپ کو نئے مواقع اور کلائنٹس ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ کانفرنسز، سیمینارز اور ورکشاپس میں شرکت کریں اور اپنا تعارف کروائیں، لوگوں کے مسائل سنیں اور انہیں جوابات دے کر ان کے ماینڈسیٹ پر اپنی شخصیت کی دھاک بٹھاکر اپنی خدمات آفر کریں۔

Increase Your Rates

وقت کے ساتھ ساتھ جب آپ کا کام اور مہارت بہتر ہوتی جاتی ہے، تو اپنی قیمتوں میں مناسب اضافہ کریں۔ اس سے نہ صرف آپ کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ آپ بطور ایکسپرٹ بھی نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔

Provide Top Notch Customer Service

اپنے کلائنٹس کے ساتھ مثبت تعلقات قائم رکھیں اور ان کی ضروریات کو سمجھیں۔ کلائنٹس کے سوالات اور مسائل کا فوری جواب دینا آپ کے بزنس معیار کو بلند کرتا ہے۔

Follow the Deadline

اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے وعدہ کے مطابق کلائنٹ کو کام مکمل کرکے دیں اور کوشش کریں کہ کلائنٹ مطمئن اور خوش ہوسکے کیونکہ وہ آپ کو آپکی خدمات کے بدلے پیمنٹ ادا کرتا ہے۔

Get the Feedback

اپنے کلائنٹس سے کام مکمل ہونے کے بعد فیڈبیک ضرور لیں۔ پوزیٹیو فیڈ بیک نئے کلائنٹس حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

Multiple Income Streams 

صرف ایک ہی قسم کی سروس پر انحصار نہ کریں۔ آپ مختلف سروسز یا پروڈکٹس جیسے کہ آن لائن کورسز، ای بکس، یا کنسلٹنگ سروسز بھی متعارف کروا سکتے ہیں۔

ان اقدامات پر عمل پیرا ہو کر، ایک فری لانسر نہ صرف اپنے کاروبار کو بڑھا سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط اور مستقل آمدنی کا ذریعہ بھی بنا سکتا ہے۔

لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد

Skype: realisticzee

میں آندھی طوفان اور زلزلوں کے ساتھ آیا ہوں اللہ کے حکم سے

 بے شک میں نے اکیسویں صدی میں زلزلے، آندھی طوفان اور بارشوں کو کنٹرول کرکے دکھاکر یہ ثابت کردیا ہے کہ اگر میں چاہوں کہ ایسا ہو جائے اور اللہ بھی چاہے کہ ویسا ہو جائے تو پھر اسی کے حکم سے ایسا ہونا سو فیصد ممکن ہے۔

اس کائنات کا حکمران اور سارے اقتدار کا مالک میرا اللہ ہے۔اس کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں۔ بڑائی صرف اسی کے لیے ہے اور وہی اکیلا میرا سب سے بڑا مددگار ہے اور ساری دنیا کے انسانوں کو اسی کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے اور آخری نبی محمد رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا لیڈر تسلیم کرنا چاہیے۔

چونکہ روئے زمین پر میرے مقابلہ پر مجھے شکست دینے والا کوئی ایک بھی غیرمسلم نہیں لہذا دنیاکے تمام غیرمسلم کلمہ پڑھ کر دین اسلام میں داخل ہوجائیں اور  اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ دیں اسی میں ان سب کی بھلائی ہے۔





 غیرمسلموں کے جھوٹے خداؤں کا حشر میرے ہاتھوں دیکھنے کے لیے میرے یوٹیوب چینل لیجنڈ محمد ذیشان ارشد پر بہت ویڈیوز موجود ہیں ہر اس انسان کے لیے جو اپنی عقل سے کام لے سکے اور جھوٹے مذاہب سے نجات حاصل کرنا چاہے۔ 

اللہ اکبر
الحمد اللہ رب العالمین
اللہ واحد القہار کے ساتھ
لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد

منگل، 1 اکتوبر، 2024

پانچ ہزار ڈالر کمانے کا تیز ترین طریقہ کیا ہے؟

 پانچ ہزار ڈالرز جلدی کمانے کے لیے سب سے بہترین طریقہ فری لانسنگ ہے کیونکہ اس کے ذریعہ فوری رزلٹ فراہم کرکے پانچ ہزار ڈالرز کمائے جاسکتے ہیں۔ کمانے کی رفتار کام کرنے والے فری لانسر کی صلاحیتوں پر منحصر ہے لہذا جتنا ایکسپرٹ لیول ہوگا اتنا جلدی اور اتنا زیادہ پیسہ کماسکتا ہے۔

دوسرے نمبر پر میرے تجربات کے مطابق یوٹیوب ہے ۔ اگر کسی کا یوٹیوب چینل چل پڑے تو اسے ماہانہ ہزاروں ڈالرز گھر بیٹھے صرف اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کرتے رہنے سے ملتے رہتے ہیں۔ اس کے لیے صبر اور حوصلہ کے ساتھ ویڈیوز بنانا لازمی ہیں مگر کامیابی کے چانسز اتنے آسان نہیں ہیں کیونکہ بہت سے یوٹیوبز مقابلہ پر اپنا کام کررہے ہیں اور اپنا کانٹینٹ اپ لوڈ کرتے ہیں۔ کوئی ایسی کیٹیگری منتخب کرنا جس میں مقابلہ بھی ہو اور رینکنگ کے چانسز بھی ہوں بہت مشکل ہے مگر ناممکن نہیں ہے۔

تیسرے نمبر پر میرے تجربات کے مطابق یوڈیمی پر کورسز بناکر بیچنے کا بزنس ہے۔ میں نے گزشتہ ماہ صرف یوڈیمی کورسز کے ذریعہ پانچ ہزار ڈالرز سے زیادہ ارننگ کی ہے۔

میرے رینفنڈ کو ہی اگر چیک کرلیا جائے تو وہ 15 ہزار ڈالرز سے زیادہ  ہیں تو اس سے یوڈیمی پر ارننگ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اور یہ آمدنی صرف چند دنوں کے اندر ممکن ہوئی اللہ کے فضل سے۔


لہذا اگر آپ کو اپنے بزنس کو بڑھانا ہے اور کاروبار میں ترقی کرنی ہے تو آپ کو اپنی آن لائن دکان کھولنی پڑے گی اور بحیثیت بزنس آنر اس کو چلانا ہوگا جیسا کہ یوڈیمی پلیٹ فارم یعنی مارکیٹ پر اپنی کورسز کی دکان سجاکر بیٹھ جانا اور محنت جاری رکھنا۔

جبکہ فری لانسنگ بزنس کے لیے آپ کو کلائنٹ تلاش کرنے پڑتے ہیں اور اگر آپ اپنے بزس کے لیے یوٹیوب چینل چلاکر کامیاب ہوجائیں تو لوگوں کی نظریں آپ کے کاوربار کی پہچان پر پڑیں گی اور اس کے بعد آپ کے وارے ڈبل نیارے ہوجائیں گے کیونکہ لوگ آپ سے سروس بھی لینا پسند کریں گے اور یوٹیوب چینل والے بھی آپ کو اشتہارات کی مد میں ڈالرز میں آمدنی بھیجا کریں گے۔

پاکستانی آمدنی کے اعتبار سے صرف 5 ہزار ڈالرز موجود ہ ریٹ کے مطابق 13 لاکھ 87 ہزار روپے کچھ رقم بنتی ہے۔ یہ ایک پاکستانی فری لانسر کے لیے بہترین رقم ہے جو فری لانسنگ بزنس کے ساتھ ساتھ اپنے دیگر بزنس آن لائن شروع کرنا چاہتا ہو۔

فری لانسنگ بزنس میں خود کام کرنا پڑتا ہے جب آمدنی ملتی ہے جبکہ آن لائن کورسز بزنس میں ایک بار کورس بناکر مارکیٹ میں پیش کرنا ہوتا ہے اس کے بعد مارکیٹ میں آنے والے کسٹمرز کی مرضی پر ہے کہ وہ کورس خریدیں یا نہ خریدیں۔ یوڈیمی پر کاروبار کرنے میں ایک شدید نقصان یہ ہے کہ کورس ریفنڈ پالیسی 30 دن کا ٹائم دیتی ہے  اور کورس بیچنے والے کو اس پر کچھ بھی اختیار نہیں لہذا کورس بزنس یوڈیمی پر کرتے وقت اس چیز کا خیال رکھا جائے۔

اپنے طور پر اپنے کورسز بیچنے پر انسان خود اپنی مرضی کا مالک ہے۔ جسے چاہے جس ریٹ پر بیچے اور ریفنڈ کے معاملے پر پوچھ گچھ کرسکے تاکہ وجوہات جان سکے مگر یوڈیمی پر ایسا ممکن نہیں کیونکہ یوڈیمی والے اپنے کسٹمرز کا ڈیٹا کورس بیچنے والے کے حوالے نہیں کرتے۔ کوئی رابطہ ممکن نہیں سوائے کورس ڈیش بورڈ پر بات چیت کرنے کے۔ پرسنل معلومات رابطہ کے لیے صرف بونس لیکچر میں دی جاسکتی ہیں اور وہی ایک ذریعہ ہے اپنی دیگر سروسز ااور بزنس پروموٹ کرنے کےلیے جو کہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے کہ مصداق ٹھہرتا ہے۔

یوٹیوب چینل چلانا بہت ہی تھکادینے والا معاملہ ہے اور یوٹیوب ایک بزنس ہرگز نہیں ہے بلکہ محض ٹائم گزاری کے لیے اچھی چیز ہے۔کبھی بھی کسی بھی پالیسی کے مدنظر چینل اسٹرائک بھیج کر ڈیلیٹ کردیا جاتا ہے اور ساری محنت منٹوں میں ختم شد! اپنے رسک پر یوٹیوب چینل چلایا جائے مگر بزنس کے طور پر نہیں۔ بزنس کو پروموٹ کرنے کے لیے یوٹیوب چینل چلانا ایک بہترین پالیسی اور اسٹریٹجی ہے۔

اگر آپ کو یوڈیمی یا فری لانسنگ یا دیگر کسی بھی موضوع پر مجھ سے ون ٹو ون سیشن پر بات کرنی ہے تو آپ مجھے اسکائپ پر میسج کرکے آن لائن میٹنگ بک کرسکتے ہیں۔

لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد
Skype: realisticzee

جمعہ، 27 ستمبر، 2024

دنیا کے انسانوں کو بیوقوف بنانے کا دھندہ

ہزاروں سال سے اس زمین پر اللہ کے خلاف سرکشوں، گستاخوں اور بدبختوں نے جھوٹے خداوں کے نام پر دنیا کے انسانوں کو بیوقوف بنانے کا دھندا جاری رکھا ہواہے۔ یہ بدبخت جھوٹے خداوں کے نام پر معصوم انسانوں کا قتل عام کرتے ہیں، ان مسلمانوں کی ماں بہن بیٹیوں کی عزتوں کو لوٹ کر ان سے کھلواڑ کرتے ہیں جو اللہ کو خدا مان کر اس کی پوجا کرتے ہیں، ان کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو ہاتھ پاوں توڑ کر زمین پر کچل کچل کر بے رحمی سے مارڈالتے ہیں۔

یہ بھیڑیے خود کو ہندو، عیسائی، یہودی، ملحد، قادیانی، شیعہ کہتے ہیں۔ یہ ہیں وہ آستین کے سانپ جنہوں نے اپنے اپنے جھوٹے مذاہب ایجاد کرکے دین اسلام کے خلاف حضرت محمد رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو مٹانے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور ان کی اس مردود شیطانی کوششوں پر ان کا ساتھ دینے والے منافقین میں ہمت و جرات نہیں کہ یہ سچ کا ساتھ دے سکیں کیونکہ یہ سب مردود شیطانی کتے موت سے تھر تھر کانپتے ہیں۔انہیں اپنے گھر والوں سے بچھڑجانے کا خوف ہے، انہیں اپنے بچوں، مال و دولت، گھر بار، آسائشوں کے چھوٹ جانے کا خوف ہے۔ ان کے کاروبار، گاڑی بنگلے اور دیگر سازوسامان جو انہوں نے اپنی زندگی بھر کی محنت کرکے جمع کیا ہے وہ سب ختم ہوجانے کا خوف و خدشہ ہے۔

یہ ناکارہ لوگ کبھی دین اسلام کا بھرپور ساتھ نہیں دے سکیں گے۔یہ زمین ان نام نہاد مسلمانوں سے بھری پڑی ہے جو کبھی حق کے لیے ملکر اکٹھا نہیں ہوسکیں گے بلکہ یہ اپنے ان چند مٹھی بھر علمائے سو کے مذہبی غلام بنے رہیں گے جو انہیں اپنی خود ساختہ چکنی چڑی باتوں میں بہلا پھسلاکر بیوقوف بنارہے ہیں اور ان کے ذریعہ ان کے مال بٹور رہے ہیں محض اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے۔

نہ میں ان میں سے ہوں اور نہ میرا ان سب سے کوئی تعلق ہے ذاتی طور پر ماسوائے یہ کہ یہ تمام لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور اس ناطے میرے انسانی بھائی بہن ہیں اور بس!

اگر یہ سب اپنے باطل عقائد چھوڑ کر اسلام میں واپس لوٹ آئیں اور صحیح عقائد کے مطابق اپنی زندگی گزاریں تو میں انہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں ورنہ بصورت دیگر میں انہیں اللہ کے عذاب کی واضح وارننگ دیتا ہوں کہ یہ سب مارے جائیں گے اللہ کے حکم سے نازل ہونے والے عذابوں اور آفات کے ذریعہ اللہ کے جلال سے تہس نہس ہوکر۔

بے شک اللہ ڈھیل دیتا ہے مگر وہ سوتا نہیں اور نہ ہی اسے اونگھ یا نیند آتی ہے کہ اسے کچھ علم ہی نہیں۔ساری خدائی میرے اللہ واحد القہار کی ہے۔

اللہ اکبر

لیجنڈ آف اللہ

پیر، 23 ستمبر، 2024

اپنی زندگی کو خوشگوار بنائیں

ایک ابھی پوسٹ جے مجھے فیس بک سے ملی

 تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن حق ہیں :-

پہلا قانون فطرت:
اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر دیتی ہے....
اسی طرح اگر" دماغ" کو" اچھی فکروں" سے نہ بھرا جاۓ تو "کج فکری" اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف "الٹے سیدھے "خیالات آتے ہیں اور وہ "شیطان کا گھر" بن جاتا ہے۔
اس لئے مثبت سوچیں، اچھا سوچیں
دوسرا قانون فطرت:
جس کے پاس "جو کچھ" ہوتا ہے وہ" وہی کچھ" بانٹتا ہے۔ ۔ ۔
* خوش مزاج انسان "خوشیاں "بانٹتا ہے۔
* غمزدہ انسان "غم" بانٹتا ہے۔
* عالم "علم" بانٹتا ہے۔
* دیندار انسان "دین" بانٹتا ہے۔
* خوف زدہ انسان "خوف" بانٹتا ہے۔
اس لئے خود میں مثبت احساس پیدا کریں۔ اچھی چیزیں سیکھیں۔ مصروف رہیں۔ خوش رہیں۔
تیسرا قانون فطرت:
آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لۓ کہ۔ ۔ ۔
* کھانا ہضم نہ ہونے پر" بیماریاں" پیدا ہوتی ہیں۔
* مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" ریاکاری" بڑھتی ہے۔
* بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی" اور "غیبت" بڑھتی ہے۔
* تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور" میں اضافہ ہوتا ہے۔
* غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی" بڑھتی ہے۔
اس لئے ہضم کرنا سیکھیں۔
اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک" با مقصد" اور "با اخلاق" زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں
خوش رہیں۔۔۔خوشیاں بانٹیں۔۔۔۔

خود کو مضبوط بنانا ہے

 یہ اسٹوری اس انگریزی مضمون کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھوائی گئی ہے تاکہ اس کا مطلب اردو پڑھنے والوں کے لیے واضح ہوجائے۔

You've never demanded the rain, sun, or fire to adjust their nature, yet you get angry at people for being harsh. Why not change to avoid being hurt? You protect yourself from natural elements but expect others to protect you from themselves. The rain, sun, and fire don't make an effort to protect you; you do. It's astonishing that you want others to change without recognizing your own need to change and become resistant to oppression.

If you deceive me I see my own mistake, I wasn't discerning that's why you deceived me so instead of getting angry I work on myself to be able to discern well. I work on myself when you are able to manipulate me so that I'm not vulnerable to your tactics next time. I work on myself when you oppress me so that you are unable to oppress me next time. I work on myself so that you are unable to break my heart again next time. It's your responsibility not my to protect yourself from me and others.

Onyema

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک شخص تھا جس کا نام علی تھا۔ علی بہت حساس دل کا مالک تھا اور اکثر دوسروں کی سخت باتوں اور رویوں سے دل برداشتہ ہو جاتا تھا۔ وہ ہمیشہ یہ سوچتا تھا کہ لوگ کیوں اس کے ساتھ نرمی سے پیش نہیں آتے اور اس کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ ہر بار جب کوئی اس سے سخت لہجے میں بات کرتا، علی غصے سے بھر جاتا اور دل ہی دل میں ان لوگوں کو بدلنے کی خواہش کرتا۔

ایک دن، علی بارش میں بھیگ رہا تھا۔ اس نے سوچا، "بارش کیسی عجیب چیز ہے، میں نے کبھی اس سے یہ نہیں کہا کہ وہ رک جائے۔ لیکن جب بارش ہوتی ہے تو میں خود کو چھتری لے کر بچاتا ہوں، یا اندر چلا جاتا ہوں۔" اسی طرح جب دھوپ زیادہ ہوتی ہے تو علی خود کو سورج کی شعاعوں سے بچانے کے لیے سایہ تلاش کرتا تھا، اور جب آگ کے قریب ہوتا تھا تو وہ ہمیشہ خود کو دور کر لیتا تھا تاکہ جلنے سے بچ سکے۔

علی نے اپنے آپ سے سوال کیا، "میں بارش، دھوپ، اور آگ سے تو اپنی حفاظت خود کرتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ اپنی فطرت کے مطابق ہی ہیں، لیکن میں لوگوں سے کیوں توقع کرتا ہوں کہ وہ اپنے رویے بدلیں؟"

یہ سوچتے ہوئے علی کو احساس ہوا کہ جیسے وہ قدرتی عناصر سے بچاؤ کرتا ہے، اسی طرح اسے لوگوں کے سخت رویوں سے خود کو بچانے کی ضرورت ہے۔ لوگ اپنی فطرت کے مطابق عمل کرتے ہیں، اور جیسے بارش یا سورج اس کے لیے رک نہیں سکتے، ویسے ہی لوگ بھی اپنی فطرت کے مطابق پیش آتے ہیں۔

علی نے سوچا، "اگر کوئی مجھے دھوکہ دیتا ہے تو دراصل یہ میری غلطی ہے کہ میں نے اس پر بھروسہ کیا تھا، میں نے سمجھداری سے کام نہیں لیا۔ مجھے اس پر غصہ ہونے کے بجائے اپنی عقل کو بہتر کرنا چاہیے تاکہ دوبارہ دھوکہ نہ کھاؤں۔ اگر کوئی میرے جذبات سے کھیلتا ہے تو یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں خود کو اس قدر مضبوط بناؤں کہ وہ دوبارہ میرے دل کو نہ توڑ سکے۔"

علی کو احساس ہوا کہ لوگوں کو بدلنے کی کوشش کرنے کے بجائے اسے خود کو مضبوط کرنا ہوگا۔ دوسروں کی سختیوں سے بچنا اس کا اپنا کام تھا، نہ کہ دوسروں کا۔ جیسے وہ آگ سے بچنے کے لیے دور ہوتا تھا، ویسے ہی اسے لوگوں کی سختیوں سے بچنے کے لیے خود کو تیار کرنا تھا۔

یوں علی نے اپنی زندگی میں ایک نیا سبق سیکھا کہ دوسروں کو بدلنے کے بجائے خود کو مضبوط بنانا ہی بہترین راستہ ہے۔

جمعہ، 20 ستمبر، 2024

ماں کے پیٹ سے زمین کے پیٹ میں

جب انسان ایک ٹپکایا ہوا قطرہ ہوتا ہے تو وہ ایک عورت کے پیٹ میں پہنچتا ہے ایک جرثومے کی شکل میں جسے میڈیکل سائنس کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ہوتی ہے انسان کی اصلیت یعنی کہ اصلی شکل


اس شکل سے اللہ اسے تبدیل کر کے جمے ہوئے خون میں بدلتا ہے۔


پھر جمے ہوئے خون کو گوشت کے لوتھڑے میں تبدیل کرتا ہے۔




پھر اس گوشت کے لوتھڑے کو ہڈی میں بدل دیتا ہے۔


پھر اس ہڈی کے اوپر گوشت کا لباس پہنا دیتا ہے۔



پھر اس کے بعد اسے مختلف شکلوں کے اندر تبدیل کرنا شروع کرتا ہے پھر اس کے اندر ہاتھ نکالتا ہے پاؤں نکالتا ہے آنکھیں لگاتا ہے کان لگاتا ہے دل بناتا ہے پھیپھڑے اگاتا ہے۔ نسیں بناتا ہے خون جاری کرتا ہے سب کچھ لگاتا ہے لیکن ماں کے پیٹ میں وہ بے جان حالت میں پڑا ہوا ہوتا ہے یہ سب تب ہو رہا ہوتا ہے۔ 


سوچنے کی بات ہے کہ یہ بے جان قسم کی حالت کی ایک چیز ایک عورت کے پیٹ کے اندر رکھی ہوئی ہے اور کوئی اس کو حرکت دینے والا نظر بھی نہیں آرہا، اس کو الٹ پلٹ کرنے والا بھی نظر نہیں آرہا، اس کے اوپر کاریگری دکھانے والا بھی نظر نہیں آرہا پھر بھی وہ الٹ پلٹ ہوتا ہے۔ اس کے اندر چیزیں تیار ہو رہی ہوتی ہیں۔ پتہ لگا کہ اللہ جس طریقے سے کام کرتا ہے اس کے لیے اسے ماں کے پیٹ کے اندر آنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ صرف اپنے ارادے کرتا ہے اور اس کے ارادے کے مطابق چیز اس زمین پر بننا شروع ہو جاتی ہے۔ وہ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو بس کہتا ہے "کن" اور فیکون ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

پھر وہ اپنی ماں کے پیٹ کے اندر سے نکل کے باہر آتا ہے تو اس بچے کے ہاتھ کے اوپر ڈیزائن بھی اللہ کے نام کا بنا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے پیروں میں بھی اللہ کے نام کا ڈیزائن بنا ہوتا ہے۔ اس کی نسوں میں اور دیگر بہت سی جگہوں پر اللہ کے نام چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ دیکھنے والے خوب جانتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ بہت سے نومولود بچے ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی رونے کے بجائے اللہ اللہ کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

کسی بھی عقل استعمال کرنے والے انسان کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ کتابوں کی بحث میں پڑنے کے بجائے کلمہ پڑھ کے اسلام میں داخل ہو جائے کیونکہ اگر وہ کفر پہ مر جائے تو پھر ماں کے پیٹ سے نکلنے کے بعد دنیا کے انسانوں کے ہاتھوں گمراہ ہونے پر کفر کی موت پہ مرنے کی وجہ سے جب اسے زمین میں دفن کر دیا جاتا ہے تو وہ ماں کے پیٹ سے نکل کے زمین میں دفن ہو جاتا ہے یعنی کہ زمین کے پیٹ میں پہنچ جاتا ہے۔

اس زمین کے پیٹ میں پہنچنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ جس طرح ماں کے پیٹ کے اندر وہ ایک ٹپکائے ہوئے قطرے سے انسان کی شکل میں تبدیل ہوتا ہے بس اسی طریقے سے وہ انسان کی شکل سے واپس ایک ہڈی کی صورت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

اس کے جسم کے سارے اعضاء سڑنا گلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ کیڑے مکوڑے کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بدبو آنا شروع ہو جاتی ہے۔ اسے ڈیکم پوزیشن پراسیس کہا جاتا ہے اور آخر کار وہ انسان ایسا ہو جاتا ہے جیسے وہ کبھی موجود ہی نہیں تھا۔ بے نام و نشان! قبر کی جگہ بھی خراب ہو جاتی ہے۔ مٹ جاتے ہیں نام۔ ختم ہو جاتے ہیں سارے بدنام۔ رہ جاتا ہے بس اللہ کا نام۔ اسی کی بڑائی اسی کی خدائی۔ وہی سب سے بڑا ہے وہی عالیشان ہے اور وہی اصل ذی شان ہے۔


لیکن وہ زمین کے پیٹ میں پہنچنے والے جسموں کے اندر اتنا کنٹرول رکھتا ہے کہ جب زمین کے اندر اس کے نیک پیروکاروں کی لاشوں کو دفن کر دیا جاتا ہے تو وہ ان کو وہاں پر بھی تازہ خون سمیت تروتازہ حالت میں محفوظ رکھتا ہے اور سلامت رکھتا ہے اور وہ یہ کام اپنی قدرت سے کرتا ہے۔ جس طرح وہ ماں کے پیٹ میں اپنی قدرت سے ایک ٹپکائے ہوئے قطرے کو انسان کی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے بس وہی اللہ اپنی قدرت سے زمین کے پیٹ کے اندر موجود لاکھوں کروڑوں لاشوں کو اپنی قدرت سے محفوظ رکھتا ہے۔


اور اللہ کے لیے یہ بہت ہی معمولی سا کام ہے۔ بے شک اللہ جو چاہے سو کر سکتا ہے۔ ان اللہ علی کل شی قدیر۔ پوری کائنات میرے اللہ کی قدرت سے چل رہی ہے۔ وہ سارے علوم کا شہنشاہ اکیلا ہی ہے اپنے نام کا اور اپنے کام کا۔ اللہ اکبر

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد