ہفتہ، 12 اکتوبر، 2024

میں مردوں کو زندگی دینے والے کی عبادت کرتا ہوں

دنیا کے اکثر انسان جاہلوں کی طرح اپنے مذہبی روحانی پیشواوں کی باتوں میں غلام بن کر صرف ان جعلی خداوں کی عبادت کررہے ہیں جو ان کے پیشواوں نے ان کے ماں باپ کو سکھادیے تھے اور ان کے ماں باپ نے انہیں بچپن سے برین واش کرکے سکھادیے تھے جبکہ ثبوت ان سب میں سے کسی کے پاس موجود نہیں اپنے ان جھوٹے خداوں کی موجودگی کا مگر میرے پاس واضح ثبوت موجود ہیں کہ میں جس خدا کی عبادت کررہا ہوں وہ اکیلا ہی اس پوری سلطنت کا حکمران ہے۔

وہ اللہ واحد القہار ہے ورب ذوالجلال ہے
اسی کی سلنت ہے اور اسی کی بادشاہت ہے

وہی ہے جو لاکھوں، کروڑوں بلکہ اربوں ماوں کے پیٹ میں موجود بے جان مردہ بچوں کے جسموں میں جان ڈال کر انہیں زندہ کررہا ہے اور انہیں باہر نکلنے کے لیے موقع دے رہا ہے اور ان میں سے جس سے چاہے اپنے نام کی گواہی دلواکر اسی فزیکل دنیا کے انسانوں کو سنوارہا ہے اور ہر بچہ کے ہاتھ کو اپنے نام کے مطابق ڈیزائن کرکے باہر نکال رہا ہے تاکہ یہ لوگ سمجھیں اور اپنی عقل کو استعمال کرکے اسلام میں واپس لوٹ آئیں مگر اس کے باوجود یہ جاہل لوگ اپنے جعلی خداوں کی عبادت سے باز نہیں آرہے ہیں اور جبکہ ان کے جعلی اور مصنوعی خداوں نے آج تک مکھی کا پر تک نہیں بنایا وہ انسانی بچہ کیسے بنادیں گے؟

کیا کسی کی عقل کام کرتی ہے؟ اگر وہ تمام جعلی خدا اصلی ہوتے جن کی یہ لوگ عبادت کررہے ہیں اللہ کے مقابلہ پر تو وہ ذرا کسی بھی ماں کے پیٹ کے اندر صرف ایک بچہ ٹپکائے ہوئے قطرے سے بناکر دکھادیں اور اس بچہ کے ہاتھ کو اپنے نام پر ڈیزائن کریں  اور پھر اس بچے کو زندگی عطا کرکے باہر نکالیں اور پھر اس بچے کے منہ سے اپنے نام کی گواہی دلواکر دکھائیں  اگر وہ سچے ہیں مگر وہ سب ایسا کبھی نہ کرسکیں گے کیونکہ تمام غیرمسلم مکمل طور پر سو فیصد پکی گمراہی اور جہالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ بے شک اللہ ایسا کرتا ہے، وہ ایسا کرچکا ہے اور وہ ایسا کرتا رہے گا جب تک وہ چاہے گا۔ اس پوری کائنات میں، زمین و آسمانوں میں نہ کبھی کوئی اللہ کو روک سکا ہے اور نہ کبھی روک سکے گا۔ للہ واحد القہار

لیجنڈ آف اللہ واحد القہار
ڈاکٹر لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

جمعہ، 11 اکتوبر، 2024

تحفہ رد کیا جاسکتا ہے

تحفہ کے حوالے سے سوسائٹی میں یہ رسم پالی گئی ہے جو دل چاہے کسی کو تحفہ دے اور جب دل چاہے اس کے دل کو روند کر رکھ دے۔ ایسے جاہلوں سے میرا اپنی زندگی میں بہت واسطہ پڑچکا ہے اور میں نے فیصلہ کررکھا ہے کہ کس سے تحفے قبول کرنے ہیں اور کن لوگوں سے تحفے قبول نہیں کرنے۔

اس حوالے سے سیدھا سا فارمولا ہے کہ جو لوگ تحفہ دینے کے بعد احسان جتائیں کہ انہیں نے ہم پر فلاں فلاں رقم خرچ کی ہے، یا فلاں چیز فلاں وقت تحفہ میں دی تھی یا تحفہ دینے کے بعد یہ جتائیں کہ یہ ان کی چیزیں ہیں اورانہیں واپس چاہیں، تو یہ ایسے لوگ ہیں جن سے کبھی تحفہ غلطی سے بھی قبول نہیں کرنا چاہیے۔یہ دنیا پرست لالچی اور بےغیرت قسم کے لوگ ہیں جو کسی کی عزت نفس کا خیال نہیں کرتے اور اس کو اپنے احسانات تلے دبانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

انہیں کبھی برداشت نہیں ہوتا کہ کوئی دوسرا ان سے آگے نکل جائے۔یہ بیماری زیادہ تر پڑھے لکھے جاہلوں میں نظر آتی ہے جن کے پاس چار پیسے زیادہ ہوجاتے ہیں اور وہ دوسروں کو ترس کھاکر مدد کرنے کو حاتم طائی کی قبر پر لات مارنا اور اپنا احسان عظیم سمجھتےہیں جبکہ اللہ نے انہیں اس قابل کیا ہوتا ہے کہ انہیں دولت دے کر آزمائے مگر یہ نرے احمق اور جاہل گنوار لوگ اپنی جہالت کو اپنی عظیم عقلمندی سمجھ کر اپنی آخرت تباہ کرلیتے ہیں کیونکہ جس پر احسان کرکے جتارہے ہوتے ہیں اور اس کے دل کے ٹکڑے کررہے ہوتے ہیں اس پر تو نرم بات کہہ دینا بہتر ہے اس صدقہ سے جس کے بعد دل آزاری کی جائے۔

یہ ہے دین اسلام مگر لوگوں کا اسلام سے دور دور تک واسطہ پریکٹیکل دنیا میں مجھے تو اب نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اب لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرچکا ہوں اور اپنے کام سے کام رکھتا ہوں۔جس کو مرنا ہے مرجائے، جس کو خودکشی کرنی ہے شوق سے کرے، جسے گناہ کرنے کے چسکے لگے ہیں وہ اپنا کام جاری رکھے اور جس کا دل چاہے وہ تقوی اختیار کرلے۔

نہ میں لوگوں پر داروغہ ہوں اور نہ میں کوئی نبی یا رسول ہوں کہ جس کے ذمہ ساری دنیا کو سدھارنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ میں ایک انسان ہوں اور اللہ کا تیار کردہ بندہ ہوں جس کے ذمہ بس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ دین اسلام کی سچائی ہمیشہ کے لیے انٹرنیٹ کے ذریعہ ثابت کرچکا ہے اور اگر میرے ان کاموں کو دیکھ کر کوئی مجھے تحفہ تحائف دینے کی کوشش کرے گا تو یہ بھی میرے لیے میری آخرت خراب کرنے کا سبب ہوگا کیونکہ اسلام کی سچائی کے کام میں نے خالص اللہ کے لیے کیے ہیں اور انسانوں میں کسی سے بھی مجھے اس کے بدلے شکریہ، واہ واہ یا تعریفوں کے تمغے نہیں چاہیں۔

جہاں تک عام روایتی زندگی کی بات ہے تو اس حوالے سے ہمارا آپس میں کیا سلوک ہونا چاہیے؟ اس پر میں نے چیٹ جی پی ٹی سے ایک مضمون تحریر کروایا ہے جو اس کی زبان میں زیر خدمت ہے۔۔۔

**تحفہ رد کرنے کے جواز پر مضمون**

تحائف کا تبادلہ ایک خوبصورت اور خوشگوار سماجی رسم ہے، جو افراد کے درمیان محبت، خلوص، اور تعاون کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ دین اسلام میں بھی تحائف دینے کی ترغیب دی گئی ہے، کیونکہ یہ دلوں میں انس و محبت پیدا کرتا ہے اور رشتوں کو مضبوط بناتا ہے۔ تاہم، تحائف کا مقصد ہمیشہ خالص نیت اور اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ دنیاوی مفاد یا توقعات کے پیش نظر۔

### تحفے کی نیت اور مقاصد

تحائف دینے کا بنیادی مقصد دوسرے شخص کو خوشی دینا، اس کی مدد کرنا، یا تعلقات کو مزید گہرا کرنا ہوتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ "تحفے دیا کرو، اس سے محبت بڑھتی ہے۔" لیکن ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ تحفہ دینے والے یا لینے والے کی نیت صرف اللہ کی رضا اور محبت ہو، نہ کہ کوئی مادی یا مالی فائدہ۔

### تحفہ اور توقعات کا تعلق

بعض اوقات تحائف دینے والے لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ انہیں بدلے میں اسی قدر یا اس سے زیادہ قیمتی تحفہ ملے گا۔ یہ رویہ تحفے کی اصل روح کے خلاف ہے۔ تحفہ تو بے لوث محبت اور خلوص کی علامت ہے، اور اس میں کسی قسم کی مالی یا مادی توقعات رکھنا مناسب نہیں۔ اس لیے جہاں یہ اندیشہ ہو کہ تحفہ دینے والے کی نیت خالص نہیں ہے یا وہ بدلے میں کچھ حاصل کرنے کی توقع رکھتا ہے، وہاں تحفہ قبول نہ کرنا ایک مناسب قدم ہوسکتا ہے۔

### تحفہ رد کرنے کا جواز

اسلامی تعلیمات میں یہ بات واضح ہے کہ تحفے کے تبادلے میں خلوص نیت اور خالص محبت ضروری ہے۔ اگر کسی تحفے کے پیچھے دنیاوی یا مالی مفادات وابستہ ہوں، یا تحفہ دینے والا بدلے میں کسی خاص فائدے کی توقع رکھے، تو ایسے تحفے کو رد کرنا جائز اور بعض صورتوں میں ضروری بھی ہو جاتا ہے۔ اس طرح کا تحفہ قبول کرنے سے نہ صرف دین کے احکام کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ اس سے انسانی تعلقات میں بھی بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص تحفہ اس نیت سے دے کہ وہ بدلے میں زیادہ قیمتی یا مساوی مالیت کا تحفہ لے گا، یا وہ تحفہ قبول نہ کرنے کی صورت میں ناراضگی کا اظہار کرے گا، تو یہ رویہ تحفہ دینے کی اصل نیت کو خراب کرتا ہے۔ ایسے مواقع پر تحفہ قبول کرنے سے بہتر یہ ہے کہ اس کو رد کردیا جائے، تاکہ دونوں طرف سے نیت صاف اور خلوص پر مبنی رہے۔

### مالی تعاون اور تحائف کا فرق

تحائف کا مقصد محبت اور اخلاص ہوتا ہے جبکہ مالی تعاون کا مقصد کسی ضرورت کو پورا کرنا یا کسی کی مدد کرنا ہوتا ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ تحفے کے بدلے میں کوئی توقع نہیں رکھی جاتی جبکہ مالی تعاون میں یہ توقع ہو سکتی ہے کہ مدد لینے والا کسی وقت مدد واپس کرے گا۔ جہاں تک مالی تعاون کا تعلق ہے، اگر کوئی شخص اس نیت سے تحفہ دیتا ہے کہ وہ بدلے میں کچھ حاصل کرے گا، تو یہ تحفے کی تعریف میں نہیں آتا اور اسے رد کرنے کا جواز موجود ہوتا ہے۔

### جھگڑے کی صورت میں تحفہ رد کرنا

تحفہ دینے اور قبول کرنے میں خلوص اور رضا کا عنصر بہت اہم ہوتا ہے۔ اگر تحفہ قبول نہ کرنے یا بدلے میں کچھ نہ دینے پر جھگڑا یا ناراضگی پیدا ہو تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحفہ دینے والے کی نیت خالص نہیں تھی۔ ایسے حالات میں تحفے کو قبول کرنا بہتر نہیں، بلکہ اسے رد کرنا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے تاکہ رشتہ کشیدہ نہ ہو اور نیتوں میں صفائی قائم رہے۔

### نتیجہ

تحفہ دینا اور لینا ایک اہم اور خوبصورت عمل ہے، جو سماجی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، اس میں نیت کی صفائی اور محبت کا خالص ہونا لازمی ہے۔ جہاں تحفے کے پیچھے دنیاوی مفادات یا بدلے کی توقعات ہوں، وہاں اسے قبول کرنے کی بجائے رد کرنا زیادہ مناسب ہے۔ اس سے نہ صرف دین کے اصولوں کی پیروی کی جاتی ہے بلکہ رشتوں میں بھی سچائی اور خلوص کو برقرار رکھا جاتا ہے۔

نوٹ: مشینی بوٹس انسانوں کی رائٹنگ کا مقابلہ نہیں کرسکتے کیونکہ یہ ہماری طرح جذبات و احساسات سے عاری مشینیں ہیں لہذا ان کی ہر بات کو قرآن و حدیث سمجھ کر یقین کرنے کے بجائے انسان کو اپنی عقل استعمال کرنا چاہیے اور ان کے لکھے ہوئے مضامین میں سے بھی جو بات صحیح لگے اسے قبول کیا جائے اور جو غلط معلوم ہو اسے رد کردینا چاہیے۔

جمعرات، 3 اکتوبر، 2024

ایک فری لانسر اپنے بزنس کو کیسے آگے بڑھا کر ترقی دے؟

فری لانسرز کے لیے اپنا کاروبار بڑھانا اور ترقی دینا ایک بہترین عمل ہے۔ یہاں کچھ اقدامات ہیں جو ایک فری لانسر کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد دے سکتے ہیں:

Improve Your Skills

فری لانسرز کو اپنی مہارت اور علم کو مسلسل بہتر بنانا چاہیے۔ نئی ٹیکنالوجیز، سافٹ ویئر، یا انڈسٹری کے رجحانات کے بارے میں جاننا ضروری ہے تاکہ آپ مقابلے میں آگے رہ سکیں۔

Professional Business Website

اپنی ایک واضح اور منفرد ویب سائٹ بنائیں۔ آپ کی پروفیشنل بزنس ویب سائٹ اور پورٹ فولیو آپ کے بزنس کا حصہ ہے۔ یہ آپ کے بزنس کو لوگوں میں نمایاں کرتا ہے اور کلائنٹس کو آپ پر بھروسہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

Free Marketing Techniques

فیس بک، لنکڈ ان، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر اپنے پروجیکٹس اور کلائنٹس کے رزلٹس کو شیئر کریں۔ اپنے کام کے بارے میں تشہیر کریں۔ اپنے بزنس کو پروموٹ کریں۔

آپ اپنے شعبہ کے بارے میں مضامین لکھ سکتے ہیں، ویڈیوز بناکر اپ لوڈ کرسکتے ہیں۔ اپنے شعبہ سے متعلق لوگوں کے انٹرویوز کرسکتے ہیں۔ نئے فری لانسرز کو ایجوکیٹ کرسکتے ہیں۔ یہ آپ کے بزنس کو بڑھانے اور آپ کو بطور ایکسپرٹ فری لانسر پبلک کے سامنے پیش ہونے میں مدد کرسکتا ہے۔

اپنے کلائنٹس کے ساتھ ای میل کے ذریعے رابطے میں رہیں اور انہیں نئی سروسز یا پروموشنل آفرز کے بارے میں بتائیں۔

Perform Quality Work

اپنے کلائنٹس کو بہترین نتائج دینے کی کوشش کریں۔ جب آپ اعلیٰ معیاری خدمات فراہم کرتے ہیں تو کلائنٹس دوبارہ آپ سے کام کروانے آتے ہیں اور آپ کو ریفر بھی کرتے ہیں۔

Networking

دیگر فری لانسرز اور مختلف انڈسٹری ایکسپرٹس کے ذریعہ آپ کو نئے مواقع اور کلائنٹس ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ کانفرنسز، سیمینارز اور ورکشاپس میں شرکت کریں اور اپنا تعارف کروائیں، لوگوں کے مسائل سنیں اور انہیں جوابات دے کر ان کے ماینڈسیٹ پر اپنی شخصیت کی دھاک بٹھاکر اپنی خدمات آفر کریں۔

Increase Your Rates

وقت کے ساتھ ساتھ جب آپ کا کام اور مہارت بہتر ہوتی جاتی ہے، تو اپنی قیمتوں میں مناسب اضافہ کریں۔ اس سے نہ صرف آپ کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ آپ بطور ایکسپرٹ بھی نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔

Provide Top Notch Customer Service

اپنے کلائنٹس کے ساتھ مثبت تعلقات قائم رکھیں اور ان کی ضروریات کو سمجھیں۔ کلائنٹس کے سوالات اور مسائل کا فوری جواب دینا آپ کے بزنس معیار کو بلند کرتا ہے۔

Follow the Deadline

اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے وعدہ کے مطابق کلائنٹ کو کام مکمل کرکے دیں اور کوشش کریں کہ کلائنٹ مطمئن اور خوش ہوسکے کیونکہ وہ آپ کو آپکی خدمات کے بدلے پیمنٹ ادا کرتا ہے۔

Get the Feedback

اپنے کلائنٹس سے کام مکمل ہونے کے بعد فیڈبیک ضرور لیں۔ پوزیٹیو فیڈ بیک نئے کلائنٹس حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

Multiple Income Streams 

صرف ایک ہی قسم کی سروس پر انحصار نہ کریں۔ آپ مختلف سروسز یا پروڈکٹس جیسے کہ آن لائن کورسز، ای بکس، یا کنسلٹنگ سروسز بھی متعارف کروا سکتے ہیں۔

ان اقدامات پر عمل پیرا ہو کر، ایک فری لانسر نہ صرف اپنے کاروبار کو بڑھا سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط اور مستقل آمدنی کا ذریعہ بھی بنا سکتا ہے۔

لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد

Skype: realisticzee

میں آندھی طوفان اور زلزلوں کے ساتھ آیا ہوں اللہ کے حکم سے

 بے شک میں نے اکیسویں صدی میں زلزلے، آندھی طوفان اور بارشوں کو کنٹرول کرکے دکھاکر یہ ثابت کردیا ہے کہ اگر میں چاہوں کہ ایسا ہو جائے اور اللہ بھی چاہے کہ ویسا ہو جائے تو پھر اسی کے حکم سے ایسا ہونا سو فیصد ممکن ہے۔

اس کائنات کا حکمران اور سارے اقتدار کا مالک میرا اللہ ہے۔اس کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں۔ بڑائی صرف اسی کے لیے ہے اور وہی اکیلا میرا سب سے بڑا مددگار ہے اور ساری دنیا کے انسانوں کو اسی کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے اور آخری نبی محمد رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا لیڈر تسلیم کرنا چاہیے۔

چونکہ روئے زمین پر میرے مقابلہ پر مجھے شکست دینے والا کوئی ایک بھی غیرمسلم نہیں لہذا دنیاکے تمام غیرمسلم کلمہ پڑھ کر دین اسلام میں داخل ہوجائیں اور  اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ دیں اسی میں ان سب کی بھلائی ہے۔





 غیرمسلموں کے جھوٹے خداؤں کا حشر میرے ہاتھوں دیکھنے کے لیے میرے یوٹیوب چینل لیجنڈ محمد ذیشان ارشد پر بہت ویڈیوز موجود ہیں ہر اس انسان کے لیے جو اپنی عقل سے کام لے سکے اور جھوٹے مذاہب سے نجات حاصل کرنا چاہے۔ 

اللہ اکبر
الحمد اللہ رب العالمین
اللہ واحد القہار کے ساتھ
لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد

منگل، 1 اکتوبر، 2024

پانچ ہزار ڈالر کمانے کا تیز ترین طریقہ کیا ہے؟

 پانچ ہزار ڈالرز جلدی کمانے کے لیے سب سے بہترین طریقہ فری لانسنگ ہے کیونکہ اس کے ذریعہ فوری رزلٹ فراہم کرکے پانچ ہزار ڈالرز کمائے جاسکتے ہیں۔ کمانے کی رفتار کام کرنے والے فری لانسر کی صلاحیتوں پر منحصر ہے لہذا جتنا ایکسپرٹ لیول ہوگا اتنا جلدی اور اتنا زیادہ پیسہ کماسکتا ہے۔

دوسرے نمبر پر میرے تجربات کے مطابق یوٹیوب ہے ۔ اگر کسی کا یوٹیوب چینل چل پڑے تو اسے ماہانہ ہزاروں ڈالرز گھر بیٹھے صرف اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کرتے رہنے سے ملتے رہتے ہیں۔ اس کے لیے صبر اور حوصلہ کے ساتھ ویڈیوز بنانا لازمی ہیں مگر کامیابی کے چانسز اتنے آسان نہیں ہیں کیونکہ بہت سے یوٹیوبز مقابلہ پر اپنا کام کررہے ہیں اور اپنا کانٹینٹ اپ لوڈ کرتے ہیں۔ کوئی ایسی کیٹیگری منتخب کرنا جس میں مقابلہ بھی ہو اور رینکنگ کے چانسز بھی ہوں بہت مشکل ہے مگر ناممکن نہیں ہے۔

تیسرے نمبر پر میرے تجربات کے مطابق یوڈیمی پر کورسز بناکر بیچنے کا بزنس ہے۔ میں نے گزشتہ ماہ صرف یوڈیمی کورسز کے ذریعہ پانچ ہزار ڈالرز سے زیادہ ارننگ کی ہے۔

میرے رینفنڈ کو ہی اگر چیک کرلیا جائے تو وہ 15 ہزار ڈالرز سے زیادہ  ہیں تو اس سے یوڈیمی پر ارننگ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اور یہ آمدنی صرف چند دنوں کے اندر ممکن ہوئی اللہ کے فضل سے۔


لہذا اگر آپ کو اپنے بزنس کو بڑھانا ہے اور کاروبار میں ترقی کرنی ہے تو آپ کو اپنی آن لائن دکان کھولنی پڑے گی اور بحیثیت بزنس آنر اس کو چلانا ہوگا جیسا کہ یوڈیمی پلیٹ فارم یعنی مارکیٹ پر اپنی کورسز کی دکان سجاکر بیٹھ جانا اور محنت جاری رکھنا۔

جبکہ فری لانسنگ بزنس کے لیے آپ کو کلائنٹ تلاش کرنے پڑتے ہیں اور اگر آپ اپنے بزس کے لیے یوٹیوب چینل چلاکر کامیاب ہوجائیں تو لوگوں کی نظریں آپ کے کاوربار کی پہچان پر پڑیں گی اور اس کے بعد آپ کے وارے ڈبل نیارے ہوجائیں گے کیونکہ لوگ آپ سے سروس بھی لینا پسند کریں گے اور یوٹیوب چینل والے بھی آپ کو اشتہارات کی مد میں ڈالرز میں آمدنی بھیجا کریں گے۔

پاکستانی آمدنی کے اعتبار سے صرف 5 ہزار ڈالرز موجود ہ ریٹ کے مطابق 13 لاکھ 87 ہزار روپے کچھ رقم بنتی ہے۔ یہ ایک پاکستانی فری لانسر کے لیے بہترین رقم ہے جو فری لانسنگ بزنس کے ساتھ ساتھ اپنے دیگر بزنس آن لائن شروع کرنا چاہتا ہو۔

فری لانسنگ بزنس میں خود کام کرنا پڑتا ہے جب آمدنی ملتی ہے جبکہ آن لائن کورسز بزنس میں ایک بار کورس بناکر مارکیٹ میں پیش کرنا ہوتا ہے اس کے بعد مارکیٹ میں آنے والے کسٹمرز کی مرضی پر ہے کہ وہ کورس خریدیں یا نہ خریدیں۔ یوڈیمی پر کاروبار کرنے میں ایک شدید نقصان یہ ہے کہ کورس ریفنڈ پالیسی 30 دن کا ٹائم دیتی ہے  اور کورس بیچنے والے کو اس پر کچھ بھی اختیار نہیں لہذا کورس بزنس یوڈیمی پر کرتے وقت اس چیز کا خیال رکھا جائے۔

اپنے طور پر اپنے کورسز بیچنے پر انسان خود اپنی مرضی کا مالک ہے۔ جسے چاہے جس ریٹ پر بیچے اور ریفنڈ کے معاملے پر پوچھ گچھ کرسکے تاکہ وجوہات جان سکے مگر یوڈیمی پر ایسا ممکن نہیں کیونکہ یوڈیمی والے اپنے کسٹمرز کا ڈیٹا کورس بیچنے والے کے حوالے نہیں کرتے۔ کوئی رابطہ ممکن نہیں سوائے کورس ڈیش بورڈ پر بات چیت کرنے کے۔ پرسنل معلومات رابطہ کے لیے صرف بونس لیکچر میں دی جاسکتی ہیں اور وہی ایک ذریعہ ہے اپنی دیگر سروسز ااور بزنس پروموٹ کرنے کےلیے جو کہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے کہ مصداق ٹھہرتا ہے۔

یوٹیوب چینل چلانا بہت ہی تھکادینے والا معاملہ ہے اور یوٹیوب ایک بزنس ہرگز نہیں ہے بلکہ محض ٹائم گزاری کے لیے اچھی چیز ہے۔کبھی بھی کسی بھی پالیسی کے مدنظر چینل اسٹرائک بھیج کر ڈیلیٹ کردیا جاتا ہے اور ساری محنت منٹوں میں ختم شد! اپنے رسک پر یوٹیوب چینل چلایا جائے مگر بزنس کے طور پر نہیں۔ بزنس کو پروموٹ کرنے کے لیے یوٹیوب چینل چلانا ایک بہترین پالیسی اور اسٹریٹجی ہے۔

اگر آپ کو یوڈیمی یا فری لانسنگ یا دیگر کسی بھی موضوع پر مجھ سے ون ٹو ون سیشن پر بات کرنی ہے تو آپ مجھے اسکائپ پر میسج کرکے آن لائن میٹنگ بک کرسکتے ہیں۔

لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد
Skype: realisticzee

جمعہ، 27 ستمبر، 2024

دنیا کے انسانوں کو بیوقوف بنانے کا دھندہ

ہزاروں سال سے اس زمین پر اللہ کے خلاف سرکشوں، گستاخوں اور بدبختوں نے جھوٹے خداوں کے نام پر دنیا کے انسانوں کو بیوقوف بنانے کا دھندا جاری رکھا ہواہے۔ یہ بدبخت جھوٹے خداوں کے نام پر معصوم انسانوں کا قتل عام کرتے ہیں، ان مسلمانوں کی ماں بہن بیٹیوں کی عزتوں کو لوٹ کر ان سے کھلواڑ کرتے ہیں جو اللہ کو خدا مان کر اس کی پوجا کرتے ہیں، ان کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو ہاتھ پاوں توڑ کر زمین پر کچل کچل کر بے رحمی سے مارڈالتے ہیں۔

یہ بھیڑیے خود کو ہندو، عیسائی، یہودی، ملحد، قادیانی، شیعہ کہتے ہیں۔ یہ ہیں وہ آستین کے سانپ جنہوں نے اپنے اپنے جھوٹے مذاہب ایجاد کرکے دین اسلام کے خلاف حضرت محمد رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو مٹانے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور ان کی اس مردود شیطانی کوششوں پر ان کا ساتھ دینے والے منافقین میں ہمت و جرات نہیں کہ یہ سچ کا ساتھ دے سکیں کیونکہ یہ سب مردود شیطانی کتے موت سے تھر تھر کانپتے ہیں۔انہیں اپنے گھر والوں سے بچھڑجانے کا خوف ہے، انہیں اپنے بچوں، مال و دولت، گھر بار، آسائشوں کے چھوٹ جانے کا خوف ہے۔ ان کے کاروبار، گاڑی بنگلے اور دیگر سازوسامان جو انہوں نے اپنی زندگی بھر کی محنت کرکے جمع کیا ہے وہ سب ختم ہوجانے کا خوف و خدشہ ہے۔

یہ ناکارہ لوگ کبھی دین اسلام کا بھرپور ساتھ نہیں دے سکیں گے۔یہ زمین ان نام نہاد مسلمانوں سے بھری پڑی ہے جو کبھی حق کے لیے ملکر اکٹھا نہیں ہوسکیں گے بلکہ یہ اپنے ان چند مٹھی بھر علمائے سو کے مذہبی غلام بنے رہیں گے جو انہیں اپنی خود ساختہ چکنی چڑی باتوں میں بہلا پھسلاکر بیوقوف بنارہے ہیں اور ان کے ذریعہ ان کے مال بٹور رہے ہیں محض اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے۔

نہ میں ان میں سے ہوں اور نہ میرا ان سب سے کوئی تعلق ہے ذاتی طور پر ماسوائے یہ کہ یہ تمام لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور اس ناطے میرے انسانی بھائی بہن ہیں اور بس!

اگر یہ سب اپنے باطل عقائد چھوڑ کر اسلام میں واپس لوٹ آئیں اور صحیح عقائد کے مطابق اپنی زندگی گزاریں تو میں انہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں ورنہ بصورت دیگر میں انہیں اللہ کے عذاب کی واضح وارننگ دیتا ہوں کہ یہ سب مارے جائیں گے اللہ کے حکم سے نازل ہونے والے عذابوں اور آفات کے ذریعہ اللہ کے جلال سے تہس نہس ہوکر۔

بے شک اللہ ڈھیل دیتا ہے مگر وہ سوتا نہیں اور نہ ہی اسے اونگھ یا نیند آتی ہے کہ اسے کچھ علم ہی نہیں۔ساری خدائی میرے اللہ واحد القہار کی ہے۔

اللہ اکبر

لیجنڈ آف اللہ

پیر، 23 ستمبر، 2024

اپنی زندگی کو خوشگوار بنائیں

ایک ابھی پوسٹ جے مجھے فیس بک سے ملی

 تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن حق ہیں :-

پہلا قانون فطرت:
اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر دیتی ہے....
اسی طرح اگر" دماغ" کو" اچھی فکروں" سے نہ بھرا جاۓ تو "کج فکری" اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف "الٹے سیدھے "خیالات آتے ہیں اور وہ "شیطان کا گھر" بن جاتا ہے۔
اس لئے مثبت سوچیں، اچھا سوچیں
دوسرا قانون فطرت:
جس کے پاس "جو کچھ" ہوتا ہے وہ" وہی کچھ" بانٹتا ہے۔ ۔ ۔
* خوش مزاج انسان "خوشیاں "بانٹتا ہے۔
* غمزدہ انسان "غم" بانٹتا ہے۔
* عالم "علم" بانٹتا ہے۔
* دیندار انسان "دین" بانٹتا ہے۔
* خوف زدہ انسان "خوف" بانٹتا ہے۔
اس لئے خود میں مثبت احساس پیدا کریں۔ اچھی چیزیں سیکھیں۔ مصروف رہیں۔ خوش رہیں۔
تیسرا قانون فطرت:
آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لۓ کہ۔ ۔ ۔
* کھانا ہضم نہ ہونے پر" بیماریاں" پیدا ہوتی ہیں۔
* مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" ریاکاری" بڑھتی ہے۔
* بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی" اور "غیبت" بڑھتی ہے۔
* تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور" میں اضافہ ہوتا ہے۔
* غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی" بڑھتی ہے۔
اس لئے ہضم کرنا سیکھیں۔
اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک" با مقصد" اور "با اخلاق" زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں
خوش رہیں۔۔۔خوشیاں بانٹیں۔۔۔۔