بدھ، 4 دسمبر، 2024

نریندر مودی اور نتن یاہو گدھے ہیں یا گدھے سے بدتر ہیں؟

ایک گدھے کے سامنے انسان کلام کرے اور گدھے کو بات سمجھ نہ آئے تو وہ انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ اس کے سامنے گدھا کھڑا ہے اس لیے بات سمجھ نہیں سکتا۔ مگر جب بات انسان سے کی جارہی ہو اور وہ گدھے والی حرکتیں کرے تو بات سمجھ نہیں آتی کہ گدھا زیادہ جانور ہے یا وہ انسان جو انسان ہونے کے باوجود گدھے والی حرکتیں کررہا ہے؟

اسرائیل کا پرائم منسٹر ہو یا انڈیا کا پرائم منسٹر ہو، دونوں انسان ہیں۔ دونوں پیشاب پاخانہ اپنے پیٹ میں لیے پھرتے ہیں۔ ان میں کوئی کمال کی بات نہیں۔ ایک غریب کے پاس بھی وہی سب کچھ ہے جو ان کے پاس ہے۔ فرق صرف عہدے کا ہے۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ انڈیا کے پرائم منسٹر نریندر مودی یا اسرائیل کے پرائم منسٹر نتن یاہو کو کسی خدا نے سرٹیفیکیٹ دے دیا ہے کہ تم میرے بندوں کو مارو اور قتل عام کرو؟

کیا دنیا میں انسان جی رہے ہیں یا پروفیشنلزم کے نام پر گدھوں سے میرا واسطہ پڑچکا ہے جنہیں بات سمجھ نہیں آرہی؟ گدھے کے سر سے بات گزرجائے ٹھیک ہے، مگر انسان ہونے کے باوجود گدھے والی حرکتیں؟ پھر میں یہ کہنے کا حق رکھتا ہوں کہ اربوں انسان گدھوں سے بھی گئے گزرے ہوچکے ہیں جو محض دولت کے پجاری، اندھے بہرے گونگے اور جھوٹے خداوں کے بیوپاری بن چکے ہیں۔

غضب خدا کا، ایک سال ہونے کو ہے اور غزہ کے نہتے معصوم بچوں کا قتل عام کیا جارہا ہے۔ دنیا کے پرائم منسٹرز اور آرمی آفیسرز بھنگ پی کر سوچکے ہیں کیا ؟کسی کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ہے ؟ کیسے انسان ہو تم لوگ؟ جانوروں سے بھی بدتر بن چکے ہو؟ 

ایک طرف جھوٹے خداوں کے نام پر جھوٹے مذاہب بنارکھے ہیں ۔پھر ان مذاہب کے نام پر لاکھوں سے زیادہ کتابوں کے انبار لگارکھے ہیں۔پھر اپنے اپنے ممالک کے نام پر اللہ کی زمین کو ٹکڑوں میں بانٹ رکھا ہے اور ویزا سسٹم بناکر لوگوں کو اپنا غلام بنارکھا ہے۔یہ سب تم کر کیا رہے ہو؟ کیا تم نے مرنا ہے یا جیتے رہنا ہے؟

کیا اللہ نے باقی چھوڑا پچھلی قوموں کو؟ نہیں! وہ سب مرچکے۔ تم سب بھی مرجاو گے مگر آستین کے سانپوں، تم سب اپنا حساب ضرور دو گے  کہ ایک شخص تمہیں سمجھا سمجھاکر تھک گیا مگر تم گدھوں سے بھی گئے گزرے نکلے۔

فنی ویڈیوز دیکھو گے، ننگی فحش باتیں کرو گے، فضول گپیں مارو گے مگر اصل کام کی بات تمہارے منہ اور ہاتھوں سے نکلتی نہیں۔نظر انداز کرکے خود کو عقلمند سمجھتے ہو؟ تم واقعی گدھے سے بھی بدتر ہو۔

دنیا کا ہر بچہ مسلم پیدا ہوتا ہے۔ دنیا کے ہر بچہ کو اللہ اس کی ماں کے پیٹ میں بناتا ہے۔ دنیا کے تمام غیرمسلم جھوٹے خداوں کے پجاری ہیں۔ دنیا کے تمام مذاہب دو نمبر اور جھوٹے اور فراڈ ہیں اسلام کے مقابلہ پر۔ یہ ہے حقیقت اور پورا سچ جسے دنیا کے دو ارب کے قریب مسلم غیرمسلموں سے چھپاتے ہیں جبکہ دنیا کے 6 ارب سے زائد غیرمسلم اپنے ماں باپ کے ہاتھوں بے وقوف بن کر کافر ہوچکے ہیں۔

کدھر ہیں عقل استعمال کرنے کے دعویدار؟ کیا تم لوگ نتن یاہو اور نریندر مودی جیسے غلام ہو جو شیطان کے اشاروں پر ناچ رہے ہو یا تم بھی اپنی عقل استعمال کرنے سے محروم ہوچکے ہو؟ اگر نہیں تو کلمہ پڑھو اور اسلام میں واپس لوٹ آو اور اپنے تمام دوست یاروں کو بتادو کہ انڈیا کا پرائم منسٹر اور اسرائیل کا پرائم منسٹر، دونوں دہشت گرد ہیں اور انسانوں کے قاتل ہیں۔  

انسانیت کے علمبردار اداروں کو چاہیے کہ ان دونوں خبیثوں کو گرفتار کرکے سخت ترین سزا دے کر دنیا کے انسانوں کو قتل عام سے بچایا جائے۔ ایک نے یہودیت کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام کروایا ہے اور دوسرے نے اس کی سپورٹ کی ہے اور ساتھ ہی ہندوازم کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام کروایا ہے۔دونوں بے غیرت شیطان کے یار ہیں اور اللہ کے غدار ہیں۔

اتوار، 1 دسمبر، 2024

کیا یونیورسٹی میں کوئی اسکل سکھائی جاتی ہے یا آپ کو خود سیکھنا پڑتا ہے؟

بعض یونیورسٹیوں میں کتابوں کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل اسکلز بھی سکھائی جاتی ہیں اور بعض یونیورسٹیوں میں آپ کو صرف کتابیں پڑھائی جاتی ہیں اور اسائنمنٹ کے طور پر پریکٹیکل ٹاسک دیے جاتے ہیں۔

اگر آپ کا مقصد جاب کرنا ہے تو ایسی یونیورسٹی میں ایسی ڈگری حاصل کریں جس کو مکمل کرنے کے بعد لازمی جاب ملنے کے چانسز کم از کم 90 فیصد ہوں کیونکہ جاب والوں کی ڈیمانڈ الگ ہوتی ہیں اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد پریکٹیکل تجربہ نہ ہونے کی صورت میں وہ جاب نہیں دیتے۔ ایسی صورت میں انٹرنشپ ہوتی ہے۔ اگر مل جائے تو وارے نیارے ورنہ دور کے ڈھول سہانے رہ جاتے ہیں۔

اگر یونیورسٹی والے اپنے اسٹوڈنٹس کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل طور پر انہیں فیلڈ کے لیے تیار کرنے میں بھرپور مدد بھی کرتے ہیں تب ایسی صورت میں ایسی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنا سب سے بہتر ہے بشرطیکہ وہاں ایڈمیشن میرٹ کی بنیاد پر ہو اسٹوڈنٹ کی قابلیت دیکھ کر نہ کہ صرف ماضی کا پیپر والا ریکارڈ دیکھ کر جیسا کہ عام طور پر رائج ہے کیونکہ بہت سے اسٹوڈنٹس گھریلو ماحول کی وجہ سے ذہنی طور پر ڈسٹرب ہوتے ہیں تو وہ اسکول / کالج میں خراب مارکس حاصل کرجاتے ہیں جبکہ بعد میں وہی بچے اپنی ذہانت اور خداداد صلاحیتوں کی بدولت کامیاب ہوجاتے ہیں بغیر ڈگریوں کے اور اگر ایسے اسٹوڈنٹس کو یونیورسٹیوں میں موقع دیا جائے صرف ان کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے تو سونے پر سہاگا ہوگا۔

بہرحال کونسی یونیورسٹی میں اسکل سکھائی جاتی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ آپ کو خود کرنا پڑے گا لہذا اپنی تحقیق مکمل کریں اور اس کے بعد فیصلہ کریں۔
بہتر یہی ہے کہ جس یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہو وہاں پر پڑھ کر نکلنے والے اسٹوڈنٹس کا کامیابی کا ریکارڈ دیکھا جائے کہ کتنے اسٹوڈنٹس باہر نکل کر پریکٹیکل طور پر کامیاب جارہے ہیں اور کتنے سڑک پر بیٹھ پر محض نوکری نہ ملنے کی گپیں مار رہے ہیں۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

بدھ، 27 نومبر، 2024

لاعلاج بیماریوں سے نجات حاصل کرسکیں (فری کریش کورس)

لیجنڈری روحانی ڈاکٹر مولانا ابرار عالم پاکستانی نے اردو زبان میں اس ٹیکنیک اور بہترین اسکل کو دنیا کے تمام انسانوں کی بھلائی کے لیے عام کردیا ہے جو کہ ان کی زندگی بھر کی کمائی کی ایک بہترین اسکل تھی۔اب یہ اسکل عام کردی گئی ہے تاکہ دنیا کے تمام انسان، خصوصا غریب لوگ  گھر بیٹھے اپنا روحانی علاج کرسکیں، اپنے جادو جنات کو جلاکر بھسم کرسکیں، لاعلاج بیماریوں سے نجات حاصل کرسکیں، روحانی سکون پاسکیں اور اپنے بیوی بچوں، والدین  اور رشتہ دار وغیرہ کا بھی روحانی علاج کرسکیں۔

انشاء اللہ، اس روحانی علاج کے طریقے کو استعمال کرنے کے ذریعے مولانا ابرار عالم گھر بیٹھے روحانی وائرلیس سسٹم کے تحت دنیا بھر میں کہیں بھی موجود لاعلاج مریضوں کا روحانی علاج کرتے ہیں لہذا یہ کوئی معمولی اسکل نہیں ہے بلکہ ایک بہت ہی قیمتی اسکل ہے جس کا صحیح  استعمال کرنے سے میڈیکل ڈاکٹرز اپنے اپنے ہسپتالوں، کلینک، میڈیکل سینٹرز، ہیلنگ کیمپس، عوامی بھلائی وغیرہ کی جگہوں پر فری روحانی علاج  شروع کرسکتے ہیں اور انہیں اللہ کی طاقت سے ٹھیک کرسکتے ہیں۔

اس میں کسی قسم کی میڈیسن استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے  بلکہ روز مرہ معمولات میں استعمال ہونے والی چند چیزیں استعمال کرنی ہیں مگر پھر بھی میڈیکل ڈاکٹرز اپنی دواوں اور دعاوں کو بھی استعمال کرسکتےہیں۔ان کی چیزوں کے فائدوں سے بھی کوئی انکار نہیں ہے اور انہیں استعمال کرنا بھی توکل کے خلاف ہرگز نہیں ہے۔

طریقہ کوئی بھی ہو، شفا اللہ کے حکم سے ہی ملتی ہے۔ انسان کا کام ہے کہ وہ اپنے اور دوسروں کے فائدے کے لیے ہر جائز طریقہ کار کو بھرپور طریقے سے استعمال کرے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ کی طرف سے آنے والی بھلائی کی طرف امید نہیں بلکہ پورا یقین رکھے، یہی ایمان ہے۔اپنا کام پورے یقین کے ساتھ کیا جائے صحیح طریقے سے۔

اگر اللہ نے چاہا تو صرف چند دنوں کے اندر اور بعض کیسز میں صرف چوبیس گھنٹوں کے اندر لاعلاج مریض کی حالت بہتر ہونا شروع ہوجائے گی اللہ  کے حکم سے بشرطیکہ علاج کرنے والا ایک نیک ،متقی اور پرہیزگار مسلمان ہو جو اولیاء اللہ، صحابہ کرام اور انبیاء کرام کا ادب اور احترام کرنے والا بھی ہو یعنی کہ ایک پریکٹیکل سنی مسلم ہو۔

میں اس کریش کورس کے ذریعے ایمانداری سے  مولانا ابرار عالم کے سکھائے ہوئے طریقے کو سکھاچکا ہوں اور سمجھا دیا ہے۔اسے سیکھیں، پریکٹس کریں اور ایکسپرٹ بنیں۔اس کے بعد چاہے دوسروں کا فری روحانی علاج کریں یا ایک کامیاب روحانی فری لانسر بن کر روحانی علاج معالجہ کا بزنس شروع کریں، وہ آپ کی اپنی مرضی ہے۔

بس یاد رکھیں کہ لالچ بہت بری بلا ہے جب کہ آپ کی آنکھوں کے سامنے دوسرے لوگ بیماری سے مررہے ہوں اور آپ ان کی جان بچانے کے لیے کچھ کرنے کے قابل ہوں اور آنکھیں بند کرلیں صرف اپنے ذاتی فائدے کے لیے تو یہ انسانیت نہیں ۔

ہم مسلمان، دنیا بھر کے انسانوں کی ہدایت کے لیے کام کرنے کے لیے چنے گئے ہیں اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہمارے ذریعے لوگوں کی اسلام کی سچائی کا بھی علم ہو اور انہیں اللہ کی طاقت کے کارناموں کے بارے میں بھی آگاہی ملے ۔ ان شاء اللہ

لیجنڈری فری لانسر پاکستان

ڈاکٹر لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

بدھ، 20 نومبر، 2024

لیجنڈ کی آمد لاہور کا اسموگ غائب

یہ تو اللہ کی ایک نشانی ہے کہ لیجنڈ لاہور پہنچتا ہے اور اس کی آمد سے پہلے ہی لاہور شہر کا موسم تبدیل ہونا شروع ہوجاتا ہے اور لیجنڈ کی آمد پر لاہور شہر کا اسموگ ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔یہ اللہ کے وجود پر ایک کھلی نشانی نہیں تو اور کیا ہے کہ اس کا پرچار کرنے والا جس شہر میں جاتا ہے وہاں کا نظام موسم درہم برہم ہوجاتا ہے اللہ کے حکم سے اور محکمہ موسمیات والوں سمیت میڈیا اینکرز، رپورٹرز اور جرنلسٹس وغیرہ کی نیوز رپورٹس اور دعوے زمین پر بکھر کر دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں؟ بے شک اللہ جو چاہے سو کرسکتا ہے اپنے لیجنڈ کے لیے مگر اکثر لوگ اپنی عقل سے کام نہیں لیتے۔ اللہ اکبر

اللہ کی طاقت سے لاعلاج بلی کے بچے کا علاج

 اللہ واحد القہار کی طاقت سے کام لیتے ہوئے ایک بلی کے بچے کو دوبارہ ٹھیک کرکے چلنے پھرنے کے قابل بنادیا اور اس کے بعد وہ بچہ اللہ ہی کے حکم پر مرکر اس دنیا سے واپس چلا گیا۔ اس کیس کے دوران کئی عجیب و غریب سین رونما ہوئے جو اس بات پر ایک جیتی جاگتی نشانی ہے کہ اللہ جب چاہے جہاں چاہے کسی بھی لاعلاج مریض کو دوبارہ چلنے پھرنے کے قابل بناسکتا ہے۔دوبارہ ہیلنگ کرسکتا ہے اور وہ کوئی مصنوعی خدا نہیں ہے۔

جمعرات، 7 نومبر، 2024

بزنس اور اسلام کے لیے کام ایک ساتھ کرنے کا طریقہ اور آئیڈیاز

اسلامی فلاحی کاموں کے لیے پیسہ کمانا ایک بہت بڑا اور اہم مسئلہ ہے، خاص طور پر جب اس کا مقصد صرف اور صرف دین اسلام کی خدمت ہو۔ اس مضمون میں ہم بات کریں گے کہ کس طرح ہم دین اسلام کے لیے پیسہ کما سکتے ہیں، بغیر کسی ذاتی مفاد یا دنیاوی مقصد کے۔  

کیا آپ دین اسلام کے لیے پیسہ کمانا چاہتے ہیں؟

اگر آپ ایک مذہبی رہنما، روحانی پیشوا یا کسی ایسے فرد ہیں جو اسلام کے کاموں میں شریک ہو کر دین کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو پیسہ کمانے کے حوالے سے چند اہم اصولوں پر دھیان دینا ضروری ہے۔

 پیسہ صرف اسلام کی خدمت کے لیے

سب سے پہلے یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ پیسہ صرف اسلام کے فلاحی کاموں کے لیے استعمال ہوگا۔ اس پیسے کا کوئی ذاتی مقصد یا دنیاوی فائدہ نہیں ہوگا۔ چاہے آپ کسی کاروبار سے پیسہ کمائیں، سروس فراہم کریں یا پراڈکٹ بیچیں، اس کا واحد مقصد دین اسلام کی خدمت ہوگا۔ 

 ذاتی مفاد کو اسلام کے کام سے الگ رکھیں

پیسہ کمانے کا مقصد کبھی بھی ذاتی مفاد یا دنیاوی خواہشات کا حصول نہیں ہونا چاہیے۔ جب آپ اسلام کی خدمت کے لیے پیسہ کمائیں گے، تو اس پیسے کا ہر جزو صرف دین کے کاموں میں خرچ کیا جائے گا۔ اگر آپ اپنی ذاتی زندگی یا کاروباری معاملات میں اس پیسے کا استعمال کریں گے، تو اس سے اسلامی مشن میں خلل آ سکتا ہے، اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں اکثر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

 پیسہ کمانے کا طریقہ شفاف اور اصولی ہو

پیسہ کمانا ایک باوقار اور اصولی عمل ہونا چاہیے۔ اس عمل میں شفافیت اور ایمانداری کا ہونا ضروری ہے۔ جب آپ دین اسلام کے لیے پیسہ کماتے ہیں، تو آپ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہر قدم درست طریقے سے اٹھایا جائے تاکہ پیسہ کسی غیر اسلامی مقصد کے لیے استعمال نہ ہو۔

سروس یا پراڈکٹ سے کلائنٹ کا اطمینان حاصل کریں

اسلامی مشن میں پیسہ کمانے کا ایک اہم جزو یہ ہے کہ آپ کی فراہم کردہ سروس یا پراڈکٹ کلائنٹ کے لیے مفید ہو اور وہ اس سے مکمل طور پر مطمئن ہو۔ جب کلائنٹ مکمل طور پر مطمئن ہو، تو اس کے بعد ہی پیسہ اسلامی کاموں میں خرچ کیا جائے گا۔ 

 پیسہ کا مکمل انتظام اور لین دین ایک شخص کے ذریعے ہو

پیسہ کا انتظام اور لین دین ہمیشہ ایک شخص کے ذریعے ہو تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی یا مسائل کا سامنا نہ ہو۔ اس شخص کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ پیسہ اسلامی کاموں کے لیے مختص کرے اور اس کا ہر حصہ شفاف طریقے سے استعمال کرے۔

معاہدے اور تحریری طور پر ذمہ داریوں کا تعین

پیسہ کمانے کا عمل اس وقت تک مکمل نہیں سمجھا جائے گا جب تک کہ اس کے بارے میں تمام ذمہ داریاں اور اصول تحریری طور پر واضح نہ ہوں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اور آپ کے شراکت داروں کے درمیان ایک معاہدہ ہو جس میں پیسہ کے استعمال اور ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہو۔

ذاتی اختلافات اور کاروباری معاملات کو علیحدہ رکھیں

ہمیں اپنے ذاتی اختلافات، فیملی مسائل اور کاروباری معاملات کو اسلامی مشن سے علیحدہ رکھنا چاہیے۔ اگر آپ چاہیں کہ اس مشن میں کامیاب ہوں، تو ذاتی اور مذہبی کاموں کو الگ رکھنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی پیچیدگیاں یا جھگڑے پیدا نہ ہوں۔

 غلبہ اسلام کا مقصد سب سے اہم اور اول نمبر پر ہونا چاہیے

یہ تمام اصول اور اقدامات اس لیے ضروری ہیں تاکہ ہم اسلام کے مشن کو ہر قیمت پر کامیاب بنائیں۔ پیسہ کمانا، کاروبار کرنا یا سروس فراہم کرنا، ان سب کا مقصد دین اسلام کی خدمت ہونا چاہیے۔ اس طرح ہم نہ صرف اسلام کی خدمت کریں گے بلکہ اس مشن کو بھی آگے بڑھائیں گے۔

آپ کے لیے کیا ہے؟

اگر آپ دین اسلام کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں اور اس مشن میں شامل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں، تو آپ کو پہلے ان اصولوں کو سمجھنا ہوگا اور اس پر عمل کرنا ہوگا۔ آپ کے لیے یہ موقع ہے کہ آپ اپنے کاروبار یا سروس کے ذریعے پیسہ کمائیں اور اسے اسلام کی خدمت میں لگائیں۔

خلاصہ

پیسہ کمانا اور دین اسلام کے لیے اس کا استعمال ایک عظیم مقصد ہے۔ ہمیں اپنی نیت صاف رکھنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہمارا ہر قدم دین اسلام کی خدمت کے لیے ہو۔ جب تک ہم اس بات پر عمل کرتے ہیں، ہم اس مشن میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور دنیا و آخرت میں اس کا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔

اللہ ہمیں اپنے مشن کو پورا کرنے کی توفیق دے۔

جمعرات، 24 اکتوبر، 2024

شیخ عبدالقادر جیلانی کی 100 کرامات کی فہرست

1. درختوں کا جھکنا  

2. مردوں کا زندہ ہونا  

3. پانی پر چلنا  

4. غیب سے رزق کا آنا  

5. بچپن کی کرامت  

6. حضور ﷺ کی زیارت  

7. شیطان کا شکست کھانا  

8. خدا کا دیدار  

9. خفیہ رازوں کا علم  

10. دشمنوں کا توبہ کرنا  

11. بیماروں کا شفاء پانا  

12. دشمنوں کی نابودی  

13. دلوں کا حال جاننا  

14. قید سے رہائی دلانا  

15. بارش کی دعا قبول ہونا  

16. مریضوں کا شفاء پانا  

17. غائب لوگوں کی خبر دینا  

18. جنات کا قابو میں آنا  

19. دعا سے رزق میں برکت  

20. دعا سے نیک اولاد کا پیدا ہونا  

21. شیطان کی چالوں کا ناکام ہونا  

22. دشمنوں کے دلوں میں محبت پیدا ہونا  

23. حاجات پوری ہونا  

24. اللہ کی محبت حاصل کرنا  

25. کشتیوں کا محفوظ رہنا  

26. جنات کا مسلمان ہونا  

27. صحابہ کرام کی زیارت  

28. لوگوں کو نیکی کی راہ پر چلانا  

29. دلوں کا نورانی ہونا  

30. گمشدہ چیزوں کا ملنا  

31. مسافروں کا حفاظت سے واپس آنا  

32. علم کی روشنی پھیلانا  

33. فقرا کو دنیاوی وسائل دینا  

34. مریدوں کے حالات بدلنا  

35. اولیاء اللہ کی صحبت  

36. دین کے دشمنوں کا ہدایت پانا  

37. رات کو دن جیسا روشن کر دینا  

38. ظالموں کا تباہ ہونا  

39. فقیری میں بادشاہی  

40. روحانی طاقت کا ظہور  

41. غموں کا دور ہونا  

42. متقی لوگوں کا آپ سے فیض حاصل کرنا  

43. جاہلوں کا علم حاصل کرنا  

44. چوروں کا توبہ کرنا  

45. جنگل میں پانی ظاہر ہونا  

46. ہواؤں کا قابو میں آنا  

47. جانوروں کا آپ کا ادب کرنا  

48. مخلوق کا آپ کے ساتھ محبت کرنا  

49. دشمنوں کا عاجز ہو جانا  

50. اللہ کی طرف سے بے پناہ انعامات  

51. شیطانوں کا عاجز آنا  

52. کفار کا آپ کے ہاتھوں ایمان لانا  

53. خوابوں کی سچائی  

54. حکمرانوں کی اطاعت  

55. ولیوں کا آپ کی تعظیم کرنا  

56. بچوں کی دعا سے تندرستی  

57. نیک لوگوں کا قرب  

58. دشمنوں کا خود سپردگی کرنا  

59. فقیروں کا عزت پانا  

60. عالموں کا آپ کی صحبت میں علم حاصل کرنا  

61. جوانی میں تقویٰ  

62. فقر میں خوشحالی  

63. غیر مرئی مخلوقات کا ادب  

64. مشکلوں کا حل  

65. زبان کی طاقت  

66. دعا کی قبولیت  

67. بیک وقت کئی مقامات پر موجودگی  

68. دشمنوں کی سازشوں کا ناکام ہونا  

69. اللہ کی قدرت کا مظاہرہ  

70. سخت دلوں کا نرم ہونا  

71. درختوں کا پھل دینا  

72. پانی کے چشمے کا پھوٹنا  

73. لوگوں کے گناہوں کی معافی  

74. عذاب کا ٹلنا  

75. زمین کا اپنے خزانے ظاہر کرنا  

76. پرندوں کا آپ کی زیارت کرنا  

77. دریا کے جانوروں کا آپ کے حکم پر آنا  

78. مرادوں کا پورا ہونا  

79. گناہوں کا معاف ہونا  

80. اہل علم کی عزت  

81. اللہ کے ولیوں کا فیض پانا  

82. دعا سے آسمانوں کا در کھلنا  

83. چمکنے والے ستاروں کا نظر آنا  

84. علماء کا آپ کی خدمت میں حاضر ہونا  

85. رشتہ داروں کا آپ کے زیر اثر آنا  

86. دشمنوں کا آپ کی بات ماننا  

87. چوری سے بچنا  

88. مسلمانوں کا دین میں مضبوط ہونا  

89. نیکی کے کاموں میں کامیابی  

90. والدین کی عزت  

91. اللہ کی قدرت کا مشاہدہ  

92. دشمنوں کا ایمان لانا  

93. دین کا پھیلنا  

94. لوگوں کا آپ سے فیض پانا  

95. آپ کی دعا سے جنت میں داخلہ  

96. دشمنوں کی منصوبہ بندی کا ناکام ہونا  

97. مرنے والوں کا ایمان پر ہونا  

98. آپ کی دعا سے شیطان کا بھاگنا  

99. لوگوں کا روحانی فیض پانا  

100. زمین کی دوریوں کا ختم ہونا