جمعہ، 6 دسمبر، 2024

کیا ایک اکیلا فری لانسر ماہانہ پانچ سو ڈالر آسانی سے کماسکتا ہے؟

جی ہاں، ایک اکیلا فری لانسر ماہانہ پانچ سو ڈالر یا اس سے زیادہ کما سکتا ہے، لیکن یہ کئی عوامل پر منحصر ہے، جیسے کہ مہارت، تجربہ، کام کے مواقع، اور وقت کی مقدار جو آپ کام میں لگا سکتے ہیں۔ یہاں چند نکات ہیں جو آپ کو اس ہدف کو حاصل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں:


1. مہارت کا انتخاب کریں جو طلب میں ہو

  • ایسی مہارتیں جو مارکیٹ میں زیادہ مانگ میں ہیں، جیسے کہ:
    • گرافک ڈیزائن
    • ویب ڈیولپمنٹ
    • ڈیجیٹل مارکیٹنگ (SEO، SMM)
    • کنٹینٹ رائٹنگ
    • ویڈیو ایڈیٹنگ
    • ڈیٹا انٹری
    • پروگرامنگ یا ایپ ڈیولپمنٹ

2. فری لانسنگ پلیٹ فارمز پر پروفائل بنائیں

  • Fiverr، Upwork، Freelancer، یا Toptal جیسے پلیٹ فارمز پر اپنی پروفائل بنائیں۔
  • اپنے پروفائل کو پرکشش بنائیں اور اپنی مہارت کو نمایاں کریں۔
  • شروع میں کم قیمت پر خدمات فراہم کریں تاکہ اچھے ریویوز اور تجربہ حاصل ہو۔

3. مؤثر مارکیٹنگ

  • سوشل میڈیا کا استعمال کریں۔
  • لنکڈ ان پر نیٹ ورکنگ کریں۔
  • اپنی مہارت کو دکھانے کے لیے ایک پورٹ فولیو بنائیں۔

4. وقت اور مستقل مزاجی

  • روزانہ کم از کم 4-6 گھنٹے کام کریں۔
  • کلائنٹس کے ساتھ اچھے تعلقات بنائیں اور وقت پر کام ڈیلیور کریں۔

5. ریٹ اور کام کا معیار

  • شروع میں فی گھنٹہ $5-$10 چارج کریں، پھر اپنی مہارت بڑھنے اور ریویوز حاصل کرنے کے بعد ریٹس بڑھائیں۔
  • اگر آپ ہفتہ وار 15-20 گھنٹے کام کریں اور معیاری سروس فراہم کریں تو پانچ سو ڈالر ماہانہ کمانا ممکن ہے۔

6. کامیاب مثالیں

بہت سے افراد نے فری لانسنگ کے ذریعے کامیابی حاصل کی ہے۔ ایک بار آپ کو مستقل کلائنٹس مل جائیں تو آمدنی مزید بڑھ سکتی ہے۔


چیلنجز

  • ابتدا میں کلائنٹس تلاش کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
  • سخت مقابلہ ہے، لہذا صبر اور مستقل مزاجی ضروری ہے۔
  • مناسب وقت اور توانائی لگانی ہوگی۔

نتیجہ

اگر آپ مسلسل محنت کریں، اچھی مہارتیں حاصل کریں اور مؤثر طریقے سے اپنے آپ کو مارکیٹ کریں، تو $500 یا اس سے زیادہ ماہانہ کمانا یقینی طور پر ممکن ہے۔

جمعرات، 5 دسمبر، 2024

پیسے کے بغیر مدد کیسے کریں؟

مدد صرف مالی امداد دینے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنی مہارت، علم، وقت اور توانائی کو دوسروں کی زندگی بہتر بنانے اور دنیا میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے استعمال کریں۔ یہاں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ آپ بغیر پیسے خرچ کیے کس طرح مدد کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب آپ کے پاس انٹرنیٹ، تحقیق، ویڈیو ایڈیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، ویب ڈویلپمنٹ، اور روحانی شفا جیسی مہارتیں ہوں۔


مدد کا وسیع مفہوم

مدد کئی طریقوں سے کی جا سکتی ہے:

  1. جذباتی سہارا: کسی کی بات سننا، اسے تسلی دینا، اور ان کے ساتھ موجود ہونا۔
  2. علم کی شراکت: دوسروں کو سکھانا، رہنمائی دینا، یا معلومات فراہم کرنا تاکہ وہ خود مختار بن سکیں۔
  3. مہارت کا استعمال: اپنی مہارت کو مسائل حل کرنے یا مواقع پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنا۔
  4. آواز اٹھانا: ان لوگوں کے حق میں بات کرنا جو خود اپنی بات نہیں کہہ سکتے۔
  5. کمیونٹی کی تشکیل: لوگوں کو آپس میں جوڑنا اور تعلقات کو مضبوط بنانا۔
  6. عملی مدد: اپنی غیر مالی وسائل کے ذریعے دوسروں کے مقاصد کو حاصل کرنے میں مدد دینا۔

پیسے کے بغیر مدد کیسے کریں؟

آپ کی موجودہ مہارتوں کو استعمال کرتے ہوئے، آپ ان طریقوں سے لوگوں اور مخلوقات کی مدد کر سکتے ہیں:

1. علم اور آگاہی پھیلائیں

  • بلاگز لکھیں یا مواد بنائیں: تعلیمی مواد بنائیں، جیسے قدرتی تحفظ، دماغی صحت، یا سکلز سکھانے پر۔
  • انسٹرکشنل ویڈیوز بنائیں: اپنی ویڈیو ایڈیٹنگ اور گرافک ڈیزائن کی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے ویڈیوز کے ذریعے حقیقی دنیا کے مسائل کا حل بتائیں۔
  • سوشل میڈیا کیمپینز: جانوروں کی فلاح و بہبود، ماحولیات کے تحفظ، یا معاشرتی انصاف کے بارے میں آگاہی مہمات چلائیں۔

2. ٹولز اور وسائل بنائیں

  • ویب سائٹس تیار کریں: این جی اوز یا جانوروں کے شیلٹرز کے لیے مفت یا کم قیمت ویب سائٹس بنائیں۔
  • تعلیمی مواد ڈیزائن کریں: گرافک ڈیزائن کی مدد سے پوسٹرز، انفوگرافکس، یا ای-بکس تیار کریں۔
  • اوپن سورس پروجیکٹس: اپنی ڈویلپمنٹ اسکلز کو ایسے منصوبوں کے لیے وقف کریں جو محروم طبقے کی مدد کریں۔

3. آن لائن رضاکارانہ خدمات

  • مینٹورشپ دیں: طلباء، گرافک ڈیزائنرز، یا ویب ڈویلپرز کی رہنمائی کریں۔
  • آن لائن جذباتی سپورٹ: کسی ہیلپ لائن یا سپورٹ گروپ میں شامل ہو کر لوگوں کی بات سنیں۔
  • جانوروں کی فلاح و بہبود: ایسے مواد بنائیں جو جانوروں کے شیلٹرز یا ان کی گود لینے میں مدد کرے۔

4. کمیونٹی اور تعاون کو فروغ دیں

  • آن لائن کمیونٹیز بنائیں: ایسے فورمز یا گروپ بنائیں جہاں لوگ ایک دوسرے کو سپورٹ کر سکیں اور وسائل بانٹ سکیں۔
  • ماہرین کو جوڑیں: اپنے نیٹ ورک کا استعمال کرکے لوگوں کو مسائل حل کرنے کے لیے ساتھ لائیں۔

5. ماحول دوست طرز زندگی کو فروغ دینا

  • ڈیجیٹل آگاہی: پائیدار زندگی کے بارے میں مواد بنائیں۔
  • جنگلی حیات کی حفاظت: ایسے منصوبوں میں مدد کریں جو خطرے سے دوچار جانوروں یا ان کے قدرتی مسکن کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں۔

6. روحانی اور جذباتی مدد فراہم کریں

  • روحانی رہنمائی کریں: اپنی روحانی شفا کی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو جذباتی مسائل سے نکلنے میں مدد دیں۔
  • مفت سیشنز پیش کریں: ذہن سازی، مراقبہ، یا دباؤ کم کرنے کی تکنیکیں سکھائیں۔

7. سائنس میں حصہ ڈالیں

  • تحقیقی تنظیموں کی مدد کریں، ڈیٹا کا تجزیہ کریں یا ماحولیاتی تبدیلی اور جنگلی حیات پر کام کرنے والے منصوبوں میں حصہ ڈالیں۔

اپنے مقام سے اثر ڈالنا

لپ ٹاپ، انٹرنیٹ، اور تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ:

  1. کمیونٹی سپورٹ حاصل کریں: لوگوں کو وقت اور مہارتیں دینے کے لیے ایک پلیٹ فارم بنائیں۔
  2. ڈیٹابیس تیار کریں: ایسے وسائل کے لیے ایک جگہ بنائیں جہاں لوگ مفت معلومات اور خدمات حاصل کر سکیں۔
  3. تبدیلی کے لیے آواز اٹھائیں: پٹیشنز یا کالز ٹو ایکشن کو پھیلانے کے لیے اپنا اثر استعمال کریں۔

مدد کی اصل روح

مدد صرف وسائل دینے کی بات نہیں بلکہ دوسروں کو بہتر، مضبوط اور خودمختار بنانے کا نام ہے۔ اپنی دانشمندی اور مہارت کو استعمال کرتے ہوئے، آپ مثبت تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں اور ایسی دنیا بنا سکتے ہیں جہاں ہر چھوٹا عمل بڑے اثرات پیدا کرے۔

بدھ، 4 دسمبر، 2024

نریندر مودی اور نتن یاہو گدھے ہیں یا گدھے سے بدتر ہیں؟

ایک گدھے کے سامنے انسان کلام کرے اور گدھے کو بات سمجھ نہ آئے تو وہ انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ اس کے سامنے گدھا کھڑا ہے اس لیے بات سمجھ نہیں سکتا۔ مگر جب بات انسان سے کی جارہی ہو اور وہ گدھے والی حرکتیں کرے تو بات سمجھ نہیں آتی کہ گدھا زیادہ جانور ہے یا وہ انسان جو انسان ہونے کے باوجود گدھے والی حرکتیں کررہا ہے؟

اسرائیل کا پرائم منسٹر ہو یا انڈیا کا پرائم منسٹر ہو، دونوں انسان ہیں۔ دونوں پیشاب پاخانہ اپنے پیٹ میں لیے پھرتے ہیں۔ ان میں کوئی کمال کی بات نہیں۔ ایک غریب کے پاس بھی وہی سب کچھ ہے جو ان کے پاس ہے۔ فرق صرف عہدے کا ہے۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ انڈیا کے پرائم منسٹر نریندر مودی یا اسرائیل کے پرائم منسٹر نتن یاہو کو کسی خدا نے سرٹیفیکیٹ دے دیا ہے کہ تم میرے بندوں کو مارو اور قتل عام کرو؟

کیا دنیا میں انسان جی رہے ہیں یا پروفیشنلزم کے نام پر گدھوں سے میرا واسطہ پڑچکا ہے جنہیں بات سمجھ نہیں آرہی؟ گدھے کے سر سے بات گزرجائے ٹھیک ہے، مگر انسان ہونے کے باوجود گدھے والی حرکتیں؟ پھر میں یہ کہنے کا حق رکھتا ہوں کہ اربوں انسان گدھوں سے بھی گئے گزرے ہوچکے ہیں جو محض دولت کے پجاری، اندھے بہرے گونگے اور جھوٹے خداوں کے بیوپاری بن چکے ہیں۔

غضب خدا کا، ایک سال ہونے کو ہے اور غزہ کے نہتے معصوم بچوں کا قتل عام کیا جارہا ہے۔ دنیا کے پرائم منسٹرز اور آرمی آفیسرز بھنگ پی کر سوچکے ہیں کیا ؟کسی کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ہے ؟ کیسے انسان ہو تم لوگ؟ جانوروں سے بھی بدتر بن چکے ہو؟ 

ایک طرف جھوٹے خداوں کے نام پر جھوٹے مذاہب بنارکھے ہیں ۔پھر ان مذاہب کے نام پر لاکھوں سے زیادہ کتابوں کے انبار لگارکھے ہیں۔پھر اپنے اپنے ممالک کے نام پر اللہ کی زمین کو ٹکڑوں میں بانٹ رکھا ہے اور ویزا سسٹم بناکر لوگوں کو اپنا غلام بنارکھا ہے۔یہ سب تم کر کیا رہے ہو؟ کیا تم نے مرنا ہے یا جیتے رہنا ہے؟

کیا اللہ نے باقی چھوڑا پچھلی قوموں کو؟ نہیں! وہ سب مرچکے۔ تم سب بھی مرجاو گے مگر آستین کے سانپوں، تم سب اپنا حساب ضرور دو گے  کہ ایک شخص تمہیں سمجھا سمجھاکر تھک گیا مگر تم گدھوں سے بھی گئے گزرے نکلے۔

فنی ویڈیوز دیکھو گے، ننگی فحش باتیں کرو گے، فضول گپیں مارو گے مگر اصل کام کی بات تمہارے منہ اور ہاتھوں سے نکلتی نہیں۔نظر انداز کرکے خود کو عقلمند سمجھتے ہو؟ تم واقعی گدھے سے بھی بدتر ہو۔

دنیا کا ہر بچہ مسلم پیدا ہوتا ہے۔ دنیا کے ہر بچہ کو اللہ اس کی ماں کے پیٹ میں بناتا ہے۔ دنیا کے تمام غیرمسلم جھوٹے خداوں کے پجاری ہیں۔ دنیا کے تمام مذاہب دو نمبر اور جھوٹے اور فراڈ ہیں اسلام کے مقابلہ پر۔ یہ ہے حقیقت اور پورا سچ جسے دنیا کے دو ارب کے قریب مسلم غیرمسلموں سے چھپاتے ہیں جبکہ دنیا کے 6 ارب سے زائد غیرمسلم اپنے ماں باپ کے ہاتھوں بے وقوف بن کر کافر ہوچکے ہیں۔

کدھر ہیں عقل استعمال کرنے کے دعویدار؟ کیا تم لوگ نتن یاہو اور نریندر مودی جیسے غلام ہو جو شیطان کے اشاروں پر ناچ رہے ہو یا تم بھی اپنی عقل استعمال کرنے سے محروم ہوچکے ہو؟ اگر نہیں تو کلمہ پڑھو اور اسلام میں واپس لوٹ آو اور اپنے تمام دوست یاروں کو بتادو کہ انڈیا کا پرائم منسٹر اور اسرائیل کا پرائم منسٹر، دونوں دہشت گرد ہیں اور انسانوں کے قاتل ہیں۔  

انسانیت کے علمبردار اداروں کو چاہیے کہ ان دونوں خبیثوں کو گرفتار کرکے سخت ترین سزا دے کر دنیا کے انسانوں کو قتل عام سے بچایا جائے۔ ایک نے یہودیت کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام کروایا ہے اور دوسرے نے اس کی سپورٹ کی ہے اور ساتھ ہی ہندوازم کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام کروایا ہے۔دونوں بے غیرت شیطان کے یار ہیں اور اللہ کے غدار ہیں۔

اتوار، 1 دسمبر، 2024

کیا یونیورسٹی میں کوئی اسکل سکھائی جاتی ہے یا آپ کو خود سیکھنا پڑتا ہے؟

بعض یونیورسٹیوں میں کتابوں کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل اسکلز بھی سکھائی جاتی ہیں اور بعض یونیورسٹیوں میں آپ کو صرف کتابیں پڑھائی جاتی ہیں اور اسائنمنٹ کے طور پر پریکٹیکل ٹاسک دیے جاتے ہیں۔

اگر آپ کا مقصد جاب کرنا ہے تو ایسی یونیورسٹی میں ایسی ڈگری حاصل کریں جس کو مکمل کرنے کے بعد لازمی جاب ملنے کے چانسز کم از کم 90 فیصد ہوں کیونکہ جاب والوں کی ڈیمانڈ الگ ہوتی ہیں اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد پریکٹیکل تجربہ نہ ہونے کی صورت میں وہ جاب نہیں دیتے۔ ایسی صورت میں انٹرنشپ ہوتی ہے۔ اگر مل جائے تو وارے نیارے ورنہ دور کے ڈھول سہانے رہ جاتے ہیں۔

اگر یونیورسٹی والے اپنے اسٹوڈنٹس کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل طور پر انہیں فیلڈ کے لیے تیار کرنے میں بھرپور مدد بھی کرتے ہیں تب ایسی صورت میں ایسی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنا سب سے بہتر ہے بشرطیکہ وہاں ایڈمیشن میرٹ کی بنیاد پر ہو اسٹوڈنٹ کی قابلیت دیکھ کر نہ کہ صرف ماضی کا پیپر والا ریکارڈ دیکھ کر جیسا کہ عام طور پر رائج ہے کیونکہ بہت سے اسٹوڈنٹس گھریلو ماحول کی وجہ سے ذہنی طور پر ڈسٹرب ہوتے ہیں تو وہ اسکول / کالج میں خراب مارکس حاصل کرجاتے ہیں جبکہ بعد میں وہی بچے اپنی ذہانت اور خداداد صلاحیتوں کی بدولت کامیاب ہوجاتے ہیں بغیر ڈگریوں کے اور اگر ایسے اسٹوڈنٹس کو یونیورسٹیوں میں موقع دیا جائے صرف ان کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے تو سونے پر سہاگا ہوگا۔

بہرحال کونسی یونیورسٹی میں اسکل سکھائی جاتی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ آپ کو خود کرنا پڑے گا لہذا اپنی تحقیق مکمل کریں اور اس کے بعد فیصلہ کریں۔
بہتر یہی ہے کہ جس یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہو وہاں پر پڑھ کر نکلنے والے اسٹوڈنٹس کا کامیابی کا ریکارڈ دیکھا جائے کہ کتنے اسٹوڈنٹس باہر نکل کر پریکٹیکل طور پر کامیاب جارہے ہیں اور کتنے سڑک پر بیٹھ پر محض نوکری نہ ملنے کی گپیں مار رہے ہیں۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

بدھ، 27 نومبر، 2024

لاعلاج بیماریوں سے نجات حاصل کرسکیں (فری کریش کورس)

لیجنڈری روحانی ڈاکٹر مولانا ابرار عالم پاکستانی نے اردو زبان میں اس ٹیکنیک اور بہترین اسکل کو دنیا کے تمام انسانوں کی بھلائی کے لیے عام کردیا ہے جو کہ ان کی زندگی بھر کی کمائی کی ایک بہترین اسکل تھی۔اب یہ اسکل عام کردی گئی ہے تاکہ دنیا کے تمام انسان، خصوصا غریب لوگ  گھر بیٹھے اپنا روحانی علاج کرسکیں، اپنے جادو جنات کو جلاکر بھسم کرسکیں، لاعلاج بیماریوں سے نجات حاصل کرسکیں، روحانی سکون پاسکیں اور اپنے بیوی بچوں، والدین  اور رشتہ دار وغیرہ کا بھی روحانی علاج کرسکیں۔

انشاء اللہ، اس روحانی علاج کے طریقے کو استعمال کرنے کے ذریعے مولانا ابرار عالم گھر بیٹھے روحانی وائرلیس سسٹم کے تحت دنیا بھر میں کہیں بھی موجود لاعلاج مریضوں کا روحانی علاج کرتے ہیں لہذا یہ کوئی معمولی اسکل نہیں ہے بلکہ ایک بہت ہی قیمتی اسکل ہے جس کا صحیح  استعمال کرنے سے میڈیکل ڈاکٹرز اپنے اپنے ہسپتالوں، کلینک، میڈیکل سینٹرز، ہیلنگ کیمپس، عوامی بھلائی وغیرہ کی جگہوں پر فری روحانی علاج  شروع کرسکتے ہیں اور انہیں اللہ کی طاقت سے ٹھیک کرسکتے ہیں۔

اس میں کسی قسم کی میڈیسن استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے  بلکہ روز مرہ معمولات میں استعمال ہونے والی چند چیزیں استعمال کرنی ہیں مگر پھر بھی میڈیکل ڈاکٹرز اپنی دواوں اور دعاوں کو بھی استعمال کرسکتےہیں۔ان کی چیزوں کے فائدوں سے بھی کوئی انکار نہیں ہے اور انہیں استعمال کرنا بھی توکل کے خلاف ہرگز نہیں ہے۔

طریقہ کوئی بھی ہو، شفا اللہ کے حکم سے ہی ملتی ہے۔ انسان کا کام ہے کہ وہ اپنے اور دوسروں کے فائدے کے لیے ہر جائز طریقہ کار کو بھرپور طریقے سے استعمال کرے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ کی طرف سے آنے والی بھلائی کی طرف امید نہیں بلکہ پورا یقین رکھے، یہی ایمان ہے۔اپنا کام پورے یقین کے ساتھ کیا جائے صحیح طریقے سے۔

اگر اللہ نے چاہا تو صرف چند دنوں کے اندر اور بعض کیسز میں صرف چوبیس گھنٹوں کے اندر لاعلاج مریض کی حالت بہتر ہونا شروع ہوجائے گی اللہ  کے حکم سے بشرطیکہ علاج کرنے والا ایک نیک ،متقی اور پرہیزگار مسلمان ہو جو اولیاء اللہ، صحابہ کرام اور انبیاء کرام کا ادب اور احترام کرنے والا بھی ہو یعنی کہ ایک پریکٹیکل سنی مسلم ہو۔

میں اس کریش کورس کے ذریعے ایمانداری سے  مولانا ابرار عالم کے سکھائے ہوئے طریقے کو سکھاچکا ہوں اور سمجھا دیا ہے۔اسے سیکھیں، پریکٹس کریں اور ایکسپرٹ بنیں۔اس کے بعد چاہے دوسروں کا فری روحانی علاج کریں یا ایک کامیاب روحانی فری لانسر بن کر روحانی علاج معالجہ کا بزنس شروع کریں، وہ آپ کی اپنی مرضی ہے۔

بس یاد رکھیں کہ لالچ بہت بری بلا ہے جب کہ آپ کی آنکھوں کے سامنے دوسرے لوگ بیماری سے مررہے ہوں اور آپ ان کی جان بچانے کے لیے کچھ کرنے کے قابل ہوں اور آنکھیں بند کرلیں صرف اپنے ذاتی فائدے کے لیے تو یہ انسانیت نہیں ۔

ہم مسلمان، دنیا بھر کے انسانوں کی ہدایت کے لیے کام کرنے کے لیے چنے گئے ہیں اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہمارے ذریعے لوگوں کی اسلام کی سچائی کا بھی علم ہو اور انہیں اللہ کی طاقت کے کارناموں کے بارے میں بھی آگاہی ملے ۔ ان شاء اللہ

لیجنڈری فری لانسر پاکستان

ڈاکٹر لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

بدھ، 20 نومبر، 2024

لیجنڈ کی آمد لاہور کا اسموگ غائب

یہ تو اللہ کی ایک نشانی ہے کہ لیجنڈ لاہور پہنچتا ہے اور اس کی آمد سے پہلے ہی لاہور شہر کا موسم تبدیل ہونا شروع ہوجاتا ہے اور لیجنڈ کی آمد پر لاہور شہر کا اسموگ ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔یہ اللہ کے وجود پر ایک کھلی نشانی نہیں تو اور کیا ہے کہ اس کا پرچار کرنے والا جس شہر میں جاتا ہے وہاں کا نظام موسم درہم برہم ہوجاتا ہے اللہ کے حکم سے اور محکمہ موسمیات والوں سمیت میڈیا اینکرز، رپورٹرز اور جرنلسٹس وغیرہ کی نیوز رپورٹس اور دعوے زمین پر بکھر کر دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں؟ بے شک اللہ جو چاہے سو کرسکتا ہے اپنے لیجنڈ کے لیے مگر اکثر لوگ اپنی عقل سے کام نہیں لیتے۔ اللہ اکبر

اللہ کی طاقت سے لاعلاج بلی کے بچے کا علاج

 اللہ واحد القہار کی طاقت سے کام لیتے ہوئے ایک بلی کے بچے کو دوبارہ ٹھیک کرکے چلنے پھرنے کے قابل بنادیا اور اس کے بعد وہ بچہ اللہ ہی کے حکم پر مرکر اس دنیا سے واپس چلا گیا۔ اس کیس کے دوران کئی عجیب و غریب سین رونما ہوئے جو اس بات پر ایک جیتی جاگتی نشانی ہے کہ اللہ جب چاہے جہاں چاہے کسی بھی لاعلاج مریض کو دوبارہ چلنے پھرنے کے قابل بناسکتا ہے۔دوبارہ ہیلنگ کرسکتا ہے اور وہ کوئی مصنوعی خدا نہیں ہے۔