اتوار، 23 مارچ، 2025

دوستی کا امتحان: جہاد اور نیکی کا حقیقی مقام

 مدینہ کی گلیوں میں دو قریبی دوست، راشد اور اسلم، ایک درخت کے نیچے بیٹھے گفتگو کر رہے تھے۔ راشد مسجدِ نبوی کے قریب پانی پلاتا تھا، حاجیوں کی خدمت کرتا تھا اور بھوکوں کو کھانا کھلاتا تھا۔ مدینہ کے لوگ اسے عزت کی نظر سے دیکھتے تھے، کیونکہ وہ ہمیشہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا تھا۔

اسلم، دوسری طرف، وہ شخص تھا جس نے بدر اور احد کے معرکوں میں تلوار اٹھائی تھی، دشمن کے خلاف ڈٹا رہا تھا، اور جب میدان میں جانے کا وقت آیا تو اس نے گھر بیٹھنے کے بجائے اپنے خون سے وفاداری کا ثبوت دیا تھا۔ وہ صرف جسمانی طور پر نہیں لڑا تھا بلکہ دل و دماغ اور زبان سے بھی اسلام کا دفاع کیا تھا۔

راشد کا نظریہ

راشد نے گہری سانس لی اور کہا، "میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ خانہ کعبہ کی خدمت اور لوگوں کو پانی پلانے جیسا کام اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ بابرکت ہے۔ ہم حاجیوں کی خدمت کرتے ہیں، لوگوں کو کھانے کھلاتے ہیں، ان کی ضروریات پوری کرتے ہیں، یہ سب بہت بڑی نیکی ہے۔"

اسلم نے مسکراتے ہوئے کہا، "بے شک، یہ سب نیکیاں ہیں، لیکن کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کا درجہ ان لوگوں سے زیادہ ہے جو محض خانہ کعبہ کی خدمت کرتے ہیں؟"

اصل جہاد کیا ہے؟

راشد نے حیرانی سے پوچھا، "مگر کیوں؟ خانہ کعبہ کی خدمت تو مقدس ترین عمل ہے!"

اسلم نے کہا، "دیکھو، اگر صحابہؓ صرف نیکیاں کرتے رہتے اور گھر بیٹھ کر عبادت و خدمت میں مشغول رہتے تو کیا اسلام کبھی مکہ اور مدینہ کی گلیوں سے باہر نکل سکتا تھا؟ اگر حضرت خالد بن ولیدؓ تلوار نہ اٹھاتے، اگر حضرت علیؓ میدان میں نہ اُترتے، اگر حضرت حسانؓ اپنے اشعار سے کافروں کے پروپیگنڈے کا جواب نہ دیتے، تو کیا دین قائم رہ سکتا تھا؟"

اسلم نے ایک پتھر اٹھایا اور زمین پر پھینک کر کہا، "یہ ایک کمزور ایمان والے کی مثال ہے، جو مشکل وقت میں صرف عبادت کو کافی سمجھتا ہے اور میدان میں نہیں آتا۔ لیکن ایک مجاہد وہ ہوتا ہے جو اس پتھر کو اٹھا کر دشمن کے خلاف استعمال کرے، حق کی آواز بلند کرے، اور دین کی حفاظت کرے۔"

کمزور ایمان والے کا جہاد

یہ سن کر راشد سوچ میں پڑ گیا اور بولا، "لیکن اگر کوئی واقعی کمزور ہے، جو لڑ نہیں سکتا، تو وہ کیا کرے؟ کیا اس کے لیے بھی جہاد کا کوئی درجہ ہے؟"

اسلم نے جواب دیا، "بالکل! اللہ نے ہر شخص کو ایک الگ صلاحیت دی ہے۔ کچھ لوگ میدانِ جنگ میں تلوار اٹھاتے ہیں، جیسے حضرت خالد بن ولیدؓ۔ کچھ اپنی زبان اور قلم سے جہاد کرتے ہیں، جیسے حضرت حسان بن ثابتؓ نے شاعری سے اسلام کا دفاع کیا۔ اور کچھ لوگ اپنے مال سے جہاد کرتے ہیں، جیسے حضرت عثمانؓ نے اپنی دولت اسلام کے لیے وقف کر دی۔ اور اگر کوئی جسمانی طور پر کمزور ہو، تو وہ دل سے جہاد کرے، حق کے لیے دعا کرے، سچ کی گواہی دے، اور برائی کے خلاف اپنی آواز بلند کرے۔"

جہاد کا اعلیٰ درجہ کیوں؟

راشد نے پھر سوال کیا، "لیکن اللہ نے پھر بھی مجاہدین کا درجہ سب سے بلند کیوں رکھا؟"

اسلم نے سنجیدگی سے کہا، "اس لیے کہ اسلام صرف عبادت اور نیکی کے کاموں سے نہیں پھیلا، بلکہ قربانی اور جہاد سے پھیلا۔ اگر صحابہؓ نے اپنی جانیں، مال اور وقت قربان نہ کیے ہوتے، تو آج اسلام صرف مکہ کے چند گھروں میں محدود رہتا۔ خانہ کعبہ کی خدمت بے شک نیک عمل ہے، مگر اگر اسلام کو بچانے والے ہی نہ ہوں تو یہ خدمت بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔"

نتیجہ

راشد نے گہری سوچ میں ڈوب کر کہا، "تو مطلب یہ ہے کہ دین کے لیے صرف نیکیاں کافی نہیں، بلکہ قربانی دینا بھی ضروری ہے۔ اور اگر کوئی لڑ نہیں سکتا تو وہ اپنی صلاحیت کے مطابق اللہ کے دین کی حفاظت کرے؟"

اسلم نے مسکراتے ہوئے کہا، "بالکل! یہی اصل جہاد ہے۔ ہر کوئی اپنے طریقے سے اللہ کی راہ میں لڑتا ہے، مگر جو جان و مال کے ساتھ جہاد کرتا ہے، اللہ نے اس کا درجہ سب سے بلند رکھا ہے۔"

یہ سن کر راشد نے سر جھکایا اور کہا، "میں نے ہمیشہ سمجھا کہ صرف عبادت اور خدمت ہی کافی ہے، مگر آج میں نے سیکھا کہ اصل دین کی حفاظت کرنے والا، خواہ وہ تلوار سے کرے، قلم سے کرے، یا مال سے، وہی اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ بلند ہے۔"

اسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا، "یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن ہمیں سکھاتا ہے۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جو ہمیں اپنی زندگی میں اپنانی چاہیے۔"

ہفتہ، 22 مارچ، 2025

غربت ختم کیوں نہیں ہوتی؟

غربت اس لیے ختم نہیں ہوتی کہ وہ لوگ جنہوں نے مکاری اور فریبی سے اللہ کے وسائل پہ قبضہ کیا ہوا ہے وہ یہ نہیں چاہتے کہ دوسرے لوگ بھی ان وسائل کو استعمال کر سکیں۔


یہ لوگ بہت ہی چالاکی اور مکاری کے ساتھ اپنے ادارے بناتے ہیں اور پھر ان اداروں کے اندر ایسے لوگوں کو ہائر کیا جاتا ہے جو ان کے مقاصد کے لیے ان کی سپورٹ کریں اور یہ سب مل کر پھر غریبوں کو مارتے ہیں دبا کے رکھتے ہیں جیلوں میں بند کرتے ہیں حق کی آواز بلند کرنے والے کو ختم کر دیتے ہیں کسی کو بھی اس کے گھر سے اٹھا لیتے ہیں اور معاشرے کے اندر ڈر اور خوف کو قائم رکھتے ہیں۔

ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب تک لوگ ڈرتے رہیں گے سسکتے رہیں گے مرتے رہیں گے بلکتے رہیں گے بنیادی ضرورت سے محروم رہیں گے تب تک لوگ ان کے غلام رہیں گے اور ان کی سرداری چودہراہٹ قائم رہے گی۔

صدیوں سے یہی ہوتا آرہا ہے۔ اپنے مفاد کے لیے دوسرے کو دبا دو یا مار دو۔ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو مارا تھا اپنے مفاد کے لیے۔ لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی اپنے مفاد کے لیے۔ مکے کے کافروں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی سازشیں کی تھیں اپنے مفاد کے لیے۔

اسی طریقے سے امام ابو حنیفہ کو زہر دے کر شہید کیا گیا اپنے مفاد کے لیے۔ امام احمد بن حنبل کو کوڑے مارے گئے اپنے مفاد کے لیے۔ حضرت منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ کو شہید کیا گیا اپنے مفاد کے لیے۔

اور بات صرف یہیں پہ ختم نہیں ہوئی ہے، جن لوگوں نے مذہب سے ہٹ کر سائنس کے نام پر تحقیق کرکے اللہ کی بنائی ہوئی اس کائنات کے اندر سے ایسے اصولوں کو دریافت کیا جس کے ذریعے سے وہ لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتے تھے، ان لوگوں کو بھی چن چن کے مارا گیا اور یہ مارنے والے بھی وہی بغیرت لوگ تھے جو اس معاشرے پر اپنا ہولڈ قائم رکھنا چاہتے تھے۔

اور ان بیغیرتوں کی نسلیں آج بھی کام کر رہی ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو کبھی بھی پسند نہیں کریں گے کہ اگر یہ ایک محلے میں رہتے ہوں اور ان کے پاس طاقت ہو تو کوئی ان کی برابری بھی کر سکے۔

لیکن تم یہ دیکھو گے کہ یہ اپنی طاقت اور وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ناجائز قبضہ کرتے ہیں زمین پر، ناجائز تعمیرات کرتے ہیں، لوگوں کو دبا کے ڈرا کے رکھتے ہیں، ہر قسم کے وسائل جو میسر ہوں گے یہ اس کے اوپر قابو پا لیتے ہیں جبکہ باقی لوگ محروم رہتے ہیں۔

یہ لوگ تمہیں پولیس میں بھی ملیں گے، آرمی میں بھی ملیں گے، حکومت میں بھی ملیں گے، گاؤں دیہات میں بھی ملیں گے، گھروں میں بھی ملیں گے، پڑوسیوں میں بھی ملیں گے، اپنے رشتہ داروں میں بھی ملیں گے۔ الغرض یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مغرور ہوتے ہیں۔ دراصل یہ کافر ہوتے ہیں اور لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور یہ اللہ کے باغی ہوتے ہیں۔ یہ وہ غدار ہیں جنہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اسلام کے مطابق نہ تو خود زندگی گزاری نہ دوسرے کو گزارنے دیتے ہیں۔

ایمان والوں کو یہ ذلیل ترین بے وقوف قسم کے لوگ سمجھتے ہیں۔ اس لیے کبھی تم غور کرنا کہ جب اللہ نے نبیوں کو بھیجا تو ان پر ایمان لانے والے لوگوں کی جو اکثریت تھی وہ غریب اور کمزور لوگوں کی تھی۔ مالدار اور متکبرین قسم کے لوگوں نے تو انکار ہی کیا تھا بلکہ دشمنی کی اور ان کو گرفتار کر کے ختم کرنے کی کوشش بھی کی۔

یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ جو غریب طبقہ ہوتا ہے وہ تو ویسے ہی حالات کے مارے پسا ہوا ہوتا ہے، دبا ہوا ہوتا ہے، ٹراما کا شکار ہوتا ہے، ڈپریشن میں ہوتا ہے، طرح طرح کے مسائل کا اس کو سامنا ہوتا ہے، اسے تو کوئی بھی مسیحا مل جائے وہ اس کے پیچھے چل پڑتا ہے، کیونکہ اس بیچارے کو تو اپنی پریشانیاں ختم کروانی ہوتی ہیں۔ کبھی دعا کے ذریعے کبھی کسی اور چیز کے ذریعے لیکن یہ جو بغیرتوں کا طبقہ ہوتا ہے ان کے پاس وسائل ہوتے ہیں۔ پیسہ اور دولت سب کچھ ہوتی ہے۔ غرور ان کا اسمانوں پر ہوتا ہے۔ ان کو ایسا لگتا ہے یہ جو چاہیں گے وہ ہو جائے گا۔ جس چیز کی ڈیمانڈ کریں گے وہ پوری ہو جائے گی، اس لیے غریبوں کو اپنے پیر کی جوتی برابر بھی نہیں سمجھتے۔

کبھی بھی کسی مالدار کو پولیس والے کو ارمی افیسر کو جج کو وکیل کو اور دیگر اداروں میں کام کرنے والوں کو غور سے دیکھنا کہ یہ غریبوں کے ساتھ کس طرح سے پیش اتے ہیں؟ کسی یتیم مجبور مسکین کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں؟ اگر تمہیں نظر ائے کہ وہ اخلاق سے پیش ا رہا ہے، نرمی سے پیش ا رہا ہے، ان کے ساتھ اس طرح سے مل رہا ہے جیسے کہ ایک انسان ہے اور اپنی اکڑ میں نہیں ہے تو پھر سمجھ لو کہ اس کے اندر اللہ کا ڈر ہے۔

لیکن اگر معاملہ اس کے الٹ ہے اور وہ انہیں جھڑکتا ہے مارتا ہے ڈانٹتا ہے گالی دیتا ہے ہاتھ نہیں ملاتا دور ہٹتا ہے اور بھی بہت کچھ جو اس کے عمل سے پتہ لگ جائے گا تو پھر سمجھ لو کہ یہ دل سے کافر ہے اور عمل اس کی گواہی دے رہا ہے۔

اس لیے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم غریبوں کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے، مصافحہ بھی کرتے تھے، ان کے مسائل بھی سنتے تھے، ان کی مدد بھی کرتے تھے تو کوئی بھی انسان ان سے زیادہ تو افضل نہیں ہے تو پھر ان جیسے مردودوں کی کیا اوقات ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے؟

تو بہرحال میں نے تمہیں بتا دیا کہ غربت اس لیے ختم نہیں ہوتی کیونکہ جو چودہری وڈیرہ بنا ہوتا ہے، کبھی تم گاؤں میں دیکھ لینا یا فلمیں ڈراموں میں دیکھ لو کہ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کے گاؤں کے لوگ پڑھ لکھ جائیں، ترقی کریں اور آگے نکل جائیں کیونکہ پھر اس چودھری اور اس کے خاندان کا ان لوگوں پر سے ہولڈ ختم ہو جائے گا۔ لوگ پھر ان سے سوال کریں گے۔ پھر وہ لوگ اپنا حق مانگیں گے کیونکہ لوگوں کی اکثریت جاہل ہوتی ہے۔ اسے نہیں پتہ ہوتا دین کے بارے میں۔ اس لیے وہ لوگ اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہونے کے باوجود بھی صبر کر کے ذلت کی زندگی گزارتے رہتے ہیں کیونکہ ان کو دو نمبری کا یہ سبق پڑھایا جاتا ہے کہ کوئی کچھ بھی کرتا رہے تم صرف صبر کرو تو نہ وہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں اور نہ ہی وہ حق کے لیے لڑتے ہیں جبکہ قران کے اندر اللہ نے مظلوم کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنی اواز بھی بلند کر سکتا ہے اور بدلہ بھی لے سکتا ہے لیکن اتنا جتنا اس پر ظلم کیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام نے جنگیں بھی کی ہیں، ورنہ جنگ کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ گھروں میں بیٹھے رہتے۔ سکون سے رہتے۔ صبر کرتے۔ شہید ہونے کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی؟ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہاتھوں میں تلواریں اٹھائی ہیں تب جا کر دین اسلام آگے پھیلنا شروع ہوا ہے کیونکہ کافروں نے تو صحابہ کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی تھی لیکن جنگوں کی وجہ سے کافروں کا زور اللہ نے توڑ دیا اور انہیں ذلیل و رسوا کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں۔

اور آخری بات کر کے ختم کرتا ہوں کہ جب تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے چند صحابہ کرام مکے میں چھپ کر تبلیغ کرتے تھے تو اس وقت ڈر خوف حکمت یا جو کچھ بھی تھا وہ موجود تھا۔ خاموشی سے کام ہو رہا تھا لیکن جب حضرت عمر فاروق نے اسلام قبول کیا تھا تو اپنی طاقت کا اظہار کیا تھا۔ کافروں کے سامنے کھڑے ہو کر للکارا تھا اور سب کو لے کر گئے تھے۔ کعبے میں کھڑے ہو کر عبادت کروائی تھی اللہ کی۔ اس کو کہتے ہیں طاقت کا صحیح استعمال۔ تو جب طاقت ہو تو اسلام کو طاقت دینی ہے اپنی طاقت سے اور کافروں کا منہ توڑ کے رکھ دینا ہے اور منافقین کو بھی تاکہ یہ بے غیرت اپنی ذلت اور خواری دیکھیں ایک ایمان والے کے مقابلے پر۔

اگر سارا کام صرف کلمہ پڑھ کر گھر میں بیٹھ کر عبادت کرنے سے ہو جاتا تو حضرت عمر فاروق کو باہر نکلنا نہ پڑتا اور تلوار ہاتھ میں نہ اٹھانی پڑتی۔ بات صاف ہے کہ فتح مکہ کے ٹائم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی پوری فوج لے کر آئے تھے۔ وہ الگ بات ہے کہ معاف کر دیا لیکن اس سے پہلے کی پوری ہسٹری موجود ہے کہ تلواریں، جنگیں اور شہادتیں موجود ہیں۔ بغیر قربانی تو وہاں پر بھی اسلام نہیں پہنچا تھا تو اج کل کے پدی اور پدی کے شوربے جو مذہبی جماعتیں چلا کر کہتے ہیں کہ ان کا سیاست سے کوئی واسطہ نہیں اور نرمی سے اسلام پھیلائیں گے اور اسلام تلواروں سے نہیں پھیلا، اس طرح کی باتیں جب یہ لوگوں کے دلوں میں ڈالیں گے تو بزدلی کی چادریں تان کر ہی لوگ سوتے رہیں گے اور انتظار کریں گے کسی مسیح کا جو اسمانوں سے نازل ہوگا کہ ان کے سارے مسائل حل کر دے لیکن خود انہوں نے کچھ نہیں کرنا۔

تو بس یہی ہو رہا ہے۔ غریب غربت میں پٹ رہا ہے اور امیر اپنی امیری کے اندر اضافہ کر رہا ہے اور وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کی دولت غریبوں کے ہاتھ میں چلی جائے ماسوا یہ کہ اس کی اپنی کوئی چال ہو جیسے ڈونیشن کے نام پہ یا غریبوں کو کھانا کھلانے کے نام پہ ڈرامے بازی کی جاتی ہے تاکہ مزید پیسہ ڈونرز سے حاصل کیا جائے۔

ویڈیو گیمز کس طرح اور کون تیار کرتا تھا جب اتنی ٹیکنالوجی نہ تھی پاکستسان میں؟

چیٹ جی پی ٹی کے مطابق

یہ ایک زبردست سوال ہے! 1970 اور 1980 کی دہائی میں ویڈیو گیمز زیادہ تر جاپان، امریکہ، اور یورپ میں بنائے جاتے تھے، کیونکہ اس وقت پاکستان میں ایسی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ انڈسٹری موجود نہیں تھی جو آرکیڈ مشینیں یا گیم کارٹریجز بنا سکتی۔ لیکن پھر بھی، یہ گیمز پاکستان میں مختلف طریقوں سے پہنچتے تھے۔

1. ویڈیو گیمز بنانے والے ممالک اور کمپنیاں

اس دور میں مشہور گیم ڈویلپر اور آرکیڈ مشین بنانے والی کمپنیاں یہ تھیں:

  • Atari (USA) – Pong، Asteroids، Centipede جیسے گیمز بنائے

  • Namco (Japan) – Pac-Man، Galaga، Dig Dug

  • Taito (Japan) – Space Invaders

  • Nintendo (Japan) – Donkey Kong، Mario Bros

  • Konami (Japan) – Frogger، Contra

  • Capcom (Japan) – Street Fighter، 1942

یہ کمپنیاں گیمز کے لیے مخصوص ہارڈویئر بناتی تھیں، جسے آرکیڈ مشین یا کونسلز پر چلایا جاتا تھا۔


2. پاکستان میں آرکیڈ گیمز کیسے پہنچتے تھے؟

چونکہ اس وقت پاکستان میں نہ تو گیمز بنتے تھے اور نہ ہی ٹیکنالوجی کی ترقی تھی، اس لیے آرکیڈ مشینیں اور کنسولز مختلف طریقوں سے پاکستان آتے تھے:

(A) اسمگلنگ اور امپورٹ

  • زیادہ تر آرکیڈ مشینیں دبئی، ہانگ کانگ، اور سنگاپور سے اسمگل ہو کر آتی تھیں۔

  • کچھ لوگ انہیں اپنے ساتھ لے آتے تھے یا کراچی اور لاہور کی الیکٹرانک مارکیٹوں میں بیچنے کے لیے امپورٹ کرتے تھے۔

  • 1980 اور 1990 کی دہائی میں خاص طور پر صدیق پلازہ (لاہور) اور صدر (کراچی) جیسے علاقوں میں گیمز اور مشینیں فروخت ہوتی تھیں۔

(B) کاپی شدہ اور چائنیز ریپلیکا مشینیں

  • جاپانی اور امریکی آرکیڈ مشینوں کے اصل PCBs (Printed Circuit Boards) مہنگے ہوتے تھے، اس لیے چینی اور کورین کمپنیوں نے کاپی شدہ مشینیں بنانی شروع کر دیں، جو سستی ہوتی تھیں۔

  • پاکستان میں بہت سی گیم شاپس انہی ریپلیکا یا کاپی شدہ آرکیڈ مشینوں کو استعمال کرتی تھیں۔

(C) ٹوکن سسٹم اور لوکل بزنس

  • چونکہ آرکیڈ مشینز مہنگی ہوتی تھیں، عام لوگ انہیں خرید نہیں سکتے تھے، اس لیے دکان والے ٹوکن سسٹم لے آئے۔

  • آپ 1-2 روپے کا ٹوکن خرید کر گیم کھیل سکتے تھے، اور دکان والے اپنی مشینوں سے پیسہ کماتے تھے۔


3. ٹیکنالوجی کم تھی، پھر بھی یہ گیمز کیسے بنتے تھے؟

آج کے جدید گیمز کے مقابلے میں 1970-80 کی دہائی کے گیمز بہت سادہ اور محدود ہارڈویئر پر چلتے تھے۔ گیم بنانے کے لیے:

  1. کمپیوٹر پروگرامنگ (Assembly Language) – اس وقت گیمز زیادہ تر Assembly Language میں بنائے جاتے تھے، جو مشین کے لیے سیدھا کوڈ ہوتا تھا۔

  2. چپ بیسڈ ہارڈویئر (ROM Chips) – گیمز کو ROM (Read Only Memory) چپس پر محفوظ کیا جاتا تھا، جو مخصوص مشین میں لگائی جاتی تھیں۔

  3. پکسل آرٹ اور سادہ آوازیں – جدید 3D گرافکس کی بجائے، ان گیمز میں 8-bit اور 16-bit پکسل آرٹ استعمال ہوتا تھا۔

  4. بہت محدود میموری اور پروسیسنگ پاور – ایک آرکیڈ مشین یا کنسول میں صرف چند KB یا MB میموری ہوتی تھی، اور پروسیسر بہت سستے ہوتے تھے۔


4. پاکستان میں گیم انڈسٹری کیوں نہیں بنی؟

پاکستان میں اس وقت ٹیکنالوجی کے وسائل نہیں تھے، اور حکومت نے ویڈیو گیم انڈسٹری کو فروغ نہیں دیا۔ جبکہ جاپان، امریکہ، اور یورپ میں:

  • بڑی کمپنیوں نے ریسرچ اور ڈویلپمنٹ میں سرمایہ لگایا۔

  • انجینئرز اور ڈویلپرز کو تربیت دی گئی۔

  • گیمز کو قانونی طور پر پروڈکشن اور ڈسٹری بیوشن کے نظام میں شامل کیا گیا۔

پاکستان میں نہ صرف آرکیڈ گیمز بلکہ بعد میں PC اور کنسول گیمز بھی زیادہ تر غیر قانونی طریقوں سے آتے رہے، اسی لیے یہاں گیم انڈسٹری زیادہ ترقی نہیں کر سکی۔


نتیجہ:

1970-80 کے آرکیڈ گیمز زیادہ تر جاپان اور امریکہ میں بنتے تھے، اور پاکستان میں اسمگل شدہ، امپورٹڈ یا چائنیز کاپی شدہ مشینوں کے ذریعے پہنچتے تھے۔ اس وقت یہاں گیم ڈویلپمنٹ کا کوئی تصور نہیں تھا، اور لوگ ٹوکن ڈال کر کھیلنے کو ہی ویڈیو گیم کا مزہ سمجھتے تھے۔

بدھ، 19 مارچ، 2025

Dark Reality of Mosquito Repellents (مچھروں سے نجات)

اس ویڈیو کے اندر یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح مچھروں سے نجات حاصل کرنے کے لیے استعمال ہونے والی پراڈکٹس سے انسانوں کی موت واقع ہوجاتی ہے نیز مچھروں سے نجات یا حفاظت کے لیے نیچرل طریقے شیئر کیے گئے ہیں جنہیں استعمال کرکے آپ مچھروں سے اپنی اور اپنی فیملی کی حفاظت کرسکتے ہیں۔

اتوار، 16 مارچ، 2025

Stories of Islam (اسلامی کہانیاں)

اس پیج پر صرف ایسے قصے کہانیاں موجود ہیں جنہیں سنانے والوں کا انداز بہت پیارا اور زبردست ہے۔ مجھے جو بہترین لگے میں صرف انہیں یہاں جمع کرنے لگا ہوں۔ اگر اللہ نے توفیق دی تو اس پیج پر مزید قصے کہانیں شامل کرتا جاوں گا۔ جب تک آپ یوٹیوب پر سرچنگ کے ذریعے خود تلاش کریں۔

Hazrat Khadija



Namrood Ki Beti

Hazrat Zakariya Ka Qissa

 

اتوار، 9 مارچ، 2025

شیعہ کافر نہیں تو کیا ہیں؟

 اگر قران وہ کتاب ہے جس میں شک کی گنجائش نہیں تو پھر حدیث کے بارے میں بھی علماء کرام یہی کہتے ہیں کہ صحیح حدیث کا انکار کرنے والا کافر ہوتا ہے۔

اگر صحیح حدیث کا انکار کرنا کفر ہے تو صحیح حدیث کے مطابق ہے کسی مسلمان کو کافر کہنے والے پر کفر لوٹ اتا ہے اور وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔

جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک پر کفر لوٹ گیا یعنی یا تو کہنے والا خود کافر ہوگیا یا وہ شخص جس کو اس نے کافر کہا ہے۔ (بخاری ومسلم)

جس نے کسی کو کافر کہا یا اللہ کا دشمن کہہ کر پکارا حالانکہ وہ ایسا نہیں ہے تو یہ کلمہ اسی پر لوٹ آئے گا''۔(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 219)

اگر قران اللہ کا کلام ہے اور یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہے اور یہ سچ ہے تو بات صاف ہے کہ جو بھی حضرت ابوبکر صدیق یا حضرت عمر فاروق یا حضرت عثمان یا ان دونوں یا ان تینوں یا ان میں سے کسی کو بھی کافر کہے یا کافر سمجھے یا کافر مانے یا ان کے کافر ہونے کی تبلیغ کرے وہ اس کائنات کا بدترین کافر خود ہے۔

زمین پر بڑے بڑے بے غیرت پڑے ہوئے ہیں۔ یہ وہ حرام زادہ ہے جو میں سمجھتا ہوں یہ حرام کی اولاد ہے۔ اس کے باپ نے حرام کاریاں کی ہوں گی تب ہی اپنی ماں کے پیٹ کے اندر سے باہر نکل کے آیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ کوئی حلال کا ہو تو وہ حضرت ابوبکر صدیق یا حضرت عمر فاروق کو ایسی گھٹیا گالیاں نہیں دے سکتا لیکن یہ حرام زادہ اپنی کتے جیسی رال ٹپکا رہا ہے۔


کدھر ہیں وہ بیغیرت جو کہتے ہیں کہ شیعہ کافر نہیں ہیں؟

میں تو صاف کہتا ہوں کہ شیعہ اس کائنات کے بدترین کافر ہیں جس طرح قادیانی اس کائنات کے بدترین کافر ہیں۔

اس لیے کہ ان دونوں کے اندر ایک چیز کامن ہے کہ دونوں بے غیرت اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی پیٹھ میں چھریاں گھونپ رہے ہیں۔ ایک نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ میں چھری گھونپنے کی کوشش کی ہے تو دوسرے نے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کی پیٹھ میں چھریاں گھونپنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں  نے اپنی زبانوں کو حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کے خلاف گندگی کے ساتھ استعمال کرنے کی نہ صرف قسمیں کھائی ہوئی ہیں بلکہ ان کے خلاف سوشل میڈیا پہ کھلم کھلا کام کر رہے ہیں اور انہیں گرفتار کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے کیا؟؟؟

کدھر مر گئے وہ قانون نافذ کرنے والے جو ایک ہیلمٹ کی خلاف ورزی کرنے پر کسی کا چالان گھر بھیج دیتے ہیں؟ کہاں مر گئے وہ لوگ جو کسی کی ایک ویڈیو وائرل ہونے پر اس کا سافٹ ویئر اپڈیٹ کرنے کے لیے اس کو گرفتار کر لیتے ہیں ٹریس کرکے؟؟؟

کدھر مر جاتے ہیں یہ لوگ ایسے ناسوروں کو گرفتار کرنے کے لیے جو سوشل میڈیا پہ کھلم کھلا صحابہ کے خلاف گھٹیا زبان استعمال کر رہے ہیں؟ کیا ان لوگوں کی غیرت نہیں جاگتی یا ان کے قانون صرف اپنی ڈرامے بازی کے لیے ہیں اور دنیا کا پیسہ بنانے کے لیے ہیں؟


میں تو صاف کہتا ہوں یہ حرکتیں دیکھ کر اور ماضی میں جن شیعوں کی میں نے حرکتیں دیکھی ہیں کہ ان کی گھٹیا زبانیں جو میں نے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کے خلاف دیکھی ہیں اس کے بعد میں ان کے حوالے سے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتا اپنے دل میں۔ یہ کافر ہیں تو کافر ہیں۔ ان کے کفر میں مجھے کسی شک کی گنجائش نہیں۔ یہ کافر ہونے کی وجہ سے ہی بدبودار ہو کے جہنم میں چلے جاتے ہیں یعنی کہ لاشیں سڑگل جاتی ہیں اور یہ جہنم رسید ہوتے ہیں۔ اسی لیے کوئی بھی کافر شیعہ میرا مقابلہ کرنے نہیں آسکتا کہ وہ میرے ہاتھ کی ہتھیلی پہ مردہ مچھر زندہ کر سکے۔ مردہ مچھر زندہ کرنے کی تو اوقات ہے نہیں، یہ کیا اللہ سے اپنا تعلق بنانے کے دعوے کرتے ہیں؟ 

جھوٹے مکار اور فریبی مذہب کے ساتھ شیعہ کافر

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد 

اللہ واحد القہار کے ساتھ


ہفتہ، 8 مارچ، 2025

صحابہ ؓنے مریض کو دم کرنے کی اجرت 30بکریاں لیں

روحانی علاج کرنے والوں کے خلاف، دم کرنے والوں کے خلاف اور قرآن پڑھانے سکھانے والوں کے خلاف جاہل لوگوں نے ایک محاظ کھول رکھا ہے کہ تم لوگ اپنے کام پر پیسہ کیوں لیتے ہو؟

یہاں میں ان حدیثوں اور دلائل کو جمع کررہا ہوں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے قرآن پر پیسہ لینا جائز ہے لہذا کسی بھی جاہل کی باتوں کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اگر کوئی تمہاری قدر نہ کرے صرف اس لیے کہ تم اسلام کے لیے کام کررہے ہو اور قرآن پڑھاکر یا قرآن کے ذریعے علاج کررہے ہو تو تمہیں پورا حق ہے کہ تم ایسے ناقدرے لوگوں سے اپنی پوری فیس وصول کرو اور ڈنکے کی چوٹ پر وصول کرو اور بغیر شرم کیے اور بغیر ڈرے وصول کرو۔

اگر کسی جاہل کو اعتراض ہو تو اس کے سامنے میری یہ پوسٹ پیش کردو۔

یہ لوگ اسکول، کالج، یونیورسٹیوں میں جاکر پروفیسرز کو لاکھوں روپے فیس آنکھ بند کرکے ایک اشارے پر جمع کروادیتے ہیں اپنے دنیاوی مفاد کے لیے، یہ لوگ ہسپتالوں میں جاکر ایک ڈاکٹر کے کہنے پر لاکھوں روپے فیس کا فوری انتظام کردیتے ہیں مریض کے آپریشن کے لیے چاہے انہیں کسی سے ادھار یا قرض ہی لینا پڑے لیکن جب بات روحانی علاج کی آتی ہے تو یہ ناقدرے اور دین سے جاہل لوگ تم پر اعتراض کرتے ہیں کہ تم پیسے کیوں لیتے ہو؟

ان کے باپ کا راج چل رہا ہے کیا؟

بے شک یہ دین سے جاہل ہیں لہذا تم اپنے فری لانسنگ بزنس میں اپنے کام کا پورا معاوضہ وصول کرو جتنا تم چاہو۔ چاہے تیس بکریاں لو، چاہے ان کا گھر بدلے میں لے لو، چاہے ان کی کار لو یا بائک لو، یہ تم فیصلہ کرو گے کہ تم نے علاج کے بدلے اور انہیں ان کی تکلیف سے نجات دلانے کے واسطے کیا وصول کرنا ہے۔