منگل، 10 جون، 2025

میں مسلمانوں کی اصلاح پر کام کرنا کیوں پسند نہیں کرتا؟

میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ معاشرے کے اکثر انسان گمراہ اور مشرک ہیں۔

یہ اللہ کے منکر یا اس کے احکامات کے منکر ہیں۔ 

بعض وہ ہیں جنہوں نے قرآن کا انکار نہیں کیا مگر عملی طور پر کافر ہیں۔

ان کے اعمال دیکھ کر ایک کافر اور مسلمان میں کوئی فرق نہیں کرسکتا۔

کافر بھی وہی کام کررہا ہوتا ہے جو یہ منافقین کررہے ہوتے ہیں۔

فرق یہ ہے کہ وہ یہ کام کلمہ پڑھ کر نہیں کرتے اور یہ اس طرح کے کام کلمہ پڑھ کر کرتے ہیں۔

اب مثال کے طور پر اس وقت گلی میں اندھیرا ہے، لائٹ گئی ہوئی ہے۔

میں جہاں ٹھہرا ہوا ہوں یہ ایک کچی آبادی ہے۔

چاروں طرف لائٹ جانے کے بعد ایک سکون سا ہوتا ہے مگر ساتھ کچھ گھر چھوڑ کر ایک ذلیل انسان جو خود کو مسلمان کہتا ہے، وہ تیز آواز میں گانے بجارہا ہے۔

اسے کوئی پرواہ نہیں کہ اس کے اس گھٹیا کام کی وجہ سے محلہ والوں کو کتنی تکلیف ہورہی ہے۔

وہ اپنی مستی اور عیاشی میں شیطان کا کتا بنا ہوا ہے۔

اس کا باپ پولیس میں ہے۔

ہے تو ویسے ٹلا۔۔۔یعنی ٹریفک پولیس میں مگر ظاہر ہے اس معاشرے کے حرامزدگی کرنے والے زیادہ تر کسی حکمران، پولیس، آرمی، نام نہاد اعلی عہدے پر فائز باپ کی بگڑی ہوئی اولاد ہوتے ہیں۔

یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔

جو بھی ہے مگر اس نے اپنی آخرت خراب کرنے کا سامان خود اپنے ہاتھوں کرلیا ہے۔

ایسے ظالموں، فاسقوں اور کافروں کے لیے میرے دل میں کوئی رحم نہیں ہوتا۔

وجہ صاف ہے کہ جو معاشرے کے لوگوں کو جان بوجھ کر تکلیف دے، انہیں بے سکون کرے اور ان کو اذیت پہنچائے، ایسے منافق اور  کافر سے میرا کیا لینا دینا؟

یہی وجہ ہے کہ میں مسلمانوں کی اصلاح پر کام کرنا پسند نہیں کرتا کیونکہ ان کی اکثریت منہ سے "اللہ" اللہ کرتی ہے مگر اللہ کے حکم کے خلاف جان بوجھ کر کام کرتی ہے۔

یہ لوگ اپنی اصلاح کرنا ہی نہیں چاہتے۔

اسی گلی میں ایک اور گھر والا، اپنے گھر کے باہر بجری اور مٹی منگواکر اپنے گھر میں کام کرواچکا۔ اب چند ماہ سے اس کے گھر کے باہر مٹی اور بجری پڑی ہے، گلی خراب ہورہی ہے، آنے جانے گزرنے میں تکلیف ہوتی ہے، اس کے گھر کے سامنے گٹر کا پانی بھی بہتا رہتا ہے، اس کو میں بول بھی چکا ہوں مگر وہ سدھرنے کو تیار نہیں۔نہ مٹی ہٹائی، نہ سائڈ پر کی، تو ہوگئی اصلاح؟

یہ لاتوں کے بھوت ہیں، باتوں سے ماننے والے نہیں ہیں۔

اتنی مذہبی جماعتوں کے باوجود، مسلمانوں کی اکثریت قرآن سے بے عمل کیوں ہے؟

کیونکہ یہ بے غیرت لوگ خود قرآن پر عمل نہیں کرنا چاہتے۔

یہ اپنے نفس پر وہ پابندیاں نہیں لگانا چاہتے جو اللہ نے ان پر قوانین نافذ کیے ہیں۔

لہذا ایسے سرکش اور بدکے ہوگئے گدھوں سے بدتر انسانوں کو میں اصلاح کرنا پسند نہیں کرتا۔

میں صرف ان مسلمانوں کو سدھرنے میں مدد کرنا پسند کرتا ہوں جو اپنی حالت خود بدلنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے دن رات کوششیں بھی کررہے ہیں۔ گناہگار ہیں مگر شرمسار ہیں۔توبہ کرتے رہتے ہیں۔نہ کہ وہ جو جان بوجھ کر ہٹ دھرمی سے روزانہ ایک غلاظت بھرا کام معاشرے میں ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں اور خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔

ایسے کافروں کے لیے تو ذلت کی مار اور دردناک عذاب تیار کرکے رکھا ہوا ہے اللہ نے۔

اور میں قیامت کے دن ایسے ناہنجاروں کے خلاف مکمل گواہی دوں گا۔

اگر اللہ نے اجازت دی تو ان کی سزاوں میں اضافہ بھی کرواوں گا اور انہیں جہنم میں بھی اپنے ہاتھوں سے پھینکوں گا۔

کیونکہ جو لوگوں پر رحم نہیں کرتے، میں ان پر رحم نہیں کرتا۔اور یہی اللہ کا قانون بھی ہے۔

جب اللہ ایسے ناہنجاروں کو ہدایت نہیں دیتا تو میں کون ہوتا ہوں ایسے بے غیرت لوگوں پر اپنا وقت ضائع کرنے والا؟

اس سے تو کئی گنا بہتر ہے کہ میں غیرمسلموں پر کام کروں، انہیں اسلام میں داخل کروں اور ان کو قرآن اور اسلام سمجھاوں کیونکہ وہ کم از کم اسلام کی قدر تو کرتے ہیں۔شوق سے عمل تو کرتے ہیں۔

مجھے نہیں ضرورت ایسے نام کے مسلمانوں کی جو حسد اور جلن سے بھرپور ہیں، مجھے وہ سولڈ مسلم درکار ہیں جو اسلام کا جھنڈا لہراتے ہوئے پوری دنیا پر اسلام غالب کرنے کو تیار ہیں۔

پھر چاہے جس سے جتنا ہوسکے وہ اپنے حصہ کا کام کرے۔

کم از کم میں، اس معاشرے کے منافقین پر اپنا وقت مزید برباد نہیں کرنا چاہتا۔

پہلے ہی بچپن سے جوانی تک یہ لوگ میرا کافی نقصان کرچکے ہیں۔

یہ اسی قابل ہیں کہ انہیں دردناک سزاوں کے ذریعے گرفتار کیا جائے۔

اور یہ کام اللہ کی آرمی کرے گی اور وہ اپنی آرمی سے کام لینا خوب جانتا ہے۔

اللہ واحد القہار کے ساتھ
ڈاکٹر 
لیجنڈ محمد ذیشان ارشد
چیف آف نیچر آرمی اسٹاف
اکیسویں صدی کا مسلم مین
لیجنڈری فری لانسر آف پاکستان

FOUT SHUDA Auliya Say MADAD Mangna? | MARNAY Kay Baad TAQAT Barh Jati Hai? | Mufti Kamran Shahzad

یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے۔ قرآن سے دلیل مانگنا اور اسے قبول کرنا ایک عقل والے انسان کے لیے ہی ممکن ہے۔ اللہ نے اپنی راہ میں قتل ہوجانے والوں کو "زندہ" declare کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اللہ نے دعوی کیا ہے کہ تمہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ البقرہ اور آل عمران میں یہ دونوں آیات موجود ہیں شہدائے اسلام کے حوالے سے۔ ان کی زندگی کا شعور ہر اس انسان کو حاصل نہیں جسے شعور نہیں۔ جو شعور رکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ موت کے بعد بھی انہیں زندہ declare کرنے کے کوئی reasons ہیں۔ اس کی اعلی مثال شاہ یقیق بابا المعروف روحانی سرجن کی روح ہے جو عالم برزخ میں ہونے کے باوجود اسی physical world میں تصرفات کرتی ہے اور لاعلاج مریضوں کا علاج اور آپریشن سرجریاں کررہی ہے۔ کسی بھی کافر کی روح ایسا نہیں کرپارہی کیونکہ تمام کفار موت کے بعد عذاب میں گرفتار ہیں۔ یہ ہوتا ہے فرق ایک کافر اور مومن کی روح میں۔ اللہ نے یہ اختیار شاہ یقیق بابا کو دیا ہے۔ وہ ایسا کرنے پر قادر ہیں۔

اب سنو اگلی پھکی۔۔۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنے کے لیے حضرت موسی علیہ السلام عالم برزخ سے کیسے آگئے تھے آسمانوں پر جبکہ ایک انتقال شدہ نبی تھا اور ایک زندہ نبی تھا؟ اور سنو۔۔۔ وہ تمام انبیاء مسجد اقصی میں نماز باجماعت ادا کرنے کیسے پہنچ گئے تھے جبکہ وہ تو مردہ تھے؟ (سوائے حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کے جنہیں اللہ نے زندہ رکھا ہو) کیا مردے بھی زندہ انسان کی قیادت میں نماز ادا کرتے ہیں کسی مسجد میں کھڑے ہوکر؟ یا ایک زندہ انسان روحوں کی جمات کرواسکتا ہے؟ قرآن میں بہت سے واقعات ہیں جو عقل سے خارج ہیں۔ اگر physical resources رکھنے والا انسان موبائل فون ہاتھ میں لے کر کسی سے مدد مانگ سکتا ہے تو وہ شخص جو spiritual resources رکھتا ہو وہ اپنی ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی روح سے بات چیت کرکے مدد مانگ سکتا ہے۔ یہ کوئی ایسی مشکل بات نہیں جسے سمجھنا مشکل ہو۔ اور ہاں جس انسان کے پاس نہ فزیکل ریسورسز ہوں اور نہ اسپریچوئل ریسورسز ہوں وہ بہتر ہے کہ صرف اللہ ہی سے مدد مانگے کیونکہ وہ مجبور ہے۔ اور کون کتنا مجبور اور بے بس ہے یہ اس کے حالات پر depend کرتا ہے۔ جس کے پاس نہیں ہے وہ مدد نہیں مانگ سکتا، جس کے پاس ہے، وہ مدد مانگ سکتا ہے۔ یہ فزیکل اور اسپریچوئل صرف سمجھانے کے لیے ہے۔ مطلقا صرف اللہ سے مدد ہی سب سے بہتر ہے اور پھر اللہ جس کے ذریعے چاہے کام کروادیتا ہے، چاہے انسانوں کے ذریعے/چاہے جنات کے ذریعے/چاہے فرشتوں کے ذریعے/چاہے پوری کائنات میں جس چیز کو چاہے استعمال کرنے کے ذریعے یا پھر براہ راست اپنی طاقت اور قدرت سے کام کردے۔ یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔
ڈاکٹر لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

پیر، 9 جون، 2025

اگر لوگوں کو جیتنا ہے تو ہر انسان کے دل کی چابی پہچانو

 اگر لوگوں کو جیتنا ہے تو ہر انسان کے دل کی چابی پہچانو۔

🔑
لالچی کو نصیحت مت دو، اسے تھوڑا سا لالچ دو، یہی اس کا راستہ ہے۔ 💰
غرور کرنے والے سے بحث مت کرو، اسے جھکاؤ مت، خود جھک جاؤ، اس کا غرور اسی وقت ٹوٹ جائے گا۔ 🙇‍♂️
بیوقوف کو دلیل سے مت سمجھاؤ، اسے اپنی راہ پر چلنے دو، چاہے منزل تک پہنچے یا ٹھوکر کھائے، وہ خود سیکھے گا۔ 🤷‍♂️
عالم سے کچھ مت چھپاؤ، اسے سچائی دو، کیونکہ اس کی آنکھیں جھوٹ کے سائے بھی دیکھ لیتی ہیں۔ 👓
جو اکیلا ہے، اسے نصیحت نہیں، صرف ساتھ چاہیے، ایک ہاتھ پکڑ لو، دنیا جیت لے گا۔ 🤝
بھوکا ہے تو تقریر مت دو، روٹی دو، اسی وقت بھوک اس کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ 🍞
بچہ ہے، اسے اخلاقیات کا بوجھ مت دو، ایک کھلونا دو، وہی اس کی دنیا ہے۔ 🧸
استاد کو علم مت دو، عزت دو، کیونکہ عزت ہی اس کا سب سے بڑا انعام ہے۔ 🎓
ساس کو طعنے مت دو، میٹھے بول دو، کڑواہٹ خود ختم ہو جائے گی۔ 🍯
شوہر کو ڈانٹ سے نہیں، سکون سے سمجھاؤ، اس کی دنیا دلیل سے نہیں، سکون سے چلتی ہے۔ 🕊️
بیوی کو ہیرے نہیں، توجہ دو، اس کا دل تمہارے وقت سے روشن ہوتا ہے۔ 💖
نوکر کو حکم سے نہیں، عزت اور اچھی تنخواہ دو، وہ وفادار ہو جائے گا۔ 💼
دوست کو تحفے نہیں، صرف تمہارا اعتماد چاہیے۔ 🤗
دشمن سے مت لڑو، ہاتھ جوڑ دو، شاید وہ بھی نفرت سے تھک چکا ہو۔ 🙏
اور محبوب کو ہزاروں الفاظ نہیں، صرف ایک وعدہ چاہیے:
میں تمہارا ہوں ہمیشہ کے لیے۔ ❤️
ہر انسان کا دل ایک تالا ہے، بس چابی تلاش کرنے کا ہنر آنا چاہیے۔ 🔐
از قلم ماہ نور فاطمہ

جمعہ، 6 جون، 2025

قربانی اور نصاب کی حقیقت — آسان الفاظ میں

عیدالاضحی کا تہوار آتا ہے اور قربانی کا ذکر ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ قربانی صرف اس کے فرض ہے جس کے پاس بہت سونا یا چاندی (نصاب) ہو۔ لیکن کیا اللہ اور نبی ﷺ نے ایسا کہا ہے؟

آئیے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں:


اللہ کا حکم ہے: قربانی کرو

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:

"نماز پڑھو اور قربانی کرو" (الکوثر: 2)

یہ سیدھا سیدھا حکم ہے۔ جیسے نماز فرض ہے، ویسی ہی قربانی کا حکم بھی ہے۔


نبی ﷺ نے کیا فرمایا؟

نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے پاس وسعت (یعنی مالی استطاعت) رکھتا ہے اور قربانی نہیں کرتا، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔

یہ بات حدیث میں آتی ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ اگر آپ کے پاس طاقت ہے تو قربانی کرنا ضروری ہے۔


لیکن نصاب کہاں سے آیا؟

قرآن اور حدیث میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ قربانی صرف اس شخص پر فرض ہے جس کے پاس اتنا سونا یا چاندی (نصاب) ہو۔

یہ نصاب فقہاء نے بعد میں بنایا ہے تاکہ قربانی کرنے والوں کے لیے کوئی حد مقرر ہو جائے۔ لیکن یہ اللہ کا واضح حکم نہیں۔


اصل بات کیا ہے؟

قرآن و سنت کے مطابق اگر آپ کے پاس استطاعت ہے تو قربانی کریں۔

چاہے آپ کے پاس زیادہ پیسہ ہو یا تھوڑا، بس جو بھی آپ دے سکتے ہیں قربانی کریں۔

قربانی کے جانور عموماً اونٹ، گائے، بکری، بھیڑ ہوتے ہیں۔


جو قربانی نہیں کرتا وہ کیا ہے؟

جو شخص استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کرتا، اس کی نیت پر سوال اٹھتا ہے۔

نبی ﷺ نے کہا ہے کہ ایسا شخص ہمارے اجتماع کے قریب نہ آئے۔


خلاصہ

  • قربانی اللہ کا حکم ہے، جو نبی ﷺ کی سنت بھی ہے

  • نصاب کا ذکر قرآن یا حدیث میں نہیں

  • قربانی کی شرط صرف "وسعت" یا استطاعت ہے

  • استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنا غلط ہے


آخر بات

دین کو آسان سمجھیں، اور اللہ کے حکم پر عمل کریں۔ جو ہو سکے قربانی کریں، چاہے تھوڑی ہی کیوں نہ ہو۔

یہ قربانی آپ کی نیت کو مضبوط کرتی ہے، اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ بنتی ہے، اور دین کا حصہ ہے۔

How to Create a High Ticket Freelancing Service (Urdu)

In this enlightening video, we immerse ourselves in the art of crafting a service that truly goes viral. We debunk the myth that word of mouth alone is enough and explore the essential strategies for business success.

Discover the secrets behind creating a service that people not only love but can't resist sharing. We examine real-world examples like Amazon and Facebook, showcasing how they've mastered the art of trust and virality.

Explore the marketing potential of your viral service, fueled by strong demand and incentives for sharing. Take a page from Dropbox's playbook, where referrals are incentivized. Discover how to harness the power of social media challenges and giveaways to boost your reach.

Watch now and unlock the path to viral success!

  • 0:00 - The Misconception About Word of Mouth
  • 0:59 - Crafting Virality
  • 1:07 - Irresistible Offers
  • 2:11 - Confidence in Your Service
  • 3:04 - Incentives For Marketing
  • 4:02 - Viral Loss Leader
  • 5:19 - Key Takeaways

شور کم کرنے کے طریقے

کمرے میں ماں باپ موبائل پر تیز آواز میں سنتے رتہے ہیں ویڈیوز۔۔۔میں شور کم کیسے کروں کانوں میں؟

یہ واقعی ایک مشکل صورت حال ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر آپ پڑھائی کر رہے ہوں یا سکون چاہتے ہوں۔ یہاں چند عملی طریقے ہیں جن سے آپ شور کو کم کر سکتے ہیں:

1. ایئر پلگس (Earplugs) استعمال کریں:

یہ ایک سادہ اور مؤثر حل ہے۔ بازار میں سستے اور آرام دہ ایئر پلگس ملتے ہیں جو شور کو بہت حد تک کم کر دیتے ہیں۔

2. Noise-Cancelling ہیڈفونز استعمال کریں:

اگر آپ تھوڑا زیادہ خرچ کر سکتے ہیں تو یہ سب سے مؤثر حل ہے۔ آپ ان سے خاموشی حاصل کر سکتے ہیں یا اپنا پسندیدہ میوزک  لگا کر توجہ مرکوز رکھ سکتے ہیں۔

3. White Noise یا Ambient Sound چلائیں:

اپنے فون پر "white noise" یا "rain sounds" چلائیں۔ یہ شور کو mask کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

4. والدین سے مؤدبانہ بات کریں:

اگر ممکن ہو تو ان سے نرمی سے بات کریں:

"امی ابو، اگر ممکن ہو تو آواز تھوڑی کم کر لیں؟ مجھے تھوڑا سکون یا پڑھائی کی ضرورت ہے۔"

5. کمرے میں Soft Items رکھیں:

قالین، پردے، تکیے وغیرہ شور کو جذب کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

6. اپنی جگہ تھوڑا بدلنے کی کوشش کریں:

اگر ممکن ہو تو دوسرے کمرے یا کسی پرسکون جگہ چلے جائیں۔

7. کانوں میں روئی استعمال کریں:

آپ اپنے کانوں میں احتیاط کے ساتھ روئی ٹھونس کر کافی حد تک شور کم کرسکتے ہیں۔

بدھ، 4 جون، 2025

تین سفید زہر... جو خاموشی سے آپ کو موت کے قریب لے جا رہے ہیں

ریفائن شوگر یعنی چینی
ریفائن آئل - فیکٹریوں میں بنانے والا تیل یعنی گھی جیسے کہ ڈالڈا تیل وغیرہ
ریفائن کاربوہائڈریڈ یعنی پیزا برگر شوارما


"تین سفید زہر... جو خاموشی سے آپ کو موت کے قریب لے جا رہے ہیں! 🍞🥤🛢️
آپ روز کھا رہے ہیں، مگر جانتے نہیں یہ آپ کے جسم کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔
یہ ویڈیو دیکھیں، جانیں سچ، اور بچائیں خود کو اور اپنے پیاروں کو!"
🌿 صحت کے بغیر تعلیم کچھ بھی نہیں! 🏫
ہم اپنے اسکول میں تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت کو بھی پہلی ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ ہم مانتے ہیں کہ صحتمند ذہن ہی علم حاصل کر سکتا ہے۔
🩺 ہمارے باقاعدہ ہیلتھ سیشنز کا مقصد صرف بیماریوں کا علاج نہیں، بلکہ ان سے بچاؤ ہے۔
ہم بچوں کو سکھاتے ہیں کہ:
"ہمیں بیماریوں سے لڑنا نہیں، بلکہ ایسی زندگی گزارنی ہے جس میں بیماریاں قریب نہ آئیں۔"
🌱 یہی ہے تاؤ فلسفے کی اصل روح — فطرت کے ساتھ ہم آہنگ، پرامن اور صحتمند زندگی۔
آئیں! مل کر ایک ایسی نسل تیار کریں جو نہ صرف ذہین ہو، بلکہ جسمانی اور ذہنی طور پر بھی مکمل صحت مند ہو۔
صحت زندگی ہے، بیماریاں موت ہیں
جتنے دن زندگی ہے ہنستے مسکراتے چلتے پھرتے گزارو
نہ کہ ہسپتال کے دھکے کھاتے اور دوائیاں پھانکتے ہوئے