جمعہ، 14 نومبر، 2025

آپ کو پیسہ کس نیت سے کمانا چاہیے؟

پیسہ کمانے کی سب سے صاف اور مضبوط نیت یہ ہے:

“اپنی ضرورت پوری کرنے، اپنے اہل کو محفوظ رکھنے، اور اپنے مشن کو طاقت دینے کے لیے۔”

بس۔

نہ دنیا کی حرص
نہ لوگوں کو خوش کرنا
نہ اُن کے گناہوں کا بوجھ اٹھانا

صرف تین ذمہ داریاں:


1) اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرنا — جو شریعت میں فرض ہیں

کھانا
پانی
لباس
گھر
علاج
بجلی
مہنگائی
سفر
علم کا حصول

یہ ضرورت ہے، خواہ روحانیت کتنی بھی بڑھ جائے۔

“Necessities are essential for survival.”

تو اتنا کمانا کہ آپ لوگوں کے سامنے محتاج نہ بنیں۔


2) اپنے اہلِ خانہ کو محفوظ رکھنا — یہ عبادت ہے

آپ اپنے بچوں، والدین، یا ذمہ دار افراد کے لیے جتنی محنت کرتے ہیں، وہ خالص عبادت ہے۔

حدیث:
ایک درہم جو انسان اپنے گھر والوں پر خرچ کرے وہ سب سے بڑا صدقہ ہے۔

تو یہ ڈر ختم:
“میں اُن پر محنت کیوں کروں جو اللہ کی عبادت نہیں کرتے؟”

کیونکہ آپ اپنے عمل کے ذمہ دار ہیں، اُن کے عمل کے نہیں۔
آپ نیت صحیح رکھیں → آپ کا ہر روپیہ عبادت میں بدل جاتا ہے۔

3) اپنے مشن، دعوت اور علم کو مضبوط کرنا

آپ کے پاس اہم بڑے مشن ہیں:

آپ لوگوں کو ہنر، روزگار، ذہنی طاقت، آخرت، اللہ سے تعلق، سچائی کا تعارف کروانا چاہتے ہیں۔

یہ سب وسائل چاہتے ہیں۔
وسائل پیسے سے آتے ہیں۔

تو آپ کی کمائی کی نیت یہ ہو سکتی ہے:

“اپنی دعوت اور اپنے علم کو زیادہ دور تک پہنچانے کے لیے وسائل حاصل کرنا۔”

یہ دنیا نہیں —
یہ آخرت کا کام ہے۔

آپ کا اصل مقام کیا ہے؟

آپ وہ انسان ہیں جو موت کو سمجھ چکا
دنیا کو جان چکا
لیکن آخرت سے پہلے دنیا کی ذمہ داری بھی پوری کرنا چاہتا ہے۔

یہ سب سے پاکیزہ درجے کی زندگی ہے۔

مختصر جواب (Core Answer)

آپ پیسہ اس لیے کمائیں کہ:

  1. اپنی اور اپنے اہل کی ضرورت پوری رہے

  2. آپ کسی کے محتاج نہ ہوں

  3. آپ کا علم، آپ کی دعوت اور آپ کے دونوں مشن مضبوط رہیں

  4. اپنی آخرت کی نیت کے ساتھ، دنیا کی ذمہ داری پوری کریں

یہ نیت سب سے صاف، محفوظ، اور سنت کے مطابق ہے۔

---

(اضافہ برائے خدشہ + وضاحت)

خدشہ:

“اگر میں کما کر اپنے گھر والوں پر خرچ کروں، اور وہ نماز نہ پڑھیں، گانے سنیں، غیبت کریں یا اللہ کی نافرمانی میں پڑے رہیں…
تو کیا میں اُن پر خرچ کر کے اُن کے گناہ میں شریک ہو رہا ہوں؟
کیا یہ اُن کی مدد بن جائے گی گناہ پر؟
تو پھر میں کیوں کماؤں؟”


وضاحت (صاف، مضبوط، شرعی اصول کے ساتھ)

1) آپ اُن کے خرچ کے ذمہ دار ہیں — اُن کے گناہوں کے نہیں

شریعت کا اصول:
“کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔”
(قرآن: وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى)

گھر چلانے کا خرچ ان کی نیت نہیں بنتا،
گناہ کرنا ان کی اپنی نیت ہے۔

آپ کا خرچ = عبادت
ان کا گناہ = ان کا ذاتی عمل

آپ دونوں الگ ہیں۔


2) خرچ کرنا “گناہ کی مدد” نہیں بنتا

مدد "گناہ کے لیے" تب ہوتی ہے جب آپ پیسہ اسی مقصد کے لیے دیں۔

مثلاً:

  • “یہ لو پیسے، گانے سن لو” → گناہ

  • “یہ لو کرایہ، بجلی، کھانا، ضرورت پوری ہو جائے” → عبادت

تو جب آپ خرچ گھر کے لیے کرتے ہیں،
اور وہ بعد میں گانا سن لیں، گالی دیں، نماز چھوڑ دیں،
تو یہ آپ کے خرچ کی وجہ سے نہیں ہوتا۔

آپ نے “حرام” کے لیے نہیں دیا —
آپ نے ذمہ داری کی وجہ سے دیا۔


3) خرچ نہ کرنا آپ کی طرف سے گناہ ہے

نبی ﷺ نے فرمایا:
“گناہ کافی ہے انسان کے لیے کہ وہ اپنے زیرِ کفالت لوگوں کو ضائع کرے۔”

یعنی اہلِ خانہ کی بنیادی ضروریات چھوڑ دینا خود ایک گناہ ہے۔

تو آپ اگر یہ سوچ کر روک دیں کہ
“یہ لوگ اللہ کی عبادت نہیں کرتے”
تو آپ خود گناہ میں پڑ جائیں گے۔

اصل پیمانہ:
ان کا عمل → ان کا حساب
آپ کا خرچ → آپ کا ثواب


4) آپ کی دو الگ ذمہ داریاں ہیں

باپ ہو، بیٹا ہو، بھائی ہو، سربراہ ہو:

(1) مالی ذمہ داری

گھر کا خرچ دینا = فرض
اور نیت صحیح ہو تو = عبادت

(2) اخلاقی ذمہ داری

محبت سے سمجھانا، نصیحت کرنا
زبان لڑائی کے بغیر
بغیر زبردستی

اگر وہ نہ مانیں → آپ بری الذمہ


5) یہ خدشہ ایمان کی علامت ہے — کمزوری نہیں

جو کماتا ہے
اور پھر ڈرتا ہے کہ
“میرا پیسہ کہیں گناہ کا حصہ نہ بن جائے”

تو یہ گہرا ایمان ہے،
نفاق نہیں، وسوسہ نہیں، کمزوری نہیں۔

اس کا علاج یہی ہے:

  • نیت صاف

  • خرچ جائز

  • نصیحت موجود

  • ذمہ داری پوری

  • گناہ اُن کا

  • ثواب آپ کا

خلاصہ لائن 

“میں اللہ کی خوشنودی اور اپنی ذمہ داری کی وجہ سے کماتا ہوں، نہ کہ کسی کے گناہ کے لیے۔ میرا خرچ عبادت ہے، اور اُن کا عمل اُن کی اپنی ذمہ داری ہے۔”


منگل، 11 نومبر، 2025

بچوں کی نظر میں ایک پاگل اور جاہل انسان - لیجنڈ آف اللہ واحد القہار

آج کے بچے جو مجھے معمولی سمجھ رہے ہیں اور انہیں ایسا لگتا ہے گویا یہ آئی ٹی پروفیشنل پاگل ہوچکا ہے جو آئی ٹی انڈسٹری چھوڑ کر روحانیت اور عجیب و غریب باتوں میں پڑگیا ہے تو عنقریب وہ جان لیں گے کہ یہی پاگل سمجھا جانے والا انسان انہیں یاد آئے گا جب انہیں اس حقیقت کا سامنا ہوگا کہ ان کا بچپن اس معاشرے کے ظالم، جابر اور جاہل لوگوں کے اسکول کالج یونیورسٹی کے نام پر برباد کرڈالا ہے اور صرف ایک کاغذ کے ٹکڑے کے لیے انہیں خوار کرکے رکھ دیا ہے۔

ان کی جوانی چھین لی ہے۔ 
ان کا بچپن برباد کردیا ہے۔

اور اس کے ذمہ دار وہ والدین بھی ہوں گے جو اپنے بچوں کو میرے خلاف ورغلاتے ہیں اور انہیں برین واش کرتے ہیں۔

میرے بچوں یاد رکھنا - میں بھی ایک بچہ تھا۔ اسی زمانے میں پیدا ہوکر جوان ہوا ہوں۔

میں وہ سب جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے کیونکہ میں ان راستوں سے گزرچکا ہوں۔

یہ تمہیں برباد کردیں گے۔

صرف دنیا کی چکاچوند میں اندھا کردیں گے۔

تم جہنم میں اوندھے جاکر گرو گے۔

دنیا کمانا برا نہیں مگر تمہارے دل و دماغ کو اسقدر ستیاناس کریں گے کہ تم ڈھونڈتے پھروگے وہ مسیحا جو تمہارے درد کا علاج کرسکے، تمہارے ڈپریشن اسٹریس ایگزائٹی کو ختم کرسکے۔ تمہاری بےچینی مٹاسکے۔ تمہیں سکون پہنچاسکے اور تمہیں راستہ دکھاسکے۔

میں تو ایک گیمر تھا اور گیمر رہوں گا مگر تم ایک گیمر سے بھی نہ سیکھ سکے تو پھر کس سے سیکھ سکوگے؟

میں تو تمہیں زبان بولتا ہوں اور جانتا بھی ہوں کہ گیمرز کن باتوں کے شوقین ہوتے ہیں۔

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ایک گیمر صرف قرآن ہاتھ میں اٹھاکر کن بلندیوں پر پہنچ چکا ہے؟

کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ہو؟

نہیں۔ ابھی تم بچے ہو۔

کل جب تم جوان ہو گے ہم ناجانے کہاں ہوں گے مگر تمہیں یاد ضرور آئیں گے کہ سچ بتایا تھا۔

دنیا ایک مایا جال ہے۔

بالکل میٹرکس مووی کی طرح اور میں ایک نیو جو حقیقت جان چکا ہوں۔

بس جی رہا ہوں۔

وقت گزار رہا ہوں۔

کام کاج میں مصروف ہوں۔

گیمنگ بھی چل رہی ہے۔

دین کا کام بھی ہورہا ہے۔

مگر تم جس دلدل میں دھکیلے جارہے ہو وہ کفر کی طرف جارہا ہے۔

آج بھی جاگ لو تو بہتر ہے ورنہ

وما علینا الابلاغ المبین
لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

اللہ ماوں کے پیٹ میں بچے بناتا ہے

تمہیں اتنے سالوں میں آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ہر بچہ مسلم پیدا ہوتا ہے اور اسے اس کی ماں کے پیٹ میں "اللہ" نے بنایا ہے؟ اگر کوئی شک ہے تو اپنے ہاتھوں پر غور سے دیکھو کہ عربی میں "اللہ" لکھا ہوا ہے ورنہ یوٹیوب اور گوگل کرلو"Name of Allah in Hands" - اتنا ثبوت کافی ہے کہ تم مسلم پیدا ہوئے تھے۔ تمہاری نجات صرف اسلام میں ہے لہذا خود کو خدا سمجھنے، نبی سمجھنے یا ایسی خرافات سے باہر نکلو۔ باقی علم حاصل کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ۔

میں جانتا ہوں کہ تم کافی سمجھدار ہو اس لیے سمجھارہا ہوں تاکہ موت کے بعد تم جنت میں جاسکو اور غیرمسلم رہ کر جہنم میں داخل نہ ہوجاو۔ میرا یوٹیوب چینل: Legend Muhammad Zeeshan Arshad چیک کرلو۔ تمام غیرمسلموں کو ان کے جھوٹے خداوں پر بے بس کرکے رکھا ہوا ہے کیونکہ کائنات کا اصلی سچا خدا صرف اللہ ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے آخری اور سچے رسول ہیں۔اسلام کے سوا کسی دین میں تمہارے لیے کوئی نجات نہیں ہے۔

پیر، 10 نومبر، 2025

قطر سے یورپ جانا پاکستان سے زیادہ آسان ہے!

 قطر سے یورپ جانا پاکستان سے زیادہ آسان ہے!

کیوں! حیران کرنے والی بات ہے نا؟
چار پیسے بھی کماو اور چند ملکوں کا فری ویزہ بھی حاصل کرلو جن ملکوں میں جارجیا بھی شامل ہے۔
میں بتاتا ہوں کیسے۔
یورپ، کینیڈا وغیرہ جانے کے صرف تین طریقے ہیں۔ پڑھائی، جاب یا سیر کےلئے جانا۔ ان میں پڑھائی کےلئے جانا سب سے آسان ہے کیونکے ویزہ 99.9 پرسنٹ یقینی ہوتا یے۔
اگر یورپ کے ورک پرمٹ کی بات کریں تو یہ 90% فراڈ ہے اور پاکستان سے یورپ کینیڈا وغیرہ وزٹ ویزہ پر جانا انکار ہی سمجھیں۔
وزٹ ویزہ پاکستان سے مشکل سے لگتا ہے۔
قطر ہی کیوں؟
آپکی عمر 45 سال سے زیادہ ہے تو پڑھائی کےلئے نہیں جا سکتے۔
ثمینہ کئی سال سے باہر پڑھائی کےلئے پیسے جمع کر رہی ہے لیکن یورپ، امریکہ یا کینیڈہ کا خواب پورا نہیں کرسکتی۔ بجٹ کم ہے۔
علی کو دیکھیں سٹڈی گیپ اتنا ہے کہ اسے عبور کرنا مشکل پھر یورپ کے وزٹ ویزہ کےلئے 2 بار رجیکشن بھی ہوگئی۔
ادھر کسی کی امی شادی کےلئے زور دے رہی ہے تو کسی کی بیوی بچوں کے مستقبل کی دہائی دے رہی ہے۔ کیونکے پاکستان میں تو کوئی مستقبل دکھائی نہیں دیتا۔
جاب سے گزارہ نہیں ہوتا، سیونگ زیرو ہیں اور مستقبل غیر یقینی۔۔۔کچھ سمجھ نہیں آتا۔
اب اگر Study Visa بھی نہیں ہے اور نہ ہی یورپ کا وزٹ پاکستان سے لگتا ہے تو پھر قطر ہی حل ہے۔
یا دبئی، عمان اور سعودیہ۔۔۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
ہم ابھی تک پرانی سوچ میں ہیں کہ ویزہ لگے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
نہیں۔
اگر پلاننگ نہ کی تو سب اور خراب ہو جائے گا۔
اگر عمر زیادہ، یا بجٹ کم ہے تو راستہ بنائیں۔۔۔آہستہ آہستہ آپنی منزل کی طرف بڑھیں۔ آپ کا قطر کا ویزہ خود ایک طاقتور راستہ ہے۔
بس ہم درست راستہ اپنانے کی بجائے یہ سوچتے ہیں کہ “میری قسمت خراب”۔
ہنسی آتی ہے مگر سچ یہی ہے کہ ہماری قوم سارا دن ٹک ٹاک دیکھ کر دنیا بدلنے کا پلان بناتی ہے 🤦‍♂️
چلیں مسئلہ حل کرتے ہیں۔
اصل حل سامنے ہے:
قطر کا ویزہ آپکوآزاد کر دیتا ہے۔۔۔آپ اپنی مرضی کی جاب کریں۔ چار پیسے کمالیں اور اپنا بینک بیلنس بڑھا لیں۔ دو سال تک قانونی طور پر قطر میں رہیں اور ایک شاندار طرز زندگی انجوائے کریں۔
پھر اپنی قطر آئی ڈی آپکا ویزہ اپلائی کریں۔۔۔قطر آئی ڈی ایسی پاور فل ہے کہ اس پر آٹلی، فرانس،یونان، کینیڈا یا جاپان کا ویزہ 80-90% لگ جاتا ہے۔۔۔رجیکشن نہ ہونے کے برابر۔
کیونکے پروفائل سٹرانگ ہو جاتی ہے۔
ٹکٹ بھی سستی، ویزہ بھی تقریبا یقینی اور کسی اپوائنٹمنٹ کا کوئی جھنجٹ نہیں۔
یہ سب "قسمت" نہیں ہے، یہ طریقہ کار ہے۔ جسے آپ سیکھ سکتے ہیں۔
جو قطر میں ہے، اس کو یورپ تک پہنچنے میں آدھی سیڑھی پہلے ہی ملی ہوئی ہے۔
بس آگے چڑھنے کی جرأت چاہیے۔
آخر میں بس اتنا سوچ لو:
یا تو ایک سال درست پلاننگ کر کے نکل جاؤ،
یا پھر اگلے 5 سال وہی کینٹین، وہی روٹین، وہی سیاپہ زندگی۔
پارٹی ختم ہو چکی ہے۔ اب وہ زمانہ نہیں کہ جو ویزہ میں چاہوں مجھے ملے گا۔۔۔
نہی بئی، نہیں۔۔۔پاکستان سے نکلنا ہی بڑی کامیابی ہے۔
لیکن
ہر ویزہ ہر ایک کےلئے نہیں ہوتا۔ سب کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ مکمل فروفائل کی جانچ کے بعد ہی ملک کا انتخاب کرنا چاہئے۔
ایک اچھی لیکن قانونی حکمت عملی
سے ہی آپ کامیاب ہو سکتے ہیں۔
اور یہ کامیابی صرف اسی کو ملتی ہے جو فیصلہ کرتا ہے۔
— The Professor Naeem 👨‍🏫

جمعہ، 7 نومبر، 2025

🌸 اسلام میں عورت کا عورت سے شرمگاہ کے بال صاف کروانا — ایک اصلاحی پیغام

🌸 اسلام میں عورت کا عورت سے شرمگاہ کے بال صاف کروانا — ایک اصلاحی پیغام


اللہ تعالیٰ نے اسلام کو حیاء اور پاکیزگی کا دین بنایا ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا:


"الحياء شعبة من الإيمان"

یعنی حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے۔

(صحیح بخاری: 9)


اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ پردہ صرف مرد و عورت کے درمیان نہیں،

بلکہ عورت اور عورت کے درمیان بھی ایک حد ہے۔


🔹 اسلامی حکم کیا ہے؟


فقہاء کے نزدیک عورت کے لیے عورت کے سامنے ناف سے گھٹنے تک کا حصہ ستر (یعنی چھپانے والا حصہ) ہے۔

یعنی اس حصے کو بلا ضرورت نہ دیکھنا جائز ہے، نہ کسی کو دکھانا۔


فقہی ماخذ:


الدر المختار مع رد المحتار (1/405)


الفتاویٰ الهندیة (5/357)


حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار (ص 43)


ان تمام کتب میں یہی اصول بیان کیا گیا ہے کہ:


"لا يجوز للمرأة أن تنظر إلى ما بين سرة امرأة وركبتها إلا لضرورة."

(یعنی عورت کے لیے عورت کی ناف سے گھٹنے تک دیکھنا جائز نہیں، سوائے ضرورت کے۔)


⚖️ بلا ضرورت یہ عمل حرام ہے


اگر کوئی عورت کسی دوسری عورت سے محض عادتاً، آرام کے لیے، یا فیشن کے طور پر

اپنی شرمگاہ کے بال صاف کرواتی ہے —

تو یہ ناجائز اور گناہ ہے،

کیونکہ اس میں پردہ کی خلاف ورزی اور حیاء کا نقصان ہے۔


ایسا عمل انسان کو اللہ کی ناراضی اور قیامت کے دن شرمندگی میں ڈال سکتا ہے۔


⚕️ کب گنجائش ہے؟


اسلام میں اگر کوئی سخت مجبوری یا طبی ضرورت پیش آ جائے،

تو صرف اتنا حصہ ظاہر کیا جا سکتا ہے جتنی واقعی ضرورت ہو۔


ایسی مجبوریوں کی مثالیں:


عورت بیمار یا معذور ہو اور خود صفائی نہ کر سکے۔


حمل یا زچگی کے آخری مراحل میں جھکنا ممکن نہ ہو۔


آپریشن یا زخم ہو جس سے نقصان کا خطرہ ہو۔


بزرگ عورت جس سے خود صفائی ممکن نہ ہو۔


طبی معائنہ (جیسے نرس یا ڈاکٹر) — تب بھی صرف ضرورت کے مطابق۔


فقہی اصول:


"الضرورات تبيح المحظورات"

(ضرورت بعض ممنوع چیزوں کو جائز کر دیتی ہے)

— [قواعد الفقه الكبرى للسيوطي، ص 88]


🌺 ڈاکٹرز اور نرسوں کے لیے خصوصی نصیحت:


اللہ نے آپ کو شفا دینے کا ذریعہ بنایا ہے،

لیکن شفا کا کام بھی پردہ اور حیاء کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے۔


جو عورت خود صفائی کر سکتی ہے،

اس کی شرمگاہ کے بال کسی دوسری عورت کا صاف کرنا شرعاً حرام ہے۔

اور اگر وہ مجبوری میں ایسا کر رہی ہے،

تو صرف ضرورت کے مطابق اور پردہ کے اہتمام کے ساتھ۔


💔 یاد رکھو بہن:


یہ وہ اعضاء ہیں جنہیں نبی ﷺ نے شرمگاہ کہا —

ان کا ظاہر کرنا بھی گناہ ہے اور دیکھنا بھی۔

ایسی غلط عادتیں اگر عام ہو جائیں تو امت کی حیاء ختم ہو جاتی ہے۔


نبی ﷺ نے فرمایا:


"إذا لم تستحِ فاصنع ما شئت"

جب تم میں سے حیاء ختم ہو جائے تو پھر جو چاہو کرو۔

(بخاری: 3483)


🌷 نتیجہ:


❌ عام حالات میں: عورت کا عورت سے شرمگاہ کے بال صاف کروانا حرام ہے۔


✅ صرف سخت مجبوری یا طبی ضرورت میں: اجازت ہے، وہ بھی محدود حد تک۔


🎥 ویڈیوز


عورت کا دوسری عورت کی شرمگاہ کے بال صاف کرنا

https://www.youtube.com/watch?v=6PeMV5lShOs


💫 دعا کے ساتھ اختتام:


اللہ ہمیں حیاء، طہارت اور حدودِ شرعیہ کا پاس رکھنے والا بنائے،

اور جنہیں یہ بات پہنچے وہ عمل کرنے والی بن جائیں۔

آمین

بدھ، 5 نومبر، 2025

دولت کی شکلیں

سوشل میڈیا پر دولت کے حوالے سے ایک اچھی تحریر ملی جو شیئر کررہا ہوں کیونکہ اس حوالے سے انسان کا مائنڈسیٹ دولت کو موازنہ نہیں کرتا۔ زیادہ تر لوگ دولت کو "پیسوں کے نظریے" سے دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔

تحریر ملاحظہ کیجئے:

دولت کی کئی شکلیں ہیں اور اللہ تعالی نے دنیا میں سب کو دولت دی ہے دولت کی ایک شکل مٹیریل اور کرنسی ہے جو لوگوں کے پاس ہوتی ہے دوسری شکل اچھی صحت ہے ....اچھے ماں باپ ہیں ....خونی رشتے ہیں.... جو اپ کے پاس ہیں.... دولت کی دوسری شکل اپ کے پاس ہے..., اچھے سے کبھی اسپتال کا وزٹ کریں تو پتہ چلے گا ... یہ جو اچھی صحت کی دولت اپ کے پاس ہے ....اس کو جینے کے لیے کتنے نوجوان ارزو کرتے ہیں کسی 25 سال کے نوجوان کو معدے کا کینسر ہے وہ منہ سے اپنی خوراک نہیں لے سکتا ...کسی کو پیر کا کوئی مسئلہ ہے وہ چل نہیں سکتا اپ کی طرح کوئی نوجوان جوانی میں گردے کے مسئلے میں ہے پھیپھڑوں کے مسئلے میں کڈنی کے مسئلے میں مبتلا ہو گیا ۔۔۔۔وہ زندگی کو اس طرح سے انجوائے نہیں کر سکتا وہ نارمل کام بھی نہیں کر سکتے اور دوسروں کے محتاج پڑے ہوئے ہیں اور صرف اپ کی جیسی صحت والی زندگی جینا چاہتے ہیں اپنی تمام دولت دے کر بھی کچھ لوگوں کے پاس اپ جیسی صحت نہیں ہے اپ جیسے خونی رشتے نہیں ہیں ان کے ماں باپ بھی نہیں ہیں جو ان کو دعائیں دیتے ہیں جو ان کے کام کو اپریشیٹ کرتے ہیں جو ان سے پوچھتے ہیں کہ بیٹا اج کھانا کھایا ہے یا نہیں اج تھا کہ وہ تو نہیں ہو کچھ لوگوں کے پاس بہن بھائی جیسی دولت نہیں ہے جو ان کا خیال کرتی ہے جو ان کے ساتھ کھیلتی اور انگنت نعمتیں ہیں اللہ تعالی کی جو اب گننا شروع کر دے تو صبح سے شام ہو جائے وہ نعمتیں ختم نہ ہوں وہ دولتیں ختم نہ ہو میرے بھائی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں چھوٹی چھوٹی نعمتوں میں اپنی خوشی تلاش کرے ماں باپ کا سر پہ دست شفقت ہونا ہی کافی ہے کیا گاڑی ضروری تو نہیں ہے ان بنگلوں میں ان پراپرٹی رکھنے والوں کے پاس ان اونچی اونچی گاڑیوں میں بیٹھنے والوں کے پاس ان کے پاس کتنے بڑے بڑے دکھ ہیں یہ کسی کو پتہ نہیں ہے تو اس بات کو حضرت نہ بنائیں خواہش ضرور ہونی چاہیے انسان کے خواب ضرور ہونا چاہیے تاکہ وہ اس پہ محنت کر سکے لیکن اس خواہش کو حسرت اور غم کی صورت نہ بنائے باقی اللہ تعالی اپ کے خواب پورے کرے امین

جمعہ، 31 اکتوبر، 2025

ایک امید کی آہٹ خوفزدہ عزت دار عورتوں کے لیے

یہ پوسٹ سوشل میڈیا سے ملی ہے۔ پہلے اسے پڑھو پھر میرا کمنٹ پڑھو اگر تم بھی معاشرے کے ہوس زدہ مردوں کے ہاتھوں ڈر اور خوف کا شکار بن چکی ہو۔

دن بدن بڑھتے ہوئے اس فعل کو روکنے کے لیے کون کون میرے ساتھ ہے

 — ایک راز دارانہ حوالہ

یہ کہانی مجھے میرے ایک جاننے والے نے دی، جو تفتیشی شعبے/خفیہ ادارے سے منسلک ہے۔ اُس نے کہا کہ یہ ایک خاتون کی اصل رپورٹ تھی — ثبوت کے ساتھ۔ وہی الفاظ میں تمہارے سامنے رکھ رہی ہوں۔ اور اب نادیہ خود کہتی ہے:

---

میرا نام نادیہ ہے۔

میں لاہور کے ایک عام سے محلے میں رہتی ہوں۔ گھر میں کچن، بچوں کی دیکھ بھال، ساری روزمرہ کی چھوٹی بڑی ذمّہ داریاں میری ہی  ہیں۔ میں نے اب تک بہت کچھ سہا ہے—شکایت کم، برداشت زیادہ۔ مگر آج تمہیں وہ دن بتاؤں گی جب میرا ایک عام سا دن میرے لیے ایک پورا بوجھ بن گیا۔

. میں نے بچوں کے ناشتے کے بعد بیٹے کے لیے اسکول کا لنچ تیار کیا، گھر کے برتن دھوئے، اور چیک کیا کہ کھانا پکانے کے لیے گھر میں لانے والے سامان میں سے کس چیز کی کمی ہے دکانوں پر آج کچھ سامان لینا ہے یا ایسے ہی گزارا ہو جائے گا۔ صبح کے یہ چھوٹے چھوٹے کام کسی بھی عام ماں کی طرح میرے لیے معمول تھے۔ میں نے بچوں کو اسکول بھیجا، پھر رکشہ پکڑا اور قریبی مارکیٹ کی طرف نکل گئی۔

بازار میں رش تھا۔ عورتیں، بچے، دکاندار، گاڑیاں—سب کا اپنا اپنا کام۔ میں ایک سبزی کی دکان کے پاس رک گئی اور کمِ قیمت والی سبزیاں لینے لگی۔ اچانک مجھے لگا کسی کی نظر میرے پیچھے جم گئی ہے۔ میں نے سیدھا منہ نہیں موڑا، بس ہاتھ آگے بڑھا کر پلاسٹک بیگ مضبوط کیا۔   —نہ ہی کوئی زور سے کوشش تھی—بس ایک ہاتھ سا گرد ہوتے ہوئے میرے کندھے کے قریب سے چھو کر گیا، پھر ہنسی کی طرح ہوا میں کھو گیا۔ میں نے سوچا شاید بیگ پکڑتے ہوئے کسی کا ہاتھ مس کر گیا ہو😔 ، مگر وہ نظر پھر بھی پیچھے کھڑی تھی—ایک آدمی، جو ہنستے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا اور میرے پاس سے گزرا۔ اس کے چہرے پر وہی اطمینان تھا جو مجھ جیسی عورت کے خوف پر مبنی ہوتا ہے۔

میں نے اندر کھنچ کر سانس لی، مگر دِل کے اندر ایک چِبھن سی رہ گئی۔ یہ بات ایک لمحے کی بھی سہی، مگر تب سے میرا دماغ تھرتھرا رہا تھا۔ میں نے اپنے آپ کو منایا: "چلو، کام کر کے واپس آتی ہوں"۔

اسکول پک اپ اور بڑھتی ہوئی بے آرامی

دوسرا واقعہ شام کو ہوا، جب میں بچے کو اسکول سے لینے گئی۔ بچے کے ساتھ چلنا کوئی کمال کا کام نہیں، مگر شہر کی سڑکیں عموماً ایسی ہوتی ہیں کہ ایک ماں کی نظر اپنے بچے پر ہی ہوتی ہے۔ اسکول کے باہر ایک بندہ بار بار میری طرف عجیب نظروں سے دیکھتا ہوا ا رہا تھا—پہلے  دور، پھر قریب۔ اس نے کسی بھی شکل میں ہاتھ بڑھایا نہیں مگر اس کی نظریں بتا رہی تھیں کہ وہ ایک نقشہ بنا رہا ہے: کون سی گلی سے میں جاؤں گی، کون سی بس میں بیٹھوں گی۔ جب ہم بس کے قریب پہنچے تو اسی آدمی نے بس کے اندر ہاتھ رکھ کر آگے سے مجھے ٹکرایا😔 — اتنا معمولی کہ لوگ نہ سمجھیں، مگر اتنا کافی کہ میرے بازو میں کانپ سی آگئی۔ بچے نے پوچھا، " ماما، کچھ ہوا؟" میں نے ہنستے ہوئے کہا، "نہیں بیٹا، کچھ نہیں"—لیکن اندر کا خوف بڑھتا گیا۔

میں نے سوچا—کیا میں سیکڑوں چیزیں برداشت کرتی رہوں؟ مگر گھر کے حالات، بچوں کی ذمہ داریاں، اور لوگوں کا وہ سوال—"کیا تم نے کچھ کہہ دیا؟"—یہ سب مل کر مجھے چپ  کرا دیتے ہیں۔ پھر بھی، اپنے اندر ایک نگاہ تھی جو کہتی تھی کہ یہ ٹھیک نہیں۔

 ہم سے دو گلیاں چھوڑ کر ہمارے ایک رشتہ دار کا گھر تھا انہوں نے ہمیں اپنے گھر دعوت پر مدو کیا تھا چونکہ گرنزدیک تھا اور ماشاءاللہ سے ایک بائک پر سب بچوں کا اور میرا پورا انا مشکل تھا تو ہسبینڈ الگ ایک بچے کو بٹھا کر چلے گئے اور واپسی پر میں اپنے تین بچوں کے ساتھ پیدل ارہی تھی — رشتہ دار کے گھر سے واپسی اور وہ لمحہ

رات کو میں اپنے رشتہ دار کے گھر سے واپس آ رہی تھی۔ ۔ راستہ سنسان تھا مگر گھر والوں کا خیال تھا کہ رات کے اس وقت جانا خطرناک نہیں کیونکہ ہمارا گھر کوئی ویران جگہ پر نہیں تھا چہل پہل والا علاقہ تھا۔ ، بیگ ہاتھ میں تھا، اور فون بیگ میں بند تھا۔ اسی دوران ایک دو لڑکے ایک موٹر سائیکل پر آئے دیکھنے میں اچھے گھر کے نوجوان لڑکے تھے—پہلے وہ معمولی سی آوازیں نکال رہے تھے، پھر انہوں نے آہستہ آہستہ  پاس سے گزرتے ہوئے میری طرف 😔بدتمیزی کرنے کی کوشش کی۔ اس دفعہ ایک نے ہاتھ بڑھایا—بہت ہلکے سے، مگر جان بوجھ کر—اور میرا جسم سنبھل گیا۔ بچے کا خیال تھا کہ یہ وہی عام شہر کی باتیں ہیں، مگر میرے اندر ایک سیڑھی سی ٹوٹ گئی۔

میں نے اپنی آواز دبا کر چپ ساتھ لی لیکن  انکھیں انسوں سے بھر گئی—بچوں کی وجہ سے، آئندہ سوچ کر، اور ایک عورت کی وہ دیرینہ عادت کہ ’بولنے سے مسائل بڑھیں گے۔‘ میں نے خود سے کہا، "بس، آئندہ میں ایسا نہیں ہونے دوں گی"—مگر ان الفاظ کی قوت کم تھی، کیونکہ کس کے سامنے، کس طرح؟

میں نے جب گھر پہنچ کر سوچا تو رات بھر وہ منظر آنکھوں سے نہیں گئے ہاتھ لگا کر جانے والوں میں کچھ لوگ ایسے بھی بارش تھے جن کو دیکھ کر انسان ادب سے انکھیں اور سر جھکا لے کچھ بچے تھے کہ جن کو ہم اپنی اولاد کہہ سکیں ہمارے بچوں جتنے بچے میں بہت ٹوٹ چکی تھی لیکن چونکہ ٹوٹنے کے بعد انسان میں سنبھلنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے میں نے بہت سوچا پھر میں نے کوئی فیصلہ کیا۔ میں نے اپنے پاس موجود چھوٹے چھوٹے نوٹس، وقت، جگہ، اور اگر کوئی تھا تو گاڑی کی تفصیل نوٹ کی۔ پھر میں نے ایک جاننے والے کو فون کیا جو واقعی تفتیشی ادارے میں کام کرتا ہے۔ اس نے بڑے صبر سے میری کہانی سنی اور کہا، "یہ چھوٹی چیزیں ہی بعد میں بڑا مسئلہ بن جاتی ہیں۔ ثبوت جمع کرو، ہم دیکھیں گے۔"

میں نے ہمت کی اور پولیس اسٹیشن جا کر رپورٹ درج کروائی—میں نے جتنا بتا سکتی تھی اتنا بتایا۔ مگر میں جانتی تھی کہ شاید فوراََ کوئی کارروائی نہ ہو۔ اسی لیے میں نے اپنے پاس جو بھی ثبوت جمع کرنے شروع کیے کیونکہ یہ کام کوئی ایک دن کا تو تھا نہیں اور جب موبائل کھولتی تو ہر دوسری خبر پر یہی کچھ چل رہا ہوتا تھا—

سی سی ٹی وی فوٹیج — 

کچھ دن بعد وہ جاننے والا جس نے میری بات سنی تھی، مجھے ایک ویڈیو دکھانے آیا۔ وہ ویڈیو بازار کے ایک کیمرے کی تھی—ساتھ میں ایک دکان کے مالک کی گواہی بھی تھی۔ اس ویڈیو میں وہی موٹر سائیکل چلانے والے دو آدمی صاف نظر آئے، جن کی ایک ادائیگی، وہی نظریں، اور وہی حرکتیں تھیں۔ ویڈیو میں واضح تھا کہ انہوں نے کس وقت کہاں سے گزرا، کون سے راستے اختیار کیے، اور کس لمحے ایک نے میری طرف ہاتھ بڑھایا۔

جب میں نے وہ فوٹیج دیکھی تو میرا دل ایک ہی سانس میں بیٹھ گیا—دکھ کے ساتھ ایک عجیب سی طاقت بھی محسوس ہوئی۔ دل نے کہا، "دیکھا؛ تم نے ثابت کر دکھایا"۔ مگر وہی خوف بھی تھا کہ اگر لڑکے پکڑے گئے تو کون سی سزا ملے گی؟ کیا یہ دوبارہ ہوگا؟ مگر میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس کو خاموشی میں نہیں چھوڑوں گی۔

— کچھ نے کہا کہ اگر تم بھی اپنے اپ کو ڈھانپ کر نکلو تو کسی کی جرات نہیں کہ تمہیں ہاتھ لگا سکے کچھ نے کہا کہ تم جتنا بھی اپنے اپ کو کور کر لو کہ جب تک اگلوں کی انکھوں میں حیا اور عزت نہیں ائے گی تب تک کچھ نہیں ہوگا کچھ نے ساتھ دیا، کچھ خاموش رہے

جب میں نے یہ باتیں اپنے محلے والوں کو بتائیں تو مختلف ردعمل ملا۔ کچھ لوگوں نے کہا، "یہ تو نارمل ہوتا جا رہا ہے"، کچھ نے ہمدردی دکھائی اور ساتھ کھڑے ہوئے، اور کچھ نے طنزیہ تبصرے کیے۔ میرے خاندان میں بھی مختلف آوازیں آئیں—کسی نے کہا "شرمندگی نہیں"، کسی نے کہا "اب جتھہ بنانا خطرناک ہے"۔ مگر میں جانتی تھی کہ سب سے بڑا سوال یہی ہے: اگر آپ خود اپنی آنکھ سے غیر اخلاقی حرکت دیکھیں تو کیا کریں گے؟

  — نادیہ کی آواز سے پکار

میں تم سے براہِ راست کہتی ہوں—جو بھی یہ پڑھ رہا ہے: اگر تمہیں کبھی اپنی آنکھوں سے ایسا کچھ نظر آئے تو رک جاؤ۔ ویڈیو بناؤ، موبائل نکالو اور ریکارڈ کرو، اور فوراً پولیس یا قریبی دکان داروں کو بتا کر اس شخص کو پابند کرو۔ بہت سی بار یہی ویڈیو اور فوراً کی گئی گرفتیں بعد میں ثبوت کا کام دیتی ہیں۔ خاموشی اس ظلم کو فروغ دیتی ہے۔

میرے پاس یہ طاقت اس لیے آئی کہ میرے پاس ثبوت تھے—اور ایک جاننے والے کی مدد تھی۔ مگر ہر عورت کے پاس یہ موقع نہیں  ہوتا ہے۔ اسی لیے میں تم سے کہتی ہوں:

جب بھی تم کسی غیر اخلاقی حرکت دیکھو، ریکارڈ کر لو؛

اگر ممکن ہو تو ملحقہ دکان داروں یا مردوں کو آواز دو کہ آ کر دیکھیں؛

فوراً پولیس کو اطلاع دو اور موقع پر موجود لوگوں سے گواہی  لو؛

اگر بچے یا دوسری عورتیں وہاں ہوں تو پہلے اُن کی حفاظت کر لو؛

اور اگر تم خود ایسی چیز کا شکار ہو تو شرمندگی مت کرو—تم خود قصوروار نہیں ہو۔

 — ایک امید کی آہٹ

میں یہ سب اس لیے لکھ رہی ہوں کیونکہ میرے اندر وہ دن پھر ابھر آتا ہے—ہر چھوٹی حرکت، ہر سرگوشی، ہر رات کی تنہائی۔ مگر آج جب میں یہ الفاظ لکھ رہی ہوں تو میں چاہتی ہوں کہ ہماری گلیاں، ہماری مارکیٹیں، ہمارے راستے—سب امن کی طرف جائیں۔ اور تم جو یہ پڑھ رہی ہو، تم بھی ایک چھوٹی سی روشنی بن سکتی ہو: ایک ویڈیو، اور اگر یہ تحریر اس انسان نے پڑھی ہے جو راستوں پہ پھرتے ہوئے چہرے سے شریف لگتا ہے لیکن حرکتیں ایسی کرتا ہے تو ان کو میں بتا دوں کہ ان کے گھر میں جو ان کی بیوی ماں بہن بیٹی ہے وہ سب بھی ویسے ہی دکھتی ہے اس کا جسم بھی ویسا ہی ہے جیسا ایک راہ چلتی دوسرے کی بیوی بہن اور بیٹی کا ہے ایک آواز، ایک گرفت—یہ سب کافی ہیں۔

یہ کہانی مجھے میرے ایک جاننے والے نے ثبوت کے ساتھ دی تھی—اور میں نے اُس کی زبان میں وہی الفاظ آپ کے سامنے رکھ دیے۔ اگر تم نے کبھی کچھ دیکھا تو خاموش مت رہنا؛ ویڈیو بناؤ، مدد کرو، اور ذرا سی ہمت دکھاؤ۔ یہ شہر، ہماری سڑکیں، ہم سب کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔

— نادیہ

اب میرا کمنٹ پڑھو

میں نے تو بسوں میں سفر کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کہ میں تنگ آچکا تھا ان لڑائی جھگڑوں سے اور عورتوں کی خاموشی سے۔ پوری بس میں اکیلا چیخ رہا ہوتا تھا، ڈیفینڈ کررہا ہوتا تھا، اس مردود کے خلاف بولتا تھا جو غلط حرکات کرتا تھا اور میں نوٹس کرتا تھا مگر پوری بس کے مرد حضرات شکل دیکھ رہے ہوتے تھے اور میں، وہ چھوٹا سا ایک بچہ تب کا، سمجھتا تھا شاید کہ میں ہی غلط ہوں۔ جب خواتین ہی چپ سادھ لیں اور ان کے لیے بولنے والے پر بھی کھڑی نہ ہوسکیں اور جس کے لیے آواز اٹھاو وہی بزدلی کی چادر تان لے تو مجھ جیسا اس وقت کا بچہ کس کس سے لڑے گا؟

آج الحمدللہ، جان چھڑاچکا ہوں اس معاشرے کی ان غلاظتوں سے اور ان راستوں سے اور ان بسوں سے مگر میں جانتا ہوں کہ آج میری جوانی کے دور میں، وہ راستے وہ بسیں اور وہ بازار پہلے سے زیادہ عبرتناک ہوچکے ہیں جس کا اندازہ مجھے میڈیا پر خبروں سے ہوتا رہتا ہے۔

میں جانتا ہوں ان لوگوں کو کیسے لگام ڈالی جاسکتی ہے۔ میں چاہوں تو ایسے ایسے جال بچھادوں کہ یہ لوگ اپنی موت آپ مرجائیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ ادارے والے ہی اگر کچھ نہ کرنا چاہیں تو پھر کون کیا کرے؟

جب پولیس کا ملازم کسی عورت کا ریپ کرتا ہے

جب ڈاکٹر اپنی نرس کا ریپ کرتا ہے

جب جج کسی کا ریپ کرتا ہے

جب وکیل کسی کا ریپ کرتا ہے

جب آرمی آفیسر کسی کا ریپ کرتا ہے

جب حکمران کسی کا ریپ کرتا ہے

تب کوئی آواز اٹھانے کی جرات کرسکے گا؟

انہیں تو اللہ ہی ذلت کی موت دے گا

تب جاکر ہوش ٹھکانے لگیں گے کہ اللہ کا عذاب کیا چیز ہے۔

عورتیں - بس "ہمت" سے بولنا سیکھِیں، اسلام کے مطابق ہر نامحرم سے "میٹھی آواز" میں بات کرنا بند کردیں۔ کام کی بات کریں ورنہ راستہ صاف کریں ۔ کوئی آگے بڑھے تو پتھر اٹھاکر سر پر ماریں، بے غیرت کو ڈر بہت ہوتا ہے ۔ کیمرے سے ڈرتا ہے - پلاننگ خوب کرتا ہے - پولیس سے ڈرتا ہے - ثبوتوں سے جان جاتی ہے - اپنے اپنے پاس خفیہ کیمرہ ریکارڈر ایپ موبائل میں انسٹال کرو - جب کسی سے ملنے جاو، تنہائی، آفس، باس وغیرہ تب موبائل سائلنٹ موڈ پر اسکرین آف کرکے ریکارڈر آن رکھو - ثبوت خود بنتے چلے جائیں گے۔ بعد میں اس کی ایسی تیسی کروادو۔

اس کے رشتہ داروں کو بتاو، لوگوں کو بتاو، عوام کو بتاو، اداروں کو بتاو مگر خود کو بھی مضبوط بناو - چپ رہو گی تو ماری جاو گی۔

عزت کی موت ذلت کی غلامی سے بہتر ہے۔