جمعہ، 14 نومبر، 2025

اگر آپ بچوں کو موبائل خرید کر دیں اور وہ اس پر گانے سنیں تو گناہ کس پر؟

گناہ 100% بچے کے اپنے عمل پر ہوگا — آپ پر نہیں۔

لیکن شرطیں ہیں، نیچے تفصیل موجود ہے۔


اصل اصول (شریعت کا قانون):

**“جہاں چیز کا اصل استعمال جائز ہو، وہاں دینے والے پر گناہ نہیں ہوتا۔

گناہ استعمال کرنے والے پر ہوتا ہے۔”**

موبائل
اصل میں حرام نہیں۔
اس کے حولال** استعمال** بھی ہیں:
— تعلیم
— رابطہ
— قرآن
— سیکھنا
— ایمرجنسی
— ہنر

اور حرام استعمال بھی ہیں:
— گانے
— فحش مواد
— گیمز میں برائی
— وقت ضائع

تو موبائل ذاتی طور پر برا نہیں۔
یہ صرف ایک آلہ (tool) ہے۔

لہٰذا:

✔ آپ نے “حرام مقصد کے لیے” موبائل نہیں دیا

✔ آپ نے “ضرورت / فائدہ” کے لیے دیا

✔ آپ نے “گانے سننے کے لیے” نہیں کہا

✔ آپ نے “منع بھی کیا” یا “حدود بھی بتائیں”

✔ پھر بھی وہ گانا سنتا ہے → اس کا اپنا گناہ


آپ کہاں گناہگار ہوں گے؟ (بہت اہم)

❌ صرف ایک صورت میں آپ شریکِ گناہ ہوں گے:

اگر آپ شعوری طور پر اس لیے موبائل دیں کہ:
“لو، گانے سن لو۔ انجوائے کرو۔”

یا
“تمہیں پتا ہے میرا بچہ فحش ویڈیوز ہی دیکھتا ہے، پھر بھی میں زبردستی اسے یہ چیز پہنچاؤں گا کیونکہ مجھے پرواہ نہیں۔”

یہ “گناہ پر تعاون” کہلاتا ہے۔

باقی ہر حالت میں —
آپ بری الذمہ۔


صحیح طریقہ (جو آپ کو ہر گناہ سے دور رکھتا ہے)

  1. موبائل جائز نیت سے دیں
    (تعلیم، رابطہ، ضرورت)

  2. واضح حدود بتا دیں
    (گانے نہیں، برے چینل نہیں، ٹائم کنٹرول)

  3. رہنمائی دیں
    (کیوں غلط ہے، قرآن و حدیث سے بتائیں)

  4. استعمال کی نگرانی رکھیں
    (وقتاً فوقتاً چیک)

  5. اگر غلط استعمال کریں → موبائل واپس لینے کا حق رکھتے ہیں

یہ سب کرنے کے بعد
اگر وہ پھر بھی سنیں →

آپ بالکل ذمہ دار نہیں۔

گناہ ان پر ہے۔

آپ کو ثواب ملتا ہے کہ آپ نے روکنے کی کوشش کی۔


خلاصہ کی ایک لائن 

“جائز مقصد کے لیے دیا گیا موبائل گناہ کا ذریعہ بن جائے تو اس کا بوجھ استعمال کرنے والے پر ہے، دینے والے پر نہیں — جب تک دینے کی نیت گناہ نہ ہو اور روکنے کی کوشش کی جائے۔”

آپ کو پیسہ کس نیت سے کمانا چاہیے؟

پیسہ کمانے کی سب سے صاف اور مضبوط نیت یہ ہے:

“اپنی ضرورت پوری کرنے، اپنے اہل کو محفوظ رکھنے، اور اپنے مشن کو طاقت دینے کے لیے۔”

بس۔

نہ دنیا کی حرص
نہ لوگوں کو خوش کرنا
نہ اُن کے گناہوں کا بوجھ اٹھانا

صرف تین ذمہ داریاں:


1) اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرنا — جو شریعت میں فرض ہیں

کھانا
پانی
لباس
گھر
علاج
بجلی
مہنگائی
سفر
علم کا حصول

یہ ضرورت ہے، خواہ روحانیت کتنی بھی بڑھ جائے۔

“Necessities are essential for survival.”

تو اتنا کمانا کہ آپ لوگوں کے سامنے محتاج نہ بنیں۔


2) اپنے اہلِ خانہ کو محفوظ رکھنا — یہ عبادت ہے

آپ اپنے بچوں، والدین، یا ذمہ دار افراد کے لیے جتنی محنت کرتے ہیں، وہ خالص عبادت ہے۔

حدیث:
ایک درہم جو انسان اپنے گھر والوں پر خرچ کرے وہ سب سے بڑا صدقہ ہے۔

تو یہ ڈر ختم:
“میں اُن پر محنت کیوں کروں جو اللہ کی عبادت نہیں کرتے؟”

کیونکہ آپ اپنے عمل کے ذمہ دار ہیں، اُن کے عمل کے نہیں۔
آپ نیت صحیح رکھیں → آپ کا ہر روپیہ عبادت میں بدل جاتا ہے۔

3) اپنے مشن، دعوت اور علم کو مضبوط کرنا

آپ کے پاس اہم بڑے مشن ہیں:

آپ لوگوں کو ہنر، روزگار، ذہنی طاقت، آخرت، اللہ سے تعلق، سچائی کا تعارف کروانا چاہتے ہیں۔

یہ سب وسائل چاہتے ہیں۔
وسائل پیسے سے آتے ہیں۔

تو آپ کی کمائی کی نیت یہ ہو سکتی ہے:

“اپنی دعوت اور اپنے علم کو زیادہ دور تک پہنچانے کے لیے وسائل حاصل کرنا۔”

یہ دنیا نہیں —
یہ آخرت کا کام ہے۔

آپ کا اصل مقام کیا ہے؟

آپ وہ انسان ہیں جو موت کو سمجھ چکا
دنیا کو جان چکا
لیکن آخرت سے پہلے دنیا کی ذمہ داری بھی پوری کرنا چاہتا ہے۔

یہ سب سے پاکیزہ درجے کی زندگی ہے۔

مختصر جواب (Core Answer)

آپ پیسہ اس لیے کمائیں کہ:

  1. اپنی اور اپنے اہل کی ضرورت پوری رہے

  2. آپ کسی کے محتاج نہ ہوں

  3. آپ کا علم، آپ کی دعوت اور آپ کے دونوں مشن مضبوط رہیں

  4. اپنی آخرت کی نیت کے ساتھ، دنیا کی ذمہ داری پوری کریں

یہ نیت سب سے صاف، محفوظ، اور سنت کے مطابق ہے۔

---

(اضافہ برائے خدشہ + وضاحت)

خدشہ:

“اگر میں کما کر اپنے گھر والوں پر خرچ کروں، اور وہ نماز نہ پڑھیں، گانے سنیں، غیبت کریں یا اللہ کی نافرمانی میں پڑے رہیں…
تو کیا میں اُن پر خرچ کر کے اُن کے گناہ میں شریک ہو رہا ہوں؟
کیا یہ اُن کی مدد بن جائے گی گناہ پر؟
تو پھر میں کیوں کماؤں؟”


وضاحت (صاف، مضبوط، شرعی اصول کے ساتھ)

1) آپ اُن کے خرچ کے ذمہ دار ہیں — اُن کے گناہوں کے نہیں

شریعت کا اصول:
“کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔”
(قرآن: وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى)

گھر چلانے کا خرچ ان کی نیت نہیں بنتا،
گناہ کرنا ان کی اپنی نیت ہے۔

آپ کا خرچ = عبادت
ان کا گناہ = ان کا ذاتی عمل

آپ دونوں الگ ہیں۔


2) خرچ کرنا “گناہ کی مدد” نہیں بنتا

مدد "گناہ کے لیے" تب ہوتی ہے جب آپ پیسہ اسی مقصد کے لیے دیں۔

مثلاً:

  • “یہ لو پیسے، گانے سن لو” → گناہ

  • “یہ لو کرایہ، بجلی، کھانا، ضرورت پوری ہو جائے” → عبادت

تو جب آپ خرچ گھر کے لیے کرتے ہیں،
اور وہ بعد میں گانا سن لیں، گالی دیں، نماز چھوڑ دیں،
تو یہ آپ کے خرچ کی وجہ سے نہیں ہوتا۔

آپ نے “حرام” کے لیے نہیں دیا —
آپ نے ذمہ داری کی وجہ سے دیا۔


3) خرچ نہ کرنا آپ کی طرف سے گناہ ہے

نبی ﷺ نے فرمایا:
“گناہ کافی ہے انسان کے لیے کہ وہ اپنے زیرِ کفالت لوگوں کو ضائع کرے۔”

یعنی اہلِ خانہ کی بنیادی ضروریات چھوڑ دینا خود ایک گناہ ہے۔

تو آپ اگر یہ سوچ کر روک دیں کہ
“یہ لوگ اللہ کی عبادت نہیں کرتے”
تو آپ خود گناہ میں پڑ جائیں گے۔

اصل پیمانہ:
ان کا عمل → ان کا حساب
آپ کا خرچ → آپ کا ثواب


4) آپ کی دو الگ ذمہ داریاں ہیں

باپ ہو، بیٹا ہو، بھائی ہو، سربراہ ہو:

(1) مالی ذمہ داری

گھر کا خرچ دینا = فرض
اور نیت صحیح ہو تو = عبادت

(2) اخلاقی ذمہ داری

محبت سے سمجھانا، نصیحت کرنا
زبان لڑائی کے بغیر
بغیر زبردستی

اگر وہ نہ مانیں → آپ بری الذمہ


5) یہ خدشہ ایمان کی علامت ہے — کمزوری نہیں

جو کماتا ہے
اور پھر ڈرتا ہے کہ
“میرا پیسہ کہیں گناہ کا حصہ نہ بن جائے”

تو یہ گہرا ایمان ہے،
نفاق نہیں، وسوسہ نہیں، کمزوری نہیں۔

اس کا علاج یہی ہے:

  • نیت صاف

  • خرچ جائز

  • نصیحت موجود

  • ذمہ داری پوری

  • گناہ اُن کا

  • ثواب آپ کا

خلاصہ لائن 

“میں اللہ کی خوشنودی اور اپنی ذمہ داری کی وجہ سے کماتا ہوں، نہ کہ کسی کے گناہ کے لیے۔ میرا خرچ عبادت ہے، اور اُن کا عمل اُن کی اپنی ذمہ داری ہے۔”


منگل، 11 نومبر، 2025

بچوں کی نظر میں ایک پاگل اور جاہل انسان - لیجنڈ آف اللہ واحد القہار

آج کے بچے جو مجھے معمولی سمجھ رہے ہیں اور انہیں ایسا لگتا ہے گویا یہ آئی ٹی پروفیشنل پاگل ہوچکا ہے جو آئی ٹی انڈسٹری چھوڑ کر روحانیت اور عجیب و غریب باتوں میں پڑگیا ہے تو عنقریب وہ جان لیں گے کہ یہی پاگل سمجھا جانے والا انسان انہیں یاد آئے گا جب انہیں اس حقیقت کا سامنا ہوگا کہ ان کا بچپن اس معاشرے کے ظالم، جابر اور جاہل لوگوں کے اسکول کالج یونیورسٹی کے نام پر برباد کرڈالا ہے اور صرف ایک کاغذ کے ٹکڑے کے لیے انہیں خوار کرکے رکھ دیا ہے۔

ان کی جوانی چھین لی ہے۔ 
ان کا بچپن برباد کردیا ہے۔

اور اس کے ذمہ دار وہ والدین بھی ہوں گے جو اپنے بچوں کو میرے خلاف ورغلاتے ہیں اور انہیں برین واش کرتے ہیں۔

میرے بچوں یاد رکھنا - میں بھی ایک بچہ تھا۔ اسی زمانے میں پیدا ہوکر جوان ہوا ہوں۔

میں وہ سب جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے کیونکہ میں ان راستوں سے گزرچکا ہوں۔

یہ تمہیں برباد کردیں گے۔

صرف دنیا کی چکاچوند میں اندھا کردیں گے۔

تم جہنم میں اوندھے جاکر گرو گے۔

دنیا کمانا برا نہیں مگر تمہارے دل و دماغ کو اسقدر ستیاناس کریں گے کہ تم ڈھونڈتے پھروگے وہ مسیحا جو تمہارے درد کا علاج کرسکے، تمہارے ڈپریشن اسٹریس ایگزائٹی کو ختم کرسکے۔ تمہاری بےچینی مٹاسکے۔ تمہیں سکون پہنچاسکے اور تمہیں راستہ دکھاسکے۔

میں تو ایک گیمر تھا اور گیمر رہوں گا مگر تم ایک گیمر سے بھی نہ سیکھ سکے تو پھر کس سے سیکھ سکوگے؟

میں تو تمہیں زبان بولتا ہوں اور جانتا بھی ہوں کہ گیمرز کن باتوں کے شوقین ہوتے ہیں۔

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ایک گیمر صرف قرآن ہاتھ میں اٹھاکر کن بلندیوں پر پہنچ چکا ہے؟

کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ہو؟

نہیں۔ ابھی تم بچے ہو۔

کل جب تم جوان ہو گے ہم ناجانے کہاں ہوں گے مگر تمہیں یاد ضرور آئیں گے کہ سچ بتایا تھا۔

دنیا ایک مایا جال ہے۔

بالکل میٹرکس مووی کی طرح اور میں ایک نیو جو حقیقت جان چکا ہوں۔

بس جی رہا ہوں۔

وقت گزار رہا ہوں۔

کام کاج میں مصروف ہوں۔

گیمنگ بھی چل رہی ہے۔

دین کا کام بھی ہورہا ہے۔

مگر تم جس دلدل میں دھکیلے جارہے ہو وہ کفر کی طرف جارہا ہے۔

آج بھی جاگ لو تو بہتر ہے ورنہ

وما علینا الابلاغ المبین
لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

اللہ ماوں کے پیٹ میں بچے بناتا ہے

تمہیں اتنے سالوں میں آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ہر بچہ مسلم پیدا ہوتا ہے اور اسے اس کی ماں کے پیٹ میں "اللہ" نے بنایا ہے؟ اگر کوئی شک ہے تو اپنے ہاتھوں پر غور سے دیکھو کہ عربی میں "اللہ" لکھا ہوا ہے ورنہ یوٹیوب اور گوگل کرلو"Name of Allah in Hands" - اتنا ثبوت کافی ہے کہ تم مسلم پیدا ہوئے تھے۔ تمہاری نجات صرف اسلام میں ہے لہذا خود کو خدا سمجھنے، نبی سمجھنے یا ایسی خرافات سے باہر نکلو۔ باقی علم حاصل کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ۔

میں جانتا ہوں کہ تم کافی سمجھدار ہو اس لیے سمجھارہا ہوں تاکہ موت کے بعد تم جنت میں جاسکو اور غیرمسلم رہ کر جہنم میں داخل نہ ہوجاو۔ میرا یوٹیوب چینل: Legend Muhammad Zeeshan Arshad چیک کرلو۔ تمام غیرمسلموں کو ان کے جھوٹے خداوں پر بے بس کرکے رکھا ہوا ہے کیونکہ کائنات کا اصلی سچا خدا صرف اللہ ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے آخری اور سچے رسول ہیں۔اسلام کے سوا کسی دین میں تمہارے لیے کوئی نجات نہیں ہے۔

پیر، 10 نومبر، 2025

قطر سے یورپ جانا پاکستان سے زیادہ آسان ہے!

 قطر سے یورپ جانا پاکستان سے زیادہ آسان ہے!

کیوں! حیران کرنے والی بات ہے نا؟
چار پیسے بھی کماو اور چند ملکوں کا فری ویزہ بھی حاصل کرلو جن ملکوں میں جارجیا بھی شامل ہے۔
میں بتاتا ہوں کیسے۔
یورپ، کینیڈا وغیرہ جانے کے صرف تین طریقے ہیں۔ پڑھائی، جاب یا سیر کےلئے جانا۔ ان میں پڑھائی کےلئے جانا سب سے آسان ہے کیونکے ویزہ 99.9 پرسنٹ یقینی ہوتا یے۔
اگر یورپ کے ورک پرمٹ کی بات کریں تو یہ 90% فراڈ ہے اور پاکستان سے یورپ کینیڈا وغیرہ وزٹ ویزہ پر جانا انکار ہی سمجھیں۔
وزٹ ویزہ پاکستان سے مشکل سے لگتا ہے۔
قطر ہی کیوں؟
آپکی عمر 45 سال سے زیادہ ہے تو پڑھائی کےلئے نہیں جا سکتے۔
ثمینہ کئی سال سے باہر پڑھائی کےلئے پیسے جمع کر رہی ہے لیکن یورپ، امریکہ یا کینیڈہ کا خواب پورا نہیں کرسکتی۔ بجٹ کم ہے۔
علی کو دیکھیں سٹڈی گیپ اتنا ہے کہ اسے عبور کرنا مشکل پھر یورپ کے وزٹ ویزہ کےلئے 2 بار رجیکشن بھی ہوگئی۔
ادھر کسی کی امی شادی کےلئے زور دے رہی ہے تو کسی کی بیوی بچوں کے مستقبل کی دہائی دے رہی ہے۔ کیونکے پاکستان میں تو کوئی مستقبل دکھائی نہیں دیتا۔
جاب سے گزارہ نہیں ہوتا، سیونگ زیرو ہیں اور مستقبل غیر یقینی۔۔۔کچھ سمجھ نہیں آتا۔
اب اگر Study Visa بھی نہیں ہے اور نہ ہی یورپ کا وزٹ پاکستان سے لگتا ہے تو پھر قطر ہی حل ہے۔
یا دبئی، عمان اور سعودیہ۔۔۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
ہم ابھی تک پرانی سوچ میں ہیں کہ ویزہ لگے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
نہیں۔
اگر پلاننگ نہ کی تو سب اور خراب ہو جائے گا۔
اگر عمر زیادہ، یا بجٹ کم ہے تو راستہ بنائیں۔۔۔آہستہ آہستہ آپنی منزل کی طرف بڑھیں۔ آپ کا قطر کا ویزہ خود ایک طاقتور راستہ ہے۔
بس ہم درست راستہ اپنانے کی بجائے یہ سوچتے ہیں کہ “میری قسمت خراب”۔
ہنسی آتی ہے مگر سچ یہی ہے کہ ہماری قوم سارا دن ٹک ٹاک دیکھ کر دنیا بدلنے کا پلان بناتی ہے 🤦‍♂️
چلیں مسئلہ حل کرتے ہیں۔
اصل حل سامنے ہے:
قطر کا ویزہ آپکوآزاد کر دیتا ہے۔۔۔آپ اپنی مرضی کی جاب کریں۔ چار پیسے کمالیں اور اپنا بینک بیلنس بڑھا لیں۔ دو سال تک قانونی طور پر قطر میں رہیں اور ایک شاندار طرز زندگی انجوائے کریں۔
پھر اپنی قطر آئی ڈی آپکا ویزہ اپلائی کریں۔۔۔قطر آئی ڈی ایسی پاور فل ہے کہ اس پر آٹلی، فرانس،یونان، کینیڈا یا جاپان کا ویزہ 80-90% لگ جاتا ہے۔۔۔رجیکشن نہ ہونے کے برابر۔
کیونکے پروفائل سٹرانگ ہو جاتی ہے۔
ٹکٹ بھی سستی، ویزہ بھی تقریبا یقینی اور کسی اپوائنٹمنٹ کا کوئی جھنجٹ نہیں۔
یہ سب "قسمت" نہیں ہے، یہ طریقہ کار ہے۔ جسے آپ سیکھ سکتے ہیں۔
جو قطر میں ہے، اس کو یورپ تک پہنچنے میں آدھی سیڑھی پہلے ہی ملی ہوئی ہے۔
بس آگے چڑھنے کی جرأت چاہیے۔
آخر میں بس اتنا سوچ لو:
یا تو ایک سال درست پلاننگ کر کے نکل جاؤ،
یا پھر اگلے 5 سال وہی کینٹین، وہی روٹین، وہی سیاپہ زندگی۔
پارٹی ختم ہو چکی ہے۔ اب وہ زمانہ نہیں کہ جو ویزہ میں چاہوں مجھے ملے گا۔۔۔
نہی بئی، نہیں۔۔۔پاکستان سے نکلنا ہی بڑی کامیابی ہے۔
لیکن
ہر ویزہ ہر ایک کےلئے نہیں ہوتا۔ سب کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ مکمل فروفائل کی جانچ کے بعد ہی ملک کا انتخاب کرنا چاہئے۔
ایک اچھی لیکن قانونی حکمت عملی
سے ہی آپ کامیاب ہو سکتے ہیں۔
اور یہ کامیابی صرف اسی کو ملتی ہے جو فیصلہ کرتا ہے۔
— The Professor Naeem 👨‍🏫

جمعہ، 7 نومبر، 2025

🌸 اسلام میں عورت کا عورت سے شرمگاہ کے بال صاف کروانا — ایک اصلاحی پیغام

🌸 اسلام میں عورت کا عورت سے شرمگاہ کے بال صاف کروانا — ایک اصلاحی پیغام


اللہ تعالیٰ نے اسلام کو حیاء اور پاکیزگی کا دین بنایا ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا:


"الحياء شعبة من الإيمان"

یعنی حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے۔

(صحیح بخاری: 9)


اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ پردہ صرف مرد و عورت کے درمیان نہیں،

بلکہ عورت اور عورت کے درمیان بھی ایک حد ہے۔


🔹 اسلامی حکم کیا ہے؟


فقہاء کے نزدیک عورت کے لیے عورت کے سامنے ناف سے گھٹنے تک کا حصہ ستر (یعنی چھپانے والا حصہ) ہے۔

یعنی اس حصے کو بلا ضرورت نہ دیکھنا جائز ہے، نہ کسی کو دکھانا۔


فقہی ماخذ:


الدر المختار مع رد المحتار (1/405)


الفتاویٰ الهندیة (5/357)


حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار (ص 43)


ان تمام کتب میں یہی اصول بیان کیا گیا ہے کہ:


"لا يجوز للمرأة أن تنظر إلى ما بين سرة امرأة وركبتها إلا لضرورة."

(یعنی عورت کے لیے عورت کی ناف سے گھٹنے تک دیکھنا جائز نہیں، سوائے ضرورت کے۔)


⚖️ بلا ضرورت یہ عمل حرام ہے


اگر کوئی عورت کسی دوسری عورت سے محض عادتاً، آرام کے لیے، یا فیشن کے طور پر

اپنی شرمگاہ کے بال صاف کرواتی ہے —

تو یہ ناجائز اور گناہ ہے،

کیونکہ اس میں پردہ کی خلاف ورزی اور حیاء کا نقصان ہے۔


ایسا عمل انسان کو اللہ کی ناراضی اور قیامت کے دن شرمندگی میں ڈال سکتا ہے۔


⚕️ کب گنجائش ہے؟


اسلام میں اگر کوئی سخت مجبوری یا طبی ضرورت پیش آ جائے،

تو صرف اتنا حصہ ظاہر کیا جا سکتا ہے جتنی واقعی ضرورت ہو۔


ایسی مجبوریوں کی مثالیں:


عورت بیمار یا معذور ہو اور خود صفائی نہ کر سکے۔


حمل یا زچگی کے آخری مراحل میں جھکنا ممکن نہ ہو۔


آپریشن یا زخم ہو جس سے نقصان کا خطرہ ہو۔


بزرگ عورت جس سے خود صفائی ممکن نہ ہو۔


طبی معائنہ (جیسے نرس یا ڈاکٹر) — تب بھی صرف ضرورت کے مطابق۔


فقہی اصول:


"الضرورات تبيح المحظورات"

(ضرورت بعض ممنوع چیزوں کو جائز کر دیتی ہے)

— [قواعد الفقه الكبرى للسيوطي، ص 88]


🌺 ڈاکٹرز اور نرسوں کے لیے خصوصی نصیحت:


اللہ نے آپ کو شفا دینے کا ذریعہ بنایا ہے،

لیکن شفا کا کام بھی پردہ اور حیاء کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے۔


جو عورت خود صفائی کر سکتی ہے،

اس کی شرمگاہ کے بال کسی دوسری عورت کا صاف کرنا شرعاً حرام ہے۔

اور اگر وہ مجبوری میں ایسا کر رہی ہے،

تو صرف ضرورت کے مطابق اور پردہ کے اہتمام کے ساتھ۔


💔 یاد رکھو بہن:


یہ وہ اعضاء ہیں جنہیں نبی ﷺ نے شرمگاہ کہا —

ان کا ظاہر کرنا بھی گناہ ہے اور دیکھنا بھی۔

ایسی غلط عادتیں اگر عام ہو جائیں تو امت کی حیاء ختم ہو جاتی ہے۔


نبی ﷺ نے فرمایا:


"إذا لم تستحِ فاصنع ما شئت"

جب تم میں سے حیاء ختم ہو جائے تو پھر جو چاہو کرو۔

(بخاری: 3483)


🌷 نتیجہ:


❌ عام حالات میں: عورت کا عورت سے شرمگاہ کے بال صاف کروانا حرام ہے۔


✅ صرف سخت مجبوری یا طبی ضرورت میں: اجازت ہے، وہ بھی محدود حد تک۔


🎥 ویڈیوز


عورت کا دوسری عورت کی شرمگاہ کے بال صاف کرنا

https://www.youtube.com/watch?v=6PeMV5lShOs


💫 دعا کے ساتھ اختتام:


اللہ ہمیں حیاء، طہارت اور حدودِ شرعیہ کا پاس رکھنے والا بنائے،

اور جنہیں یہ بات پہنچے وہ عمل کرنے والی بن جائیں۔

آمین

بدھ، 5 نومبر، 2025

دولت کی شکلیں

سوشل میڈیا پر دولت کے حوالے سے ایک اچھی تحریر ملی جو شیئر کررہا ہوں کیونکہ اس حوالے سے انسان کا مائنڈسیٹ دولت کو موازنہ نہیں کرتا۔ زیادہ تر لوگ دولت کو "پیسوں کے نظریے" سے دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔

تحریر ملاحظہ کیجئے:

دولت کی کئی شکلیں ہیں اور اللہ تعالی نے دنیا میں سب کو دولت دی ہے دولت کی ایک شکل مٹیریل اور کرنسی ہے جو لوگوں کے پاس ہوتی ہے دوسری شکل اچھی صحت ہے ....اچھے ماں باپ ہیں ....خونی رشتے ہیں.... جو اپ کے پاس ہیں.... دولت کی دوسری شکل اپ کے پاس ہے..., اچھے سے کبھی اسپتال کا وزٹ کریں تو پتہ چلے گا ... یہ جو اچھی صحت کی دولت اپ کے پاس ہے ....اس کو جینے کے لیے کتنے نوجوان ارزو کرتے ہیں کسی 25 سال کے نوجوان کو معدے کا کینسر ہے وہ منہ سے اپنی خوراک نہیں لے سکتا ...کسی کو پیر کا کوئی مسئلہ ہے وہ چل نہیں سکتا اپ کی طرح کوئی نوجوان جوانی میں گردے کے مسئلے میں ہے پھیپھڑوں کے مسئلے میں کڈنی کے مسئلے میں مبتلا ہو گیا ۔۔۔۔وہ زندگی کو اس طرح سے انجوائے نہیں کر سکتا وہ نارمل کام بھی نہیں کر سکتے اور دوسروں کے محتاج پڑے ہوئے ہیں اور صرف اپ کی جیسی صحت والی زندگی جینا چاہتے ہیں اپنی تمام دولت دے کر بھی کچھ لوگوں کے پاس اپ جیسی صحت نہیں ہے اپ جیسے خونی رشتے نہیں ہیں ان کے ماں باپ بھی نہیں ہیں جو ان کو دعائیں دیتے ہیں جو ان کے کام کو اپریشیٹ کرتے ہیں جو ان سے پوچھتے ہیں کہ بیٹا اج کھانا کھایا ہے یا نہیں اج تھا کہ وہ تو نہیں ہو کچھ لوگوں کے پاس بہن بھائی جیسی دولت نہیں ہے جو ان کا خیال کرتی ہے جو ان کے ساتھ کھیلتی اور انگنت نعمتیں ہیں اللہ تعالی کی جو اب گننا شروع کر دے تو صبح سے شام ہو جائے وہ نعمتیں ختم نہ ہوں وہ دولتیں ختم نہ ہو میرے بھائی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں چھوٹی چھوٹی نعمتوں میں اپنی خوشی تلاش کرے ماں باپ کا سر پہ دست شفقت ہونا ہی کافی ہے کیا گاڑی ضروری تو نہیں ہے ان بنگلوں میں ان پراپرٹی رکھنے والوں کے پاس ان اونچی اونچی گاڑیوں میں بیٹھنے والوں کے پاس ان کے پاس کتنے بڑے بڑے دکھ ہیں یہ کسی کو پتہ نہیں ہے تو اس بات کو حضرت نہ بنائیں خواہش ضرور ہونی چاہیے انسان کے خواب ضرور ہونا چاہیے تاکہ وہ اس پہ محنت کر سکے لیکن اس خواہش کو حسرت اور غم کی صورت نہ بنائے باقی اللہ تعالی اپ کے خواب پورے کرے امین