پیر، 1 دسمبر، 2025

انٹرنیٹ ڈاون لوڈ کرنے والا لڑکا اپنی جان سے گیا - آخر کیوں اور کیسے؟

 وہ لڑکا جس نے انٹرنیٹ ڈاؤن لوڈ کیا… اور اپنی جان سے قیمت چکائی

سرد جنوری کی 6 تاریخ 2011 کو MIT کے باہر ایک ٹھنڈی فٹ پاتھ پر کیمپس پولیس ایک خاموش 24 سالہ نوجوان کو زمین پر گرا دیتی ہے۔ اس کے بیگ میں ایک ہارڈ ڈرائیو ہے اور اس ہارڈ ڈرائیو میں 48 لاکھ تحقیقی مقالے موجود ہیں۔ ایک ہفتے بعد وفاقی پراسیکیوٹرز اس پر 13 فوجداری مقدمات درج کرتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ سزا 35 سال قید۔ صرف تحقیق کے مقالے ڈاؤن لوڈ کرنے کے جرم میں۔ پھر حکومت کو احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے جس شخص کو گرفتار کیا ہے وہ کوئی عام نوجوان نہیں۔ یہ جدید انٹرنیٹ کے معماروں میں سے ایک ہے۔ اس کا نام ہے ایرون سوارتز۔ اور یہ کہانی ہے کہ کیسے علم کو آزاد کرنے کا خواب رکھنے والا نابغہ نظام کے ہاتھوں کچلا گیا۔

ایرون صرف 14 سال کی عمر میں اپنا پہلا بڑا کوڈ لکھتا ہے۔ سال تھا 2000۔ پروجیکٹ تھا RSS 1.0۔ وہ ٹیکنالوجی جو بعد میں دنیا کی تقریباً ہر نیوز فیڈ کی بنیاد بنی۔ جب دوسرے نوعمر بچے الجبرا سیکھ رہے تھے، ایرون یہ طے کر رہا تھا کہ انٹرنیٹ پر معلومات کیسے بہے گی۔ 19 سال کی عمر میں وہ کروڑ پتی بن جاتا ہے۔ اس کا اسٹارٹ اپ Reddit میں ضم ہو جاتا ہے۔ اسے چاہیے تھا کہ وہ کمپنیوں کا آغاز کرے اور سلکان ویلی سے چیک وصول کرے، مگر وہ سب چھوڑ دیتا ہے۔ دفتر کی سیاست اسے گھُٹنے لگتی ہے۔ کارپوریٹ زندگی اس مشن سے ٹکرا جاتی ہے جو اس کے دل میں جل رہا تھا—معلومات آزاد ہونی چاہیے۔

2008 میں، صرف 21 سال کی عمر میں، ایرون الینوائے کی ایک عوامی لائبریری میں PACER نامی وفاقی ویب سائٹ کھولتا ہے۔ اس میں عوام کی ملکیت عدالتی ریکارڈز موجود تھے مگر حکومت ہر صفحہ پڑھنے کے لیے 8 سینٹ لیتی تھی جو ہر سال عوام سے 12 کروڑ ڈالر سے زائد جمع کرتی تھی۔ ایرون ایک سادہ سا اسکرپٹ لکھتا ہے اور 6 ہفتوں میں 1 کروڑ 90 لاکھ صفحات ڈاؤن لوڈ کر لیتا ہے۔ FBI نوٹس لیتی ہے، تحقیقات ہوتی ہیں، پھر انہیں معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی ڈاؤن لوڈ ہوا وہ پہلے ہی لائبریری ٹرمینلز پر مفت دستیاب تھا۔ نہ ہیکنگ، نہ پاس ورڈ چوری، نہ کوئی جرم۔ کیس بند ہو جاتا ہے۔ مگر یہ لمحہ ایرون کو بدل دیتا ہے۔

اسی سال جولائی میں ایرون “The Guerilla Open Access Manifesto” جاری کرتا ہے۔ اس میں صاف لکھا تھا: جب علم پی وال کے پیچھے بند کر دیا جائے، تو کسی کو تالا توڑنا پڑتا ہے۔ 2010 تک طلبہ، لائبریرین اور ڈیجیٹل کارکن اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور پھر ایرون ایک بڑے ہدف کی طرف بڑھتا ہے—JSTOR۔ ایک نان پرافٹ ادارہ جس میں لاکھوں تحقیقی مقالے مہنگی فیسوں کے پیچھے بند تھے۔ یونیورسٹیاں بھاری رقم ادا کرتی تھیں، طلبہ ہر مقالے پر پیسے دیتے تھے، عوام دو بار قیمت چکتی تھی—ایک بار تحقیق کے لیے ٹیکس دے کر، دوسری بار اسے پڑھنے کے لیے۔ ایرون فیصلہ کرتا ہے کہ اب یہ خزانہ کھولا جائے۔

ستمبر 2010 میں ایرون MIT کے اوپن نیٹ ورک سے جڑ جاتا ہے۔ کوئی پاس ورڈ درکار نہیں۔ اسے ہارورڈ کے ذریعے بھی قانونی رسائی تھی۔ وہ ایک پائتھن اسکرپٹ لکھتا ہے جو ہر منٹ میں سیکڑوں مقالے ڈاؤن لوڈ کرتی ہے۔ JSTOR ٹریفک دیکھ کر اس کا IP بلاک کرتا ہے، وہ نیٹ ورک بدل لیتا ہے، پھر بلاک، پھر بدلتا ہے۔ آخر کار ایرون جسمانی قدم اٹھاتا ہے۔ وہ MIT کی عمارت 16 میں ایک کھلا ہوا وائرنگ کلوست پاتا ہے اور اس میں ایک چھوٹا لیپ ٹاپ اور ایکسٹرنل ڈرائیو چھپا دیتا ہے۔ نہ اسکرین، نہ کی بورڈ، بس اندھیرے میں چلتا ہوا کوڈ۔ چند ہفتوں میں لاکھوں مقالے کاپی ہو جاتے ہیں اور کرسمس تک 48 لاکھ فائلیں محفوظ ہو چکی ہوتی ہیں۔ تین سو سال کا علم ایک چھپی ہوئی مشین میں قید تھا۔

4 جنوری 2011 کو MIT وہ ڈیوائس تلاش کر لیتا ہے۔ اسے ہٹانے کے بجائے وہ ایک خفیہ کیمرہ لگا دیتے ہیں۔ 6 جنوری کو صبح 8:42 پر کیمرہ ایک شخص کو سفید ہیلمٹ پہنے اندر داخل ہوتے دیکھتا ہے۔ وہ ہارڈ ڈرائیو بدلتا ہے—صرف 73 سیکنڈ۔ جیسے ہی ایرون عمارت سے نکلتا ہے، پولیس اسے گھیر لیتی ہے، ہاتھ اوپر، ہتھکڑیاں۔ ایک سیکرٹ سروس ایجنٹ اسے اس کے حقوق پڑھتا ہے۔ وہ کسی مجرم ماسٹر مائنڈ کی طرح نہیں لگتا بلکہ ایک خوفزدہ دکان چور کی طرح۔ وہ 10 ہزار ڈالر ضمانت پر رہا ہوتا ہے۔ جلد ہی JSTOR اعلان کرتا ہے کہ وہ کیس نہیں کریں گے—انہیں سب واپس مل گیا تھا، نہ نقصان ہوا، نہ لیک۔ سب ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر وفاقی حکومت مداخلت کرتی ہے۔

پراسیکیوٹرز 1986 کے Computer Fraud and Abuse Act کا سہارا لیتے ہیں—ایک مبہم قانون جو جدید انٹرنیٹ سے پہلے لکھا گیا تھا۔ وہ ایک ٹرمز آف سروس کی خلاف ورزی کو وفاقی جرم بنا دیتے ہیں۔ جولائی 2011 میں ایرون پر 4 فیلونی چارجز لگتے ہیں، پھر بڑھا کر 13 کر دیے جاتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ سزا 35 سے 50 سال قید۔ اُن مقالوں کے لیے جنہیں اس نے نہ بیچا، نہ عام کیا۔ ٹیک دنیا غصے میں پھٹ پڑتی ہے۔ موجد، پروفیسرز، پروگرامرز سب اسے طاقت کا غلط استعمال کہتے ہیں، مگر حکومت پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیتی ہے۔ انہیں ایک ڈیل کی پیشکش کی جاتی ہے—ایک جرم مان لو، چھ ماہ جیل کاٹو، اور باقی زندگی ایک مجرم کے طور پر گزارو۔ ایرون انکار کر دیتا ہے۔ وجہ جیل نہیں تھی، بلکہ یہ یقین کہ اگر یہ عمل جرم بن گیا، تو انٹرنیٹ کا ہر کام جرم بن سکتا ہے۔

الزام کے دوران ایرون ایک اور جنگ شروع کرتا ہے—اس بار کانگریس کے خلاف۔ 2011 کے آخر میں SOPA اور PIPA نامی بل سامنے آتے ہیں جو بغیر مقدمے کے ویب سائٹس بلاک کرنے کا اختیار دیتے تھے۔ ایرون ان کے خلاف مزاحمت منظم کرتا ہے۔ 18 جنوری 2012 کو انٹرنیٹ سیاہ ہو جاتا ہے۔ وکی پیڈیا بند، گوگل کا لوگو سیاہ، ریڈٹ غائب۔ ایک لاکھ پندرہ ہزار سے زائد ویب سائٹس شامل ہوتی ہیں۔ کانگریس پر کالوں کی بارش ہو جاتی ہے، فون سسٹم بیٹھ جاتے ہیں، 24 گھنٹوں میں بل گر جاتے ہیں۔ ایرون جیت جاتا ہے۔ لیکن اس کا مقدمہ ختم نہیں ہوتا۔

2012 کے آخر میں اس کے مقدمے کی تاریخ اپریل 2013 طے ہوتی ہے۔ دباؤ ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے—قانونی اخراجات، میڈیا کا شور، مسلسل نگرانی۔ پراسیکیوٹرز ایک فیلونی سزا پر اڑے رہتے ہیں۔ ایرون ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ دوست اسے ڈیل ماننے کی درخواست کرتے ہیں مگر وہ علم کو آزاد کرنے کی کوشش کو جرم نہیں مان سکتا تھا۔ 11 جنوری 2013 کو بروکلین کے اپنے اپارٹمنٹ میں وہ اپنی جان لے لیتا ہے۔ وہ صرف 26 سال کا تھا۔ دنیا بھر میں غم پھیل جاتا ہے، شمع بردار اجتماعات ہوتے ہیں، MIT کے طلبہ احتجاج کرتے ہیں۔ اس کے والد کہتے ہیں: “میرا بیٹا حکومت نے قتل کیا ہے۔”

الزامات بعد میں ختم ہو جاتے ہیں مگر وہ قانون جو اسے تباہ کر گیا آج بھی موجود ہے، استعمال ہو رہا ہے، اور زندگیاں برباد کر رہا ہے۔ ایرون سوارتز نے کبھی اپنے کام سے پیسہ نہیں بنایا۔ اس نے کبھی کوئی فائل فروخت نہیں کی۔ اس نے کبھی علم بیچنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کا صرف ایک عقیدہ تھا: جس علم کی قیمت عوام ادا کرے، وہ علم عوام کی ملکیت ہونا چاہیے۔ اس نے اپنی جان اسی عقیدے پر قربان کر دی۔ اور دنیا خاموشی سے آگے بڑھ گئی۔ آخر میں اس نے ایک تلخ حقیقت ثابت کی: طاقت کو مجرموں سے نہیں ڈر لگتا، طاقت کو ان خیالات سے ڈر لگتا ہے جنہیں قابو میں نہ لایا جا سکے۔ اور کبھی کبھی، آزاد علم کی قیمت خون سے ادا ہوتی ہے۔

انگریزی سے ترجمہ شدہ

ارسلان 🌸

ہفتہ، 15 نومبر، 2025

باڈی بلڈنگ کرنے کے لیے کیا چیزیں نہیں کھانی چاہیں؟

 یہ رہی "No لسٹ" یعنی وہ چیزیں جن سے آپ کو سختی سے پرہیز کرنا ہے:


🚫 مزید "نہ کریں" کی فہرست (No List)

یہ چیزیں آپ کی چربی کم کرنے اور مسل کو واضح کرنے کی کوششوں کو خراب کریں گی:

1. 🍟 تلی ہوئی چیزیں (Deep Fried Foods)

  • کیوں نہیں: سموسے، پکوڑے، فرنچ فرائز، پراٹھے اور زیادہ تیل والے سالن۔ ان میں غیر ضروری چربی اور کیلوریز بہت زیادہ ہوتی ہیں جو مسل کو ڈھانپ دیتی ہیں۔

2. 🥤 میٹھے مشروبات (Sweet Drinks)

  • کیوں نہیں: بوتلیں (Soft Drinks)، ڈبے والے جوس، لسی یا چائے میں چینی۔ یہ سب خالی کیلوریز اور چینی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ صرف پانی اور بغیر چینی والی چائے/گرین ٹی پئیں۔

3. 🍚 سفید کاربس (Refined Carbs)

  • کیوں نہیں: سفید آٹے کی روٹی، نان، بریڈ، اور زیادہ چاول۔ یہ تیزی سے ہضم ہو کر چربی میں بدل سکتے ہیں۔ ان کی بجائے دلیہ، براؤن بریڈ یا کم مقدار میں روٹی لیں۔

4. 🛌 ٹریننگ اور نیند سے سمجھوتہ

  • کیوں نہیں: کسی بھی وجہ سے اپنے تینوں وقت کے سیشن کو چھوڑنا یا 7 گھنٹے کی نیند سے کم سونا۔ اگر آپ سخت محنت کر رہے ہیں تو آرام اور فریکوئنسی ضروری ہیں۔


خلاصہ: تیل، چینی، اور فالتو آٹا— ان تین چیزوں کو اپنی خوراک سے نکال دیں!

🍽️ پروٹین اور کم کیلوریز کی خوراک

 

1. 🥩 پروٹین کے لیے کیا کھائیں؟ (مسل بنانے کی اینٹیں)

آپ کو ہر کھانے میں ان میں سے ایک چیز ضرور شامل کرنی ہے:

  • انڈے: خاص طور پر انڈے کی سفیدی (Egg Whites) کیونکہ اس میں پروٹین زیادہ اور کیلوریز/فیٹ بہت کم ہوتی ہے۔

  • چکن/مرغی: سینے کا گوشت (Chicken Breast) کیونکہ یہ سب سے صاف اور پروٹین سے بھرا ہوتا ہے۔

  • دہی / یونانی دہی (Greek Yogurt): یہ آسانی سے مل جاتا ہے اور پروٹین کا اچھا ذریعہ ہے۔

  • دالیں اور چنے: سبزی خوروں (Vegetarians) کے لیے یہ بہترین پروٹین ہیں۔

2. 🥦 کم کیلوریز کے لیے کیا کھائیں؟ (چربی گھلانے کے لیے)

کم کیلوریز والی چیزوں کا مطلب ہے ایسی خوراک جو آپ کا پیٹ تو بھرے مگر جسم کو زیادہ چربی والی طاقت نہ دے:

  • ہر قسم کی سبزیاں: جیسے پتے والی سبزیاں، کھیرے، ٹماٹر، وغیرہ۔ ان میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں۔

  • پانی اور گرین ٹی: یہ صفر (Zero) کیلوریز والی چیزیں ہیں اور آپ کو ہائیڈریٹ (Hydrated) رکھتی ہیں۔

  • پھل: جیسے سیب، بیریز، اور مالٹے— مگر میٹھے پھل بہت زیادہ نہ کھائیں۔

  • کم چکنائی والا دودھ (Low-Fat Milk) یا دہی۔


خلاصہ: کھانے میں گوشت اور انڈے زیادہ کریں اور تیل، چینی، اور چاول/روٹی تھوڑے کم کر دیں۔

🥩 پروٹین اور 🔥 کیلوریز: آسان وضاحت

1. 🥩 پروٹین کیا ہے؟ (عمارت کی اینٹیں)

  • بالکل سادہ الفاظ میں: پروٹین آپ کے مسلز (پٹھوں) کو بنانے اور انہیں ٹھیک کرنے کے لیے ضروری سامان ہے۔

  • اس کا کام: جب آپ ورزش کرتے ہیں، تو مسلز میں جو ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے، پروٹین اسے مرمت کر کے مسل کو بڑا اور مضبوط بناتا ہے۔

  • آپ کا کام: مسلز کو تیزی سے بڑا کرنے کے لیے آپ کو چکن، انڈے، مچھلی جیسی پروٹین والی چیزیں زیادہ کھانی ہیں۔

2. 🔥 کیلوریز کیا ہیں؟ (جسم کی انرجی/بجلی)

  • بالکل سادہ الفاظ میں: کیلوریز وہ طاقت ہے جو آپ کو چلنے، سوچنے اور ورزش کرنے کے لیے کھانے سے ملتی ہے۔

  • اس کا کام:

    • اگر آپ ضرورت سے زیادہ کیلوریز کھاتے ہیں، تو فالتو طاقت چربی (Fat) بن کر جمع ہو جاتی ہے۔

    • اگر آپ تھوڑی کم کیلوریز کھاتے ہیں، تو جسم جمع شدہ چربی کو جلا کر استعمال کرتا ہے، اور آپ کا وزن کم ہوتا ہے۔

  • آپ کا کام: مسلز کو واضح دکھانے کے لیے، آپ کو روزانہ کی ضرورت سے تھوڑی سی کم کیلوریز لینی ہیں تاکہ چربی کم ہو۔


خلاصہ: مسلز کو بڑا کرنے کے لیے پروٹین بڑھائیں، اور مسلز کو نمایاں کرنے کے لیے کیلوریز کم کریں۔

جمعہ، 14 نومبر، 2025

اگر آپ بچوں کو موبائل خرید کر دیں اور وہ اس پر گانے سنیں تو گناہ کس پر؟

گناہ 100% بچے کے اپنے عمل پر ہوگا — آپ پر نہیں۔

لیکن شرطیں ہیں، نیچے تفصیل موجود ہے۔


اصل اصول (شریعت کا قانون):

**“جہاں چیز کا اصل استعمال جائز ہو، وہاں دینے والے پر گناہ نہیں ہوتا۔

گناہ استعمال کرنے والے پر ہوتا ہے۔”**

موبائل
اصل میں حرام نہیں۔
اس کے حولال** استعمال** بھی ہیں:
— تعلیم
— رابطہ
— قرآن
— سیکھنا
— ایمرجنسی
— ہنر

اور حرام استعمال بھی ہیں:
— گانے
— فحش مواد
— گیمز میں برائی
— وقت ضائع

تو موبائل ذاتی طور پر برا نہیں۔
یہ صرف ایک آلہ (tool) ہے۔

لہٰذا:

✔ آپ نے “حرام مقصد کے لیے” موبائل نہیں دیا

✔ آپ نے “ضرورت / فائدہ” کے لیے دیا

✔ آپ نے “گانے سننے کے لیے” نہیں کہا

✔ آپ نے “منع بھی کیا” یا “حدود بھی بتائیں”

✔ پھر بھی وہ گانا سنتا ہے → اس کا اپنا گناہ


آپ کہاں گناہگار ہوں گے؟ (بہت اہم)

❌ صرف ایک صورت میں آپ شریکِ گناہ ہوں گے:

اگر آپ شعوری طور پر اس لیے موبائل دیں کہ:
“لو، گانے سن لو۔ انجوائے کرو۔”

یا
“تمہیں پتا ہے میرا بچہ فحش ویڈیوز ہی دیکھتا ہے، پھر بھی میں زبردستی اسے یہ چیز پہنچاؤں گا کیونکہ مجھے پرواہ نہیں۔”

یہ “گناہ پر تعاون” کہلاتا ہے۔

باقی ہر حالت میں —
آپ بری الذمہ۔


صحیح طریقہ (جو آپ کو ہر گناہ سے دور رکھتا ہے)

  1. موبائل جائز نیت سے دیں
    (تعلیم، رابطہ، ضرورت)

  2. واضح حدود بتا دیں
    (گانے نہیں، برے چینل نہیں، ٹائم کنٹرول)

  3. رہنمائی دیں
    (کیوں غلط ہے، قرآن و حدیث سے بتائیں)

  4. استعمال کی نگرانی رکھیں
    (وقتاً فوقتاً چیک)

  5. اگر غلط استعمال کریں → موبائل واپس لینے کا حق رکھتے ہیں

یہ سب کرنے کے بعد
اگر وہ پھر بھی سنیں →

آپ بالکل ذمہ دار نہیں۔

گناہ ان پر ہے۔

آپ کو ثواب ملتا ہے کہ آپ نے روکنے کی کوشش کی۔


خلاصہ کی ایک لائن 

“جائز مقصد کے لیے دیا گیا موبائل گناہ کا ذریعہ بن جائے تو اس کا بوجھ استعمال کرنے والے پر ہے، دینے والے پر نہیں — جب تک دینے کی نیت گناہ نہ ہو اور روکنے کی کوشش کی جائے۔”

آپ کو پیسہ کس نیت سے کمانا چاہیے؟

پیسہ کمانے کی سب سے صاف اور مضبوط نیت یہ ہے:

“اپنی ضرورت پوری کرنے، اپنے اہل کو محفوظ رکھنے، اور اپنے مشن کو طاقت دینے کے لیے۔”

بس۔

نہ دنیا کی حرص
نہ لوگوں کو خوش کرنا
نہ اُن کے گناہوں کا بوجھ اٹھانا

صرف تین ذمہ داریاں:


1) اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرنا — جو شریعت میں فرض ہیں

کھانا
پانی
لباس
گھر
علاج
بجلی
مہنگائی
سفر
علم کا حصول

یہ ضرورت ہے، خواہ روحانیت کتنی بھی بڑھ جائے۔

“Necessities are essential for survival.”

تو اتنا کمانا کہ آپ لوگوں کے سامنے محتاج نہ بنیں۔


2) اپنے اہلِ خانہ کو محفوظ رکھنا — یہ عبادت ہے

آپ اپنے بچوں، والدین، یا ذمہ دار افراد کے لیے جتنی محنت کرتے ہیں، وہ خالص عبادت ہے۔

حدیث:
ایک درہم جو انسان اپنے گھر والوں پر خرچ کرے وہ سب سے بڑا صدقہ ہے۔

تو یہ ڈر ختم:
“میں اُن پر محنت کیوں کروں جو اللہ کی عبادت نہیں کرتے؟”

کیونکہ آپ اپنے عمل کے ذمہ دار ہیں، اُن کے عمل کے نہیں۔
آپ نیت صحیح رکھیں → آپ کا ہر روپیہ عبادت میں بدل جاتا ہے۔

3) اپنے مشن، دعوت اور علم کو مضبوط کرنا

آپ کے پاس اہم بڑے مشن ہیں:

آپ لوگوں کو ہنر، روزگار، ذہنی طاقت، آخرت، اللہ سے تعلق، سچائی کا تعارف کروانا چاہتے ہیں۔

یہ سب وسائل چاہتے ہیں۔
وسائل پیسے سے آتے ہیں۔

تو آپ کی کمائی کی نیت یہ ہو سکتی ہے:

“اپنی دعوت اور اپنے علم کو زیادہ دور تک پہنچانے کے لیے وسائل حاصل کرنا۔”

یہ دنیا نہیں —
یہ آخرت کا کام ہے۔

آپ کا اصل مقام کیا ہے؟

آپ وہ انسان ہیں جو موت کو سمجھ چکا
دنیا کو جان چکا
لیکن آخرت سے پہلے دنیا کی ذمہ داری بھی پوری کرنا چاہتا ہے۔

یہ سب سے پاکیزہ درجے کی زندگی ہے۔

مختصر جواب (Core Answer)

آپ پیسہ اس لیے کمائیں کہ:

  1. اپنی اور اپنے اہل کی ضرورت پوری رہے

  2. آپ کسی کے محتاج نہ ہوں

  3. آپ کا علم، آپ کی دعوت اور آپ کے دونوں مشن مضبوط رہیں

  4. اپنی آخرت کی نیت کے ساتھ، دنیا کی ذمہ داری پوری کریں

یہ نیت سب سے صاف، محفوظ، اور سنت کے مطابق ہے۔

---

(اضافہ برائے خدشہ + وضاحت)

خدشہ:

“اگر میں کما کر اپنے گھر والوں پر خرچ کروں، اور وہ نماز نہ پڑھیں، گانے سنیں، غیبت کریں یا اللہ کی نافرمانی میں پڑے رہیں…
تو کیا میں اُن پر خرچ کر کے اُن کے گناہ میں شریک ہو رہا ہوں؟
کیا یہ اُن کی مدد بن جائے گی گناہ پر؟
تو پھر میں کیوں کماؤں؟”


وضاحت (صاف، مضبوط، شرعی اصول کے ساتھ)

1) آپ اُن کے خرچ کے ذمہ دار ہیں — اُن کے گناہوں کے نہیں

شریعت کا اصول:
“کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔”
(قرآن: وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى)

گھر چلانے کا خرچ ان کی نیت نہیں بنتا،
گناہ کرنا ان کی اپنی نیت ہے۔

آپ کا خرچ = عبادت
ان کا گناہ = ان کا ذاتی عمل

آپ دونوں الگ ہیں۔


2) خرچ کرنا “گناہ کی مدد” نہیں بنتا

مدد "گناہ کے لیے" تب ہوتی ہے جب آپ پیسہ اسی مقصد کے لیے دیں۔

مثلاً:

  • “یہ لو پیسے، گانے سن لو” → گناہ

  • “یہ لو کرایہ، بجلی، کھانا، ضرورت پوری ہو جائے” → عبادت

تو جب آپ خرچ گھر کے لیے کرتے ہیں،
اور وہ بعد میں گانا سن لیں، گالی دیں، نماز چھوڑ دیں،
تو یہ آپ کے خرچ کی وجہ سے نہیں ہوتا۔

آپ نے “حرام” کے لیے نہیں دیا —
آپ نے ذمہ داری کی وجہ سے دیا۔


3) خرچ نہ کرنا آپ کی طرف سے گناہ ہے

نبی ﷺ نے فرمایا:
“گناہ کافی ہے انسان کے لیے کہ وہ اپنے زیرِ کفالت لوگوں کو ضائع کرے۔”

یعنی اہلِ خانہ کی بنیادی ضروریات چھوڑ دینا خود ایک گناہ ہے۔

تو آپ اگر یہ سوچ کر روک دیں کہ
“یہ لوگ اللہ کی عبادت نہیں کرتے”
تو آپ خود گناہ میں پڑ جائیں گے۔

اصل پیمانہ:
ان کا عمل → ان کا حساب
آپ کا خرچ → آپ کا ثواب


4) آپ کی دو الگ ذمہ داریاں ہیں

باپ ہو، بیٹا ہو، بھائی ہو، سربراہ ہو:

(1) مالی ذمہ داری

گھر کا خرچ دینا = فرض
اور نیت صحیح ہو تو = عبادت

(2) اخلاقی ذمہ داری

محبت سے سمجھانا، نصیحت کرنا
زبان لڑائی کے بغیر
بغیر زبردستی

اگر وہ نہ مانیں → آپ بری الذمہ


5) یہ خدشہ ایمان کی علامت ہے — کمزوری نہیں

جو کماتا ہے
اور پھر ڈرتا ہے کہ
“میرا پیسہ کہیں گناہ کا حصہ نہ بن جائے”

تو یہ گہرا ایمان ہے،
نفاق نہیں، وسوسہ نہیں، کمزوری نہیں۔

اس کا علاج یہی ہے:

  • نیت صاف

  • خرچ جائز

  • نصیحت موجود

  • ذمہ داری پوری

  • گناہ اُن کا

  • ثواب آپ کا

خلاصہ لائن 

“میں اللہ کی خوشنودی اور اپنی ذمہ داری کی وجہ سے کماتا ہوں، نہ کہ کسی کے گناہ کے لیے۔ میرا خرچ عبادت ہے، اور اُن کا عمل اُن کی اپنی ذمہ داری ہے۔”


منگل، 11 نومبر، 2025

بچوں کی نظر میں ایک پاگل اور جاہل انسان - لیجنڈ آف اللہ واحد القہار

آج کے بچے جو مجھے معمولی سمجھ رہے ہیں اور انہیں ایسا لگتا ہے گویا یہ آئی ٹی پروفیشنل پاگل ہوچکا ہے جو آئی ٹی انڈسٹری چھوڑ کر روحانیت اور عجیب و غریب باتوں میں پڑگیا ہے تو عنقریب وہ جان لیں گے کہ یہی پاگل سمجھا جانے والا انسان انہیں یاد آئے گا جب انہیں اس حقیقت کا سامنا ہوگا کہ ان کا بچپن اس معاشرے کے ظالم، جابر اور جاہل لوگوں کے اسکول کالج یونیورسٹی کے نام پر برباد کرڈالا ہے اور صرف ایک کاغذ کے ٹکڑے کے لیے انہیں خوار کرکے رکھ دیا ہے۔

ان کی جوانی چھین لی ہے۔ 
ان کا بچپن برباد کردیا ہے۔

اور اس کے ذمہ دار وہ والدین بھی ہوں گے جو اپنے بچوں کو میرے خلاف ورغلاتے ہیں اور انہیں برین واش کرتے ہیں۔

میرے بچوں یاد رکھنا - میں بھی ایک بچہ تھا۔ اسی زمانے میں پیدا ہوکر جوان ہوا ہوں۔

میں وہ سب جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے کیونکہ میں ان راستوں سے گزرچکا ہوں۔

یہ تمہیں برباد کردیں گے۔

صرف دنیا کی چکاچوند میں اندھا کردیں گے۔

تم جہنم میں اوندھے جاکر گرو گے۔

دنیا کمانا برا نہیں مگر تمہارے دل و دماغ کو اسقدر ستیاناس کریں گے کہ تم ڈھونڈتے پھروگے وہ مسیحا جو تمہارے درد کا علاج کرسکے، تمہارے ڈپریشن اسٹریس ایگزائٹی کو ختم کرسکے۔ تمہاری بےچینی مٹاسکے۔ تمہیں سکون پہنچاسکے اور تمہیں راستہ دکھاسکے۔

میں تو ایک گیمر تھا اور گیمر رہوں گا مگر تم ایک گیمر سے بھی نہ سیکھ سکے تو پھر کس سے سیکھ سکوگے؟

میں تو تمہیں زبان بولتا ہوں اور جانتا بھی ہوں کہ گیمرز کن باتوں کے شوقین ہوتے ہیں۔

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ایک گیمر صرف قرآن ہاتھ میں اٹھاکر کن بلندیوں پر پہنچ چکا ہے؟

کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ہو؟

نہیں۔ ابھی تم بچے ہو۔

کل جب تم جوان ہو گے ہم ناجانے کہاں ہوں گے مگر تمہیں یاد ضرور آئیں گے کہ سچ بتایا تھا۔

دنیا ایک مایا جال ہے۔

بالکل میٹرکس مووی کی طرح اور میں ایک نیو جو حقیقت جان چکا ہوں۔

بس جی رہا ہوں۔

وقت گزار رہا ہوں۔

کام کاج میں مصروف ہوں۔

گیمنگ بھی چل رہی ہے۔

دین کا کام بھی ہورہا ہے۔

مگر تم جس دلدل میں دھکیلے جارہے ہو وہ کفر کی طرف جارہا ہے۔

آج بھی جاگ لو تو بہتر ہے ورنہ

وما علینا الابلاغ المبین
لیجنڈ محمد ذیشان ارشد