جمعہ، 27 ستمبر، 2024

دنیا کے انسانوں کو بیوقوف بنانے کا دھندہ

ہزاروں سال سے اس زمین پر اللہ کے خلاف سرکشوں، گستاخوں اور بدبختوں نے جھوٹے خداوں کے نام پر دنیا کے انسانوں کو بیوقوف بنانے کا دھندا جاری رکھا ہواہے۔ یہ بدبخت جھوٹے خداوں کے نام پر معصوم انسانوں کا قتل عام کرتے ہیں، ان مسلمانوں کی ماں بہن بیٹیوں کی عزتوں کو لوٹ کر ان سے کھلواڑ کرتے ہیں جو اللہ کو خدا مان کر اس کی پوجا کرتے ہیں، ان کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو ہاتھ پاوں توڑ کر زمین پر کچل کچل کر بے رحمی سے مارڈالتے ہیں۔

یہ بھیڑیے خود کو ہندو، عیسائی، یہودی، ملحد، قادیانی، شیعہ کہتے ہیں۔ یہ ہیں وہ آستین کے سانپ جنہوں نے اپنے اپنے جھوٹے مذاہب ایجاد کرکے دین اسلام کے خلاف حضرت محمد رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو مٹانے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور ان کی اس مردود شیطانی کوششوں پر ان کا ساتھ دینے والے منافقین میں ہمت و جرات نہیں کہ یہ سچ کا ساتھ دے سکیں کیونکہ یہ سب مردود شیطانی کتے موت سے تھر تھر کانپتے ہیں۔انہیں اپنے گھر والوں سے بچھڑجانے کا خوف ہے، انہیں اپنے بچوں، مال و دولت، گھر بار، آسائشوں کے چھوٹ جانے کا خوف ہے۔ ان کے کاروبار، گاڑی بنگلے اور دیگر سازوسامان جو انہوں نے اپنی زندگی بھر کی محنت کرکے جمع کیا ہے وہ سب ختم ہوجانے کا خوف و خدشہ ہے۔

یہ ناکارہ لوگ کبھی دین اسلام کا بھرپور ساتھ نہیں دے سکیں گے۔یہ زمین ان نام نہاد مسلمانوں سے بھری پڑی ہے جو کبھی حق کے لیے ملکر اکٹھا نہیں ہوسکیں گے بلکہ یہ اپنے ان چند مٹھی بھر علمائے سو کے مذہبی غلام بنے رہیں گے جو انہیں اپنی خود ساختہ چکنی چڑی باتوں میں بہلا پھسلاکر بیوقوف بنارہے ہیں اور ان کے ذریعہ ان کے مال بٹور رہے ہیں محض اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے۔

نہ میں ان میں سے ہوں اور نہ میرا ان سب سے کوئی تعلق ہے ذاتی طور پر ماسوائے یہ کہ یہ تمام لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور اس ناطے میرے انسانی بھائی بہن ہیں اور بس!

اگر یہ سب اپنے باطل عقائد چھوڑ کر اسلام میں واپس لوٹ آئیں اور صحیح عقائد کے مطابق اپنی زندگی گزاریں تو میں انہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں ورنہ بصورت دیگر میں انہیں اللہ کے عذاب کی واضح وارننگ دیتا ہوں کہ یہ سب مارے جائیں گے اللہ کے حکم سے نازل ہونے والے عذابوں اور آفات کے ذریعہ اللہ کے جلال سے تہس نہس ہوکر۔

بے شک اللہ ڈھیل دیتا ہے مگر وہ سوتا نہیں اور نہ ہی اسے اونگھ یا نیند آتی ہے کہ اسے کچھ علم ہی نہیں۔ساری خدائی میرے اللہ واحد القہار کی ہے۔

اللہ اکبر

لیجنڈ آف اللہ

پیر، 23 ستمبر، 2024

اپنی زندگی کو خوشگوار بنائیں

ایک ابھی پوسٹ جے مجھے فیس بک سے ملی

 تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن حق ہیں :-

پہلا قانون فطرت:
اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر دیتی ہے....
اسی طرح اگر" دماغ" کو" اچھی فکروں" سے نہ بھرا جاۓ تو "کج فکری" اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف "الٹے سیدھے "خیالات آتے ہیں اور وہ "شیطان کا گھر" بن جاتا ہے۔
اس لئے مثبت سوچیں، اچھا سوچیں
دوسرا قانون فطرت:
جس کے پاس "جو کچھ" ہوتا ہے وہ" وہی کچھ" بانٹتا ہے۔ ۔ ۔
* خوش مزاج انسان "خوشیاں "بانٹتا ہے۔
* غمزدہ انسان "غم" بانٹتا ہے۔
* عالم "علم" بانٹتا ہے۔
* دیندار انسان "دین" بانٹتا ہے۔
* خوف زدہ انسان "خوف" بانٹتا ہے۔
اس لئے خود میں مثبت احساس پیدا کریں۔ اچھی چیزیں سیکھیں۔ مصروف رہیں۔ خوش رہیں۔
تیسرا قانون فطرت:
آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لۓ کہ۔ ۔ ۔
* کھانا ہضم نہ ہونے پر" بیماریاں" پیدا ہوتی ہیں۔
* مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" ریاکاری" بڑھتی ہے۔
* بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی" اور "غیبت" بڑھتی ہے۔
* تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور" میں اضافہ ہوتا ہے۔
* غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی" بڑھتی ہے۔
اس لئے ہضم کرنا سیکھیں۔
اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک" با مقصد" اور "با اخلاق" زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں
خوش رہیں۔۔۔خوشیاں بانٹیں۔۔۔۔

خود کو مضبوط بنانا ہے

 یہ اسٹوری اس انگریزی مضمون کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھوائی گئی ہے تاکہ اس کا مطلب اردو پڑھنے والوں کے لیے واضح ہوجائے۔

You've never demanded the rain, sun, or fire to adjust their nature, yet you get angry at people for being harsh. Why not change to avoid being hurt? You protect yourself from natural elements but expect others to protect you from themselves. The rain, sun, and fire don't make an effort to protect you; you do. It's astonishing that you want others to change without recognizing your own need to change and become resistant to oppression.

If you deceive me I see my own mistake, I wasn't discerning that's why you deceived me so instead of getting angry I work on myself to be able to discern well. I work on myself when you are able to manipulate me so that I'm not vulnerable to your tactics next time. I work on myself when you oppress me so that you are unable to oppress me next time. I work on myself so that you are unable to break my heart again next time. It's your responsibility not my to protect yourself from me and others.

Onyema

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک شخص تھا جس کا نام علی تھا۔ علی بہت حساس دل کا مالک تھا اور اکثر دوسروں کی سخت باتوں اور رویوں سے دل برداشتہ ہو جاتا تھا۔ وہ ہمیشہ یہ سوچتا تھا کہ لوگ کیوں اس کے ساتھ نرمی سے پیش نہیں آتے اور اس کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ ہر بار جب کوئی اس سے سخت لہجے میں بات کرتا، علی غصے سے بھر جاتا اور دل ہی دل میں ان لوگوں کو بدلنے کی خواہش کرتا۔

ایک دن، علی بارش میں بھیگ رہا تھا۔ اس نے سوچا، "بارش کیسی عجیب چیز ہے، میں نے کبھی اس سے یہ نہیں کہا کہ وہ رک جائے۔ لیکن جب بارش ہوتی ہے تو میں خود کو چھتری لے کر بچاتا ہوں، یا اندر چلا جاتا ہوں۔" اسی طرح جب دھوپ زیادہ ہوتی ہے تو علی خود کو سورج کی شعاعوں سے بچانے کے لیے سایہ تلاش کرتا تھا، اور جب آگ کے قریب ہوتا تھا تو وہ ہمیشہ خود کو دور کر لیتا تھا تاکہ جلنے سے بچ سکے۔

علی نے اپنے آپ سے سوال کیا، "میں بارش، دھوپ، اور آگ سے تو اپنی حفاظت خود کرتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ اپنی فطرت کے مطابق ہی ہیں، لیکن میں لوگوں سے کیوں توقع کرتا ہوں کہ وہ اپنے رویے بدلیں؟"

یہ سوچتے ہوئے علی کو احساس ہوا کہ جیسے وہ قدرتی عناصر سے بچاؤ کرتا ہے، اسی طرح اسے لوگوں کے سخت رویوں سے خود کو بچانے کی ضرورت ہے۔ لوگ اپنی فطرت کے مطابق عمل کرتے ہیں، اور جیسے بارش یا سورج اس کے لیے رک نہیں سکتے، ویسے ہی لوگ بھی اپنی فطرت کے مطابق پیش آتے ہیں۔

علی نے سوچا، "اگر کوئی مجھے دھوکہ دیتا ہے تو دراصل یہ میری غلطی ہے کہ میں نے اس پر بھروسہ کیا تھا، میں نے سمجھداری سے کام نہیں لیا۔ مجھے اس پر غصہ ہونے کے بجائے اپنی عقل کو بہتر کرنا چاہیے تاکہ دوبارہ دھوکہ نہ کھاؤں۔ اگر کوئی میرے جذبات سے کھیلتا ہے تو یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں خود کو اس قدر مضبوط بناؤں کہ وہ دوبارہ میرے دل کو نہ توڑ سکے۔"

علی کو احساس ہوا کہ لوگوں کو بدلنے کی کوشش کرنے کے بجائے اسے خود کو مضبوط کرنا ہوگا۔ دوسروں کی سختیوں سے بچنا اس کا اپنا کام تھا، نہ کہ دوسروں کا۔ جیسے وہ آگ سے بچنے کے لیے دور ہوتا تھا، ویسے ہی اسے لوگوں کی سختیوں سے بچنے کے لیے خود کو تیار کرنا تھا۔

یوں علی نے اپنی زندگی میں ایک نیا سبق سیکھا کہ دوسروں کو بدلنے کے بجائے خود کو مضبوط بنانا ہی بہترین راستہ ہے۔

جمعہ، 20 ستمبر، 2024

ماں کے پیٹ سے زمین کے پیٹ میں

جب انسان ایک ٹپکایا ہوا قطرہ ہوتا ہے تو وہ ایک عورت کے پیٹ میں پہنچتا ہے ایک جرثومے کی شکل میں جسے میڈیکل سائنس کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ہوتی ہے انسان کی اصلیت یعنی کہ اصلی شکل


اس شکل سے اللہ اسے تبدیل کر کے جمے ہوئے خون میں بدلتا ہے۔


پھر جمے ہوئے خون کو گوشت کے لوتھڑے میں تبدیل کرتا ہے۔




پھر اس گوشت کے لوتھڑے کو ہڈی میں بدل دیتا ہے۔


پھر اس ہڈی کے اوپر گوشت کا لباس پہنا دیتا ہے۔



پھر اس کے بعد اسے مختلف شکلوں کے اندر تبدیل کرنا شروع کرتا ہے پھر اس کے اندر ہاتھ نکالتا ہے پاؤں نکالتا ہے آنکھیں لگاتا ہے کان لگاتا ہے دل بناتا ہے پھیپھڑے اگاتا ہے۔ نسیں بناتا ہے خون جاری کرتا ہے سب کچھ لگاتا ہے لیکن ماں کے پیٹ میں وہ بے جان حالت میں پڑا ہوا ہوتا ہے یہ سب تب ہو رہا ہوتا ہے۔ 


سوچنے کی بات ہے کہ یہ بے جان قسم کی حالت کی ایک چیز ایک عورت کے پیٹ کے اندر رکھی ہوئی ہے اور کوئی اس کو حرکت دینے والا نظر بھی نہیں آرہا، اس کو الٹ پلٹ کرنے والا بھی نظر نہیں آرہا، اس کے اوپر کاریگری دکھانے والا بھی نظر نہیں آرہا پھر بھی وہ الٹ پلٹ ہوتا ہے۔ اس کے اندر چیزیں تیار ہو رہی ہوتی ہیں۔ پتہ لگا کہ اللہ جس طریقے سے کام کرتا ہے اس کے لیے اسے ماں کے پیٹ کے اندر آنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ صرف اپنے ارادے کرتا ہے اور اس کے ارادے کے مطابق چیز اس زمین پر بننا شروع ہو جاتی ہے۔ وہ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو بس کہتا ہے "کن" اور فیکون ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

پھر وہ اپنی ماں کے پیٹ کے اندر سے نکل کے باہر آتا ہے تو اس بچے کے ہاتھ کے اوپر ڈیزائن بھی اللہ کے نام کا بنا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے پیروں میں بھی اللہ کے نام کا ڈیزائن بنا ہوتا ہے۔ اس کی نسوں میں اور دیگر بہت سی جگہوں پر اللہ کے نام چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ دیکھنے والے خوب جانتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ بہت سے نومولود بچے ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی رونے کے بجائے اللہ اللہ کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

کسی بھی عقل استعمال کرنے والے انسان کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ کتابوں کی بحث میں پڑنے کے بجائے کلمہ پڑھ کے اسلام میں داخل ہو جائے کیونکہ اگر وہ کفر پہ مر جائے تو پھر ماں کے پیٹ سے نکلنے کے بعد دنیا کے انسانوں کے ہاتھوں گمراہ ہونے پر کفر کی موت پہ مرنے کی وجہ سے جب اسے زمین میں دفن کر دیا جاتا ہے تو وہ ماں کے پیٹ سے نکل کے زمین میں دفن ہو جاتا ہے یعنی کہ زمین کے پیٹ میں پہنچ جاتا ہے۔

اس زمین کے پیٹ میں پہنچنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ جس طرح ماں کے پیٹ کے اندر وہ ایک ٹپکائے ہوئے قطرے سے انسان کی شکل میں تبدیل ہوتا ہے بس اسی طریقے سے وہ انسان کی شکل سے واپس ایک ہڈی کی صورت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

اس کے جسم کے سارے اعضاء سڑنا گلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ کیڑے مکوڑے کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بدبو آنا شروع ہو جاتی ہے۔ اسے ڈیکم پوزیشن پراسیس کہا جاتا ہے اور آخر کار وہ انسان ایسا ہو جاتا ہے جیسے وہ کبھی موجود ہی نہیں تھا۔ بے نام و نشان! قبر کی جگہ بھی خراب ہو جاتی ہے۔ مٹ جاتے ہیں نام۔ ختم ہو جاتے ہیں سارے بدنام۔ رہ جاتا ہے بس اللہ کا نام۔ اسی کی بڑائی اسی کی خدائی۔ وہی سب سے بڑا ہے وہی عالیشان ہے اور وہی اصل ذی شان ہے۔


لیکن وہ زمین کے پیٹ میں پہنچنے والے جسموں کے اندر اتنا کنٹرول رکھتا ہے کہ جب زمین کے اندر اس کے نیک پیروکاروں کی لاشوں کو دفن کر دیا جاتا ہے تو وہ ان کو وہاں پر بھی تازہ خون سمیت تروتازہ حالت میں محفوظ رکھتا ہے اور سلامت رکھتا ہے اور وہ یہ کام اپنی قدرت سے کرتا ہے۔ جس طرح وہ ماں کے پیٹ میں اپنی قدرت سے ایک ٹپکائے ہوئے قطرے کو انسان کی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے بس وہی اللہ اپنی قدرت سے زمین کے پیٹ کے اندر موجود لاکھوں کروڑوں لاشوں کو اپنی قدرت سے محفوظ رکھتا ہے۔


اور اللہ کے لیے یہ بہت ہی معمولی سا کام ہے۔ بے شک اللہ جو چاہے سو کر سکتا ہے۔ ان اللہ علی کل شی قدیر۔ پوری کائنات میرے اللہ کی قدرت سے چل رہی ہے۔ وہ سارے علوم کا شہنشاہ اکیلا ہی ہے اپنے نام کا اور اپنے کام کا۔ اللہ اکبر

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

Kya Muhammad Aakhri Nabi Hain?

محمد اللہ کے آخری نبی ہیں ۔اللہ نے ان کا نام "محمد" بادلوں، درختوں، جانوروں، پرندوں اور دیگر قدرتی مخلوقات پر عربی میں لکھا ہوا ہے۔ یہ معجزات اللہ کی عظمت کو ظاہر کرتے ہیں اور اس یوٹیوب چینل پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ لنک دیکھیں: https://www.youtube.com/@prophetofnature/playlists

جھوٹے خدا نیچر کی مخلوق پر اللہ کی طرح کوئی نام نہیں لکھ سکتے کیونکہ اللہ کے سوا پوری کائنات میں کوئی دوسرا سچا خدا موجود نہیں ہے۔ تمام انسانوں کو چاہیے کہ اسلام میں داخل ہوجائیں اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گستاخیوں سے باز آجائیں۔اللہ نے 21ویں صدی میں اپنے معجزات کے ذریعے محمدﷺ کے آخری نبی ہونے پر گواہی دے کر ان کی رسالت کی سچائی کو ہمیشہ کے لیے ثابت کردیا ہے۔

تمام غیرمسلم اللہ سے ڈریں اور اسلام کی سچائی کو قبول کریں اور تکبر اور ہٹ دھرمی سے باز آجائیں اور اسلام قبول کرکے خود کو جہنم میں ہمیشہ کے لیے جاکر برباد ہونے سے بچالیں۔

وما علینا الاالبلاغ المبین
لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

ہاجرہ روحانی علاج سینٹر کا تعرف

 اس خدا کے نام سے جس نے انسانوں کو پیدا کیا:

اکیسویں صدی کا روحانی ہاسپٹل

حاجرہ روحانی علاج سینٹر اکیسویں صدی میں ایک نئی طرز کا آن لائن روحانی ہسپتال ہے جو پاکستان سے اکیسویں صدی کے عالمی روحانی ڈاکٹر جناب مولانا ابرار عالم صاحب چلا رہے ہیں۔

روحانی ڈاکٹر مولانا ابرار عالم لاعلاج مریضوں کو بغیر کسی ملاقات کے صرف اللہ کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے دور سے علاج کرنے میں ایکسپرٹ ہیں۔ دنیا میں کہیں سے بھی لاعلاج مریض اپنے علاج کے لیے مولانا ابرار عالم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

جناب مولانا ابرار عالم صاحب انٹرنیشنل ویب سائٹ رائٹ فل ریلیجن ڈاٹ کام  کے بانی ہیں (دین اسلام کی سچائی پر اپنی نوعیت کی ایک نایاب ویب سائٹ) نیز مذہبی اقوام متحدہ پاکستان کے چیئرمین بھی ہیں جو دنیا میں بغیر گالی گلوچ اور بغیر جنگوں کے امن کے قیام کے لیے کام کررہے ہیں۔

پاکستان کے مشہور و معروف مفتی جناب جسٹس محمد تقی عثمانی صاحب سے بیعت اور تین اردو کتابوں کے مصنف (قرآن اور شیطان، احادیث اور شیطان، اسلام اور جادو) کے ساتھ ساتھ شہدائے اسلام کی تروتازہ لاشوں پر شاندار تحقیقات اور عالمی امن فارمولت کے ساتھ اپنی نوعیت کے جید عالم دین اور عارف باللہ

مولانا ابرار عالم صاحب گزشتہ 20 سال سے لاعلاج مریضوں کا روحانی علاج کررہے ہیں اور اب روحانی آپریشن کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اللہ کے فضل و کرم سے۔ جدید طرز علاج اور نت نئی ریسرچ کرنے والوں کے لیے جناب مولانا ابرار عالم صاحب کی شخصیت بہت انمول ہے اگر وہ ان کے علوم سے فائدہ اٹھانا چاہیں۔

جنات اور فرشتوں کی آرمی کے ساتھ تیار عالم دین، روحانی ڈاکٹر اور ریسرچ ایکسپرٹ کے فاسٹ رزلٹ اللہ کی طاقت اور حکم سے

 - آئی سی یو میں موجود مریضہ 7 گھنٹوں میں اسٹیبل ہوگئی (لاہور کیس)5

 - 24 گھنٹے میں خراب گردے بحال ہوگئے (پشاور کیس)

 7 دن میں لاعلاج کورونا مریض صحت یاب ہوگیا (کراچی کیس)

 - 30 دن میں برین ڈیمج مریض کی حالت میں 50 فیصد بہتری (لاہور کیس)

 3 دن مفت روحانی علاج کا تجربہ کریں:

فزیکل ملاقات کی ضرورت نہیں۔  اپنے گھر بیٹھے روحانی علاج کروائیں۔

 ابھی رابطہ کریں

00923332100668

0093452215476

00923149943699

00923202755994

جمعرات، 19 ستمبر، 2024

اللہ کے فضل اور عذاب میں فرق

 کافروں کے پاس دولت شہرت عزت طاقت سب کچھ ہے۔ کیسے پتہ لگے کس کے اوپر اللہ کا فضل ہے یا عذاب تک مہلت ہے؟

یہ سوال ایک اہم دینی موضوع سے متعلق ہے اور اس کا جواب اسلام کی گہری فہم اور حکمت پر مبنی ہے۔ کافروں کے پاس دولت، شہرت، عزت اور طاقت ہونا اس بات کی نشانی نہیں کہ ان پر اللہ کا فضل ہے یا وہ اللہ کے قریب ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ دنیاوی مال و دولت کی فراوانی ہمیشہ اللہ کے فضل یا راضی ہونے کی نشانی نہیں ہوتی۔

### اللہ کے فضل اور عذاب کے درمیان فرق کیسے کیا جائے؟

1. **اللہ کا فضل:**

   - **ایمان اور عمل صالح:** اللہ کا سب سے بڑا فضل یہ ہے کہ کسی کو ایمان اور نیک اعمال کی توفیق ملے۔ اگر کسی کے پاس ایمان، تقویٰ، اللہ سے قربت اور آخرت کی فکر ہو، تو یہ اللہ کے فضل کی بڑی نشانی ہے۔

   - **قناعت اور سکون:** اللہ کے فضل سے وہ دل مطمئن ہوتا ہے اور دنیاوی چیزوں کی طرف حرص و لالچ نہیں رکھتا۔ وہ انسان قناعت پسند ہوتا ہے اور اپنی زندگی میں سکون اور خوشی محسوس کرتا ہے۔

2. **عذاب کے لیے مہلت (استدراج):**

   - **دنیاوی فراوانی اور غفلت:** بعض اوقات اللہ کافروں یا گناہگاروں کو زیادہ دولت، شہرت، یا طاقت دیتا ہے تاکہ انہیں آزمائے یا انہیں عذاب کے قریب لائے۔ یہ حالت **استدراج** کہلاتی ہے، جس میں اللہ کسی کو مہلت دیتا ہے، لیکن وہ اپنی غلطیوں سے باز نہیں آتا اور مزید گمراہی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

   - **غفلت اور ناشکری:** اگر کسی کے پاس دنیاوی نعمتیں ہوں، لیکن وہ اللہ کو یاد نہ کرے، حق کو رد کرے اور گناہوں میں مبتلا ہو، تو یہ مہلت ہے جو اللہ دیتا ہے، تاکہ انسان کو اپنی غلطیوں کا احساس ہو، مگر جب وہ نہیں سمجھتا تو پھر اللہ کا عذاب نازل ہو سکتا ہے۔

### نتیجہ:

اللہ کے فضل اور مہلت میں فرق یہ ہے کہ اللہ کا فضل ایمان، نیکی اور اللہ سے قربت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، جبکہ مہلت (استدراج) کی صورت میں انسان دنیاوی نعمتوں میں مبتلا ہو کر اللہ اور آخرت سے غافل ہو جاتا ہے۔ دنیاوی مال و دولت کی بہتات کو کبھی بھی حتمی طور پر اللہ کے فضل کی نشانی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصل کامیابی ایمان، نیک اعمال اور اللہ کی خوشنودی میں ہے۔