پیر، 26 اکتوبر، 2026

پیدل سڑک پار کرنے پر جرمانہ؟

 


آج ایک خبر سامنے آئی کہ پیدل سڑک پار کرنے پر جرمانہ ہوگا۔ اس کا مطلب کہ کوئی شخص پیدل سڑک پار نہ کرے۔ اس ویڈیو کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ سڑک پل کے اوپر سے کراس کی جائے۔ اب اگر کوئی بندہ معذور ہو، کسی کو چلنے کا مسئلہ ہو، ٹانگ ٹوٹی ہو، راڈ ڈلی ہو تو وہ کیا کرے؟ اس کی تفصیل کدھر ہے؟ مطلب الٹے سیدھے کام کرنے کو "قانون" کا نام دے کر لوگوں کو پریشان کرنا مقصد بنا رکھا ہے؟ اللہ کے سامنے یہ لوگ کیا جواب دیں گے؟ دنیا کی زندگی میں قانون کے نام پر جو چاہے لوگوں سے کروالیں گے، زبردستی کرلیں گے، جرمانے بھرلیں گے پھر ان جرمانوں کے بدلے یہ اپنے جہنم کے عذاب کم کرلیں گے؟ اگر سڑک پر ٹریفک نہ ہو، سڑک خالی ہو تو سڑک پیدل کراس کرنے میں کیا ہرج ہے؟ مجھے تو ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی کہ لوگوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ سڑک پل کے اوپر سے کراس کریں۔ میں اگر وزیر اعظم ہوتا تو ایسے عجیب و غریب قانون کے نام پر کام ہی نہ کرواتا کہ قیامت کے دن مجھے اس کا عذاب ملے اور لوگوں کی زندگی عذاب بنے۔ جسے اللہ کے عذاب برداشت کرنے کی طاقت ہو وہی ایسے قوانین بنائے اور ان پر عمل کرواکر اس جرم میں اللہ کے فرشتوں کے ہاتھوں ذلت اور خواری کے لیے خود کو تیار کرے۔ مجھ میں تو اتنی طاقت نہیں، جسے زعم ہے کہ وہ اللہ کے سامنے مجرم بن کر سزائیں برداشت کرسکے گا اور ذلت اور خواری کا سامنا کرلے گا، وہ شوق سے کرے۔

اسلام میں لوگوں پر آسانیاں کرنے کا حکم ہے، ان کی زندگی عذاب بنانا ایک شیطانی عمل ہے۔ شیطان اس سے خوش ہوتا ہے، یہ اللہ کی خوشی میں نہیں بلکہ نارضی میں اضافہ کرنے والی حرکتیں ہیں۔ لوگ ویسے ہی غربت اور مہنگائی سے تنگ ہیں اور یہ لوگوں پر جرمانے پر جرمانے نافذ کرکے انہیں خود کشی کرنے پر مجور کرکے اپنی جہنم پکی کررہے ہیں۔