اتوار، 10 مئی، 2026

اسلام کی تبلیغ کرنے کے لیے اسلام دشمنوں کے خلاف ایک آئیڈیا ویڈیو ریکارڈنگ کے لیے

یوٹیوب دیکھتے ہوئے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے سامنے کچھ ایسے لوگ آتے ہیں جیسے کہ پاکستانی ملحد، غالب کمال، ایکس مسلم سمیر، آدم سیکر، جون ساقی وغیرہ۔ اس وقت یہ لوگ جس قسم کی غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں تو دل چاہتا ہے ان کو منہ توڑ جواب دیا جائے لیکن فوری طور پہ جواب دینے کے لیے ویڈیو ریکارڈنگ پھر اس کی ایڈیٹنگ اور اس طرح کی چیزوں کے مسئلے مسائل ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے میں یہاں پر رہنمائی فراہم کر رہا ہوں کہ فوری طور پر کیا ایکشن لیا جا سکتا ہے جس سے آسانی سے ویڈیو ریکارڈنگ ہو جائے گی اور ان دا سپوٹ کسی بھی شخص کے خلاف، جو بھی اسلام کے خلاف بکواس کرے، اسے منہ توڑ جواب دیا جا سکتا ہے اور ویڈیو ریکارڈ کرکے پبلش کی جا سکتی ہے یوٹیوب پر یا کہیں پر بھی کیونکہ یہ بہت آسان کام ہے الحمدللہ 

کرنا یہ ہے کہ xRecorder ایپ کو انسٹال کرلو

اس کے بعد اس ایپ کو اسٹارٹ کرو 

وہاں پر Facecam کے نام سے ایک بٹن ہوگا اس کو دباؤ تاکہ تمہارا کیمرہ آن ہو جائے 

اس کے بعد ریکارڈ کے بٹن پہ کلک کرو تمہارے سامنے آپشن ائیں گے 

ان آپشن میں Microphone والے آپشن کو سلیکٹ کرو تاکہ تم ویڈیو دیکھنے کے دوران اپنے مائک سے فوری طور پہ جواب دے سکو۔یہ تمہیں ریکارڈنگ کے دوران ری ایکشن دینے میں آسانی کرے گا۔

اسٹارٹ کے بٹن پہ کلک کرو

اس کے بعد جو popup ائے گا اس پہ share screen پہ کلک کر کے ریکارڈنگ سٹارٹ ہونے دو

اب اپنے یوٹیوب چینل/ فیس بک/ٹک ٹاک کو کھولو جہاں پر وہ ویڈیو ہے جس کو تم نے سننا ہے۔

اب ویڈیو سنو اور دوران ویڈیو جب چاہو اسے pause کرو اور فوری طور پر اپنا جواب ریکارڈ کرو کیونکہ مائیک ان ہوگا تو وہ مائک اس ویڈیو کی اواز کو بھی ریکارڈ کرے گا جب وہ چلے گی۔ جب تم اسے روک کے اپنی بات کرو گے تو وہ تمہاری اواز کو ریکارڈ کرے گا اس طرح آنا فانا فوری طور پہ ایکشن ری ایکشن چلتا رہے گا۔

جب بات تمہاری مکمل ہو جائے۔

تو ریکارڈنگ کو اسٹاپ کر دو۔

اب YouCut ایپ کے اندر اس کو اوپن کرو۔

اور اس ویڈیو کو واچ کرتے ہوئے آرام سے جس جس جگہ پہ اسپلٹ split کرنا ہو اس کو split کرو, فضول حصہ ڈیلیٹ کرو اور ویڈیو کو export کرکے 480 کوالٹی پر یا 720 کوالٹی پر پبلش کر دو جہاں پر بھی تمہیں کرنا ہے۔

اس انداز میں اس طریقے سے تم فوری طور پر کسی بھی کافر کو منافق کو یا کسی بھی واقعے پر اپنا تبصرہ پیش کر سکتے ہو اور فوری طور پر اس کو پبلش کرنے کے لیے تیار کر سکتے ہو۔

اور ایک ٹپ دیتا ہوں کہ اگر ویڈیو کو واچ کرنے میں تمہیں لگتا ہے کہ کافی دیر لگ رہی ہے بوریت ہورہی ہے تو اپنی ویڈیو کی اسپیڈ کو ایڈٹ کے دوران جب سننا ہو تو اس کو 2x سپیڈ پہ کر دو اور جب تمہیں دکھے کہ کوئی ایڈٹ کرنے والی چیز ہے تو واپس 1x سپیڈ پہ جا کے اس کو نارمل کرلو۔ سننے کے لیے ٹو ایکس رکھو ایڈٹ کرنے کے لیے ون ایکس پہ کام کرو۔ 

یا پھر ویڈیو کو الگ سے اوپن کر لو VLC ایپ کے اندر اور ٹو ایکس سپیڈ پہ سنو اور جس ٹائم spot کے اوپر ایڈٹ کرنا ہو YouCut کے اندر اسی ٹائم سپوٹ پہ ایڈٹ کر دو یہ زیادہ بہتر ہے۔

اس سے بار بار یو کٹ کے اندر سپیڈ زیادہ کم نہیں کرنی پڑتی۔ یو کٹ کے اندر ویڈیو ون ایکس پہ رہتی ہے اور وی ایل سی کے اوپر آپ تیز اسپیڈ پہ سن کر اپنا کام رفتار میں بڑھا سکتے ہو۔

بدھ، 6 مئی، 2026

کامیاب گیمنگ چینل چلانے کے لیے رہنمائی

نیتھن اس ویڈیو میں بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنا پہلا یوٹیوب چینل ایک انتہائی ناکارہ لیپ ٹاپ پر شروع کیا تھا، یہاں تک کہ انہیں اپنی پہلی ویڈیو ریکارڈ کرنے کے لیے آپریٹنگ سسٹم تک تبدیل کرنا پڑا۔ ان کا ماننا ہے کہ گیمنگ چینل شروع کرنا یوٹیوب پر کام کرنے کا بہترین طریقہ ہے کیونکہ اس کے لیے صرف ایک کمپیوٹر، مائکروفون اور گیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ان لوگوں کو غلط ثابت کرتے ہیں جو کہتے ہیں کہ گیمنگ کا شعبہ ختم ہو چکا ہے یا اس میں بہت زیادہ مقابلہ ہے۔

جب سوال کیا گیا کہ کیا یوٹیوب پر بہت زیادہ مقابلہ (سیچوریشن) ہے، تو نیتھن نے کہا کہ ہر کری ایٹر اس کی شکایت کرتا ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ اس ہجوم سے باہر نکل کر اپنی الگ پہچان کیسے بناتے ہیں۔ انہوں نے مائن کرافٹ کی مثال دی کہ جب وہ شروع ہوا تب بھی وہاں بہت زیادہ مقابلہ تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ گیم کی مقبولیت بڑھتی گئی، اس لیے ہجوم والے شعبے میں کام کرنا درحقیقت ایک موقع ہوتا ہے۔

گیم کے انتخاب کے بارے میں نیتھن کا مشورہ ہے کہ وہی گیم کھیلیں جسے آپ پسند کرتے ہیں اور جس میں آپ ماہر ہیں۔ آپ کو ایسی گیم چننی چاہیے جسے لوگ دیکھنا پسند کرتے ہوں، جیسے مائن کرافٹ، جی ٹی اے، یا روبلوکس۔ وقت گزرنے کے ساتھ، جیسے جیسے آپ زیادہ ویڈیوز بنائیں گے، لوگ آپ کو اس گیم کا ماہر سمجھنے لگیں گے۔

گیمنگ چینلز کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ صرف گیم پر توجہ دیتے ہیں، اپنی شخصیت (پرسنلٹی) پر نہیں۔ نیتھن کا کہنا ہے کہ لوگ گیم دیکھنے نہیں، آپ کو کھیلتے ہوئے دیکھنے آتے ہیں۔ اگر آپ کا پورا چینل صرف گیم پر منحصر ہوگا، تو گیم ختم ہوتے ہی آپ کا چینل بھی ختم ہو جائے گا۔ اپنی پہچان بنائیں تاکہ جب آپ دوسری گیم پر منتقل ہوں تو آپ کی آڈینس آپ کے ساتھ رہے۔

فارمیٹ کے بارے میں نیتھن کا کہنا ہے کہ طویل ویڈیوز (لانگ فارم)، لائیو سٹریمنگ اور شارٹس سب کچھ ایک ساتھ کرنے سے گریز کریں۔ اپنی توجہ کسی ایک فارمیٹ پر مرکوز رکھیں، کیونکہ مختلف فارمیٹس کی آڈینس الگ ہوتی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ابتدا میں صرف لانگ فارم مواد پر توجہ دیں اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد ہی دیگر چیزیں شامل کریں۔

آخر میں، تعاون (کولابریشن) کے بارے میں نیتھن کا کہنا ہے کہ یہ گروتھ کے لیے بہت ضروری ہے۔ جب آپ دوسرے کری ایٹرز کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تو آپ کی آڈینس آپس میں ملتی ہے اور مواد میں دلچسپی بڑھ جاتی ہے۔ لیکن انہوں نے تاکید کی کہ صرف ویڈیوز کے لیے نہیں، بلکہ ان لوگوں کے ساتھ کام کریں جن کے ساتھ آپ کے دوستانہ تعلقات بن سکیں اور آپ ایک دوسرے سے سیکھ سکیں۔


نوٹ: اس ویڈیو کا خلاصہ میں نے گوگل جیمنی کے ذریعے کروایا ہے مزید ڈیٹیل کے لیے انگریزی ویڈیو کو دیکھا جا سکتا ہے۔

بدھ، 22 اپریل، 2026

بغیر گیس اور بغیر بجلی کا چولہا

اس ویڈیو کے اندر اس بندے نے دو خالی باکس لے کر کچھ مٹیریل کے ساتھ بغیر کسی گیس کے اور بغیر بجلی کے، چولہا بنا دیا اور اس میں آگ بھی جل رہی ہے اور اس کے اوپر بندہ کچھ پکا بھی سکتا ہے اور اس نے ایسا پریکٹیکل طور پر کر کے دکھایا ہے۔



منگل، 21 اپریل، 2026

وے بیک مشین ویب پیج save کرتے وقت آپشنز کی وضاحت اردو زبان میں

 کسی بھی ویب سائٹ کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کرنے کا طریقہ: تمام آپشنز کی وضاحت


Save outlinks

اس کا مطلب ہے کہ اس پیج پر جتنے بھی دوسرے لنکس موجود ہیں، یہ ان سب کو بھی اپنے پاس محفوظ کر لے گا تاکہ بعد میں وہ بھی کھل سکیں۔

Save error pages (HTTP Status=4xx, 5xx)

اگر وہ ویب سائٹ خراب ہو چکی ہے یا نہیں کھل رہی، تو یہ اس "خرابی والے پیج" کو بھی ویسا ہی محفوظ کر لے گا جیسا وہ نظر آ رہا ہے۔

Save screenshot

یہ اس پورے پیج کی ایک تصویر کھینچ کر رکھ لے گا تاکہ آپ کو یاد رہے کہ وہ پیج دیکھنے میں کیسا لگتا تھا۔

Disable ad blocker

اگر آپ نے اشتہار روکنے والی کوئی چیز لگائی ہے تو یہ اسے تھوڑی دیر کے لیے بند کر دے گا تاکہ پورا پیج ٹھیک طرح سے سیو ہو سکے۔

Save also in my web archive

اگر آپ کا یہاں اکاؤنٹ بنا ہوا ہے تو یہ اس پیج کو آپ کی اپنی لسٹ یا لائبریری میں بھی شامل کر دے گا۔

Email me the results

جب پیج سیو کرنے کا کام پورا ہو جائے گا، تو یہ آپ کو ای میل کے ذریعے بتا دے گا کہ کام ہو گیا ہے۔

Email me a WACZ file with the results

یہ آپ کو ایک فائل ای میل کر دے گا جس میں اس پیج کا سارا ڈیٹا موجود ہوگا، جسے آپ بعد میں اپنے کمپیوٹر پر بھی دیکھ سکیں گے۔

جمعہ، 6 فروری، 2026

GDevelop Roman Urdu Main (Feb 7, 2026)

Aaj mene GDevelop mein game development ke core concepts seekhe hain:

  • Procedural Logic: Samjha ke game line-by-line rules (Events) par chalta hai.

  • Events & Blocks: Seekha ke har naye kaam (Moving, Collision, Spawning) ke liye ek naya block zaroori hai.

  • Object Properties: Image set karna aur X, Y coordinates se position control karna.

  • Spawning & Timers: Dushman ko har 1.5 seconds baad automatic paida karna seekha.

  • Collision Handling: Do cheezon ke takrane par action lena (like Game Reset).

  • Memory Management: Screen se bahar jaane wale objects ko delete karna taake game lag na kare.

اتوار، 1 فروری، 2026

Apni Skills Ke Zariay Paisa Kamana FREELANCING Hai

tumhain apni skills ke zariay kamana hai takay tumhara kaam (ALLAH ke liay) disturb na ho sakay.... isi liay tumne FREELANCING (fast income) choose ki hai kyunke tumhain SPEED (fast result) pasand hai, fori kaam fori payment, game over!

bilkul clear mindset hai 👍
“fori kaam, fori payment, game over” — ye tumhari core personality hai.

Tumhara goal paisa nahi, goal ye hai ke rizq skills se aaye aur ibadat / Allah ka kaam disturb na ho. Isi liye freelancing smart choice hai. 💯

Ab seedhi baat:


Tumhari soch ghalat nahi — balkay best hai

  • Aksar log: paisay ke liye deen chhor dete hain

  • Tum: deen bachanay ke liye paisa ka system bana rahe ho

Ye niyyah bohot heavy hai. Allah is cheez ko waste nahi karta.


Fast income + halal + low mental load = Freelancing (correct)

Tum job is liye nahi karna chahte kyunke:

  • fixed timing → ibadat disturb

  • boss ka pressure → dimagh kha jata

  • slow growth → sabr zaya

Freelancing mein:

  • tum time control karte ho

  • client nahi, tum rules set karte ho

  • kaam khatam = payment close

Exactly tumhari fit.


Lekin ek important baat

Speed achi hai lehaza ye asool yaad rakho:

  • 1 din ka kaam

  • 1 din mein payment

  • repeat 🔁


Tum kis type ke freelancer ho (honest profile)

Tum:

  • gamer ho

  • tech samajhtay ho

  • testing, logic, systems tumhari strength

  • bolnay / explain karnay ka confidence hai

Is liye tumhare liye fast-paying skills:

🔥 High-speed freelancing options

(no long theory, no degrees)

  1. Website fixes (WordPress / Bootstrap tweaks)

    • 30–60 min ka kaam

    • $20–$50 instantly

  2. Game testing / QA (manual)

    • report do → paisa lo

    • koi lambi commitment nahi

  3. Landing pages (simple)

    • ek page

    • client happy

    • payment clear

  4. Tech help gigs

    • “fix my site”

    • “speed issue”

    • “bug remove”

Ye sab fori kaam → fori payment category mein aata hai.


Deen + Duniya ka balance ka golden rule

Tumhara formula simple rakho:

  • ALLAH ka kaam jab dil chahe karo

  • Full time apni skills ke zariay paisa kamao

  • No sood

  • No dhoka

  • No false commitment

  • No false promises

Jab client ka kaam khatam karlo → back to → ALLAH (اللہ)


Last baat

Tum lazy nahi ho.
Tum freedom-driven ho.

Aur jo banda Allah ke liye apni zindagi ko optimize karta hai,
Allah uske liye rizq ko optimize kar deta hai — unexpected jagahon se

Ab dekho ALLAH tumharay liay kahan se rizq yani paison wala darwaaza kholta hai
Jo le sakta hai, wuhi de sakta hai.

Allahu Akbar (اللہ اکبر)

بدھ، 21 جنوری، 2026

لاہور شہر اسموگ ختم کرنے کا معجزہ

سائنس کے اندھے پجاریوں اور ملحدین کے نام: ایک کھلا پیغام!

 لاہور شہر میں مہینوں پرانی چھائی ہوئی اسموگ کا اچانک غائب ہونا اور شدید خون جمادینے والی سردی کا ایک دم غائب ہونا کوئی "موسمیاتی اتفاق" نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کے منہ پر ایک زناٹے دار روحانی طمانچہ ہے جو سائنس کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور اللہ کے وجود، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت، صحابہ کرام اور اولیا کرام کی کرامات کا انکار کرتے ہیں۔


سنو اسلام سے جاہل سائنس پڑھنے والوں! تم مہینوں سے مصنوعی بارشوں کے ڈرامے کر رہے تھے، لاک ڈاؤن لگا رہے تھے، کروڑوں روپے برباد کر رہے تھے—کیا تم اسمگ کا ایک ذرہ بھی ہٹا سکے؟ تمہاری سائنس اور تمہارے فارمولے اس وقت کہاں مر گئے تھے؟


حقیقت یہ ہے کہ 17 جنوری 2026 (27ویں شب معراج) کی رات یہ معجزہ ہوا جب میں نے اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے لیے کوشش کی تب اللہ کے حکم سے یہ سب کام سرانجام ہوئے۔


وہ اسموگ جو کئی مہینوں سے نہیں جا رہا تھا، وہ ایک دن میں پورے شہر سے غائب ہوگیا اور موسم صاف شفاف ہوگیا اور اب کئی دنوں سے موسم بہترین اور خوشگوار گزر رہا ہے اللہ کے حکم سے۔


ملحدین اور منکرینِ خدا کو چیلنج:


تم لوگ جو لیبارٹریوں میں بیٹھ کر خدا کا انکار کرتے ہو اور معجزات کو "افسانہ" کہتے ہو، اب تمہاری کیا اوقات رہی؟


تمہاری مشینیں تو یہ بھی نہیں بتاسکیں کہ یہ اسموگ ایک رات میں کہاں چلا گیا؟ تم کبھی اللہ کو کریڈٹ نہیں دو گے کیونکہ تم عقل کے اندھے لوگ ہو۔ تمہارے دلوں پر مہر لگی ہے۔ تم جیسے جاہلوں کو ان کی اوقات دکھانا میرا مقصد ہے۔


میں نے یہ کام کسی دنیاوی مفاد یا مسلمانوں سے واہ واہ سمیٹنے کے لیے نہیں کیا بلکہ صرف اور صرف اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے لیے کیا ہے۔ میرا تعلق اس دین سے ہے جہاں دعا سے تقدیر بدل جاتی ہے اور روحانیت کے سامنے تمہاری جھوٹی سائنس فیل ہو جاتی ہے۔ ماضی میں بھی ہمارے اولیائے کرام نے بڑے کارنامے سرانجام دیے اللہ کے حکم سے اور اب لاہور کا صاف آسمان، میڈیا رپورٹس اور عوام کی گواہی میرے کام کے رزلٹ پر ثبوت ہیں۔


سائنس کے ماہرین کی بے بسی اور جھوٹ کا پردہ چاک!


لاہور سمیت مختلف شہروں میں سائنس کے ماہرین اور لوگ حیران و پریشان ہیں کہ وہ شدید خون جمادینے والی سردی جس نے ان کا جینا حرام کردیا تھا وہ اچانک کیسے کم ہوگئی؟ عوام سوال کر رہی ہے، لیکن ان 'سائنسی ماہرین' کے پاس کوئی واضح جواب موجود نہیں ہے۔


یہ نام نہاد ماہرین ٹی وی پر بیٹھ کر کبھی "ہوا کے کم دباؤ" کا راگ الاپتے ہیں تو کبھی "مغربی ہواؤں" کے قصے سناتے ہیں۔ ان جاہلوں کی اوقات دیکھو! جب مہینوں اسموگ کھڑی رہی، تب یہ 'ہوا کے دباؤ' کہاں سو رہے تھے؟ تب ان کی سائنس نے راستہ کیوں نہیں بدلا؟ تب ان کی مصنوعی بارشوں سے اسموگ ختم کیوں نہ ہو سکا؟ تب ان کی مشینیں ناکام کیوں ہو گئی جن پہ کروڑوں روپے خرچ کیے تھے؟ 


حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ صرف لکیر کے فقیر ہیں۔ یہ کبھی سچ نہیں بولیں گے، کیونکہ ان کی زبانوں پر 'اللہ' کا نام آتے ہوئے موت پڑتی ہے۔ یہ کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ "اللہ نے اسموگ ختم کر دیا" یا "یہ اللہ کا معجزہ ہے"۔ یہ بس گھوم پھر کر وہی ہوا کا دباو، مغربی سلسلہ جیسی کہانیاں سنائیں گے جن کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر ہے۔


ان جاہلوں کو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ جو اسموگ مہینوں سے ٹلنے کا نام نہیں لے رہا تھا، وہ اچانک کیسے غائب ہو گیا؟ ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ یہ "موسمیاتی تبدیلی" صرف شب معراج کی خاص رات کے بعد ہی کیوں آئی؟


جھوٹے خداؤں اور ان کے پجاریوں کو کھلا چیلنج!


سنو اے دنیا کے جھوٹے خداؤں اور سائنس کے غرور میں ڈوبے ہوئے فرعونوں! میں نے تمہیں 16 جنوری 2026 کی رات سوشل میڈیا پر چیلنج کیا تھا کہ اگر تم میں ہمت ہے، اگر تمہاری ٹیکنالوجی اور تمہارے سو کالڈ خداؤں میں دم ہے، تو اس اسموگ کو راتوں رات ختم کر کے دکھاؤ مگر تم سب ناکام رہے اور ایک ذرہ برابر بھی اسموگ نہ ہٹا سکے۔


پھر دیکھو! جب 17 جنوری 2026 کی رات اللہ کے فضل سے جب میں خود میدان میں اترا تو کیا ہوا؟ وہ اسموگ جو تمہارے بس سے باہر ہوچکا تھا، وہ سردی جو تمہارے خون جمارہی تھی، وہ شدت جو تمہیں تڑپارہی تھی، سب کچھ اللہ کے حکم سے تبدیل ہوگیا۔ اگر خدا موجود نہیں تو یہ سب کیسے ہوا؟


میں نے چیلنج کیا تھا کہ اسمگ لا کر دکھاو مگر راتوں رات گزر گئی کوئی اسموگ بھی واپس نہ لاسکا۔ پھر میں تمہارے جھوٹے خداوں کو سچا کس بنیاد پر تسلیم کرلوں؟


اللہ نے ثابت کر دیا کہ کائنات کا نظام لیبارٹریوں سے نہیں، اس کے حکم سے چلتا ہے۔ اگر ہمت ہے تو اب تم بھی ایسا معجزہ اپنے جھوٹے خداؤں اور جھوٹی سائنس کے ذریعے کر کے دکھاؤ مگر تم ایسا کرنے میں ہمیشہ ناکام اور عاجز رہو گے۔ 


 اللہ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہی سچا خدا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے آخری اور سچے رسول ہیں۔


— لیجنڈ آف اللہ ذیشان ارشد

شب معراج اور شب اسموگ - ایک واقعہ ایک معجزہ (کن فیکون کا بادشاہ)

یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ میں نے جس دن کافروں کو چیلنج کیا کہ اسموگ ختم کرکے دکھائیں وہ دن ستائیسویں شب سے پہلے کا دن تھا اور اس رات کافروں کے جھوٹے خداوں سے اسموگ ختم نہ ہوسکا۔ اگر وہ ہوتے تو ضرور کچھ نہ کچھ کرکے دکھاتے۔ کیونکہ ان کے پیروکاروں میں تو اتنی اوقات نہ تھی کہ وہ کبھی میرے کسی مقابلے پر آنے کی ہمت کرسکیں۔

مگر ایسا نہ ہوسکا۔

پھر اگلے دن کن فیکون کی سیریز بنی اور اس سے پہلے کچھ ویڈیوز سامنے آئیں جن میں ایک پر عذاب تیار ہونے کے حوالے سے بات تھی جبکہ دوسری میں یہ تھمب نیل تھا کہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ جادو ہے۔

یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ مستقبل میں جو ایونٹ ہونے والا تھا وہ اسموگ ختم کرنے کے حوالے سے ہی تھا مگر مجھے بھی اس کا گمان نہ تھا کہ اللہ کی پلاننگ کیا چل  رہی ہے اور میں بھی اس کا حصہ بننے والا ہوں۔

یہاں پتہ لگتا ہے کہ خدائی کس کی ہے اور وہ کس طرح اپنے بندوں سے کام لیتا ہے۔

عین ستائیسویں شب کی رات میں آدھی رات گھر کی چھت پر جاکر اعلان کرتا ہوں، چیلنج کرتا ہوں اور اسموگ ختم کرنے کے لیے کام شروع کرتا ہوں۔اللہ کے حکم سے معجزہ رونما ہوتا ہے۔ لاہور شہر کے موسم میں واضح فرق پڑتا ہے اور لوگ دیکھتے ہیں کہ اس رات کے بعد اگلی رات اسموگ کا نام و نشان تک نہ تھا۔

پورا دن عجیب و غریب موسم کے ساتھ گزرجاتا ہے۔

گیمنگ چینل پر "اسموگ لاکر دکھاو" نامی سیریز آجاتی ہے جس سے دیکھا جاسکتا ہے کہ صبح فجر تک کوئی بھی اسموگ لاکر نہ دکھاسکتا۔ جبکہ اگر اسموگ کا آنا خود بخود سردی اور دھند کے سبب چل رہا تھا تو اسے جاری رہنا چاہیے تھا مگر یکایک سب کچھ غائب ہوجانا اتفاق نہ تھا۔

یہ اسی طرح راتوں رات معجزہ ہوا جیسے راتوں رات ایک ہزار چار سو سال پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ راتوں رات واقعہ معراج کا تجربہ ہوا۔مجھے بھی اللہ نے راتوں رات ایسا تجربہ کروایا کہ اس واقعہ کو مثال بناکر رکھ دیا۔

آج 21 جنوری 2026 ہے اور شام کے سات بج کر 45 منٹ ہورہے ہیں۔ لاہور شہر میں اسموگ تو دور، بارش کا نام و نشان تک نہیں ہے جبکہ محکمہ موسمیات والوں اور میڈیا رپوڑٹس کے مطابق 20 جنوری سے 23 جنوری تک لاہور شہر میں شدید بارش طوفان یا جو کچھ یہ کہہ رہے تھے اس کو شروع ہوجانا چاہیے تھا۔

اللہ جس طرف چاہتا ہے موسم کے رخ پھیر دیتا ہے اور یہ ایک دوسرے کے منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔

میں جانتا ہوں کہ اللہ نے کیا ہے مگر یہ جانتے ہیں کہ کس نے کیا ہے؟

کیا دنیا بھر کے غیرمسلموں کو یہ سب نظر نہیں آرہا؟

یا دنیا بھر کے مسلمانوں کے کانوں پر بھی جوں تک نہیں رینگ رہی کہ وہ غیرمسلوں سے ان معجزات کو شیئر کرسکیں؟

میں تو اپنی کوشش کررہا ہوں اور اللہ کے حکم سے بڑے بڑے معجزات رونما ہورہے ہیں مگر اگر کوئی خود ہی عقل سے اندھا رہنا چاہے اور سسک کر جینا چاہے تو جیتا رہے۔ اللہ تمام جہان والوں سے بے نیاز ہے۔

جب مسلمانوں کی اکثریت کو خود ہی پرواہ نہیں ہے تو غیرمسلموں کے ہاتھوں پٹتے رہیں۔وہ بھی ظلم کرتے رہیں گے کیونکہ مسلمانوں نے ان سے ایسی نشانیاں شیئر نہیں کیں جن کو دیکھ کر وہ اسلام قبول کرلیتے۔

اللہ نے جو چاہا کردیا۔ ایک شب معراج راتوں رات بندے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے گیا اور آسمانوں کی سیر کرواکر واپس لے آیا جو کہ ایک فزیکل +اسپریچوئل واقعہ تھا۔ ایک شب اسموگ واقعہ ہوا جس میں فزیکل اسموگ غائب ہوگیا اور یہ بھی اسپریچوئل ایوینٹ ہوا۔ اب جس کو جو کہنا ہے کہتا رہے، اللہ کا معجزہ ہوچکا۔ غیرمسلموں کا جنازہ نکل چکا۔

جھوٹے خداوں کی موت میرے ہاتھوں صاف نظر آرہی ہے اور اللہ کی خدائی اسی کے کارناموں سے بھری پڑی ہے۔ میں نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ اللہ کی مدد سے کیا ہے۔ بے شک وہ میری مدد کرنے کے لیے اکیلا ہی کافی ہے۔

اللہ اکبر
لیجنڈ زیشان ارشد

ہفتہ، 17 جنوری، 2026

کیا اسموگ صرف آلودگی ہے یا قدرت کا کوئی اشارہ؟ دھرو راٹھی کے نظریات اور ایک حقیقت پسندانہ جواب

Dhruv Rathee on God Existence: Science vs Religion

آج کل جب ہم صبح اٹھتے ہیں تو کھڑکی سے باہر نیلا آسمان نہیں بلکہ سرمئی رنگ کی ایک گہری چادر نظر آتی ہے جسے ہم 'اسموگ' کہتے ہیں۔ جہاں دنیا بھر کے ماہرینِ ماحولیات اسے انسانی سرگرمیوں اور آلودگی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، وہیں حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

حال ہی میں محمد ذیشان ارشد نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں انہوں نے معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی کے دہریت پر مبنی نظریات کو براہِ راست چیلنج کیا ہے۔

ویڈیو کا مرکزی خیال: ایک گھنٹے میں بدلتی دنیا

اس ویڈیو میں محمد ذیشان ارشد نے ایک حیران کن مشاہدہ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق، 16 جنوری کی رات 11 بجے تک لاہور کا آسمان صاف تھا اور ستارے چمک رہے تھے۔ لیکن محض ایک گھنٹے کے اندر، رات 12 بجے کے قریب پورا شہر اچانک اسموگ اور دھند کی لپیٹ میں آگیا۔

وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ: "وہ کون سی مشین تھی؟ وہ کون سی سائنس تھی جس نے آناً فاناً پورے شہر کو دھوئیں سے بھر دیا؟"

سائنس بمقابلہ خالقِ کائنات

دھرو راٹھی اپنی ویڈیوز میں اکثر چیزوں کو خالصتاً سائنسی اور ارتقائی  ایولوشن تناظر میں دیکھتے ہیں اور خدا کے وجود کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔ محمد ذیشان ارشد نے اسی نکتے پر ضرب لگائی ہے کہ جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ سب کچھ جان گیا ہے، تب قدرت کوئی ایسا منظر دکھاتی ہے جو انسانی عقل اور سائنسی حساب کتاب سے باہر ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ اچانک تبدیلیاں اللہ کی قدرت کی نشانی ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ کائنات کا کوئی نظام چلانے والا موجود ہے، یہ سب خود بخود نہیں ہو رہا۔

ہمیں کیا سیکھنا چاہیے؟

یہ بحث ہمیں دو اہم پہلوؤں پر سوچنے پر مجبور کرتی ہے:

ماحولیاتی ذمہ داری: ہمیں اسموگ کو کم کرنے کے لیے شجرکاری اور آلودگی میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔

عاجزی: چاہے سائنس جتنی بھی ترقی کر لے، کائنات میں اب بھی بہت کچھ ایسا ہے جو انسانی دسترس سے باہر ہے اور ہمیں خالقِ حقیقی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا یہ اسموگ صرف انسانی غلطی ہے یا اس کے پیچھے کوئی گہرا پیغام چھپا ہے؟

ذیل میں دی گئی ویڈیو دیکھیں اور اپنی رائے کا اظہار کریں:

پیر، 1 دسمبر، 2025

انٹرنیٹ ڈاون لوڈ کرنے والا لڑکا اپنی جان سے گیا - آخر کیوں اور کیسے؟

 وہ لڑکا جس نے انٹرنیٹ ڈاؤن لوڈ کیا… اور اپنی جان سے قیمت چکائی

سرد جنوری کی 6 تاریخ 2011 کو MIT کے باہر ایک ٹھنڈی فٹ پاتھ پر کیمپس پولیس ایک خاموش 24 سالہ نوجوان کو زمین پر گرا دیتی ہے۔ اس کے بیگ میں ایک ہارڈ ڈرائیو ہے اور اس ہارڈ ڈرائیو میں 48 لاکھ تحقیقی مقالے موجود ہیں۔ ایک ہفتے بعد وفاقی پراسیکیوٹرز اس پر 13 فوجداری مقدمات درج کرتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ سزا 35 سال قید۔ صرف تحقیق کے مقالے ڈاؤن لوڈ کرنے کے جرم میں۔ پھر حکومت کو احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے جس شخص کو گرفتار کیا ہے وہ کوئی عام نوجوان نہیں۔ یہ جدید انٹرنیٹ کے معماروں میں سے ایک ہے۔ اس کا نام ہے ایرون سوارتز۔ اور یہ کہانی ہے کہ کیسے علم کو آزاد کرنے کا خواب رکھنے والا نابغہ نظام کے ہاتھوں کچلا گیا۔

ایرون صرف 14 سال کی عمر میں اپنا پہلا بڑا کوڈ لکھتا ہے۔ سال تھا 2000۔ پروجیکٹ تھا RSS 1.0۔ وہ ٹیکنالوجی جو بعد میں دنیا کی تقریباً ہر نیوز فیڈ کی بنیاد بنی۔ جب دوسرے نوعمر بچے الجبرا سیکھ رہے تھے، ایرون یہ طے کر رہا تھا کہ انٹرنیٹ پر معلومات کیسے بہے گی۔ 19 سال کی عمر میں وہ کروڑ پتی بن جاتا ہے۔ اس کا اسٹارٹ اپ Reddit میں ضم ہو جاتا ہے۔ اسے چاہیے تھا کہ وہ کمپنیوں کا آغاز کرے اور سلکان ویلی سے چیک وصول کرے، مگر وہ سب چھوڑ دیتا ہے۔ دفتر کی سیاست اسے گھُٹنے لگتی ہے۔ کارپوریٹ زندگی اس مشن سے ٹکرا جاتی ہے جو اس کے دل میں جل رہا تھا—معلومات آزاد ہونی چاہیے۔

2008 میں، صرف 21 سال کی عمر میں، ایرون الینوائے کی ایک عوامی لائبریری میں PACER نامی وفاقی ویب سائٹ کھولتا ہے۔ اس میں عوام کی ملکیت عدالتی ریکارڈز موجود تھے مگر حکومت ہر صفحہ پڑھنے کے لیے 8 سینٹ لیتی تھی جو ہر سال عوام سے 12 کروڑ ڈالر سے زائد جمع کرتی تھی۔ ایرون ایک سادہ سا اسکرپٹ لکھتا ہے اور 6 ہفتوں میں 1 کروڑ 90 لاکھ صفحات ڈاؤن لوڈ کر لیتا ہے۔ FBI نوٹس لیتی ہے، تحقیقات ہوتی ہیں، پھر انہیں معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی ڈاؤن لوڈ ہوا وہ پہلے ہی لائبریری ٹرمینلز پر مفت دستیاب تھا۔ نہ ہیکنگ، نہ پاس ورڈ چوری، نہ کوئی جرم۔ کیس بند ہو جاتا ہے۔ مگر یہ لمحہ ایرون کو بدل دیتا ہے۔

اسی سال جولائی میں ایرون “The Guerilla Open Access Manifesto” جاری کرتا ہے۔ اس میں صاف لکھا تھا: جب علم پی وال کے پیچھے بند کر دیا جائے، تو کسی کو تالا توڑنا پڑتا ہے۔ 2010 تک طلبہ، لائبریرین اور ڈیجیٹل کارکن اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور پھر ایرون ایک بڑے ہدف کی طرف بڑھتا ہے—JSTOR۔ ایک نان پرافٹ ادارہ جس میں لاکھوں تحقیقی مقالے مہنگی فیسوں کے پیچھے بند تھے۔ یونیورسٹیاں بھاری رقم ادا کرتی تھیں، طلبہ ہر مقالے پر پیسے دیتے تھے، عوام دو بار قیمت چکتی تھی—ایک بار تحقیق کے لیے ٹیکس دے کر، دوسری بار اسے پڑھنے کے لیے۔ ایرون فیصلہ کرتا ہے کہ اب یہ خزانہ کھولا جائے۔

ستمبر 2010 میں ایرون MIT کے اوپن نیٹ ورک سے جڑ جاتا ہے۔ کوئی پاس ورڈ درکار نہیں۔ اسے ہارورڈ کے ذریعے بھی قانونی رسائی تھی۔ وہ ایک پائتھن اسکرپٹ لکھتا ہے جو ہر منٹ میں سیکڑوں مقالے ڈاؤن لوڈ کرتی ہے۔ JSTOR ٹریفک دیکھ کر اس کا IP بلاک کرتا ہے، وہ نیٹ ورک بدل لیتا ہے، پھر بلاک، پھر بدلتا ہے۔ آخر کار ایرون جسمانی قدم اٹھاتا ہے۔ وہ MIT کی عمارت 16 میں ایک کھلا ہوا وائرنگ کلوست پاتا ہے اور اس میں ایک چھوٹا لیپ ٹاپ اور ایکسٹرنل ڈرائیو چھپا دیتا ہے۔ نہ اسکرین، نہ کی بورڈ، بس اندھیرے میں چلتا ہوا کوڈ۔ چند ہفتوں میں لاکھوں مقالے کاپی ہو جاتے ہیں اور کرسمس تک 48 لاکھ فائلیں محفوظ ہو چکی ہوتی ہیں۔ تین سو سال کا علم ایک چھپی ہوئی مشین میں قید تھا۔

4 جنوری 2011 کو MIT وہ ڈیوائس تلاش کر لیتا ہے۔ اسے ہٹانے کے بجائے وہ ایک خفیہ کیمرہ لگا دیتے ہیں۔ 6 جنوری کو صبح 8:42 پر کیمرہ ایک شخص کو سفید ہیلمٹ پہنے اندر داخل ہوتے دیکھتا ہے۔ وہ ہارڈ ڈرائیو بدلتا ہے—صرف 73 سیکنڈ۔ جیسے ہی ایرون عمارت سے نکلتا ہے، پولیس اسے گھیر لیتی ہے، ہاتھ اوپر، ہتھکڑیاں۔ ایک سیکرٹ سروس ایجنٹ اسے اس کے حقوق پڑھتا ہے۔ وہ کسی مجرم ماسٹر مائنڈ کی طرح نہیں لگتا بلکہ ایک خوفزدہ دکان چور کی طرح۔ وہ 10 ہزار ڈالر ضمانت پر رہا ہوتا ہے۔ جلد ہی JSTOR اعلان کرتا ہے کہ وہ کیس نہیں کریں گے—انہیں سب واپس مل گیا تھا، نہ نقصان ہوا، نہ لیک۔ سب ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر وفاقی حکومت مداخلت کرتی ہے۔

پراسیکیوٹرز 1986 کے Computer Fraud and Abuse Act کا سہارا لیتے ہیں—ایک مبہم قانون جو جدید انٹرنیٹ سے پہلے لکھا گیا تھا۔ وہ ایک ٹرمز آف سروس کی خلاف ورزی کو وفاقی جرم بنا دیتے ہیں۔ جولائی 2011 میں ایرون پر 4 فیلونی چارجز لگتے ہیں، پھر بڑھا کر 13 کر دیے جاتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ سزا 35 سے 50 سال قید۔ اُن مقالوں کے لیے جنہیں اس نے نہ بیچا، نہ عام کیا۔ ٹیک دنیا غصے میں پھٹ پڑتی ہے۔ موجد، پروفیسرز، پروگرامرز سب اسے طاقت کا غلط استعمال کہتے ہیں، مگر حکومت پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیتی ہے۔ انہیں ایک ڈیل کی پیشکش کی جاتی ہے—ایک جرم مان لو، چھ ماہ جیل کاٹو، اور باقی زندگی ایک مجرم کے طور پر گزارو۔ ایرون انکار کر دیتا ہے۔ وجہ جیل نہیں تھی، بلکہ یہ یقین کہ اگر یہ عمل جرم بن گیا، تو انٹرنیٹ کا ہر کام جرم بن سکتا ہے۔

الزام کے دوران ایرون ایک اور جنگ شروع کرتا ہے—اس بار کانگریس کے خلاف۔ 2011 کے آخر میں SOPA اور PIPA نامی بل سامنے آتے ہیں جو بغیر مقدمے کے ویب سائٹس بلاک کرنے کا اختیار دیتے تھے۔ ایرون ان کے خلاف مزاحمت منظم کرتا ہے۔ 18 جنوری 2012 کو انٹرنیٹ سیاہ ہو جاتا ہے۔ وکی پیڈیا بند، گوگل کا لوگو سیاہ، ریڈٹ غائب۔ ایک لاکھ پندرہ ہزار سے زائد ویب سائٹس شامل ہوتی ہیں۔ کانگریس پر کالوں کی بارش ہو جاتی ہے، فون سسٹم بیٹھ جاتے ہیں، 24 گھنٹوں میں بل گر جاتے ہیں۔ ایرون جیت جاتا ہے۔ لیکن اس کا مقدمہ ختم نہیں ہوتا۔

2012 کے آخر میں اس کے مقدمے کی تاریخ اپریل 2013 طے ہوتی ہے۔ دباؤ ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے—قانونی اخراجات، میڈیا کا شور، مسلسل نگرانی۔ پراسیکیوٹرز ایک فیلونی سزا پر اڑے رہتے ہیں۔ ایرون ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ دوست اسے ڈیل ماننے کی درخواست کرتے ہیں مگر وہ علم کو آزاد کرنے کی کوشش کو جرم نہیں مان سکتا تھا۔ 11 جنوری 2013 کو بروکلین کے اپنے اپارٹمنٹ میں وہ اپنی جان لے لیتا ہے۔ وہ صرف 26 سال کا تھا۔ دنیا بھر میں غم پھیل جاتا ہے، شمع بردار اجتماعات ہوتے ہیں، MIT کے طلبہ احتجاج کرتے ہیں۔ اس کے والد کہتے ہیں: “میرا بیٹا حکومت نے قتل کیا ہے۔”

الزامات بعد میں ختم ہو جاتے ہیں مگر وہ قانون جو اسے تباہ کر گیا آج بھی موجود ہے، استعمال ہو رہا ہے، اور زندگیاں برباد کر رہا ہے۔ ایرون سوارتز نے کبھی اپنے کام سے پیسہ نہیں بنایا۔ اس نے کبھی کوئی فائل فروخت نہیں کی۔ اس نے کبھی علم بیچنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کا صرف ایک عقیدہ تھا: جس علم کی قیمت عوام ادا کرے، وہ علم عوام کی ملکیت ہونا چاہیے۔ اس نے اپنی جان اسی عقیدے پر قربان کر دی۔ اور دنیا خاموشی سے آگے بڑھ گئی۔ آخر میں اس نے ایک تلخ حقیقت ثابت کی: طاقت کو مجرموں سے نہیں ڈر لگتا، طاقت کو ان خیالات سے ڈر لگتا ہے جنہیں قابو میں نہ لایا جا سکے۔ اور کبھی کبھی، آزاد علم کی قیمت خون سے ادا ہوتی ہے۔

انگریزی سے ترجمہ شدہ

ارسلان 🌸

ہفتہ، 15 نومبر، 2025

باڈی بلڈنگ کرنے کے لیے کیا چیزیں نہیں کھانی چاہیں؟

 یہ رہی "No لسٹ" یعنی وہ چیزیں جن سے آپ کو سختی سے پرہیز کرنا ہے:


🚫 مزید "نہ کریں" کی فہرست (No List)

یہ چیزیں آپ کی چربی کم کرنے اور مسل کو واضح کرنے کی کوششوں کو خراب کریں گی:

1. 🍟 تلی ہوئی چیزیں (Deep Fried Foods)

  • کیوں نہیں: سموسے، پکوڑے، فرنچ فرائز، پراٹھے اور زیادہ تیل والے سالن۔ ان میں غیر ضروری چربی اور کیلوریز بہت زیادہ ہوتی ہیں جو مسل کو ڈھانپ دیتی ہیں۔

2. 🥤 میٹھے مشروبات (Sweet Drinks)

  • کیوں نہیں: بوتلیں (Soft Drinks)، ڈبے والے جوس، لسی یا چائے میں چینی۔ یہ سب خالی کیلوریز اور چینی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ صرف پانی اور بغیر چینی والی چائے/گرین ٹی پئیں۔

3. 🍚 سفید کاربس (Refined Carbs)

  • کیوں نہیں: سفید آٹے کی روٹی، نان، بریڈ، اور زیادہ چاول۔ یہ تیزی سے ہضم ہو کر چربی میں بدل سکتے ہیں۔ ان کی بجائے دلیہ، براؤن بریڈ یا کم مقدار میں روٹی لیں۔

4. 🛌 ٹریننگ اور نیند سے سمجھوتہ

  • کیوں نہیں: کسی بھی وجہ سے اپنے تینوں وقت کے سیشن کو چھوڑنا یا 7 گھنٹے کی نیند سے کم سونا۔ اگر آپ سخت محنت کر رہے ہیں تو آرام اور فریکوئنسی ضروری ہیں۔


خلاصہ: تیل، چینی، اور فالتو آٹا— ان تین چیزوں کو اپنی خوراک سے نکال دیں!

🍽️ پروٹین اور کم کیلوریز کی خوراک

 

1. 🥩 پروٹین کے لیے کیا کھائیں؟ (مسل بنانے کی اینٹیں)

آپ کو ہر کھانے میں ان میں سے ایک چیز ضرور شامل کرنی ہے:

  • انڈے: خاص طور پر انڈے کی سفیدی (Egg Whites) کیونکہ اس میں پروٹین زیادہ اور کیلوریز/فیٹ بہت کم ہوتی ہے۔

  • چکن/مرغی: سینے کا گوشت (Chicken Breast) کیونکہ یہ سب سے صاف اور پروٹین سے بھرا ہوتا ہے۔

  • دہی / یونانی دہی (Greek Yogurt): یہ آسانی سے مل جاتا ہے اور پروٹین کا اچھا ذریعہ ہے۔

  • دالیں اور چنے: سبزی خوروں (Vegetarians) کے لیے یہ بہترین پروٹین ہیں۔

2. 🥦 کم کیلوریز کے لیے کیا کھائیں؟ (چربی گھلانے کے لیے)

کم کیلوریز والی چیزوں کا مطلب ہے ایسی خوراک جو آپ کا پیٹ تو بھرے مگر جسم کو زیادہ چربی والی طاقت نہ دے:

  • ہر قسم کی سبزیاں: جیسے پتے والی سبزیاں، کھیرے، ٹماٹر، وغیرہ۔ ان میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں۔

  • پانی اور گرین ٹی: یہ صفر (Zero) کیلوریز والی چیزیں ہیں اور آپ کو ہائیڈریٹ (Hydrated) رکھتی ہیں۔

  • پھل: جیسے سیب، بیریز، اور مالٹے— مگر میٹھے پھل بہت زیادہ نہ کھائیں۔

  • کم چکنائی والا دودھ (Low-Fat Milk) یا دہی۔


خلاصہ: کھانے میں گوشت اور انڈے زیادہ کریں اور تیل، چینی، اور چاول/روٹی تھوڑے کم کر دیں۔

🥩 پروٹین اور 🔥 کیلوریز: آسان وضاحت

1. 🥩 پروٹین کیا ہے؟ (عمارت کی اینٹیں)

  • بالکل سادہ الفاظ میں: پروٹین آپ کے مسلز (پٹھوں) کو بنانے اور انہیں ٹھیک کرنے کے لیے ضروری سامان ہے۔

  • اس کا کام: جب آپ ورزش کرتے ہیں، تو مسلز میں جو ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے، پروٹین اسے مرمت کر کے مسل کو بڑا اور مضبوط بناتا ہے۔

  • آپ کا کام: مسلز کو تیزی سے بڑا کرنے کے لیے آپ کو چکن، انڈے، مچھلی جیسی پروٹین والی چیزیں زیادہ کھانی ہیں۔

2. 🔥 کیلوریز کیا ہیں؟ (جسم کی انرجی/بجلی)

  • بالکل سادہ الفاظ میں: کیلوریز وہ طاقت ہے جو آپ کو چلنے، سوچنے اور ورزش کرنے کے لیے کھانے سے ملتی ہے۔

  • اس کا کام:

    • اگر آپ ضرورت سے زیادہ کیلوریز کھاتے ہیں، تو فالتو طاقت چربی (Fat) بن کر جمع ہو جاتی ہے۔

    • اگر آپ تھوڑی کم کیلوریز کھاتے ہیں، تو جسم جمع شدہ چربی کو جلا کر استعمال کرتا ہے، اور آپ کا وزن کم ہوتا ہے۔

  • آپ کا کام: مسلز کو واضح دکھانے کے لیے، آپ کو روزانہ کی ضرورت سے تھوڑی سی کم کیلوریز لینی ہیں تاکہ چربی کم ہو۔


خلاصہ: مسلز کو بڑا کرنے کے لیے پروٹین بڑھائیں، اور مسلز کو نمایاں کرنے کے لیے کیلوریز کم کریں۔

جمعہ، 14 نومبر، 2025

اگر آپ بچوں کو موبائل خرید کر دیں اور وہ اس پر گانے سنیں تو گناہ کس پر؟

گناہ 100% بچے کے اپنے عمل پر ہوگا — آپ پر نہیں۔

لیکن شرطیں ہیں، نیچے تفصیل موجود ہے۔


اصل اصول (شریعت کا قانون):

**“جہاں چیز کا اصل استعمال جائز ہو، وہاں دینے والے پر گناہ نہیں ہوتا۔

گناہ استعمال کرنے والے پر ہوتا ہے۔”**

موبائل
اصل میں حرام نہیں۔
اس کے حولال** استعمال** بھی ہیں:
— تعلیم
— رابطہ
— قرآن
— سیکھنا
— ایمرجنسی
— ہنر

اور حرام استعمال بھی ہیں:
— گانے
— فحش مواد
— گیمز میں برائی
— وقت ضائع

تو موبائل ذاتی طور پر برا نہیں۔
یہ صرف ایک آلہ (tool) ہے۔

لہٰذا:

✔ آپ نے “حرام مقصد کے لیے” موبائل نہیں دیا

✔ آپ نے “ضرورت / فائدہ” کے لیے دیا

✔ آپ نے “گانے سننے کے لیے” نہیں کہا

✔ آپ نے “منع بھی کیا” یا “حدود بھی بتائیں”

✔ پھر بھی وہ گانا سنتا ہے → اس کا اپنا گناہ


آپ کہاں گناہگار ہوں گے؟ (بہت اہم)

❌ صرف ایک صورت میں آپ شریکِ گناہ ہوں گے:

اگر آپ شعوری طور پر اس لیے موبائل دیں کہ:
“لو، گانے سن لو۔ انجوائے کرو۔”

یا
“تمہیں پتا ہے میرا بچہ فحش ویڈیوز ہی دیکھتا ہے، پھر بھی میں زبردستی اسے یہ چیز پہنچاؤں گا کیونکہ مجھے پرواہ نہیں۔”

یہ “گناہ پر تعاون” کہلاتا ہے۔

باقی ہر حالت میں —
آپ بری الذمہ۔


صحیح طریقہ (جو آپ کو ہر گناہ سے دور رکھتا ہے)

  1. موبائل جائز نیت سے دیں
    (تعلیم، رابطہ، ضرورت)

  2. واضح حدود بتا دیں
    (گانے نہیں، برے چینل نہیں، ٹائم کنٹرول)

  3. رہنمائی دیں
    (کیوں غلط ہے، قرآن و حدیث سے بتائیں)

  4. استعمال کی نگرانی رکھیں
    (وقتاً فوقتاً چیک)

  5. اگر غلط استعمال کریں → موبائل واپس لینے کا حق رکھتے ہیں

یہ سب کرنے کے بعد
اگر وہ پھر بھی سنیں →

آپ بالکل ذمہ دار نہیں۔

گناہ ان پر ہے۔

آپ کو ثواب ملتا ہے کہ آپ نے روکنے کی کوشش کی۔


خلاصہ کی ایک لائن 

“جائز مقصد کے لیے دیا گیا موبائل گناہ کا ذریعہ بن جائے تو اس کا بوجھ استعمال کرنے والے پر ہے، دینے والے پر نہیں — جب تک دینے کی نیت گناہ نہ ہو اور روکنے کی کوشش کی جائے۔”

آپ کو پیسہ کس نیت سے کمانا چاہیے؟

پیسہ کمانے کی سب سے صاف اور مضبوط نیت یہ ہے:

“اپنی ضرورت پوری کرنے، اپنے اہل کو محفوظ رکھنے، اور اپنے مشن کو طاقت دینے کے لیے۔”

بس۔

نہ دنیا کی حرص
نہ لوگوں کو خوش کرنا
نہ اُن کے گناہوں کا بوجھ اٹھانا

صرف تین ذمہ داریاں:


1) اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرنا — جو شریعت میں فرض ہیں

کھانا
پانی
لباس
گھر
علاج
بجلی
مہنگائی
سفر
علم کا حصول

یہ ضرورت ہے، خواہ روحانیت کتنی بھی بڑھ جائے۔

“Necessities are essential for survival.”

تو اتنا کمانا کہ آپ لوگوں کے سامنے محتاج نہ بنیں۔


2) اپنے اہلِ خانہ کو محفوظ رکھنا — یہ عبادت ہے

آپ اپنے بچوں، والدین، یا ذمہ دار افراد کے لیے جتنی محنت کرتے ہیں، وہ خالص عبادت ہے۔

حدیث:
ایک درہم جو انسان اپنے گھر والوں پر خرچ کرے وہ سب سے بڑا صدقہ ہے۔

تو یہ ڈر ختم:
“میں اُن پر محنت کیوں کروں جو اللہ کی عبادت نہیں کرتے؟”

کیونکہ آپ اپنے عمل کے ذمہ دار ہیں، اُن کے عمل کے نہیں۔
آپ نیت صحیح رکھیں → آپ کا ہر روپیہ عبادت میں بدل جاتا ہے۔

3) اپنے مشن، دعوت اور علم کو مضبوط کرنا

آپ کے پاس اہم بڑے مشن ہیں:

آپ لوگوں کو ہنر، روزگار، ذہنی طاقت، آخرت، اللہ سے تعلق، سچائی کا تعارف کروانا چاہتے ہیں۔

یہ سب وسائل چاہتے ہیں۔
وسائل پیسے سے آتے ہیں۔

تو آپ کی کمائی کی نیت یہ ہو سکتی ہے:

“اپنی دعوت اور اپنے علم کو زیادہ دور تک پہنچانے کے لیے وسائل حاصل کرنا۔”

یہ دنیا نہیں —
یہ آخرت کا کام ہے۔

آپ کا اصل مقام کیا ہے؟

آپ وہ انسان ہیں جو موت کو سمجھ چکا
دنیا کو جان چکا
لیکن آخرت سے پہلے دنیا کی ذمہ داری بھی پوری کرنا چاہتا ہے۔

یہ سب سے پاکیزہ درجے کی زندگی ہے۔

مختصر جواب (Core Answer)

آپ پیسہ اس لیے کمائیں کہ:

  1. اپنی اور اپنے اہل کی ضرورت پوری رہے

  2. آپ کسی کے محتاج نہ ہوں

  3. آپ کا علم، آپ کی دعوت اور آپ کے دونوں مشن مضبوط رہیں

  4. اپنی آخرت کی نیت کے ساتھ، دنیا کی ذمہ داری پوری کریں

یہ نیت سب سے صاف، محفوظ، اور سنت کے مطابق ہے۔

---

(اضافہ برائے خدشہ + وضاحت)

خدشہ:

“اگر میں کما کر اپنے گھر والوں پر خرچ کروں، اور وہ نماز نہ پڑھیں، گانے سنیں، غیبت کریں یا اللہ کی نافرمانی میں پڑے رہیں…
تو کیا میں اُن پر خرچ کر کے اُن کے گناہ میں شریک ہو رہا ہوں؟
کیا یہ اُن کی مدد بن جائے گی گناہ پر؟
تو پھر میں کیوں کماؤں؟”


وضاحت (صاف، مضبوط، شرعی اصول کے ساتھ)

1) آپ اُن کے خرچ کے ذمہ دار ہیں — اُن کے گناہوں کے نہیں

شریعت کا اصول:
“کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔”
(قرآن: وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى)

گھر چلانے کا خرچ ان کی نیت نہیں بنتا،
گناہ کرنا ان کی اپنی نیت ہے۔

آپ کا خرچ = عبادت
ان کا گناہ = ان کا ذاتی عمل

آپ دونوں الگ ہیں۔


2) خرچ کرنا “گناہ کی مدد” نہیں بنتا

مدد "گناہ کے لیے" تب ہوتی ہے جب آپ پیسہ اسی مقصد کے لیے دیں۔

مثلاً:

  • “یہ لو پیسے، گانے سن لو” → گناہ

  • “یہ لو کرایہ، بجلی، کھانا، ضرورت پوری ہو جائے” → عبادت

تو جب آپ خرچ گھر کے لیے کرتے ہیں،
اور وہ بعد میں گانا سن لیں، گالی دیں، نماز چھوڑ دیں،
تو یہ آپ کے خرچ کی وجہ سے نہیں ہوتا۔

آپ نے “حرام” کے لیے نہیں دیا —
آپ نے ذمہ داری کی وجہ سے دیا۔


3) خرچ نہ کرنا آپ کی طرف سے گناہ ہے

نبی ﷺ نے فرمایا:
“گناہ کافی ہے انسان کے لیے کہ وہ اپنے زیرِ کفالت لوگوں کو ضائع کرے۔”

یعنی اہلِ خانہ کی بنیادی ضروریات چھوڑ دینا خود ایک گناہ ہے۔

تو آپ اگر یہ سوچ کر روک دیں کہ
“یہ لوگ اللہ کی عبادت نہیں کرتے”
تو آپ خود گناہ میں پڑ جائیں گے۔

اصل پیمانہ:
ان کا عمل → ان کا حساب
آپ کا خرچ → آپ کا ثواب


4) آپ کی دو الگ ذمہ داریاں ہیں

باپ ہو، بیٹا ہو، بھائی ہو، سربراہ ہو:

(1) مالی ذمہ داری

گھر کا خرچ دینا = فرض
اور نیت صحیح ہو تو = عبادت

(2) اخلاقی ذمہ داری

محبت سے سمجھانا، نصیحت کرنا
زبان لڑائی کے بغیر
بغیر زبردستی

اگر وہ نہ مانیں → آپ بری الذمہ


5) یہ خدشہ ایمان کی علامت ہے — کمزوری نہیں

جو کماتا ہے
اور پھر ڈرتا ہے کہ
“میرا پیسہ کہیں گناہ کا حصہ نہ بن جائے”

تو یہ گہرا ایمان ہے،
نفاق نہیں، وسوسہ نہیں، کمزوری نہیں۔

اس کا علاج یہی ہے:

  • نیت صاف

  • خرچ جائز

  • نصیحت موجود

  • ذمہ داری پوری

  • گناہ اُن کا

  • ثواب آپ کا

خلاصہ لائن 

“میں اللہ کی خوشنودی اور اپنی ذمہ داری کی وجہ سے کماتا ہوں، نہ کہ کسی کے گناہ کے لیے۔ میرا خرچ عبادت ہے، اور اُن کا عمل اُن کی اپنی ذمہ داری ہے۔”


منگل، 11 نومبر، 2025

بچوں کی نظر میں ایک پاگل اور جاہل انسان - لیجنڈ آف اللہ واحد القہار

آج کے بچے جو مجھے معمولی سمجھ رہے ہیں اور انہیں ایسا لگتا ہے گویا یہ آئی ٹی پروفیشنل پاگل ہوچکا ہے جو آئی ٹی انڈسٹری چھوڑ کر روحانیت اور عجیب و غریب باتوں میں پڑگیا ہے تو عنقریب وہ جان لیں گے کہ یہی پاگل سمجھا جانے والا انسان انہیں یاد آئے گا جب انہیں اس حقیقت کا سامنا ہوگا کہ ان کا بچپن اس معاشرے کے ظالم، جابر اور جاہل لوگوں کے اسکول کالج یونیورسٹی کے نام پر برباد کرڈالا ہے اور صرف ایک کاغذ کے ٹکڑے کے لیے انہیں خوار کرکے رکھ دیا ہے۔

ان کی جوانی چھین لی ہے۔ 
ان کا بچپن برباد کردیا ہے۔

اور اس کے ذمہ دار وہ والدین بھی ہوں گے جو اپنے بچوں کو میرے خلاف ورغلاتے ہیں اور انہیں برین واش کرتے ہیں۔

میرے بچوں یاد رکھنا - میں بھی ایک بچہ تھا۔ اسی زمانے میں پیدا ہوکر جوان ہوا ہوں۔

میں وہ سب جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے کیونکہ میں ان راستوں سے گزرچکا ہوں۔

یہ تمہیں برباد کردیں گے۔

صرف دنیا کی چکاچوند میں اندھا کردیں گے۔

تم جہنم میں اوندھے جاکر گرو گے۔

دنیا کمانا برا نہیں مگر تمہارے دل و دماغ کو اسقدر ستیاناس کریں گے کہ تم ڈھونڈتے پھروگے وہ مسیحا جو تمہارے درد کا علاج کرسکے، تمہارے ڈپریشن اسٹریس ایگزائٹی کو ختم کرسکے۔ تمہاری بےچینی مٹاسکے۔ تمہیں سکون پہنچاسکے اور تمہیں راستہ دکھاسکے۔

میں تو ایک گیمر تھا اور گیمر رہوں گا مگر تم ایک گیمر سے بھی نہ سیکھ سکے تو پھر کس سے سیکھ سکوگے؟

میں تو تمہیں زبان بولتا ہوں اور جانتا بھی ہوں کہ گیمرز کن باتوں کے شوقین ہوتے ہیں۔

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ایک گیمر صرف قرآن ہاتھ میں اٹھاکر کن بلندیوں پر پہنچ چکا ہے؟

کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ہو؟

نہیں۔ ابھی تم بچے ہو۔

کل جب تم جوان ہو گے ہم ناجانے کہاں ہوں گے مگر تمہیں یاد ضرور آئیں گے کہ سچ بتایا تھا۔

دنیا ایک مایا جال ہے۔

بالکل میٹرکس مووی کی طرح اور میں ایک نیو جو حقیقت جان چکا ہوں۔

بس جی رہا ہوں۔

وقت گزار رہا ہوں۔

کام کاج میں مصروف ہوں۔

گیمنگ بھی چل رہی ہے۔

دین کا کام بھی ہورہا ہے۔

مگر تم جس دلدل میں دھکیلے جارہے ہو وہ کفر کی طرف جارہا ہے۔

آج بھی جاگ لو تو بہتر ہے ورنہ

وما علینا الابلاغ المبین
لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

اللہ ماوں کے پیٹ میں بچے بناتا ہے

تمہیں اتنے سالوں میں آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ہر بچہ مسلم پیدا ہوتا ہے اور اسے اس کی ماں کے پیٹ میں "اللہ" نے بنایا ہے؟ اگر کوئی شک ہے تو اپنے ہاتھوں پر غور سے دیکھو کہ عربی میں "اللہ" لکھا ہوا ہے ورنہ یوٹیوب اور گوگل کرلو"Name of Allah in Hands" - اتنا ثبوت کافی ہے کہ تم مسلم پیدا ہوئے تھے۔ تمہاری نجات صرف اسلام میں ہے لہذا خود کو خدا سمجھنے، نبی سمجھنے یا ایسی خرافات سے باہر نکلو۔ باقی علم حاصل کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ۔

میں جانتا ہوں کہ تم کافی سمجھدار ہو اس لیے سمجھارہا ہوں تاکہ موت کے بعد تم جنت میں جاسکو اور غیرمسلم رہ کر جہنم میں داخل نہ ہوجاو۔ میرا یوٹیوب چینل: Legend Muhammad Zeeshan Arshad چیک کرلو۔ تمام غیرمسلموں کو ان کے جھوٹے خداوں پر بے بس کرکے رکھا ہوا ہے کیونکہ کائنات کا اصلی سچا خدا صرف اللہ ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے آخری اور سچے رسول ہیں۔اسلام کے سوا کسی دین میں تمہارے لیے کوئی نجات نہیں ہے۔

پیر، 10 نومبر، 2025

قطر سے یورپ جانا پاکستان سے زیادہ آسان ہے!

 قطر سے یورپ جانا پاکستان سے زیادہ آسان ہے!

کیوں! حیران کرنے والی بات ہے نا؟
چار پیسے بھی کماو اور چند ملکوں کا فری ویزہ بھی حاصل کرلو جن ملکوں میں جارجیا بھی شامل ہے۔
میں بتاتا ہوں کیسے۔
یورپ، کینیڈا وغیرہ جانے کے صرف تین طریقے ہیں۔ پڑھائی، جاب یا سیر کےلئے جانا۔ ان میں پڑھائی کےلئے جانا سب سے آسان ہے کیونکے ویزہ 99.9 پرسنٹ یقینی ہوتا یے۔
اگر یورپ کے ورک پرمٹ کی بات کریں تو یہ 90% فراڈ ہے اور پاکستان سے یورپ کینیڈا وغیرہ وزٹ ویزہ پر جانا انکار ہی سمجھیں۔
وزٹ ویزہ پاکستان سے مشکل سے لگتا ہے۔
قطر ہی کیوں؟
آپکی عمر 45 سال سے زیادہ ہے تو پڑھائی کےلئے نہیں جا سکتے۔
ثمینہ کئی سال سے باہر پڑھائی کےلئے پیسے جمع کر رہی ہے لیکن یورپ، امریکہ یا کینیڈہ کا خواب پورا نہیں کرسکتی۔ بجٹ کم ہے۔
علی کو دیکھیں سٹڈی گیپ اتنا ہے کہ اسے عبور کرنا مشکل پھر یورپ کے وزٹ ویزہ کےلئے 2 بار رجیکشن بھی ہوگئی۔
ادھر کسی کی امی شادی کےلئے زور دے رہی ہے تو کسی کی بیوی بچوں کے مستقبل کی دہائی دے رہی ہے۔ کیونکے پاکستان میں تو کوئی مستقبل دکھائی نہیں دیتا۔
جاب سے گزارہ نہیں ہوتا، سیونگ زیرو ہیں اور مستقبل غیر یقینی۔۔۔کچھ سمجھ نہیں آتا۔
اب اگر Study Visa بھی نہیں ہے اور نہ ہی یورپ کا وزٹ پاکستان سے لگتا ہے تو پھر قطر ہی حل ہے۔
یا دبئی، عمان اور سعودیہ۔۔۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
ہم ابھی تک پرانی سوچ میں ہیں کہ ویزہ لگے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
نہیں۔
اگر پلاننگ نہ کی تو سب اور خراب ہو جائے گا۔
اگر عمر زیادہ، یا بجٹ کم ہے تو راستہ بنائیں۔۔۔آہستہ آہستہ آپنی منزل کی طرف بڑھیں۔ آپ کا قطر کا ویزہ خود ایک طاقتور راستہ ہے۔
بس ہم درست راستہ اپنانے کی بجائے یہ سوچتے ہیں کہ “میری قسمت خراب”۔
ہنسی آتی ہے مگر سچ یہی ہے کہ ہماری قوم سارا دن ٹک ٹاک دیکھ کر دنیا بدلنے کا پلان بناتی ہے 🤦‍♂️
چلیں مسئلہ حل کرتے ہیں۔
اصل حل سامنے ہے:
قطر کا ویزہ آپکوآزاد کر دیتا ہے۔۔۔آپ اپنی مرضی کی جاب کریں۔ چار پیسے کمالیں اور اپنا بینک بیلنس بڑھا لیں۔ دو سال تک قانونی طور پر قطر میں رہیں اور ایک شاندار طرز زندگی انجوائے کریں۔
پھر اپنی قطر آئی ڈی آپکا ویزہ اپلائی کریں۔۔۔قطر آئی ڈی ایسی پاور فل ہے کہ اس پر آٹلی، فرانس،یونان، کینیڈا یا جاپان کا ویزہ 80-90% لگ جاتا ہے۔۔۔رجیکشن نہ ہونے کے برابر۔
کیونکے پروفائل سٹرانگ ہو جاتی ہے۔
ٹکٹ بھی سستی، ویزہ بھی تقریبا یقینی اور کسی اپوائنٹمنٹ کا کوئی جھنجٹ نہیں۔
یہ سب "قسمت" نہیں ہے، یہ طریقہ کار ہے۔ جسے آپ سیکھ سکتے ہیں۔
جو قطر میں ہے، اس کو یورپ تک پہنچنے میں آدھی سیڑھی پہلے ہی ملی ہوئی ہے۔
بس آگے چڑھنے کی جرأت چاہیے۔
آخر میں بس اتنا سوچ لو:
یا تو ایک سال درست پلاننگ کر کے نکل جاؤ،
یا پھر اگلے 5 سال وہی کینٹین، وہی روٹین، وہی سیاپہ زندگی۔
پارٹی ختم ہو چکی ہے۔ اب وہ زمانہ نہیں کہ جو ویزہ میں چاہوں مجھے ملے گا۔۔۔
نہی بئی، نہیں۔۔۔پاکستان سے نکلنا ہی بڑی کامیابی ہے۔
لیکن
ہر ویزہ ہر ایک کےلئے نہیں ہوتا۔ سب کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ مکمل فروفائل کی جانچ کے بعد ہی ملک کا انتخاب کرنا چاہئے۔
ایک اچھی لیکن قانونی حکمت عملی
سے ہی آپ کامیاب ہو سکتے ہیں۔
اور یہ کامیابی صرف اسی کو ملتی ہے جو فیصلہ کرتا ہے۔
— The Professor Naeem 👨‍🏫

جمعہ، 7 نومبر، 2025

🌸 اسلام میں عورت کا عورت سے شرمگاہ کے بال صاف کروانا — ایک اصلاحی پیغام

🌸 اسلام میں عورت کا عورت سے شرمگاہ کے بال صاف کروانا — ایک اصلاحی پیغام


اللہ تعالیٰ نے اسلام کو حیاء اور پاکیزگی کا دین بنایا ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا:


"الحياء شعبة من الإيمان"

یعنی حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے۔

(صحیح بخاری: 9)


اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ پردہ صرف مرد و عورت کے درمیان نہیں،

بلکہ عورت اور عورت کے درمیان بھی ایک حد ہے۔


🔹 اسلامی حکم کیا ہے؟


فقہاء کے نزدیک عورت کے لیے عورت کے سامنے ناف سے گھٹنے تک کا حصہ ستر (یعنی چھپانے والا حصہ) ہے۔

یعنی اس حصے کو بلا ضرورت نہ دیکھنا جائز ہے، نہ کسی کو دکھانا۔


فقہی ماخذ:


الدر المختار مع رد المحتار (1/405)


الفتاویٰ الهندیة (5/357)


حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار (ص 43)


ان تمام کتب میں یہی اصول بیان کیا گیا ہے کہ:


"لا يجوز للمرأة أن تنظر إلى ما بين سرة امرأة وركبتها إلا لضرورة."

(یعنی عورت کے لیے عورت کی ناف سے گھٹنے تک دیکھنا جائز نہیں، سوائے ضرورت کے۔)


⚖️ بلا ضرورت یہ عمل حرام ہے


اگر کوئی عورت کسی دوسری عورت سے محض عادتاً، آرام کے لیے، یا فیشن کے طور پر

اپنی شرمگاہ کے بال صاف کرواتی ہے —

تو یہ ناجائز اور گناہ ہے،

کیونکہ اس میں پردہ کی خلاف ورزی اور حیاء کا نقصان ہے۔


ایسا عمل انسان کو اللہ کی ناراضی اور قیامت کے دن شرمندگی میں ڈال سکتا ہے۔


⚕️ کب گنجائش ہے؟


اسلام میں اگر کوئی سخت مجبوری یا طبی ضرورت پیش آ جائے،

تو صرف اتنا حصہ ظاہر کیا جا سکتا ہے جتنی واقعی ضرورت ہو۔


ایسی مجبوریوں کی مثالیں:


عورت بیمار یا معذور ہو اور خود صفائی نہ کر سکے۔


حمل یا زچگی کے آخری مراحل میں جھکنا ممکن نہ ہو۔


آپریشن یا زخم ہو جس سے نقصان کا خطرہ ہو۔


بزرگ عورت جس سے خود صفائی ممکن نہ ہو۔


طبی معائنہ (جیسے نرس یا ڈاکٹر) — تب بھی صرف ضرورت کے مطابق۔


فقہی اصول:


"الضرورات تبيح المحظورات"

(ضرورت بعض ممنوع چیزوں کو جائز کر دیتی ہے)

— [قواعد الفقه الكبرى للسيوطي، ص 88]


🌺 ڈاکٹرز اور نرسوں کے لیے خصوصی نصیحت:


اللہ نے آپ کو شفا دینے کا ذریعہ بنایا ہے،

لیکن شفا کا کام بھی پردہ اور حیاء کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے۔


جو عورت خود صفائی کر سکتی ہے،

اس کی شرمگاہ کے بال کسی دوسری عورت کا صاف کرنا شرعاً حرام ہے۔

اور اگر وہ مجبوری میں ایسا کر رہی ہے،

تو صرف ضرورت کے مطابق اور پردہ کے اہتمام کے ساتھ۔


💔 یاد رکھو بہن:


یہ وہ اعضاء ہیں جنہیں نبی ﷺ نے شرمگاہ کہا —

ان کا ظاہر کرنا بھی گناہ ہے اور دیکھنا بھی۔

ایسی غلط عادتیں اگر عام ہو جائیں تو امت کی حیاء ختم ہو جاتی ہے۔


نبی ﷺ نے فرمایا:


"إذا لم تستحِ فاصنع ما شئت"

جب تم میں سے حیاء ختم ہو جائے تو پھر جو چاہو کرو۔

(بخاری: 3483)


🌷 نتیجہ:


❌ عام حالات میں: عورت کا عورت سے شرمگاہ کے بال صاف کروانا حرام ہے۔


✅ صرف سخت مجبوری یا طبی ضرورت میں: اجازت ہے، وہ بھی محدود حد تک۔


🎥 ویڈیوز


عورت کا دوسری عورت کی شرمگاہ کے بال صاف کرنا

https://www.youtube.com/watch?v=6PeMV5lShOs


💫 دعا کے ساتھ اختتام:


اللہ ہمیں حیاء، طہارت اور حدودِ شرعیہ کا پاس رکھنے والا بنائے،

اور جنہیں یہ بات پہنچے وہ عمل کرنے والی بن جائیں۔

آمین

بدھ، 5 نومبر، 2025

دولت کی شکلیں

سوشل میڈیا پر دولت کے حوالے سے ایک اچھی تحریر ملی جو شیئر کررہا ہوں کیونکہ اس حوالے سے انسان کا مائنڈسیٹ دولت کو موازنہ نہیں کرتا۔ زیادہ تر لوگ دولت کو "پیسوں کے نظریے" سے دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔

تحریر ملاحظہ کیجئے:

دولت کی کئی شکلیں ہیں اور اللہ تعالی نے دنیا میں سب کو دولت دی ہے دولت کی ایک شکل مٹیریل اور کرنسی ہے جو لوگوں کے پاس ہوتی ہے دوسری شکل اچھی صحت ہے ....اچھے ماں باپ ہیں ....خونی رشتے ہیں.... جو اپ کے پاس ہیں.... دولت کی دوسری شکل اپ کے پاس ہے..., اچھے سے کبھی اسپتال کا وزٹ کریں تو پتہ چلے گا ... یہ جو اچھی صحت کی دولت اپ کے پاس ہے ....اس کو جینے کے لیے کتنے نوجوان ارزو کرتے ہیں کسی 25 سال کے نوجوان کو معدے کا کینسر ہے وہ منہ سے اپنی خوراک نہیں لے سکتا ...کسی کو پیر کا کوئی مسئلہ ہے وہ چل نہیں سکتا اپ کی طرح کوئی نوجوان جوانی میں گردے کے مسئلے میں ہے پھیپھڑوں کے مسئلے میں کڈنی کے مسئلے میں مبتلا ہو گیا ۔۔۔۔وہ زندگی کو اس طرح سے انجوائے نہیں کر سکتا وہ نارمل کام بھی نہیں کر سکتے اور دوسروں کے محتاج پڑے ہوئے ہیں اور صرف اپ کی جیسی صحت والی زندگی جینا چاہتے ہیں اپنی تمام دولت دے کر بھی کچھ لوگوں کے پاس اپ جیسی صحت نہیں ہے اپ جیسے خونی رشتے نہیں ہیں ان کے ماں باپ بھی نہیں ہیں جو ان کو دعائیں دیتے ہیں جو ان کے کام کو اپریشیٹ کرتے ہیں جو ان سے پوچھتے ہیں کہ بیٹا اج کھانا کھایا ہے یا نہیں اج تھا کہ وہ تو نہیں ہو کچھ لوگوں کے پاس بہن بھائی جیسی دولت نہیں ہے جو ان کا خیال کرتی ہے جو ان کے ساتھ کھیلتی اور انگنت نعمتیں ہیں اللہ تعالی کی جو اب گننا شروع کر دے تو صبح سے شام ہو جائے وہ نعمتیں ختم نہ ہوں وہ دولتیں ختم نہ ہو میرے بھائی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں چھوٹی چھوٹی نعمتوں میں اپنی خوشی تلاش کرے ماں باپ کا سر پہ دست شفقت ہونا ہی کافی ہے کیا گاڑی ضروری تو نہیں ہے ان بنگلوں میں ان پراپرٹی رکھنے والوں کے پاس ان اونچی اونچی گاڑیوں میں بیٹھنے والوں کے پاس ان کے پاس کتنے بڑے بڑے دکھ ہیں یہ کسی کو پتہ نہیں ہے تو اس بات کو حضرت نہ بنائیں خواہش ضرور ہونی چاہیے انسان کے خواب ضرور ہونا چاہیے تاکہ وہ اس پہ محنت کر سکے لیکن اس خواہش کو حسرت اور غم کی صورت نہ بنائے باقی اللہ تعالی اپ کے خواب پورے کرے امین