جمعرات، 12 اکتوبر، 2023

باپ کا بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر حق

 از: محمد شمیم اختر قاسمی، شعبہ سنی دینیات، اے ایم یو، علی گڑھ

ایک باپ کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اپنے بچوں کے ساتھ ہی اچھا برتاؤ کرے اور ان کے ساتھ شفقت و ہمدردی سے پیش آئے اس کی دلجوئی اوراس کے کھیل کود، سیر و تفریح کے مواقع بھی فراہم کرے بلکہ سماج کے اور دوسرے بچوں کے بھی اس کے دل میں محبت و ہمدردی ہونی چاہیے۔ اوراس کے برعکس چھوٹوں کو چاہیے کہ وہ ادب و احترام کا مظاہرہ کریں۔ دراصل ایک گونہ ذمہ داری بڑوں کی ہے کہ وہ اپنے چھوٹوں کی زندگی بنانے اور سنوارنے پر متوجہ ہوں۔ اس کو اچھی تعلیم دیں اوراس کی عمدہ سے عمدہ تربیت کریں لغویات سے بچائے رکھیں اور یہ تمام خوبیاں جو سراسر اخلاق پر مبنی ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ میں بدرجہ اتم موجود تھی، جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے حق میں بہت شفیق تھے، ان سے ہنسی کھیل کرتے،اور ان کی دل جوئی کرتے، ٹھیک یہی طرز عمل آپ کا تھا۔ اور ایسے لوگوں کو پسند کرتے جو بچوں کی دلجوئی اور دل بستگی کی باتیں کرتے تھے، اور ان کے سامنے وہی بات اور کام کرتے جس کا مثبت اثر بچوں کی ذات پر پڑے۔ یہاں تک کہ اپنے اقوال حکیمانہ سے اس امر کی بھی وضاحت کی ہے کہ:

”باپ کا بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر حق ہے۔ باپ کا حق یہ ہے کہ بیٹا ہر حال میں اس کی اطاعت کرے، الا یہ کہ باپ کسی معصیت کی بات کا حکم دے، اس میں اس کا اتباع نہ کیا جائے، اور باپ پر بیٹے کا یہ حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے، اچھی تربیت کرے اور قرآن پڑھائے۔“

آج ہمارے معاشرہ میں باپ اور بیٹے دونوں کو ایک دوسرے سے شکایت ہے، اور دونوں ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں اور بعضے وقت صورت حال بہت خراب ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ سوائے اس کے اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہم نے اس اخلاقی تعلیمات کو سرے سے بھلارکھا ہے۔ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اور باغبان درخت کو بنانے اور سنورانے میں کتنی محنت اور جاں فشانی کرتا ہے ہم اور آپ سبھی جانتے ہیں۔ آج ہم بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے رجوع کرتے ہیں مغربی طریقہٴ تعلیم کی طرف اور قرآن جو سراپا ہدایت ہے اسے پس پشت ڈال رکھا ہے۔

اتوار، 8 اکتوبر، 2023

پاکستان کے غریب کیا کریں بجلی کا بل 35 ہزار روپے؟

اپنے میڈیا کے ذریعہ غریبوں کو پیغام دو کہ اسکولوں میں بچوں کو بھیجنا بند کردیں، گھروں سے بجلی کا کنکشن ختم کروالیں، یہ 35 ہزار بجلی کا بل حرام خوروں کو ادا کرنے اور ہزاروں روپے اسکول کے نام پر رٹا سسٹم والوں کی جیب میں بھرنے کے بجائے اپنے گھر محلہ یا گلی میں چھوٹا سا کاروبار شروع کریں اور اس کاروبار کے ذریعہ ہونے والی آمدنی سے ایک سولر سسٹم چھوٹا سا لگائیں، بیٹری لگائیں، سورج کی روشنی سے گھر کا ایک پنکھا چلائیں، فریج ٹی وی گھر سے بیچ دیں، سادگی پر آجائیں، پانی اور گیس سے باقی کام سنبھل جائے گا ان شاء اللہ۔


اپنی آمدنی کماکر اپنے ضروری اخراجات پورے کریں اور بجلی کے نام پر خصوصی طور پر پورے ملک میں بائیکاٹ کردیا جائے اور تمام غریب ان حرام خوروں سے بجلی سروس لینا بند کردیں۔ اس کے علاوہ پورے ملک کے غریب اپنے بزنس میں حرام خوری، جھوٹ بولنا، چوری کرنا، دھوکہ بازی کرنا، ملاوٹ کرنا، بچیوں کے ریپ کرنا، وغیرہ جیسے جرائم بھی بند کردیں ورنہ انہیں اس سے بھی ذیادہ ذلت کی مار پڑے گی۔ اللہ کے ساتھ کسی قسم کی دھوکہ بازی نہیں چلتی۔

اللہ اکبر

پیر، 25 ستمبر، 2023

جاہل مرد اور جاہل عورت

 جاہل شوہر بیوی کو کنٹرول کرنے میں لگا رہتا ہے اور عقلمند شوہر بیوی کو اپنے ساتھ چلاتا ہے۔

جاہل بیوی شوہر کو کنٹرول کرنے میں لگی رہتی ہے اور عقلمند بیوی شوہر کے ساتھ چلتی ہے۔

دونوں کو کس طرح زندگی گزارنی چاہیے اس کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی عورتوں سے شادیاں کرکے ایک وقت میں پریکٹیکل طور پر دکھادیا کہ شوہر اور کئی بیویاں کیسے زندگی گزارسکتے ہیں اور ان کی بیگمات نے بھی پریکٹیکل طور پر ثابت کردیا کہ بہت ساری بیویاں ملکر ایک شوہر کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہیں۔

اب جو مرد و عورت شیطان کے یار ہیں اور اسلام کے غدار ہیں یا منافق ہیں وہ تو ایک عورت بھی ساتھ نہیں چلا پاتے یا ان کے خدا بن کر انہیں اپنی نوکرانی یا باندی بنانے میں لگ جاتے ہیں یا شیطان کی غلام عورتیں مردوں کو اپنا غلام بناکر ان کی خدا بن جاتی ہیں اور ان کے مرد ان کے حکم پر اللہ کے خلاف جاکر پکے شیطان کے یار بن جاتے ہیں۔

اب جس کا جو دل چاہے کرے مگر جیسے ہی اس کی موت ہوگی اس کے ہوش ٹھکانے لگادیئے جائیں گے۔

منگل، 19 ستمبر، 2023

دنیا میں لاگ ان اینڈ لاگ آوٹ کرنا

اس دنیا کے اندر اگر اس مائنڈسیٹ کے ساتھ کام کیا جائے کہ اس فزیکل دنیا کو اصلی اور خواب کو نقلی یا وہم گمان سمجھنے کے بجائے خواب کو اصلی دنیا اور اس فزیکل دنیا کو نقلی یا وقتی سمجھا جائے تو انسان ایک ویڈیو گیم کی طرح اسے سمجھ کر یہاں اس حال میں آئے کہ جب یہاں لاگ ان کرے تو خود کو اس دنیا کے اندر قید میں سمجھے اور ایک ویڈیو گیم کی طرح اس کو اپنے فزیکل کریکٹر سے انجوائے کرے اور جو کچھ کرسکتا ہے وہ کر گزرے اور اپنے آپ کو ایک ویڈیو گیم کی طرح دشمنوں سے بچانے کا پورا انتظام کرے، اچھی طرح دیکھ بھال کر کریکٹر چلائے، ہوشیاری سے کام لے، اپنی فارمنگ کرے، اپنے آپ کو اپ گریڈ کرے، اپنے آیٹم بنائے، اپنے گیئر خریدے، خود کو طاقتور مسلم کریکٹر میں تبدیل کرے اور آگے سے آگے لیول بڑھاکر ترقی کرتا چلا جائے۔

اب مثال کے طور پر ایک موبائل گیم جب انسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے تو وہ اس میں گیم آن کرکے لاگ ان کرتا ہے اور اسکرین کے اوپر اسقدر گہرائی سے فوکس کرکے کھیلتا ہے کہ اسے یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ وہ گیم کا کریکٹر نہیں بلکہ اس کا اپنی ذاتی اصلی کریکٹر ہے جو کہ صرف ایک وہم و گمان اور دھوکہ ہوتا ہے جبکہ گیم کی دنیا کی حقیقت بس اتنی ہوتی ہے جتنی دیر گیم کی اسکرین آن ہوتی ہے اور جیسے ہی گیم آف کیا ویسے ہی گیم کی دنیا اچانک نظروں سے غائب اور انسان خود کو اس فزیکل دنیا میں موجود پاتا ہے لہذا گیم میں موجود تمام اچیومنٹس، تمام کارنامے تمام ریکارڈز، تمام تعریفیں، تمام دشمن و دوست، تمام آیٹم وغیرہ بیکار یا پھر لایعنی ہوجاتے ہیں۔

اس کے بعد انسان اپنی فزیکل دنیا کے کاموں میں مصروف ہوجاتا ہے۔ کیوں کیا ایسا نہیں ہوتا؟ بالکل ایسا ہی ہوتا ہے لہذا ثابت ہوا کہ گیم کی دنیا میں لاگ ان ہوجانا انسان کو فزیکل دنیا سے کٹ کردیتا ہے اور گیم کی دنیا سے لاگ آوٹ ہونا انسان کو فزیکل دنیا سے فٹ کردیتا ہے۔

یہی طریقہ اگر خواب یعنی روح کی دنیا کو اصلی سمجھ کر اپنالیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ معاملہ تھوڑا آسان ہوجائے۔ وہ اس طرح کہ جب تک انسان اس دنیا میں جاگ رہا ہے وہ اس دنیا کو اصلی کے بجائے ایک گیمنگ ورلڈ سمجھے اور اس کے مطابق یہاں کام کرے اور سب کچھ وقتی سمجھے اور جان لے کہ جیسے ہی اس کا ٹائم پورا ہوگا وہ آٹومیٹک لاگ آوٹ ہوجائے گا۔

اور جیسے ہی انسان لاگ آوٹ ہوگا وہ خود کو واپس خواب کی دنیا میں موجود پائے گا۔ یہی ہے دنیا کی زندگی کی حقیقت اور خواب کی زندگی لامحدود ہوتی ہے نہ ٹائم معلوم ہوتا ہے اور نہ فاصلے۔ انسان آنا فانا کہیں سے کہیں ٹریول کرجاتا ہے۔ ہواوں میں پرواز کرتا ہے۔ آندھی طوفان اور زلزلے برپا کردیتا ہے۔ عجیب و غریب طاقتوں کا مالک ہوتا ہے۔ مگر جب اس دنیا میں لاگ ان کرتا ہے تو؟ اس کو اپنا ایک نیا کریکٹر واپس ملتا ہے اسی حالت میں جس میں وہ اسے یہاں جس طرح چھوڑ کر جاتا ہے اگر کسی اور نے اس کے جسم کے ساتھ یا اس کے سازوسامان کے ساتھ چھیڑ خانی نہ کی ہو۔

کیا اس گیمنگ مائنڈسیٹ کے ساتھ زندگی گزارنا آسان نہیں؟ جب انسان کو یہ شعور حاصل ہوگا کہ وہ کس طرح ریئل ورلڈ میں گیمنگ کررہا ہے اور کس طرح جب چاہے لاگ آوٹ ہوکر واپس جاسکتا ہے تو پھر وہ اس دنیا میں معمولی چیزوں پر لوگوں سے لڑائی جھگڑے نہیں کرے گا بلکہ اس کی نظروں میں دنیا کے اکثر انسان محض غافل نظر آئیں گے جو ویڈیو گیم کے این پی سی

NPC
کے طور پر ہوں گے اور وہ اپنے اپنے کریکٹر چلا رہے ہوں گے۔


میں سمجھتا ہوں اس طرح ہم اپنی مرضی سے جس دنیا میں چاہیں آ اور جا سکتے ہیں نہ کہ صرف جاگ لیے تو یہاں سب کچھ کرنا جب تک کہ واپس تھک ہار کر سونہ جائیں۔بھئی بیٹری بھی تو دوبارہ چارج کرنی ہوتی ہے نا؟ تو پھر جب چاہو جسم کی بیٹری دوبارہ چارج کرلی جائے اور اس دنیا سے نکل کر واپس خواب میں جاکر وہاں کی روٹین انجوائے کی جائے اور واپس یہاں لاگ ان کرکے فریش موڈ میں تازہ دم ہوکر پھر سے اپنی ویڈیو گیمنگ شروع کرے اس لائف کی۔

اور یہ گیمنگ تو اس وقت تک چلے گی جب تک اللہ کے حکم سے موت کا ذائقہ چکھانے کے لیے فرشتے سامنے حاضر نہ ہوجائیں اور تب وہ جسم سے روح نکال کر اسے یا تو جنت کی طرف لے جائیں گے یا پھر جہنم کی آگ میں پھینک دیں گے اور اس کا دارومدار انسان کی نیت اور اس کے اس دنیا میں فزیکل ایکشن پر ہوگا۔


لہذا ایسی وقتی دنیا سے کیا دل لگانا؟ ہاں اس کو بھی حقیقت سمجھ کر قبول کیا جائے مگر بحیثیت گیمنگ ورلڈ جس کا ڈیزائنر اور بنانے والا صرف  اکیلا اللہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ بے شک تمام تعریفوں کے لائق صرف اللہ ہے جو اپنے بندے کے لیے وہاں سے راستے نکالتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ اللہ اکبر

غیرت

غیرت کے موضوع پر دوران مطالعہ مختلف ویب سائٹس سے مختلف موضوعات میں لکھے ہوئے بہترین جملوں یا الفظ کا انتخاب

Do Not Tolerate Nudity at Home

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے دیوث کی یہ نشانی بتائی ہے کہ وہ بےحیائی اور خباثت کو اپنے گھر میں برداشت کرتا ہے ۔

Insult Against Personality

مادیت پرستی کے عروج وکمال کی وجہ سے اپنے چھوٹے سے چھوٹے حق کے بارے میں تگ ودو کرنا، اس کام کے لیے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لانا ، ہر ایرے غیرے سے تعلقات استوار کرنا یا ختم کرنا،روز مرّہ کا مشاہدہ اور معمول بن چکا ہے ، لیکن حق تعالیٰ کے حقوق کو زندہ کرنااور ان کی نافرمانیوں ومعاصی کو مٹانے کی فکر کرنا، رائج گم راہیوں کی تردید کرنا،اب نہ صرف یہ کہ عملی سطح پر اس کااہتمام نہیں ہوتا ،بلکہ نظریاتی طور پر بھی اس کو کچھ اچھا گوارا نہیں کیاجاتا،بلکہ اس کو بداخلاقی، عدمِ برداشت، مزاج کی تیزی وغیرہ طعنوں سے یا د کیاجاتا ہے، کوئی خدا کا وفادار بندہ اس کا التزام کرے بھی ،تو قدم قدم پر اس کو حوصلہ شکنی کے اسباب سے واسطہ پڑتا رہتا ہے اپنے ہوں یا اغیار، ہر طرف سے تنقید وملامت کے تیر برسنا شروع ہوجاتے ہیں، اسی کا نتیجہ ہے کہ اب سطح زمین اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور شریعت کی خلاف ورزیوں سے بھر چکی ہے

Strive for Answering the Attacker

 اگر دین کے معاملہ میں اختلاف کرنے والے کسی شخص کو دین ِاسلام پر تنقید کرتے سن لے تو سکون سے نہ بیٹھے اور چشم پوشی نہ کرے،اسی غیرت کے باب میں سے جہاد فی سبیل اللہ بھی ہے۔

Action or Reaction of Prophet Muhammad

 اگرکوئی شخص آپ صلی الله علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کو تکلیف واذیت دیتا یا آپ صلی الله علیہ وسلم کا شخصی ، جانی یا مالی نقصان کرتا توآپ صلی الله علیہ وسلم بڑے صبر وتحمل اور پوری خندہ پیشانی کے ساتھ اس کو برداشت کرلیتے تھے، لیکن جہاں کہیں کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا اور شرعی حدود کو پامال کرنے کی کوشش کرتا وہاں آپ صلی الله علیہ وسلم کی غیرت وغضب قابل ِدید ہوجاتی اور آپ صلی الله علیہ وسلم اس وقت یوں ہی سکوت اختیار نہ فرماتے ،بلکہ نافرمانی کے ختم ہونے تک درد وغم اور زجر وتوبیخ برابر برقرار رہتی ، علمِ اصول فقہ کے علماء نے اسی وجہ سے آپ کی تقریر کو بھی سنت کا درجہ دے کر ایک مستقل حجت ٹھہرایا ہے، کیوں کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ نبی اکرمصلی الله علیہ وسلم کے سامنے کوئی خداکی نافرمانی کرے،شریعت کی حدود کو پامال کرڈالے اور آپ صلی الله علیہ وسلم اس پر خاموشی اختیار فرمائیں، بلکہ ضرور اس پر نکیر فرماتے تھے۔

Strictness is Not Bad Even if Others Say It is Wrong!

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین اور حضرات صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین)کا بھی یہی طریقہ رہا ہے کہ وہ دینی غیرت وحمیت کے جذبات سے سرشار تھے ،دینی احکام کی نافرمانی یا دین دشمنی دیکھتے وقت بڑی غیرت کامظاہرہ کرتے تھے اور جب تک اس کوختم نہ کرتے یا اس میں اپنی بھر پور طاقت استعمال نہ فرماتے،اس وقت تک چین کا سانس نہ لیتے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں بعض علاقوں میں ارتداد کی لہر دوڑی ،جس کا آپ رضی اللہ عنہ نے بروقت اور بالکل صحیح ادراک فرمایا، لیکن اس وقت بعض صحابہ کرام نے سخت اقدام کرنے کو مصلحت کے خلاف خیال فرمایا، اس وقت آپ نے ایک ایسا تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے اور قیامت تک کے مسلمانوں کے دینی جذبات اور ایمانی غیرت کی آبیاری وشادابی کے لیے کافی ہے،آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ:”أینقص الدّین وأنا حیّ؟“کیا میرے زندہ رہتے ہوئے دین میں کمی کی جائی گی؟

Work Against False Beliefs

 امّت میں موجود غلط اعتقادات ونظریات کی تردید کرنا اور امت ِمرحومہ کے افراد کو ان سے بچائے رکھنا دینی غیرت وحمیت کا بڑا تقاضا ہے۔

Action Against Fitnah People

ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی غیرت کی اس مٹی ہوئی سنت کو پھرسے زندہ کیاجائے اور صرف ظاہری اعمال واحوال ہی میں نہیں ،بلکہ اعتقادی ونظریاتی حدود تک اس کے دائرہ کار کو بڑھایاجائے اور ہر نئے پھوٹنے والے فتنہ سے امت کو بر وقت آگاہ کردیا جائے، تاکہ ظاہری اسباب کی حد تک کسی گم راہی کو امت کے درمیان جمنے اور ٹکنے کا موقع ہی نہ ملے ،ورنہ تو روز مرّہ کا مشاہدہ ہے کہ ایک مرتبہ شکاری کے جال میں پھنسنے کے بعد اس کو نکال لینا ایک مشکل اور صبر آزما مرحلہ بن جاتا ہے، جس کا نتیجہ عموماً مایوسی اور ناکامی کی شکل میں ملتا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے، بلکہ نہایت مشکل اور کٹھن اقدام ہے، جس میں ذرا بھر غلطی کرنا بھی بڑے خسارے ونقصان کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے اس کام کے لیے بڑے صبر وتحمل،وسیع علم وفضل، گہرے فکر ونظر اور تعلق مع اللہ کی ضرورت ہے۔

ہفتہ، 5 اگست، 2023

تمہاری شخصیت خوفزدہ بنانے کے مجرم یہ لوگ ہیں

میں نے بذات خود اپنی آنکھوں سے اسکول کالج یونیورسٹی سے پڑھی لکھی تعلیم یافتہ ڈگری ہولڈرز خواتین کو اپنے چھوٹے بچوں سے بدترین فرعون نما سلوک کرتے مشاہدہ کیا ہے اور اس کی بنیاد پر میں تمہیں یہ سچ بتارہا ہوں کہ تمہارے اندر جتنا بھِی ڈر خوف ہچکچاہٹ اور لوگوں کے سامنے کھل کر آنے کا مسئلہ ہے اس کا سارا کریڈٹ تمہارے والدین، اساتذہ اور ماضی کے ان لوگوں کو جاتا ہے جنہوں نے تمہیں ڈانٹ ڈپٹ کرکے، قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑِی کرکے، تمہیں ڈرا دھمکا کر، مار پیٹ کر اور ذہنی مریض بناکر اس معاشرے میں لاوارث تنہا چھوڑ دیا ہے۔

وہ تمام لوگ بہرحال اب تمہارے کسی کام کے نہیں کیونکہ ان سب نے اپنی فرعونیت کی ڈگری پوری کرلی ہے تمہارے اندر ڈر خوف پیدا کرکے اور باقی کسر اسی معاشرے کے ممی ڈیڈی بچوں نے تمہارے خلاف سوشل میڈیا پر بکواسات کرکے پوری کرلی ہے جن کے پیٹ بھرے ہیں اور یہ کتے بن کر بھونکنے چلے آتے ہیں کمنٹس پر تمہارے خلاف لہذا ایسے معاشرتی کتوں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

میں سیدھی بات کرتا ہوں اور مجھے ایسے کتوں سے نہ ڈر ہے اور نہ ان کی پرواہ ہے کیونکہ یہ میرے سامنے دو کوڑِی کی حیثیت بھی نہیں رکھتے اپنے مال اور دولت کے سبب اور ان کا سارا مال میرے لیے خاک کا ڈھیر ہے اس لیے یہ نہ مجھے دباسکتے ہیں اور نہ جھکاسکتے ہیں مگر تمہیں نیچا دکھانے کے لیے یہ اپنی ہر ممکن بھرپور کوشش کریں گے تاکہ تم ڈر کر بزدل بن کر رہو۔

اس دنیا کے اندر ماضی سے اب تک حکمرانوں، وڈیروں، چودھریوں، افسروں وغیرہ نے جو کہ خود نفطہ سے بنے انسان ہیں اپنی طاقت اور غرور کے نششہ میں غریبوں کو اپنا غلام بناکر رکھا ہے اور آج بھی دنیا بھر میں ایسا ہی ہورہا ہے۔

جب تک غریب بزدل بن کر جیتا رہے گا یہ غریبوں پر راج کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ڈر اور خوف کا دھندا کرتے ہیں اور اپنے ساتھ ایسے غنڈوں کو رکھتے ہیں جو دکھنے اور نظر آنے میں بہت مہذب لگتے ہیں مگر اندر سے پکے شیطان اور اللہ کے غدار ہوتے ہیں۔

یہ پدی اور پدی کے شوربے تمہیں کبھی آگے بڑھنے سے روکنے نہ پائیں اگر تم واقعی اللہ کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہو کیونکہ اس فزیکل دنیا میں تمہیں ان سب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی لوگ پوری دنیا پر قابض ہیں وسائل اپنے کنٹرول میں رکھ کر۔ یہ نہیں چاہتے کہ اللہ کے بنائے ہوئے قدرتی وسائل تمام انسانوں کے استعمال میں آسکیں تو انہوں نے ذہین نوجوانوں کو غلامی، قید، ڈر خوف بھوک وغیرہ میں پھنسا دیا اور خود عیاشیاں کررہے ہیں۔ 

جاہل عورت میری بات سنو

او جاہل عورت اور مسلمانی کے دعوے کرنے والی پڑھی لکھی ہونے کے غرور میں مبتلا فرعون میری بات غور سے سنو

اللہ نے تمہیں اس لیے اولاد نہیں دی کہ تم ان پر حکمرانی کرو اور ان کی شخصیت کو اپنی فرعونیت کے تلے دباکر ان کا بچپن ضائع کرو۔ اگر تم جاب کرکے کمارہی ہو اور ان کو اسکول بھیج رہی ہو تو تمہیں تب بھِی یہ حق نہیں کہ تم اپنے بچوں پر مار پیٹ اور ظلم و تشدد اور مینٹل ٹارچر کرو ،بے غیرت ہو تم۔

اللہ نے تمہیں ایسا کوئی حق نہیں دیا کہ ظالم بن کر بچوں پر تشدد کرو۔ اللہ کی لعنت ہو تم پر اور اللہ تمہیں غارت کرے۔ تم جیسی منحوس اور ظالم نام نہاد مسلم عورتیں جو خود کو ڈگری یافتہ پڑھی لکھی کہتی ہو محض جانور ہو بلکہ ان سے بھی بدتر ہو کیونکہ تم مسلمانی کا دعوی کرنے کے باوجود اپنی عقل استعمال کرنے سے محروم ہو۔

تمہاری ڈگری تمہاری تعلیم نہیں بلکہ جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ تمہیں اتنی ڈگریاں لینے کے بعد بھی چھوٹے بچوں سے بات کرنے کا سلیقہ اور ادب اور تہذیب نہ آسکی اور تم ان پر اپنی خرافات اور گندگی نکالتی ہو۔ مسائل تمہارے اپنے آفس کے ہوتے ہیں مگر سارا دن تمہیں جب موقع لگ جائے تو تم بچوں کے کان خراب کرتی ہو۔ ان پر چِیخ چلاتی ہو۔ بے غیرت ہو تم

تمہارا شوہر تمہیں منع کرتا ہے تو تم اسے ذلیل کرنے لگ جاتی ہو، بے غیرت ہو تم

تم پر تو اللہ کی لعنت ہے اور تم اسے نعمت سمجھ رہی ہو، جاہل بھی ہو تم

دو چار حج عمرہ کرکے ایصال ثواب کرکے تم خود کو فاطمہ الزہرہ سمجھ رہی ہو، گنوار ہو تم

تمہاری یہ دولت، شہرت، عیش و عشرت تمہیں کامیابی نظر آتی ہے؟ پاگل ہو تم

حقیقت سے غافل ہو تم

جس دن موت کا فرشتہ تمہاری روح باہر نکالے گا تب تمہیں اپنے کرتوتوں اور بےحیائی کا علم اور شعور حاصل ہوگا مگر تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی اور تب تم اللہ سے رو رو کر معافیاں مانگو گی مگر تب تمہیں تمہارے گھٹیا اعمال کا بدلہ بھرپور دیا جائے گا۔

جس طرح تم نے بچوں پر تشدد کیا ہے اس کا بدلہ تم سے ضرور لیا جائے گا۔

جس طرح تم نے بچوں کو ڈرایا دھمکایا ہے اور ان کی شخصیت تباہ کی ہے اس کا بدلہ تم سے ضرور لیا جائے گا۔

کیونکہ تم تو اپنے غرور میں ایسی گم ہو کہ تمہیں اللہ معافی مانگنے کی توفیق بھی نہیں دیتا۔ اتنا کافی نہیں؟

بے شک عقل والی مسلم عورت کے لیے اتنا بھی کافی ہے کہ وہ سنبھل جائے مگر جانوروں سے بدتر نام نہاد مسلم عورتیں نہ سنبھل پاتی ہیں اور نہ سدھرتی ہیں بلکہ اپنی بےحیائی، نافرمانیوں اور شوہروں کو ذلیل کرنے اور بچوں کو تباہ کرنے کو عقلمندی اور ہوشیاری سمجھتے ہوئے جہنم واصل ہوجاتی ہیں۔

تم نے جنت اپنے باپ کی جاگیر سمجھ لی ہے کہ تم جو مرضی کرو اور تمہیں جنت دے دی جائے؟

بچوں پر ظلم کے بدلے تمہیں جنت دی جائے؟

شوہر کو ذلیل کرنے کے بدلے تمہیں جنت دی جائے؟

اپنے جسم کی نمائش اپنے آفس جاکر کرنے پر تمہیں جنت دی جائے؟

باہر غیر مردوں میں گلچھڑے اڑانے کے بدلے تمہیں جنت دی جائے؟

ماں باپ کے ساتھ بدتمیزی کرنے کے بدلے تمہیں جنت دی جائے؟

اللہ اور محمد رسول اعظ٘م صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غداری کرنے کے بدلے تمہیں جنت دی جائے؟

تم ہو کس خوش فہمی کے اندر؟

تمہاری اوقات ہے کیا؟

دو کوڑی کی عورت ہو تم اور غرور تمہارا آسمان جتنا؟

یہ ہے تمہاری اصل اوقات جو میں نے تمہیں دکھادی ہے۔

اب بھی وقت ہے۔

باز آجاو اور سدھر جاو۔

ورنہ اللہ نے جس دن تمہیں اپاہج کردیا یا فالج کردیا یا بدترین عذاب میں گرفتار کیا تو کوئی تمہیں اللہ سے بچانے والا مددگار نہ مل سکے گا اور تمہیں تب یاد بھِی نہ ہوگا کہ تم نے اپنے ماضی میں کیا کچھ کیا تھا جس کا یہ بدلہ ہے۔

سدھر جاو اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔