اس ویب سائٹ پر اسلام، قرآن، روحانیت، گیمنگ، فری لانسنگ، کمپیوٹر، ویب ڈیویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، کرامات و معجزات، کیریئر، لائف، بزنس، ریلیشن شپ اور بہت کچھ ملے گا۔
جمعرات، 12 اکتوبر، 2023
بہترین جملوں کا انتخاب
خلفائے راشدین آف اسلام کے کارنامے اور مسلمانوں کے لیے آئیڈیاز
اس لسٹ سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خلفائے راشدین جو کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ شاگرد تھے وہ امت کے مسلمانوں اور غیرمسلموں کے لیے کس قسم کے کام سرانجام دے کر چلے گئے۔ اس فہرست کے ذریعہ ایسے تمام مسلمان جو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی آخرت کی زندگی بہتر بنانے کے لیے اس فزیکل ورلڈ میں کس قسم کے کام سرانجام دیں تو یہ لسٹ ان شاء اللہ انہیں کفایت کرے گی کیونکہ اس میں صرف خلفائے راشدین کا انتخاب کرکے ان سے متعلق کارناموں کوانٹرنیٹ سے ریسرچ کرکے جمع کردیا گیا ہے اللہ کے فضل و کرم سے ۔
ان میں کونسی باتیں سچ ہیں یا جھوٹ اس سے قطعی نظر مقصد صرف یہ ہے کہ نیکی کے کام کرنے کے لیے مسلمان جس عہدہ پر بھی ہو اسے آسانی ہوسکے ان شاء اللہ اور خلفائے راشدین کی عظمت اور شان و شوکت کا بھی اندازہ ہوسکے کہ وہ کس قدر اعلی لیول پر ہونے کے باوجود کس قسم کے کام کرتے تھے اور ان کا مقصد صرف اللہ کو راضی کرنا تھا لہذا ہم سب کو اپنا کردار اس آئینے میں دیکھنا بھی چاہیے۔
الحمدللہ رب العالمین، اللہ اکبر، اللہ واحد القہار
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کارنامے
حضور نبی رحمت ﷺ کے وصال کی خبر سن کر کافی قبیلوں نے سرکشی کر دی لوگ مرتد ہونا شروع ہو گئے ،بعض نے زکوٰة اور نماز ادا کرنے سے انکار کر دیا، ملک کے بیشتر حصوں سے مدعیانِ نبوت اٹھ کھڑے ہوئے جن میں طلیحہ بن خویلد، اسود عنسی، سجاح بنت حارثہ اور مسیلمہ کذّاب بہت مشہور ہیں انہوں نے اسلام کے خلاف لوگوں کو بھڑکانا شروع کر دیا اور اپنی جماعتیں بنانا شروع کر دیں حضرت ابوبکر صدیق ؓنے پہلے متعدد پیغامات بھجوائے کہ وہ اپنے اس غلط دعوے کو مسترد کر دیں لیکن جب انہوں نے آپکی بات کا انکار کیا تو آپ نے لشکر کیساتھ حملہ کیا اور ان کذّابوں کو نیست و نابود کر دیا۔
حضرت عمرؓ کی تحریک پر حضرت ابوبکرؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ سے قرآن کریم تحریری صورت میں لکھوا کر اسے مسجد نبویؐ میں رکھوا دیا جس سے قرآن کریم کتابی شکل میں محفوظ ہو گیا اور اس میں کسی تحریف اور ردوبدل کا دروازہ بھی بند ہو گیا کہ مسجد نبویؐ میں موجود سرکاری اور اسٹینڈرڈ نسخہ کی موجودگی میں کسی کو جرأت نہیں تھی کہ وہ قرآن کریم میں اپنی طرف سے کوئی ردوبدل کر کے اسے عام کر سکے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المال کا نظام قائم کر کے ریاست کے عام شہریوں بالخصوص معذوروں اور مستحقین کی کفالت کا جو نظام دیا تھا حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس سلسلہ کو آگے بڑھایا اور ایسی بنیادیں فراہم کر دیں جس سے رفاہی ریاست اور ویلفیئر اسٹیٹ کا وہ نظام حضرت عمرؓ کے دور میں منظم ہو کر دنیا کے لیے ایک مثالی اور آئیڈیل رفاہی نظام کی شکل اختیار کر گیا۔
آپؓ نے اپنے دورِ خلافت میں ایران اور روم کی دو عظیم سلطنتوں کو متعدد شکستیں دے کر ملت اسلامیہ کے وقار اور دبدبے کا ڈنکا بجا دیا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کارنامے
عراق، مصر ، لیبیا ، سرزمین شام ، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار تیس (22,51,030) مربع میل پر پھیل گیا۔
پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا
آپ کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا۔
موذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں۔
مسجدوں میں روشنی کا بندوبست کروایا۔
پولیس کا محکمہ بنایا۔
عدالتی نظام کی بنیاد رکھی۔
آب پاشی کا نظام قائم کروایا۔
فوجی چھاونیاں بنوائیں اور فوج کا محکمہ قائم کیا۔
دنیا میں پہلی بار دودھ پیتے بچوں، معذوروں، بیواوں اور بے آسراوں کے وظائف مقرر کئے۔
دنیا میں پہلی بار حکمرانوں، سرکاری عہدیداروں اور والیوں کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کا تصور دیا۔
بے انصافی کرنے والے ججوں کو سزا دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا۔
دنیا میں پہلی بار حکمران کلاس کی اکاونٹبلٹی شروع کی۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے کارنامے
قرآن کے متعدد نسخے تیار کرکے مختلف صوبوں میں بھیجے اور امت کو ایک مصحف پر جمع کیا۔ اس کارنامے کی بدولت آپ کو ’’جامع القرآن‘‘ کا لقب دیا گیا ہے۔
جگہ جگہ ضرورت کے تحت سڑکیں اور پل تعمیر کرائے۔
مفتوحہ علاقوں اور ملکوں میں مساجد اور دینی مدارس قائم کئے۔
ملک شام میں سمندری جہازوں کے بنانے کا کارخانہ قائم کیا۔
مدینہ کو سیلاب سے بچانے کے لیے ایک بند تعمیر کرایا۔
جگہ جگہ پانی کی نہریں نکلوائیں۔
مدینہ اور دوسرے شہروں میں نئے کنویں کھدوائے۔
تعمیرات عامہ کے پیش نظر دوسرے شہروں میں بھی سرکاری عمارتیں، سڑکیں وغیرہ تعمیر کرائیں۔
کئی ممالک فتح کرکے خلافت اسلامیہ میں شامل کیے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے کارنامے
عربی گرامر کے موجد ہیں۔
مسلمان کون ہے؟
از: محمد شمیم اختر قاسمی، شعبہ سنی دینیات، اے ایم یو، علی گڑھ
مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے تمام مسلمان محفوظ رہیں، الا یہ کہ دین و احکام شریعت ہی کا تقاضا ہو کہ مسلمان کا احتساب کیا جائے اوراس پر قانون شرعی جاری کیا جائے، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی مسلمان کو ایذا پہنچائے، الا یہ کہ ایسا کرنا واجب ہو، عوام و خواص دونوں کے حقوق ادا کرنے میں عجلت سے کام لیجیے، لوگ آپ کے سامنے ہیں اور پیچھے قیامت ہے جو آگے بڑھ رہی ہے، اپنے آپ کو ہلکا پھلکا رکھیے کہ منزل تک پہنچ سکیں، آخرت کی زندگی لوگوں کی منتظر ہے، خدا کے بندوں اور ان کی سرزمین کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلہ میں اللہ سے ڈرتے رہیے، بہائم اور زمین کے بارے میں بھی (قیامت میں) آپ سے سوال ہوگا، پھر میں کہتا ہوں کہ اللہ کی اطاعت کیجیے اور اس کی معصیت و نافرمانی سے بچئے، اگر آپ خیر کا کام دیکھیں اس کو اختیار کریں اور اگر شر دیکھیں تواس کو چھوڑ دیں: ”وَاذْکُرُوْا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُسْتَضْعَفُوْن فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰکُمْ وَاَیَّدَکُمْ بِنَصْرِہ وَرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ“ (اور یاد کرو جس وقت تم تھوڑے تھے مغلوب پڑے ہوئے ملک میں ڈرتے کہ اچک لیں تم کو لوگ پھر اس نے تم کو ٹھکانا دیا اور قوت دی تم کو اپنی مدد سے اور روزی دی تم کو ستھری چیزیں تاکہ تم شکر کرو۔ ”انفال“)
باپ کا بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر حق
از: محمد شمیم اختر قاسمی، شعبہ سنی دینیات، اے ایم یو، علی گڑھ
”باپ کا بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر حق ہے۔ باپ کا حق یہ ہے کہ بیٹا ہر حال میں اس کی اطاعت کرے، الا یہ کہ باپ کسی معصیت کی بات کا حکم دے، اس میں اس کا اتباع نہ کیا جائے، اور باپ پر بیٹے کا یہ حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے، اچھی تربیت کرے اور قرآن پڑھائے۔“
آج ہمارے معاشرہ میں باپ اور بیٹے دونوں کو ایک دوسرے سے شکایت ہے، اور دونوں ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں اور بعضے وقت صورت حال بہت خراب ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ سوائے اس کے اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہم نے اس اخلاقی تعلیمات کو سرے سے بھلارکھا ہے۔ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اور باغبان درخت کو بنانے اور سنورانے میں کتنی محنت اور جاں فشانی کرتا ہے ہم اور آپ سبھی جانتے ہیں۔ آج ہم بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے رجوع کرتے ہیں مغربی طریقہٴ تعلیم کی طرف اور قرآن جو سراپا ہدایت ہے اسے پس پشت ڈال رکھا ہے۔
اتوار، 8 اکتوبر، 2023
پاکستان کے غریب کیا کریں بجلی کا بل 35 ہزار روپے؟
اپنے میڈیا کے ذریعہ غریبوں کو پیغام دو کہ اسکولوں میں بچوں کو بھیجنا بند کردیں، گھروں سے بجلی کا کنکشن ختم کروالیں، یہ 35 ہزار بجلی کا بل حرام خوروں کو ادا کرنے اور ہزاروں روپے اسکول کے نام پر رٹا سسٹم والوں کی جیب میں بھرنے کے بجائے اپنے گھر محلہ یا گلی میں چھوٹا سا کاروبار شروع کریں اور اس کاروبار کے ذریعہ ہونے والی آمدنی سے ایک سولر سسٹم چھوٹا سا لگائیں، بیٹری لگائیں، سورج کی روشنی سے گھر کا ایک پنکھا چلائیں، فریج ٹی وی گھر سے بیچ دیں، سادگی پر آجائیں، پانی اور گیس سے باقی کام سنبھل جائے گا ان شاء اللہ۔
اپنی آمدنی کماکر اپنے ضروری اخراجات پورے کریں اور بجلی کے نام پر خصوصی طور پر پورے ملک میں بائیکاٹ کردیا جائے اور تمام غریب ان حرام خوروں سے بجلی سروس لینا بند کردیں۔ اس کے علاوہ پورے ملک کے غریب اپنے بزنس میں حرام خوری، جھوٹ بولنا، چوری کرنا، دھوکہ بازی کرنا، ملاوٹ کرنا، بچیوں کے ریپ کرنا، وغیرہ جیسے جرائم بھی بند کردیں ورنہ انہیں اس سے بھی ذیادہ ذلت کی مار پڑے گی۔ اللہ کے ساتھ کسی قسم کی دھوکہ بازی نہیں چلتی۔
اللہ اکبر
پیر، 25 ستمبر، 2023
جاہل مرد اور جاہل عورت
جاہل شوہر بیوی کو کنٹرول کرنے میں لگا رہتا ہے اور عقلمند شوہر بیوی کو اپنے ساتھ چلاتا ہے۔
منگل، 19 ستمبر، 2023
دنیا میں لاگ ان اینڈ لاگ آوٹ کرنا
اس دنیا کے اندر اگر اس مائنڈسیٹ کے ساتھ کام کیا جائے کہ اس فزیکل دنیا کو اصلی اور خواب کو نقلی یا وہم گمان سمجھنے کے بجائے خواب کو اصلی دنیا اور اس فزیکل دنیا کو نقلی یا وقتی سمجھا جائے تو انسان ایک ویڈیو گیم کی طرح اسے سمجھ کر یہاں اس حال میں آئے کہ جب یہاں لاگ ان کرے تو خود کو اس دنیا کے اندر قید میں سمجھے اور ایک ویڈیو گیم کی طرح اس کو اپنے فزیکل کریکٹر سے انجوائے کرے اور جو کچھ کرسکتا ہے وہ کر گزرے اور اپنے آپ کو ایک ویڈیو گیم کی طرح دشمنوں سے بچانے کا پورا انتظام کرے، اچھی طرح دیکھ بھال کر کریکٹر چلائے، ہوشیاری سے کام لے، اپنی فارمنگ کرے، اپنے آپ کو اپ گریڈ کرے، اپنے آیٹم بنائے، اپنے گیئر خریدے، خود کو طاقتور مسلم کریکٹر میں تبدیل کرے اور آگے سے آگے لیول بڑھاکر ترقی کرتا چلا جائے۔
اب مثال کے طور پر ایک موبائل گیم جب انسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے تو وہ اس میں گیم آن کرکے لاگ ان کرتا ہے اور اسکرین کے اوپر اسقدر گہرائی سے فوکس کرکے کھیلتا ہے کہ اسے یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ وہ گیم کا کریکٹر نہیں بلکہ اس کا اپنی ذاتی اصلی کریکٹر ہے جو کہ صرف ایک وہم و گمان اور دھوکہ ہوتا ہے جبکہ گیم کی دنیا کی حقیقت بس اتنی ہوتی ہے جتنی دیر گیم کی اسکرین آن ہوتی ہے اور جیسے ہی گیم آف کیا ویسے ہی گیم کی دنیا اچانک نظروں سے غائب اور انسان خود کو اس فزیکل دنیا میں موجود پاتا ہے لہذا گیم میں موجود تمام اچیومنٹس، تمام کارنامے تمام ریکارڈز، تمام تعریفیں، تمام دشمن و دوست، تمام آیٹم وغیرہ بیکار یا پھر لایعنی ہوجاتے ہیں۔
اس کے بعد انسان اپنی فزیکل دنیا کے کاموں میں مصروف ہوجاتا ہے۔ کیوں کیا ایسا نہیں ہوتا؟ بالکل ایسا ہی ہوتا ہے لہذا ثابت ہوا کہ گیم کی دنیا میں لاگ ان ہوجانا انسان کو فزیکل دنیا سے کٹ کردیتا ہے اور گیم کی دنیا سے لاگ آوٹ ہونا انسان کو فزیکل دنیا سے فٹ کردیتا ہے۔
یہی طریقہ اگر خواب یعنی روح کی دنیا کو اصلی سمجھ کر اپنالیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ معاملہ تھوڑا آسان ہوجائے۔ وہ اس طرح کہ جب تک انسان اس دنیا میں جاگ رہا ہے وہ اس دنیا کو اصلی کے بجائے ایک گیمنگ ورلڈ سمجھے اور اس کے مطابق یہاں کام کرے اور سب کچھ وقتی سمجھے اور جان لے کہ جیسے ہی اس کا ٹائم پورا ہوگا وہ آٹومیٹک لاگ آوٹ ہوجائے گا۔
اور جیسے ہی انسان لاگ آوٹ ہوگا وہ خود کو واپس خواب کی دنیا میں موجود پائے گا۔ یہی ہے دنیا کی زندگی کی حقیقت اور خواب کی زندگی لامحدود ہوتی ہے نہ ٹائم معلوم ہوتا ہے اور نہ فاصلے۔ انسان آنا فانا کہیں سے کہیں ٹریول کرجاتا ہے۔ ہواوں میں پرواز کرتا ہے۔ آندھی طوفان اور زلزلے برپا کردیتا ہے۔ عجیب و غریب طاقتوں کا مالک ہوتا ہے۔ مگر جب اس دنیا میں لاگ ان کرتا ہے تو؟ اس کو اپنا ایک نیا کریکٹر واپس ملتا ہے اسی حالت میں جس میں وہ اسے یہاں جس طرح چھوڑ کر جاتا ہے اگر کسی اور نے اس کے جسم کے ساتھ یا اس کے سازوسامان کے ساتھ چھیڑ خانی نہ کی ہو۔
کیا اس گیمنگ مائنڈسیٹ کے ساتھ زندگی گزارنا آسان نہیں؟ جب انسان کو یہ شعور حاصل ہوگا کہ وہ کس طرح ریئل ورلڈ میں گیمنگ کررہا ہے اور کس طرح جب چاہے لاگ آوٹ ہوکر واپس جاسکتا ہے تو پھر وہ اس دنیا میں معمولی چیزوں پر لوگوں سے لڑائی جھگڑے نہیں کرے گا بلکہ اس کی نظروں میں دنیا کے اکثر انسان محض غافل نظر آئیں گے جو ویڈیو گیم کے این پی سی
NPC
کے طور پر ہوں گے اور وہ اپنے اپنے کریکٹر چلا رہے ہوں گے۔
میں سمجھتا ہوں اس طرح ہم اپنی مرضی سے جس دنیا میں چاہیں آ اور جا سکتے ہیں نہ کہ صرف جاگ لیے تو یہاں سب کچھ کرنا جب تک کہ واپس تھک ہار کر سونہ جائیں۔بھئی بیٹری بھی تو دوبارہ چارج کرنی ہوتی ہے نا؟ تو پھر جب چاہو جسم کی بیٹری دوبارہ چارج کرلی جائے اور اس دنیا سے نکل کر واپس خواب میں جاکر وہاں کی روٹین انجوائے کی جائے اور واپس یہاں لاگ ان کرکے فریش موڈ میں تازہ دم ہوکر پھر سے اپنی ویڈیو گیمنگ شروع کرے اس لائف کی۔
اور یہ گیمنگ تو اس وقت تک چلے گی جب تک اللہ کے حکم سے موت کا ذائقہ چکھانے کے لیے فرشتے سامنے حاضر نہ ہوجائیں اور تب وہ جسم سے روح نکال کر اسے یا تو جنت کی طرف لے جائیں گے یا پھر جہنم کی آگ میں پھینک دیں گے اور اس کا دارومدار انسان کی نیت اور اس کے اس دنیا میں فزیکل ایکشن پر ہوگا۔
لہذا ایسی وقتی دنیا سے کیا دل لگانا؟ ہاں اس کو بھی حقیقت سمجھ کر قبول کیا جائے مگر بحیثیت گیمنگ ورلڈ جس کا ڈیزائنر اور بنانے والا صرف اکیلا اللہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ بے شک تمام تعریفوں کے لائق صرف اللہ ہے جو اپنے بندے کے لیے وہاں سے راستے نکالتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ اللہ اکبر