جمعرات، 12 ستمبر، 2024

مردے ذندہ کرنے والا انسان اکیسویں صدی میں ابھی زندہ ہے

 الحمدللہ 20 سے زیادہ مردے زندہ کر چکا ہوں لیکن اب تک میرے مقابلے پہ ایک بھی کافر آکر مرے ہوئے مچھر کو بھی زندہ نہیں کر سکا۔ پھر یہ کہتے ہیں کہ ان کے خدا موجود ہیں۔ اگر موجود ہوتے تو میرے ہاتھوں ذلیل و خوار نہ ہوتے اور اگر ان کے خدا موجود ہوتے تو وہ بھی اسمان و زمین میں اپنے مچھر بناکر چلا لیتے۔

ان مچھروں کو بنانے والا بھی میرا خدا اللہ ہے۔ 

ان مچھروں کو مارنے والا بھی میرا خدا اللہ ہے۔

اور انہیں دوبارہ زندہ کرنے والا بھی میرا خدا اللہ ہے۔ جب یہ مرے ہوئے سڑے گلے مچھر زندہ نہیں کر سکتے تو یہ مردے سڑے گلےانسان دوبارہ کیسے زندہ کر سکتے ہیں؟

انہیں کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔

 زندگی اور موت کا مالک صرف میرا  اللہ ہے۔

ڈاکٹر لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

محمدﷺ غائب ہے؟

 کتابوں کے اندر گھس کر غیر مسلموں کا دماغ خراب ہو جاتا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے۔ اگر یہ اپنی عقل سے کام لیتے ہیں تو کتابوں کے بجائے اس کائنات کے اندر غور و فکر کرتے  لیکن ان کی عقل تو گھٹنوں میں رہتی ہے ۔


اتنا ٹائم ان کے پاس تھوڑی ہے کہ قرآن پر غور و فکر کرتے۔  بدنیتی کے ساتھ اپنے گھٹیا کرداروں کے ساتھ اور اپنی ماں بہن بیٹی کے ساتھ پورن کی بھوک سے بھرپور جسم و دل و دماغ سمیت یہ قرآن و حدیث پڑھتے ہیں اور اللہ قران کے ذریعے ایسے بدنیتوں اور بغیرتوں کی گمراہی میں اضافہ کرتا ہے اور اس کی گمراہی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور مجھے اس کی باتوں سے بہت واضح نظر ارہا ہے۔


دوسری بات یہ کہ جانور بھی اتنی عقل رکھتا ہے کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا اخری نبی مانتا بھی تھا جانتا بھی تھا اور سمجھتا بھی تھا اور یہ بات بھی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے تو یہ ان باتوں کو تسلیم کیوں نہیں کرتے؟


کیونکہ وہ باتیں ان کی عقل اور اسلام کے مقابلے پر بنائے ہوئے جھوٹے مذاہب کے خلاف آتی ہیں اور جو چیز عقل کے خلاف ہو اس کو کہتے ہیں معجزہ جو ان کا باپ بھی نہیں کر سکتا۔ ان میں سے کسی بھی ملحد کی اوقات نہیں ہے کہ ان کے لیے چرند پرند درند انسانوں کی طرح کلام کریں اور ان کو نبی تسلیم کرلیں کیونکہ اتنی ان کی اوقات نہیں ہے اور دوسری بات کہ یہ اتنے بزدل اور ڈرپوک ہوتے ہیں کہ موت کے ڈر سے تھر تھر ان کی ٹانگیں کانپتی ہیں اور راتوں کو ڈر کے مارے پیشاب نکلتا ہے۔ ذرا ذرا سی آہٹ پر گھبراکر چاروں طرف یوں دیکھنے لگتے ہیں جیسے گویا موت کا فرشتہ ان کی روح نکالنے پہنچ چکا ہو۔۔شکل چھپاتے ہیں۔ نام بدلتے ہیں۔ پھر جا کے بات کرتے ہیں اور بہادر مسلمان ڈنکے کی چوٹ پہ کام کرتا ہے۔ یہی حال عیسائیوں کا ہندووں کا اور یہودیوں کا بھی ہے کہ شکلیں بدل کے نام بدل کے کام کرتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ سارے کے سارے جھوٹے خداوں  اور جھوٹے مذاہب کے پیروکار ہیں۔ ان کی عقل مذہب اور خدا کے معاملے میں کام نہیں کرتی۔ اور یہ بھی میں ابھی ثابت کر دیتا ہوں۔


اب جو ثبوت میں دکھا رہا ہوں اس کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ اللہ جب چاہتا ہے بادلوں کے ذریعے درختوں کے ذریعے پرندوں کے ذریعے جانوروں کے ذریعے کہیں پر بھی اپنے اخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھ کر ان کی رسالت کی گواہی دیتا ہے اور یہ عمل اللہ خود کرفا ہے۔ اس کے لیے وہ کسی مسلمان کو استعمال نہیں کرتا۔ ہاں مسلمان یہ ضرور کرتا ہے کہ ایسی چیزیں جب اس کو نظر اتی ہیں تو ان کی تصویر کھینچ لیتا ہے یا ویڈیو بنا لیتا ہے اور یہ کام تو غیر مسلم بھی کر لیتا ہے جب ان کے نومولود بچے پیدا ہونے کے بعد اللہ اللہ کر رہے ہوتے ہیں اس کے بھی ثبوت موجود ہیں۔


تو اسمان اور زمین اور ان کے درمیان موجود مخلوقات اللہ کے حکم سے یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ کوئی تو ہے جو اپنے نام اللہ کو یا اپنے اخری نبی کے نام محمد کو لکھ کے دکھا رہا ہے؟ کیونکہ اگر یہ کام خود بخود ہو رہا ہوتا تو کسی ملحد کا نام بھی آتا، کسی یہودی کا نام بھی آتا، کسی عیسائی کا بھی نام آتا، کسی ہندو کا نام بھی آتا، کسی شیعہ کا نام آتا، کسی قادیانی کا نام ہے آتا لیکن نہیں۔۔۔۔  آتا ہے تو محمد عربی رسول اعظم کا نام آتا ہے اور ان کے بادشاہ اللہ واحد  القہار کا نام آتا ہے اور یہ ان کافروں کے لیے ذلت اور رسوائی ہے اس دنیا میں بھی اور انشاءاللہ جب یہ کفر پہ مریں گے تو موت کے بعد ہمیشہ کے لیے دردناک عذاب میں سسکتے رہیں گے کیونکہ انہوں نے اپنی عقل کو استعمال نہیں کیا اور اللہ کے اخری نبی کے خلاف دشمنی میں لگے رہے۔ میری بد دعا ہے کہ جو ہٹ دھرمیوں میں لگا ہوا ہے جان بوجھ کر اسی طرح گمراہی میں مرے اور قیامت کے دن میں اس کو اپنے ہاتھ سے جہنم میں دھکا دوں۔


بے شک میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ اس کائنات کا خدا اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اخری اور سچے رسول ہیں اور ان کے خلاف بھونکنے والے سارے شیطان کے کتے جھوٹے اور گمراہ ہیں اور ان پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی لعنت ہے اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اور ساری مخلوقات کی لعنت ہے۔ یہ اسی قابل ہیں۔


اللہ اکبر

لیجنڈ


نوٹ: محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ ہیں اور ان کے تمام سچے پیروکار بھی ہمیشہ کے لیے ذندہ ہیں اور سب کے سب جنت کی آسائشوں میں ہیں مگر کفار بدترین عذاب کے ساتھ ذلت میں سسک رہے ہیں۔ غائب تو یہ سب کفار ہونے والے ہیں اس زمین پر سے ایک دن جب سب کی عبرت کی گاڑی تیار کرکے ان سب کو جہنم میں پھینک کر جنت میں داخل ہونے کا دروازہ ان سب پر بند کردیا جائے گا۔ خس کم جہاں پاک!



بدھ، 11 ستمبر، 2024

بھینس پانی کے اندر کیوں نہیں ڈوبتی؟


بھینس پانی میں اس لیے نہیں ڈوبتی کیونکہ اس کا جسم بہت بڑا اور ہلکا ہوتا ہے۔ جب ہم پانی میں گیند ڈالتے ہیں تو وہ بھی پانی کے اوپر تیرتی رہتی ہے کیونکہ اس کے اندر ہوا بھری ہوتی ہے۔  اسی طرح غبارے کے اندر بھی ہوا بھری ہوتی ہے جو اسے پانی میں تیرنے میں مدد دیتی ہے۔ بھینس کا معاملہ بھی اسی طرح سے ہے۔ اگر ہم سمندر کی بات کریں تو وہاں کا پانی اور بھی زیادہ نمکین ہوتا ہے۔ جب ہم پانی میں نمک ڈالیں تو چیزیں زیادہ تیرنے لگتی ہیں۔ اس لیے بھینس سمندر میں بھی نہیں ڈوبتی۔


ذیشان ارشد

محمدﷺ نے 6 یا 9 سال کی بچی سے شادی کی تھی؟

حضرت محمدﷺ نے کس عمر میں کس عمر کی لڑکی یا عورت سے شادی کی تھی اس کا علم تمہیں کس طرح حاصل ہوا؟

کیا تم نے حضرت محمدﷺ سے براہ راست خود سنا تھا؟ نہیں! تم اس دور میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔

کیا تم نے حضرت محمدﷺ کو اپنی آنکھوں سے شادی کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ نہیں، تم اس وقت پیدا ہی نہیں ہوئے تھے تو پھر تم نے آخر کس کی بات پر یقین کرلیا کہ حضرت محمدﷺ نے 6 سال یا 9 سال کی بچی سے شادی کی تھی؟

اگر تم یہ کہو کہ تم نے حدیث کی کتابوں میں پڑھ کر یقین کیا ہے تو تم نے ان حدیثوں پر یقین کیوں نہیں کیا جن کے مطابق زمین نبیوں کے جسموں کو نہیں کھاتی اور دنیا کر ہر بچہ اپنی ماں کے پیٹ سے صرف مسلم پیدا ہوتا ہے؟

Every Child Born Muslim:

Prophets Dead Bodies Never Decay:

حالانکہ تم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے جس حدیث پہ یقین کیا ہے اس کا تو پریکٹیکل ثبوت بھی تم میرے سامنے پیش نہیں کرسکتے جبکہ جو حدیث میں نے پیش کی ہیں ان کے پریکٹیکل ثبوت بھی موجود ہیں۔



حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کے بھی جسم ان کی موت کے بعد تر و تازہ رہتے ہیں اور ماں کے پیٹ سے نکلے ہوئے بچے بھی اللہ کے حکم سے اسی کے نام کی تسبیح پڑھ رہے ہوتے ہیں۔

کیا یہ سارے ثبوت کافی نہیں ہیں تمہارے لیے کہ اب تم کلمہ پڑھ کے دوبارہ اسلام میں واپس لوٹ آو اور اپنی ہٹ دھرمیوں کو چھوڑ دو؟

منگل، 10 ستمبر، 2024

آلو، لہسن اور پیاز کے چھلکوں کے فائدے

 آلو، لہسن اور پیاز کے چھلکوں سے کیا فائدے حاصل کیے جاسکتے ہیں؟

چیٹ جی پی ٹی کے مطابق

آپ کے پاس موجود الو، لہسن، اور پیاز کے چھلکوں کے مختلف فوائد ہیں:

الو کے چھلکے 

ان میں فائبر، وٹامن سی، اور دیگر معدنیات ہوتے ہیں۔ یہ چھلکے جلد کی صفائی، ہاضمہ کی بہتری، اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کے لیے مفید ہو سکتے ہیں۔ آپ انہیں کھانا پکانے میں شامل کر سکتے ہیں یا ان کا پاؤڈر بنا کر چہرے پر ماسک کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

لہسن کے چھلکے

یہ بھی فائبر اور وٹامنز سے بھرپور ہوتے ہیں۔ لہسن کے چھلکے کو پیس کر چائے میں شامل کیا جا سکتا ہے، جو کہ مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور جسم کی صفائی کے لیے فائدہ مند ہے۔

پیاز کے چھلکے

 ان میں بھی کئی فائدے ہیں، جیسے کہ اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامن سی، اور فائبر۔ پیاز کے چھلکوں کو ہلکا سا بھون کر چائے میں شامل کیا جا سکتا ہے، یا انہیں پانی میں ابال کر پانی کو جلد کی مسائل، پیٹ کے درد، یا انفلماٹری مسائل کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ چھلکے عام طور پر کھانے کی چیزوں کو ضائع کرنے کے بجائے، صحت کی بہتری اور مختلف گھریلو استعمالات کے لیے کارگر ہو سکتے ہیں۔

اللہ کے ناموں میں تبدیل ہوتا ہوا بادل

 


اللہ نے بادل کے ٹکڑے پر سیدھے ہاتھ کی جانب اوپر کی طرف اپنا نام لکھا ہوا تھا۔ اس کے بعد اللہ نے اسی بڑے بادل کے ٹکڑے کو "اللہ" نام میں تبدیل کیا جو کہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے اور اس کے بعد اللہ نے اس بڑے بادل کو تبدیل کر کے اس کے نیچے والے بادل کو "للہ" میں تبدیل کیا اور اس کا مطلب ہوتا ہے "اللہ کے لیے"

جس بات کا علم نہیں ہوتا اس کو جاننے کو سائنس کہتے ہیں اور جو خود کو سائنسدان کہتا ہے اگر اس کو علم نہ ہو تو وہ اس بات سے جاہل ہوتا ہے جس کا اسے علم نہ ہو کیونکہ جس بات کا انسان کو علم حاصل ہوجائے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ اور پریکٹیکل طور پر بھی وہ اسے مکمل طور پر جانتا اور سمجھتا ہو تو وہ اس علم کا استاد ہو جاتا ہے۔ پھر وہ اس میں جاہل شمار نہیں ہوسکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ مستقبل میں اسی چیز میں مزید علوم کے دروازے کھل جائیں مگر اس سے اس کی جہالت یا کم علمی یا کسی چیز کو لے کر اس کی تذلیل نہیں کی جائے گی کیونکہ پہلے اس کا علم کامل تھا اس حد تک جتنا وہ جانتا تھا لہذا کوئی انسان اپنے علم پر تکبر ہرگز نہ کرے کہ وہی سب کچھ جانتا ہے کیونکہ یہ صفت صرف اللہ کی ہے کہ وہ ہر چیز، ہر بات، ہر غیب پر مکمل علم و عبور رکھتا ہے۔ سب کو وہی سکھاتا اور سمجھاتا ہے اور ان کے دلوں میں ایسے خیالات بھیجتا ہے ان کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے کہ جن کی بدولت انسان نئی نئی چیزیں یا کام کرنے کے مخلتف انداز اختیار کرلیتا ہے جسے لوگ ترقی اور سائنسی ایجادات کا نام دیتے تھکتے نہیں مگر اللہ کا انکار کرتے ہیں یا اللہ کو کریڈٹ دینا پسند نہیں کرتے یا اس کے ساتھ شرک کرکے دوسروں کو اللہ کے برابر قرار دے کر ان کی پوجا کرتے ہیں۔

جو حقیقی سائنسدان ہوتا ہے اسے جس بات کا علم نہ ہو وہ اس علم کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ اسے جان لے۔ کسی چیز کے نام اور اس کی حقیقت کو جاننا اور اس کو استعمال کرنا، یہی تو سائنس ہے۔

اگر کوئی یہ ہی نہیں جانتا کہ ان بادلوں کو آسمان اور زمین کے درمیان میں کون بناتا ہے اور کون کنٹرول کرتا ہے اور کون تبدیل کرتا ہے اور کون غائب کرتا ہے تو وہ کس منہ سے اپنے آپ کو سائنسدان کہتا ہے؟

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد (10 ستمبر 2024)

ہمیشہ کے لیے کامیابی کا گر

 جسے بھی ہمیشہ کے لیے کامیاب ہونا ہے، پیسہ کمائے اور غلبہ اسلام کا کام کرے اور اپنی ضروریات پوری کرے۔ بری خواہشات پہ کنٹرول کرے اور پیسوں کو سنبھال کے رکھے۔ان بے وقوفوں کو ہرگز مت دے جو پیسہ سوچ سمجھ کے استعمال نہیں کرتے بلکہ صرف فضول خواہشات پہ برباد کرتے ہیں۔ یہ بے وقوفی ہے کہ انسان محنت کر کے کمائے اور دوست احباب رشتہ دار وغیرہ اپنی فضول دنیاوی خواہشات میں اس کا وہ پیسہ برباد کردیں اور دن رات گناہوں کے کاموں میں مشغول رہیں جس کا پورا حساب وہ دے گا جس نے انہیں پیسہ دیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ غلط استعمال کر رہے ہیں۔

اللہ نے ضروریات پوری کرنے اور ٹیک کرنے کا حکم دیا ہے پیسہ بھر بھر کر ان جاہلوں اور بیوقوفوں پر برباد کرنے کا حکم نہیں دیا جو اپنی زندگی کا مقصد اس کے دین کی سربلندی کے بجائے اپنی دنیا مست ملنگ بنانے اور گھٹیا حرام کاموں میں ملوث ہوکر گزارنے پر استعمال کررہے ہیں۔

دیکھ لو اپنے ماں باپ کو، بھائی بہنوں کو، رشتہ داروں کو کہ ان کے روزمرہ کے کام کاج کیا ہیں؟ ان کاموں کو دیکھ کر ہی تمہیں ان کے کرتوتوں، ان کی باتوں کو سن کر تمہیں ان کی سوچوں اور خیالات کا علم ہوگا اور تم اپنے مستقبل کے لیے آسانی سے فیصلہ کرسکو گے۔

بے شک اکثر لوگ جہالت سے کام لیتے ہیں اور اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا جبکہ لوگ بلاوجہ اللہ سے شکوے شکایات لگاتے پھرتے ہیں اپنے گھٹیا کرتوتوں کو جاری و ساری رکھنے کے باوجود۔

اللہ اکبر