بدھ، 16 اپریل، 2025

فضول باتیں کون کونسی ہوتی ہیں؟ (پریکٹیکل لائف کی مثالوں سے جواب)

فضول باتیں وہ ہوتی ہیں جو نہ کسی کو فائدہ دیتی ہیں، نہ ہی ان سے کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ باتیں اکثر وقت برباد کرتی ہیں اور دل دکھاتی ہیں۔


🎯 پریکٹیکل لائف کی آسان مثالیں:

1. کسی کا مذاق اُڑانا:

جب بچے کسی دوسرے بچے کے رنگ، قد، یا کپڑوں پر ہنسیں تو یہ فضول اور غلط بات ہوتی ہے۔
مثال: "دیکھو اس کے جوتے کتنے پرانے ہیں!"
یہ بات نہ اچھی ہے، نہ ضروری، اور کسی کو دُکھ  دے سکتی ہے۔


2. جھوٹ بول کر کھیل جیتنا:

جب کوئی بچہ کھیل میں دھوکہ دے کر جیتنے کی کوشش کرے، تو یہ فضول حرکت ہے۔
مثال: "میں نے پہلے کہا تھا! میری باری ہے!" (حالانکہ ایسا نہ ہو)


3. جھگڑا بڑھانا یا تکرار کرنا:

جب کسی بات پر معمولی سی بحث ہو، تو اسے ختم کرنے کے بجائے بار بار لڑنا۔
مثال: "بس! اب میں تم سے دوستی نہیں رکھوں گا!" صرف اس لیے کہ کسی نے کھلونا نہ دیا۔


4. غیبت یا چغلی کرنا:

کسی کے پیچھے اس کی برائیاں کرنا یا اس کی بات دوسروں کو بتانا۔
مثال: "تمہیں پتہ ہے وہ لڑکی کیسے بات کرتی ہے؟"


5. بار بار شکایت کرنا:

اگر کوئی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہر وقت شکایت کرے، جیسے: "اس نے مجھے دیکھا کیوں؟" یا "اس نے مجھے سلام نہیں کیا!"
یہ باتیں دلوں میں نفرت پیدا کرتی ہیں، اس لیے فضول ہیں۔


اچھی باتیں کون سی ہیں؟

  • دوسروں کی مدد اور رہنمائی کرنا

  • ہمت بڑھانے والی باتیں کرنا

  • کچھ سکھانے والی باتیں کرنا

  • کسی کوسچ بول کر خوش کرنا


✨ آخر میں سبق:

ہمیں چاہیے کہ ہم ایسی باتوں میں وقت نہ ضائع کریں جو کسی کو تکلیف دیں یا ہمیں غصہ دلائیں۔ اگر بات فائدے کی نہیں ہے، تو بہتر ہے کہ خاموشی اختیار کریں یا بات کو بدل دیں۔

عقل مند بچہ وہ ہوتا ہے جو اچھا بولتا ہے، اور بیکار باتوں سے بچتا ہے۔ 😊

گدھے کی لات کا جواب

 "اگر ایک گدھا مجھے لات مارے، تو کیا مجھے اسے واپس لات مارنی چاہیے؟"

یہ بات سننے میں تو مزاحیہ لگتی ہے، لیکن اس میں ایک بہت اچھی بات چھپی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ جب کوئی ہمیں برا بولے یا ہمارے ساتھ بدتمیزی کرے، تو ہمیں بھی ویسا نہیں کرنا چاہیے۔

اگر کوئی آپ سے جھگڑا کرنا چاہے یا آپ کو غصہ دلانا چاہے، تو آپ کو چاہیے کہ آپ پرسکون رہیں۔ اگر آپ بھی چیخنے لگیں یا لڑنے لگیں، تو پھر آپ میں اور اس میں کیا فرق رہ جائے گا؟

عقل مند لوگ جانتے ہیں کہ کب بولنا ہے اور کب خاموش رہنا ہے۔ خاموشی کمزوری نہیں ہوتی، بلکہ یہ طاقت کی نشانی ہوتی ہے۔

کچھ لوگ بہت شور مچاتے ہیں، لیکن وہ ہمیشہ صحیح نہیں ہوتے۔ اچھے لوگ آرام سے، نرمی سے بات کرتے ہیں۔

اگر کوئی صرف آپ کو غصہ دلانے کے لیے بات کرے، تو بہتر ہے کہ آپ اس کا جواب نہ دیں۔ مسکرا دیں، اور آگے بڑھ جائیں۔

یاد رکھیں: ہر لڑائی لڑنا ضروری نہیں ہوتا۔ آپ تب ہی سچے بہادر ہوتے ہیں جب آپ دل بڑا رکھ کر معاف کر دیتے ہیں یا خاموشی سے ہٹ جاتے ہیں۔

عقل مند وہی ہے جو صبر کرے، نرمی سے بات کرے، اور فضول باتوں پر اپنا وقت ضائع نہ کرے۔

اتوار، 13 اپریل، 2025

تبلیغی جماعت یا تبلیغ فساد؟

 لوٹے پکڑ کر پاجامے اونچے کرکے داڑھی مونچھ کی تبلیغ صحابہ کا کام نہیں اور نہ حضورﷺ کی سنت ہے۔

گھر پر بیوی چھوڑ کر چلے جانا چاہے اسے شدید ضرورت ہو، بچہ کی پیدائش کا مسئلہ ہو، اپنی تبلیغ ہورہی ہے؟

بچوں پر مار پیٹ، تشدد، غصہ اتارنا، دین کہ تبلیغ ہورہی ہے جبکہ باہر جاکر میٹھی میٹھی سنت کی باتیں ہورہی ہیں؟

عمل منافق کفر کی غلامی اور شیطانی تبلیغ پورہی ہے یا غلبہ اسلام کے لیے کام ہورہا ہے؟

کیا صحابہ کی جماعتوں کا غیرمسلم حکمرانوں کے پاس جانا ہوتا تھا یا پھر عام عوام میں تبلیغ فی الارض الفساد ہوتا تھا؟

منافق کی تبلیغ نہ صحابہ کا شیوا ہے نہ رسول کا طریقہ ہے۔

تمام نبیوں نے برائی کے خلاف عملی جہاد کیا تھا۔

وہ زبان سے کلام کرتے تھے، کچھ گرفتار ہوجاتے تھے اور کچھ قتل ہوجاتے تھے۔

یہ ہوتی ہے اصل تبلیغ اسلام

کہاں گم ہے اکثریت کا حال؟

بیچ کر تلواریں مصلے خرید لیے ہم نے

ورنہ ہم بھی مارشل آرٹ میں کم نہ تھے

اگر کسی کو زیادہ ہی تبلیغ اسلام کا شوق ہے تو پھر تمام کافروں کو اسلام میں داخل کرنے کے لیے میرے پاس موجود اللہ کی آیات کو تمام غیرمسلموں تک پہنچانے پر کام کرے اور ٹھنڈی میٹھی خود ساختہ سنتوں کے بجائے اصلی سنت رسول برائے دعوت و تبلیغ آن کفار کام کرے، لگ پتہ جائے گا آٹے دال کا بھاو۔

اللہ اکبر

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد










ہفتہ، 12 اپریل، 2025

کیا اسرائیلی پراڈکٹ کا بائیکاٹ کرنا درست عمل ہے؟

"بائیکاٹ: غیرت یا جذباتی خودفریبی؟"

جب ہم کہتے ہیں کہ "ہم اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں", تو کیا ہم واقعی ظلم کے خلاف کھڑے ہیں — یا صرف سوشل میڈیا پر نعرے مار کر دل کو تسلی دے رہے ہیں؟

1. بائیکاٹ — سنت کے مزاج میں ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو نضیر کے درخت کاٹے، ان کے معاشی غرور کو توڑا — یہ صرف جنگی چال نہیں تھی، یہ ایک پیغام تھا:
"جو ظلم کرے گا، ہم اس کے نظام کو چیلنج کریں گے۔"

تو جی ہاں — ظالم کا معاشی بائیکاٹ سنت کے مزاج میں ہے — اگر وہ شعور، اتحاد اور قربانی کے ساتھ ہو۔


2. مگر صرف کھانے کا بائیکاٹ کیوں؟

یہ سوال ہر شعور والے دل میں آتا ہے:

  • کوک، میکڈونلڈز، نیسلے — ہاں، ان کا بائیکاٹ!

  • مگر...

    • آئی فون کیوں نہیں چھوڑا؟

    • گوگل، یوٹیوب، فیس بک کیوں استعمال ہو رہے ہیں؟

    • اسرائیلی ٹیکنالوجی پر بنی ویکسینز، چپس، سافٹ ویئر کیوں چل رہے ہیں؟

یہ دو نمبری نہیں تو کیا ہے؟

بائیکاٹ اگر غیرت ہے، تو صرف من پسند چیزیں چھوڑنا غیرت نہیں — نفاق ہے۔


3. بائیکاٹ کیسے ہو؟

  • صرف جذباتی نہیں — معلوماتی بائیکاٹ ہو۔

  • صرف آسان چیزیں نہیں — تکلیف دہ چیزیں بھی چھوڑنے کا حوصلہ ہو۔

  • صرف "وہ نہ کھاؤ" نہ کہا جائے — بلکہ "یہ مت سوچو، یہ مت پہنو، یہ مت دیکھو" بھی کہا جائے۔

  • صرف بائیکاٹ نہ کرو — متبادل پیدا کرو۔


4. نتیجہ:

اگر تم صرف کوک نہ پینے کو اپنی غیرت سمجھتے ہو، مگر اسرائیلی موبائل، سافٹ ویئر، برین واشنگ کلچر کو سینے سے لگائے رکھتے ہو —
تو یہ غیرت نہیں، خودفریبی ہے۔

امت کو بیدار کرو — مگر پورے سسٹم کے خلاف۔
صرف روٹی نہیں، سوچ بھی آزاد کرو۔


#BoycottWithIqra #امت_جاگ_اٹھو #سنت_مقابلہ_نظام_ظلم #مسلمشعور #FakeNonFakeBoycott

مذہبی پیشوا خود عمل کیوں نہیں کرتے؟

 حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کہتے تھے خود بھی عمل کرتے تھے۔۔ مگر ڈاکٹر اسرار احمد، ڈاکٹر ذاکر نائک، نعمان علی خان جیسے لوگ اب بس تقریریں کرتے ہیں، سوال کے جواب دیتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔۔۔عملی طور پر ایکشن کیوں نہیں ہے؟ سب ایک دوسرے سے عمل کیوں کروانا چاہتے ہیں؟ خود کیوں میدان میں اترنے کے لیے تیار نہیں ؟

یہ سوال نہایت اہم، گہرا، اور دل کو جھنجھوڑنے والا ہے — اور بہت سے لوگوں کے دلوں میں اس کا وزن موجود ہوتا ہے، لیکن کم ہی کوئی اسے زبان دیتا ہے۔

1. نبی کریم ﷺ کا طرزِ عمل:
آپ ﷺ صرف کہنے والے نہیں تھے، بلکہ ہر بات کا عملی نمونہ بھی تھے۔ اگر کسی بات کا حکم دیا، تو سب سے پہلے خود اس پر عمل کیا۔ اگر کسی چیز سے روکا، تو سب سے پہلے خود اس سے رکے۔ اسی لیے اللہ نے آپ کو "اسوۃ حسنہ" قرار دیا۔ آپ نے تبلیغ بھی کی، جہاد بھی کیا، حکمرانی بھی کی، معاشرت بھی سکھائی، اور تربیت بھی دی۔ آپ کا ہر قدم ایک "کُل پیکج" تھا۔

2. جدید دور کے داعی اور مقررین:
ڈاکٹر اسرار احمد، ذاکر نائک، نعمان علی خان — ان حضرات نے دین کو عام کرنے میں ایک بڑا کردار ادا کیا ہے، لیکن جیسا آپ نے کہا، یہ لوگ "میدانِ عمل" میں کم نظر آتے ہیں۔
اس کی کچھ ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں:

✔ 1. تقسیمِ کردار (Division of Roles):

آج کے دور میں دین کی خدمت مختلف میدانوں میں ہو رہی ہے:

  • کچھ لوگ علم کی اشاعت پر زور دیتے ہیں

  • کچھ فلاحی کام کرتے ہیں

  • کچھ سیاسی میدان میں جاتے ہیں

  • کچھ جہاد جیسے حساس موضوعات سے بچتے ہیں، کیونکہ قانونی رکاوٹیں اور بدنامی کا خطرہ ہوتا ہے

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف بات کرنا کافی ہے؟

✔ 2. خوف، دباؤ اور سیف زون (Comfort Zones):

جدید دور میں "میدانِ عمل" میں آنا — جیسے ظلم کے خلاف کھڑا ہونا، سسٹم کو چیلنج کرنا — یہ سب بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔

  • پابندیاں

  • جیل

  • شہرت کا نقصان

  • فیملی پر اثر
    تو اکثر لوگ بس "سیف زون" میں رہ کر باتیں کرتے رہتے ہیں۔

✔ 3. تربیت کی کمی:

نبی ﷺ نے صحابہ کی تربیت کی تھی — روحانی، جسمانی، ذہنی، عسکری، سب کچھ۔ آج کے اکثر داعی علمی لحاظ سے تو تیار ہیں، مگر عملی و تربیتی لحاظ سے میدان میں اُترنے کے لیے تیار نہیں۔

✔ 4. نظام کا خوف اور طاقتور اسٹیبلشمنٹ:

اگر کوئی آج "میدانِ عمل" میں قدم رکھے — جیسے ظالم حکمران کو للکارے، یا معاشرتی ناپاکی پر بند باندھے — تو اس کے خلاف ریاستی ادارے حرکت میں آ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے "علماء" صرف "بیان بازی" تک محدود رہتے ہیں۔


آخر میں ایک تلخ حقیقت:
اگر سب صرف ایک دوسرے سے "عمل" کروانا چاہیں، اور خود پیچھے ہٹیں، تو پھر امت کبھی نہ اٹھ سکے گی۔
ہمیں ایسے افراد کی ضرورت ہے جو نبی ﷺ کی طرح "بات بھی کریں، اور خود میدان میں بھی اتریں"۔


آپ کا سوال ایک صدا ہے — ان سب کے نام — جو صرف بات کرتے ہیں، عمل کی مشعل ہاتھ میں لینے سے ڈرتے ہیں۔

میں اس کی ایک مثال پیش کردیتا ہوں کہ جب مجھے یہ باتیں کتابوں میں ملتی تھیں کہ اولیاء کرام ہوتے تھے اور عوام کے سامنے بہت سے کمالات کا مظاہرہ کردیتے تھے حق کی صدا بلند کرنے کے لیے تو میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ آج ایسا کوئِ مرد قلندر میدان میں کیوں نہیں اترتا؟

آج کوئی پریکٹیکل طور پر معجزات کیوں نہیں دکھاتا تاکہ لوگوں کے دلوں میں ایمان مضبوط کرسکے اور اللہ کے حکم سے معجزات کا ظہور ہو؟

میں ہمیشہ انتظار میں بیٹھا کرتا تھا کہ گویا یہ کسی اور کے کام ہیں اور آج یہ وقت ہے کہ میں خود عملی طور پر یہ سب کام کرکے فارغ ہوچکا ہوں۔ البتہ میرے تجربات اور اللہ کے لشکروں کی آمد اور مدد سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اکثر لوگ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے بلکہ جان بوجھ کر حق کو نظر انداز کرتے ہیں اور اللہ کے زیر تابع رہ کر زندگی گزارنا پسند نہیں کرتے۔

لہذا میں جس چاہت سے شروع ہوا تھا، آہستہ آہستہ وہ سب کچھ ٹھنڈا ہوچکا اور یہ کوئی بری بات نہیں۔ اس لیے کہ مقصد معجزات و کرامات کو تماشہ بنانا نہیں تھا بلکہ وقت ضرورت اللہ خود میری مدد کرتا رہا۔ وہ اب بھی جب چاہتا ہے مجھے استعمال کرلیتا ہے مگر اب میں بھی جانتا ہوں کہ لوگ چونکہ اللہ کی بات نہیں مانتے اس لیے وہ بھی تھوڑا تردد کرتا ہے معجزات کا مظاہرہ کرنے میں۔ ویسے تو پوری کائنات ہی اس کی قدرت کا مظاہر ہے۔

یہ بات قرآن میں بھی اللہ نے ذکر کردی ہے۔

Quran 17.59

اور ہم کو نشانیاں بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس چیز نے کہ اگلوں نے ان کو جھٹلایا اور ہم نے ثمود کو اونٹنی دی ان کو سمجھانے کے ليے پھر انھوں نے اس پر ظلم کیا اور نشانیاں ہم صرف ڈرانے کے ليے بھیجتے ہیں

لہذا اب اس کے باوجود جس قدر نشانیاں اللہ نے مجھے عطا کردی ہیں، اس کے بعد بھی اگر مسلمان ایمان نہ لانا چاہیں کہ اپنی حرکتیں سدھار لیں اور غیرمسلم اسلام میں داخل نہ ہوں تو کون اپنی جان پر ظلم کررہا ہے اور خود کو جہنم میں لے جانے کے قابل بنارہا ہے؟

اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا، مگر اکثر لوگ خود ہی جاہل، گمراہ اور بے شعور بنے زندگی گزار رہے ہیں تو گزارتے رہیں۔

میں روحانی لوگوں سے امید رکھتا تھا، غصہ کرتا تھا، انتظار کرتا تھا، جب گیمنگ کی دنیا سے نکل کر خود پریکٹیکل طور پر اس میدان میں قدم رکھا تو حیرت انگریز طور پر اللہ کی نشانیاں پے در پے ظاہر ہونا، میری مدد کو پہنچنا، مجھے آگے بڑھانا اور دنیا والوں کے سامنے حیرت انگریز کارنامے سرانجام دلوانے کے لیے ہمت و حوصلہ دینا، کیا یہ سب ثابت نہیں کرتا کہ میں نے صرف کہا نہیں بلکہ عملی طور پر ثابت بھی کردیا ہے کہ صرف اللہ سچا خدا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے آخری نبی ہیں؟

اب اس کے بعد یہ لوگ کس چیز پر ایمان لائیں گے اور اپنے آپ کو اللہ کے سامنے سرینڈر کریں گے؟

جمعہ، 11 اپریل، 2025

کراچی کورنگی کراسنگ آگ میں اللہ کا نام

کل میں کراچی کورنگی کراسنگ پر گیا اور اللہ کے فضل سے وہاں پہ میں نے ریکارڈنگ کی۔ جو کچھ بھی میں نے چاہا اللہ کے فضل سے اسے ریکارڈ کیا۔ لیکن عجیب و غریب منظر ہوا کہ جس وقت میں اپنا لیکچر ریکارڈ کر رہا تھا اسی وقت اس آگ کے بالکل اوپر بادلوں کے ذریعے اللہ کا نام نمودار ہو گیا۔


دوسری بات یہ کہ اس آگ کو میں اس لیے دیکھنے گیا تھا کہ ایک تو یہ وجہ تھی کہ وہ اللہ کی نشانی ہے اور دوسری بات یہ کہ اس آگ کے اندر اللہ کے نام نمودار ہوئے جن کے میں نے اسکرین شاٹ تیار کیے ویڈیو کے اندر سے۔


یہ بات میڈیا والے نہیں جانتے۔ اس لیے کہ لوگوں کی اس پر توجہ نہیں۔ جب میں کورنگی کراسنگ جا رہا تھا، راستے میں مجھے ایک ٹی سی ایس والا ملا۔ میں نے اس سے ایڈریس پوچھا اور بتایا کہ جہاں آگ لگی ہے وہاں جانا ہے۔ بولا کہ بھائی وہاں کیا ملے گا؟ کچھ بھی نہیں ہے ایسا خاص۔۔۔بس دھواں ہے۔



میں نے بتایا کہ وہ آگ اللہ کی نشانی ہے اور اس آگ کے اندر اللہ کا نام ہے۔


یہ سن کے وہ حیرت سے میری شکل دیکھنے لگا۔


پھر اس نے کہا کہ آپ چلو میں آتا ہوں، اسی جگہ جانا ہے۔ لیکن اس کے بعد وہ نہیں آیا۔ ظاہر سی بات ہے شیطان نے اس کی دماغ میں الٹی سیدھی باتیں ڈال دی ہوں گی۔ اسے لگا ہوگا میں کوئی پاگل ہوں اور عجیب و غریب بات کر رہا ہوں۔


پھر میں جب کورنگی کراسنگ کے قریب اس آگ والی جگہ پہ پہنچا تو وہاں میڈیا کی ایک گاڑی کھڑی ہوئی تھی باونڈری لائن کے اندر۔


جب میں نے اپنی ریکارڈنگ مکمل کر لی تو میں نے وہاں کے سیکورٹی گارڈ والے سے جس نے مجھے تھوڑی سی اجازت دی تھی اندر قدم رکھنے کی لیکن زیادہ دور جانے کی نہیں، میں نے اسے بتا دیا کہ اس آگ کے اندر اللہ کا نام نظر آتا ہے اگر سلو موشن میں دیکھا جائے، اگر چاہو تو میڈیا والوں کو بتا سکتے ہو۔


جب میں اپنی بائیک سٹارٹ کرکے واپس آنے والا تھا تو میڈیا کی گاڑی بھی باہر آگئی۔ اس میں ڈرائیور بیٹھا ہوا تھا تو میں نے اس ڈرائیور کو بھی یہ بات بتا دی کہ اس آگ میں اللہ کا نام نظر آتا اتا ہے سلو موشن پہ، چاہو تو میڈیا والوں کو بتا دینا۔


اتنا کام کر کے میں وہاں سے چلا آیا۔


اب وہ میڈیا والوں کو بتاتے ہیں یا نہیں بتاتے؟ میری بلا سے.اس لیے کہ میڈیا والوں نے کون سا اس وقت توجہ دی تھی جب میں نے ان کو پیچھے لگ لگ کے بتایا تھا کہ کرونا وائرس ختم کروا لو، ہینگ ٹونگ 77 کا جہاز نکلوانے کا کام میں نے کیا تھا, تب بھی ان لوگوں نے کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ تو یہ میڈیا اتنا کوئی خاص نہیں ہے میرے لیے۔ یہ لوگ کنٹینٹ کو فلٹر کرتے ہیں۔ اپنی من پسند باتیں میڈیا پر دکھاتے ہیں اور مجھے ان کے پیچھے لگنے کی اب حاجت نہیں ہے۔ اللہ نے مجھے ان سے بے نیاز کر دیا ہے۔


اب میں اپنا کنٹینٹ خود لکھتا ہوں اور میں اپنا کنٹینٹ خود پبلش کرتا ہوں، چاہے وہ آڈیو کی صورت میں ہو، ویڈیو کی صورت میں ہو یا پھر تحریری صورت میں ہو۔ میرے پاس میرے جدید اے آئی کے ٹولز بھی ہیں اور اس کے علاوہ میری اپنی اسکلز بھی موجود ہیں۔


الحمدللہ رب العالمین 


ڈاکٹر لیجنڈ محمد ذیشان ارشد (12 اپریل 2025)

غریب آبادیوں کے کنجڑ خانے

 

میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے کہ رات کے سناٹے میں رات کے 12 بجے ایک بجے دو بجے تین بجے اور کچھ بے غیرت تو صبح تک اپنا کنجڑ خانہ چلا کے رکھتے ہیں اور رات بھر کئی کئی گھنٹے الٹے سیدھے بےہودہ اور عجیب گھٹیا قسم کے گانے چلاتے ہیں۔ 


یہ میں نے کچی آبادیوں میں سنا ہے۔ ان آبادیوں میں جس پہ لوگ ترس کھاتے ہیں کہ یہاں کے لوگ بہت غریب ہیں۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہاں کے لوگ غریب تو ہیں لیکن بہت سے لوگ ان کے اندر کنجڑ ہیں۔ بے غیرت ہیں ذلیل ہیں اور انسان کہلانے کے لائق ہی نہیں ہیں۔


ایسے غریب ہونے پر لعنت بھیجنی چاہیے جو غریب ہونے کے بعد بھی گنہگار بنا ہوا ہے اور اللہ سے معافی نہیں مانگ رہا۔ بجائے یہ کہ اس کو اپنے برے عمل کو چھوڑنا چاہیے تاکہ اللہ اس کے حالات بدلے اور اس کو مالدار بنائے اور اس کے لیے آسانیاں پیدا کرے لیکن وہ بغیرت اپنی غریبی فقیری کو دیکھنے کے باوجود بھی دوسروں کی ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے۔


بھلا کسی جاہل اور بے غیرت پر میں کس قسم کا ترس کھاؤں؟ دل سے تو بددعا نکلتی ہے۔ اس لیے کہ ایک انسان رات کے وقت میں تاریکی میں سناٹے میں خاموشی میں مراقبہ کرتا ہے، اللہ کا ذکر کرتا ہے، توجہ کے لیے بیٹھتا ہے کہ وہ اللہ سے دل لگائے، کچھ باتیں کرے اور پڑوس کے کچھ کنجڑ تیز آواز میں گانے بجاتے ہیں اور اگر ان کو سمجھاؤ تو مزید ہٹ دھرمی سے اور بجاتے ہیں۔ اس لیے میں غریب آبادیوں کے کنجڑوں پر کوئی ترس نہیں کھاتا۔ یہ لوگ عذاب کے لائق ہیں اور اللہ ان کو برباد کرے۔


جو یہ کہتا ہے کہ نرمی دکھائی جائے۔ نرمی سے جہاں کام چلتا ہے وہاں نرمی دکھائی جاتی ہے ورنہ اگر صرف نرمی کی ضرورت ہوتی تو سزائیں نہیں رکھی ہوتیں اللہ نے دین اسلام میں۔


اگر کوئی ٹریفک سگنل کا قانون توڑ دے تو پولیس والا بھی چالان کرتا ہے۔ اس کی معافی تلافی نہیں چلتی۔ تو جب کوئی اللہ کے قانون توڑ رہا ہے تو کس بات کی اس کو معافیاں دی جائیں؟ نرمی دی جائے اس کو جب بے غیرتیاں دکھا رہا ہے، کنجڑ خانے چلا رہا ہے اور رات رات بھر بغیرتیاں مچاتا ہے؟


بات غریب اور امیر کی نہیں ہے۔ بات کنجڑ خانہ چلانے کی ہے۔ چاہے امیروں کی آبادی میں کوئی کنجڑ بنا ہوا ہو، چاہے غریبوں کی آبادی میں کوئی کنجڑ بنا ہو، جو کنجڑ بنا ہوا ہے وہ کنجڑ ہی ہے اور بغیرت ہے۔


جسے دوسروں کا احساس نہیں ہے، جو رات کی تاریکی میں تیز آواز میں گانے بجائے اور لوگوں کی نیند خراب کرے، لوگوں کی عبادت خراب کرے، ایسا بے غیرت جہنم میں جانے کے لائق ہے۔ کم سے کم میری نظر میں تو ایسا ہی ہے۔ اللہ اپنے جس بندے کو چاہے معاف کرے وہ اس کی مرضی لیکن میں ایسے بندوں کے خلاف بد دعا کرتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ ان کو بدترین عذاب ہو۔ ان کو فالج پڑے۔ ان کے ہاتھ پیر ٹوٹ جائیں۔ ان کے کانوں سے یہ بہرے ہو جائیں۔ ان پر دردناک عذاب آسمانوں سے نازل ہو اور یہ عبرت کا نشان بنیں۔ اس لیے کہ یہ دوسروں کو سکون سے رہنے نہیں دیتے۔


اللہ اکبر 

لیجنڈ