لاہور شہر میں مسلسل موسن سون اسپیل کے دعوے چلائے جارہے تھے۔
جولائی سنہ 2026 سے لے کر اگست کے اختتام تک یہ لوگ مون سون سمجھ سمجھ کر جتنے دعوے کررہے تھے سب خاک کا ڈھیر ثابت ہوئے۔
ایسا کیوں نہ ہوتا؟ آخر اس کائنات کا خدا موجود ہے تو اس کی موجودگی میں کس کی مجال ہے کہ وہ موسن سون تو کیا بارش کا ایک اسپیل بھی چلاسکے اور پانی کا قطرہ آسمان سے ٹپکاسکے؟
اب کدھر مرگئے سائنس کے چیمپیئن اور علمبردار لیجنڈ کے سامنے؟
اللہ اکبر
۔ 23 اگست 2026 کے دن ایک سیریز بناکر پبلش کی جس کے بعد لاہور میں برستی ہوئی بارشوں کو بریک لگ گیا۔
یہ مسلسل دعوے کرتے آرہے تھے مون سون پہلا اسپیل، دوسرا اسپیل، تیسرا اسپیل اور یکایک پورا مون سون غائب؟؟؟
اور پھر ان کو مجبور ہوکر کہنا پڑا کہ اس ہفتے بارش کا کوئی امکان نہیں ہے اب اگلے ہفتے یا بعد میں بارش ہوگی۔
اور اس طرح اللہ کافروں کو ذلیل کرکے رکھ دیتا ہے۔
لاہور شہر میں گرمی میں اضافہ ہوگیا۔
ان کو سمجھ ہی نہیں آسکی کہ یہ سب اچانک کیا ہوا؟
کہاں لاہور شہر میں سردی چل رہی تھی، خوشگوار موسم چل رہا تھا مگر اچانک یہ سب گرمی کی لپیٹ میں آگئے۔
اور ان کا ساتواں مون سون اسپیل دھواں بن کر اڑگیا۔
کیونکہ اس کے بعد میں میدان میں اتر آیا اور ایک گیمنگ سریز کا آغاز کردیا۔
اور پھر میں نے اسی شدید گرمی میں اللہ سے بارش برساکر دکھانے کے لیے آغاز کیا۔
ان کے دعوے جو مرضی یہ کرتے گئے ویسا کچھ نہ ہوا۔
بلکہ وہ ہوا جو میں چاہتا تھا مگر اللہ کی مرضی کے مطابق ہوا۔
جس سے ثابت ہوا کہ کائنات میں وہ خدا ہے جس کے مقابلے پر کوئی اور خدا موجود ہی نہیں ہے۔
ورنہ عین میرے چاہنے کے مطابق ہوتا مگر اس نے اپنی پرفیکشن کے حساب سے پوری کیلکولیشن کے ساتھ زبردست ایونٹ سرانجام دلوایا۔ الحمدللہ
اور جب میں اس سیریز سے فارغ ہوا تب تک 28 اگست شروع ہوچکا تھا۔
اور آتے کے ساتھ ہی ایک نئی سیریز کا آغاز کردیا "تیری سائنس تے شے کوئی نہیں" جس کے بعد اللہ نے انجینیئر محمد علی مرزا جیسے تمام انجینیئرز اور سائنس کا کلمہ پڑھ کر اولیاء اللہ کو ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو میرے ہاتھوں عبرتناک انجام دلوایا۔ اللہ اکبر
انہوں نے دعوی کردیا کہ مون سون آٹھواں اسپیل شروع ہونے والا ہے۔
ہم نے کہا دیکھ لیتے ہیں 🙂
اور پھر بنی ایک اور سیریز
اور مون سون نہ چل سکا۔
مگر کہانی یہاں پر بھی ختم نہ ہوسکی۔
کل میں نے ایک اور سیریز بنا ڈالی
اور مون سون بےچارگی میں رہ گیا اور یہ دعوی کرتے رہ گئے۔
بارش کی بوند بھی نہ برساسکے۔
برساتے کیسے؟
اللہ واحد القہار سارے نظام کا خالق اور مالک ہے۔
اور اب اسی دن کی ایک رپورٹ کے مطابق اب بھی وہی دعوے کے مون سون آج یعنی 30 اگست سے شروع ہوگا۔ پہلے دعوے کرتے رہ گئے کہ مون سون اسپیل 29 اگست سے شروع ہوگا۔
جب وہ نہ ہوسکا تو 30 کو آج کا دن بنا ڈالا۔
اور آج ہے 31 اگست 2026
اب دیکھنا یہ باقی ہے کہ آگے کیا ہوگا؟
---
یکم ستمبر 2026
صبح سویرے اللہ نے خوبصورت بادلوں سے آسمان کا منظر سجادیا اور دلکش نظارہ کردیا۔
ان لوگوں نے دوپہر تک گرمی اور حبس کی شدت دیکھی اور میڈیا پر رپورٹ کردیا نیز بارش ہونے کا دعوی بھی کیا جبکہ اللہ نے اس دن بارش ہی نہیں برسائی۔ اب کدھر گیا مون سون کا سسٹم جبکہ اسلام آباد/راولپنڈی میں طوفانی بارشوں سے ندیاں بہہ نکلیں اور سڑکیں زیر آب اگئیں اور علاقے پانی میں ڈوب گئے؟
بہرحال دوپہر میں آکر میں نے اللہ سے بادلوں کو بنانے کے لیے درخواست کی اور اللہ نے کالے بادلوں کے لشکر سجاکر رکھ دیے پھر اس کے بعد یک دیگر بعد عجیب عجیب نظارے دیکھنے کو ملے مگر پانی کی ایک بوند تک نہ برس سکی۔
ان کے مون سون کے دعوے، شہر میں وقفے وقفے سے بارش، آج مون سون برسے گا وغیرہ سب تہس نہس کرکے رکھ دیا گیا۔
اللہ اکبر
یہاں پتہ لگتا ہے کہ بادشاہت صرف اللہ کی ہے۔
نہ جھوٹے خداوں کی کوئی اوقات ہے\
نہ سائنس پڑھنے والے موسم کے بارے میں کوئی یقینی علم رکھتے ہیں
للہ جو چاہے سو کرتا ہے۔
وما علینا الاالبلاغ المبین
اللہ اکبر
لیجنڈ