جمعرات، 29 اکتوبر، 2026

چاند کے دو ٹکڑے ہونا (مفتی کامران شہزاد کی گمراہی)

 

اس ویڈیو میں مفتی کامران نے "حسی معجزات" اور "شق القمر" (چاند کے دو ٹکڑے ہونے) کے بارے میں جو موقف اختیار کیا ہے، وہ گمراہ کن اور جمہور امت کے متفقہ عقیدے کے بالکل خلاف ہے۔ مسلمانوں کو مغالطے سے بچانے کے لیے چند اہم علمی حقائق درج ذیل ہیں: 1۔ کیا حضور ﷺ کو کوئی حسی معجزہ نہیں دیا گیا؟ مفتی کامران کا یہ دعویٰ کہ آپ ﷺ کو کافروں کے سامنے کوئی "حسی معجزہ" (آنکھوں سے نظر آنے والا معجزہ) نہیں دیا گیا، بالکل باطل ہے۔ قرانِ پاک میں جہاں معجزات کی نفی کا ذکر ہے (مثلاً سورہ ﴿بنی اسرائیل﴾ کی آیت 59)، وہاں مراد "منہ بولی فرمائشی تباہ کن نشانی" ہے— یعنی وہ معجزات جو پچھلی قوموں (مثلاً قومِ صالح) نے مانگے اور انکار پر وہ قومیں فوراً ہلاک کر دی گئیں۔ امتِ محمدیہ پر اللہ کا رحم تھا کہ ایسی تباہ کن نشانیاں نازل نہیں کی گئیں تاکہ انہیں توبہ کا موقع ملے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ ﷺ کو حسی معجزات دیے ہی نہیں گئے۔ 2۔ شق القمر پر تمام امت اور محدثین کا اجماع چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا واقعہ کوئی افسانہ یا شاعرانہ محاورہ نہیں، بلکہ متواتر اور صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت انس بن مالکؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ جیسے جلیل القدر صحابہ کی آنکھوں دیکھی گواہیاں موجود ہیں۔ 1400 سال سے تمام فقہاء، محدثین اور مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ چاند کا پھٹنا ایک حقیقی، حسی معجزہ تھا۔ 3۔ خود قرآن کا لفظ "سحرٌ مُّسْتَمِرّ" مفتی صاحب کے رد میں کافی ہے سورۃ القمر (آیت 1-2) میں واضح الفاظ ہیں: "قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔ اور اگر وہ (کافر) کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ موڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں: 'یہ تو چلا آتا ہوا جادو ہے!'۔" اگر چاند کا پھٹنا صرف ایک محاورہ یا "حق کا واضح ہونا" تھا، تو مکہ کے کافروں نے اسے "جادو" (سحر) کیوں کہا؟ کیا کوئی عقل مند انسان صرف کسی محاورے یا بات کو دیکھ کر اسے "جادو" کہتا ہے؟ کافروں کا اسے جادو کہنا اس بات کا خود ثبوت ہے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے چاند کا جسمانی طور پر پھٹنا ظاہرہ ہوا تھا، جسے جھٹلانے کے لیے انہوں نے اسے جادو قرار دیا۔ 4۔ سیرت اور احادیث میں حسی معجزات کی کثرت نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی سینکڑوں حسی معجزات سے بھری پڑی ہے۔ آپ ﷺ کی انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہونا، جنگِ خندق میں تھوڑے سے کھانے سے ہزاروں کا پیٹ بھرنا، خشک درخت کے تنے (جذعِ حنانہ) کا آپ ﷺ کے فراق میں زار و قطار رونا، اور بیماروں کا شفا پانا— یہ سب حسی معجزات ہی تو تھے جو صحابہ اور کفار دونوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ خلاصہ: دین کو محض عقل پرستی (Rationalism) کے ترازو میں تول کر صحیح احادیث اور امت کے متفقہ عقائد کو "محاورہ" یا "ضعیف" کہہ دینا جدید الحاد کی راہ ہموار کرتا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے گمراہ کن فلسفوں سے بچیں اور علمائے حق اور جمہور امت کے راستے پر قائم رہیں۔

نوٹ: یہ مضمون اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔